Skip to content

آخریہ جنگ کیوں؟

مصنف: قائدسنی تحریک مولانا محمد سلیم قادری شہید علیہ الرحمہ

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

پیش لفظ

کیا یہ جنگ ختم نہیں ہوسکتی جو آج ہر گھر میں جہاں بھی ایک مسلمان شعور پاتاہے شروع ہوجاتی ہے اور اس جنگ کی اصل وجہ کیا ہے جو بالخصوص اہلسنت و دیوبندی ، وہابی حضرات کے درمیان ہے ؟اگر ذرا ٹھنڈے دل سے اس جنگ کے اصل اسباب پر غور کیا جائے اورپھر دیکھا جائے کہ کس کو کس سے کس بارے میں اختلاف ہے یا اس جنگ میں کوئی حق بجانب بھی ہے ؟

یہ بات اس کتابچہ کو پڑھنے کے بعد سمجھ میں آسکے گی اور یہ حقیقت بھی ہے اس کتابچہ میں کسی پر کوئی الزام نہیں لگایا گیا ہے ۔ اگر یہ اختلافات حل ہوجائیں تو یہ جنگ خود بخود ختم ہوجائے گی۔

اﷲ تعالیٰ عزوجل کی توہین، حضور پرنور ﷺ کی شانِ اقدس میں گستاخیاں ، اولیاء کرام رحمۃ اﷲ علیہم اجمعین کی شانِ پاک میں تنقیص ، نذر و نیاز کا انکار یہ سب باتیں جن لوگوں میں موجود ہیں پھر بھی وہ اسلام کے شیدائی ہونے کے دعویدار بنتے ہیں۔

فیصلہ آپ کو کرناہے کہ یہ جنگ کس طرح ختم ہوسکتی ہے ؟آخر کس طرح باطل عقیدے کے حامل افراد کو رجوع الی الحق پر آمادہ کیا جائے اور یہ فریق غلط عقائد سے توبہ کرنے پر آمادہ نہیں ہوتا تو آپ نے کس کا ساتھ دینا ہے ؟یہ فیصلہ آپ کو کرنا ہے ۔ آئے دن اخباروںکے ذریعے یا لوگوں سے اس قسم کی خبریں سنتے ہوں گے کہ فلاں مسجد میں جھگڑا ہوگیا ، فلاں نے فلاں کو مارا یعنی سنی وہابی جھگڑا۔

دراصل یہی اختلاف تو اس جھگڑے کی بنیادی وجہ ہے اہل سنت و جماعت کی مساجد پر دیوبندی، وہابی قابض ہیں ۔ سینکڑوں مساجد کے جھگڑے پاکستان کی عدالتوں میں چل رہے ہیں یہی حال رہا تو دشمنانِ پاکستان جو ہر وقت مملکتِ خدادا دپاکستان کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے در پے ہیں ان سے جنگ لڑنے کے بجائے آپس کی خانہ جنگی میں لگ جائیں گے۔

آخر یہ جنگ کیسے ختم ہوگی؟اس کا ایک ہی حل ہے کہ کتاب و سنت کی پابندی کی جائے اﷲ تبارک و تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی شان میں کوئی گستاخی برداشت نہ کی جائے جن لوگوں نے گستاخیاں کی ہیں ان سے دور رہا جائے یا ان سے تمام گستاخیوں سے توبہ کرائی جائے اور ایسی تمام غلط کتابوں اور رسالوںکو پھاڑ کر سمندر کی نذرکردیا جائے یا دفن کر دیا جائے۔ اس جنگ کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ایک اسلامی حکومت ایسے لوگوں کو اسلامی اُصولوں کے مطابق سزادے جو اپنی تحریر و تقریر کے ذریعے مسلمانوں کے ایمانی دلوں کو ریزہ ریزہ کرتے ہیں اور ان کی غیرت ایمانی کو للکارتے ہیں یہ لوگ کبھی اﷲ تعالیٰ کی شان میں عیب نکالتے ہیں۔

اور کبھی حضور ﷺ کی شان میں گستاخیاں کرتے ہیں کبھی اہل بیت عظام رضوان اﷲ علیہم اجمعین کی تنقیص کرتے ہیں اور کبھی صحابہ کرام رضوان اﷲ تعالیٰ علیہم اجمعین کی اہانت کرتے ہیں کبھی علمائے کرام رحمۃ اﷲ علیہم اجمعین پر سبّ وشتم کرتے ہیں اور کبھی صوفیہ کرام رحمۃ اﷲ علیہم اجمعین کی اہانتیں کرتے ہیں غرض یہ کہ دریدہ دہنوں کی زبانوں سے کسی کی عزت وعظمت محفوظ نہیں۔

ملک خدادادِ پاکستان اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیا تھا اس لئے ہم حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ایسی تمام غلط کتابوں کو ضبط کیا جائے جن کا تذکرہ اس رسالے میں ہے اور اہل سنت وجماعت کی ان مساجد کو جن پر دیوبندی ، وہابی جبراً و خفیہ مختلف طریقوں سے قابض ہوگئے ہیں ان سے آزاد کراکے اور انہیں سنیوں کے حوالے کرے اس طرح تمام فرقے اپنی اپنی زندگی اپنے اپنے عقیدوں کے مطابق گزاریں۔

ہم یہ نہیں کہتے کہ دوسروں پر مسلط ہوجائیں ہم تو صرف یہ کہتے ہیں کہ جب ہم کسی کے حقوق کو پامال نہیں کرتے تو پھر اس ملک کی اکثریت کے حقوق کو آخر کیوں پامال کیا جارہا ہے ؟یہ کیسا اندھیرا ہے؟جب ہم کسی کو نہیں چھیڑتے تو کوئی ہمیں کیوں چھیڑے ؟یاد رہے!

اگر حقوقِ اہل سنت کا خیال نہ کیا گیا تو پھر سوادِ اعظم اہل سنت و جماعت قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے حقوق حاصل کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں یقینا حکومت اس طرف توجہ دے گی اور اسلامی جمہوریہ پاکستا ن کی اکثریت کا خیال رکھے گی تاکہ ہر مذہب کا ماننے والا اپنے اپنے اُصولوں کے مطابق امن وامان سے زندگی گزار سکے ۔

اﷲ تعالیٰ ہمیں اس رسالے کو پڑھ کرسمجھنے کی توفیق عطا فرمائے اور اس تحریک کی اس سعی کو قبول فرمائے۔ آمین ثمہ آمین یارب العالمین بجاہ النبی الامین رحمۃ للعالمین ﷺ والسلام خاک پائے علمائے اہل سنت محمد سلیم قادری عفی عنہ(کراچی)

وہابیت کا جھگڑا

وہابیت سے جو ہندوستان میں ایک نزاع پھیلا ہے اور اس نے مسلمانوں کو اور ان کے نظم کو جس قدر نقصان پہنچایا ہے وہ بہت افسوس ناک ہے ایک گھر میں دو بھائیوں میں جنگ ہے،باپ بیٹوں میں جنگ ہے ، پڑوسی کی پڑوسی سے لڑائی ہے، اہل محلہ کی آپس میں مخالفت ہے غرض یہ کہ کوئی جگہ نہیں جہاں وہابیت نے فتنہ انگیزی نہ کی ہو اور مسلمانوں کی گودوں میں ، پہلوؤں میں ، سروں پر ان کے دشمن نہ بٹھا دیئے ہوں یہ وبا سر زمین نجد سے اُٹھی۔

’’صحیح بخاری شریف ‘‘کی حدیث میں حضور سیدا نبیاء ﷺ نے صدہا سال پہلے اس کی خبردی وہ آگ بھڑکی وہ فتنہ پیدا ہو ااور عبدالوہاب نجدی کے گھر سے نکل کر عرب کے بعض مقامات میں پہنچا۔ جہاں پہنچا وہیں سے روکا گیا نجد کے چھوٹے اور خشک اور بے رونق خطے کے چند خشک دماغ درندہ صفت انسانوں کے دماغ میں وہابیت کا تخیل گھومتا رہا مگر افسوس!

کہ جو چیز دنیا کے ہر خطے نے ٹھکرادی اس کو ہندو پاک میں جگہ ملی اس کا تخم دہلی میں لگایا گیا اور جب کچھ پھوٹا تو اس کو دیوبند میں تربیت دیا گیا وہاں وہ اس قدر بڑھا کہ اس کی شاخیں ہندو پاک کے گوشے گوشے میں پھیل گئیں اور ان سے اس ملک کی فضاء مسموم ہوگئی اور اس کے زہریلے اثرنے ملک کے بہت سے نونہانوں کو برباد کردیا اور فساد کی آگ لگادی زمانے گزر گئے مگر یہ فتنہ دفع نہ ہوا ستم یہ ہے کہ وہابی فروع میں سنیوں کے قریب قریب بالکل موافق ہیں ۔ اہل سنت کی سی نماز ، اہل سنت کا سا روزہ ، انہیں کا سا حج وزکوٰۃ غرض عبادات و معاملات کے تقریباً جملہ مسائل میں اسی روش پر ہیں وہی کتابیں ہیں جن پر اہل سنت کو اعتماد ہے اور ان سے وہ تمسک کرتے ہیں ان سب کو وہابی مانتے ہیں ۔ حنفیت کے مدعی لیکن بعض عقائد میں اور بعض فروعی مسائل میں ان کو ایسا تشدد ہے جس سے یہ عظیم الشان اختلاف پیدا ہوگیا اور ان عقائد کے ہوتے ہوئے کوئی صورت نہیں کہ وہابیہ کو اہل سنت مسلمان مانیں اور ان کی امامت جائز سمجھیں۔

وجہ افتراق

یہ بات اور زیادہ قابل افسوس ہے کہ جن عقائد کی بناء پر وہابی مسلمانوں سے جدا ہوئے اور جنگ کا محاذ قائم کیا وہ عقائد ان کے نقط خیال سے بھی ضروری نہیں ہیں مگر باوجود اس کے وہ ان عقائد سے باز نہیں آتے اور اُنہوں نے ان تمام خانہ جنگیوں کی جوا س فتنہ سے پیداہوگئیں ہیں کوئی پرواہ نہیں وہ اپنی ضد کے پکے اور ہٹ کے پورے ہیں ۔ دنیا تباہ ہو جائے،سر پھٹ جائیں ، امن و عافیت بربا د ہو ، غیر قومیں جری ہوجائیں یہ سب کچھ گوارا ہے مگران غیر ضروری اُمور کا اور ان صریح باطل اعتقادات کا ترک کرنا گوارا نہیں۔

امکانِ کذب

وہابیوں کے لئے ان کے دین اور اعتقاد کی رُو سے کیا یہ ضروری ہے کہ وہ اﷲ تبارک وتعالیٰ کے لئے کذب جیسے قبیح امر کا امکان ثابت کریں؟اگر وہابی ایسا نہ کریں اس کے در پے نہ ہوں تو کیا وہ اپنے اعتقاد میں کافر ہو جائیں گے ؟ایمان سے خارج ہوجائیں گے؟ اس مسئلے کے اعتقاد اور اس کے پھیلانے کی انہیں کیا حاجت ہے ؟وہ کیا مجبور ہیں ؟کیا قرآن پاک نے اس کی تعلیم دی ہے ؟یا ائمہ دین (رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہم اجمعین)نے مومن ہونے کے لئے ایسا اعتقاد ضروری بتایا ہے ؟کیا وجہ ہے کہ ایک نئی بات نکال کر دنیا میں فساد پھیلائیں ، طرح طرح کے الزام اُٹھائیں ، دنیا کی نظر میں ذلیل و رسوا ہوں مگر اس سے باز نہیں آتے۔

براہین قاطعہ

اسی طرح حضور سید الانبیاء ﷺ کی شان میں نامناسب الفاظ کہنا جیساکہ ’’براہین قاطعہ‘‘میں حضور سید عالمﷺ کے علم کی نسبت یہ کلمے لکھے کہ ’’شیطان و ملک الموت کو یہ وسعت نص سے ثابت ہوئی فخر عالم کی وسعت علم کو کون سے نص قطعی ہے جس سے تمام نصوص کو رد کرکے ایک شرک ثابت کرتاہے ۔‘‘

شیطان و ملک الموت کے لئے وسعت علم تسلیم کریں ، نصوص سے ثابت مانیں اور حضور سیدعالمﷺ کے لئے اس کا انکار اور اس کا ثابت کرنا شرک میں شمار کیوں؟عجیب بات ہے ایک ہی چیز ہے شیطان کے لئے ثابت ہو تو شرک نہ ہو حضور ﷺ کے لئے ثابت ہو تو شرک ہوجائے اس قول کی شناخت اور اس کے حکم شرعی عرب و عجم کے فتوؤں میں ظاہر کیا جاچکا ہے اور اس قول کی قباحت بارہا بتادی گئی اور ہر ادنیٰ عقل والا اس کو نہایت ذلیل سمجھتا ہے کہ ایک قوم حضور ﷺ کے لئے وسعت علم ثابت کرنے کو شرک بتائے اور اسی کو شیطان کے لئے ثابت مane توگویا اس کے نزدیک شیطان (معاذ اﷲ ثم معاذ اﷲ)خدا کا شریک ہوسکتاہے کیونکہ جو چیز کسی ایک مخلوق کے لئے ماننا شر ک ہو وہ جس کسی مخلوق کے لئے ثابت مانی جائے گی شرک ہی ہوگی ۔یہ نہیں ہوسکتا کہ سجدہ عبادت بت کے لئے تو شرک ہو مگر وہابیوں کے کسی بڑے سے بڑی مولوی کو کر لیاجائے تو شرک نہ ہو پھر جس چیز کو شرک کہنا اسی کو نص سے ثابت کرنا کیسا قبیح اور باطل ہے؟ یہ بحث ایک جداگانہ ہے ہمیں تو صرف یہ کہنا ہے کہ وہابی کیا اپنے دین اور عقیدے کی رُ و سے حضورﷺ کی شان میں یہ اعتقاد رکھنے اور کلمے کہنے پر مجبور ہیں؟

اگر وہ ایسا نہ کہیں تو کیا اپنے نزدیک ایمان سے خارج ہوجائیں گے ؟اگر ان کلموں کا اعتقاد مومن ہونے کے لئے ضروری تھا تو پھر ’’قرآن پاک‘‘ میں اس کی تعلیم کیوں نہیں ہوئی؟’’حدیث شریف ‘‘میں یہ سبق کیوں نہیں دیا گیا ؟تمام صحابہ کرام اور تابعین ، تبع تابعین (رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہم اجمعین )بزعم وہابیہ اس ضروری اعتقاد سے خالی ہی گئے۔اس لئے یہ ماننا پڑے گا کہ یہ اعتقاد بدعت ہے نیااختراع ہے ۔سلف صالح کے یہاں نہ اس کا ذکر ہوا نہ قرآن وحدیث میں اس کا کہیں پتا پھر اپنی ایک ٹکڑی الگ بنانے کے لئے ایسے اعتقاد پر کیوں اصرار کیا جاتاہے ؟اور مسلمانوں سے کیوںجھگڑا مول لیا جاتاہے؟اور تمام مسلمانوں کے دلوں کو کیوں دُکھایا جاتاہے ؟ کیا وہابی بغیر اس کے اعتقاد کے اپنے خیال میں مومن نہیں رہ سکتے ؟کیوں یہ نفسانیتیں ہیں؟

حفظ الایمان

اسی طرح سے ’’حفظ الایمان‘‘ میں مولوی اشرف علی کا حبیب خداﷺ کی شان میں یہ لکھنا کہ ’’آپ کی ذاتِ مقدسہ پر علم غیب کا حکم کیا جانا اگر بقول زید صحیح ہو تو دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس سے بعض غیب ہے یا کُل غیب اگر بعض علوم غیبیہ مراد ہیں تو حضور کی کیا تخصیص ہے ایسا علم غیب تو ہر زید عمر بلکہ ہر صبی و مجنون بلکہ جمیع حیوانات و بہائم کے لئے بھی حاصل ہے۔

یہ ناقص کلمات شانِ اقدس میں کیسی کھلی توہین ہیں کہ پیشوایانِ وہابیہ اپنے اور اپنے بزرگوں کے حق میں بھی ان کا کہنا گوارا نہ کریں گے اور گالی سمجھیں گے اور دنیا کا کوئی عزت دار آدمی بھی اپنے کسی فرقے اور ملت اور کسی خیال کا بھی ایسے کلموں کا سننا گوارا نہ کرے گا مگر شانِ اقدس میں یہ کلمے لکھے جائیں اور اس پر اصرار ہو اس کا کیا سبب ہے؟یہ کوئی تعلیم خداوندی ہے جیسے کوئی چھوڑ ہی نہیں سکتا ؟یارسول اﷲﷺ نے ایسا اعتقاد رکھنے کا حکم دیا ہے یا صحابہ وتابعین و ائمہ مجتہدین (رضوان اﷲ عنہم اجمعین )اس کی تاکید کر کے گئے ہیں؟کیا وجہ ہے کہ ایسے کہ ایسے کلموں سے احتیاط نہیں کی جاتی؟احتراز نہیں کیا جاتادنیائے اسلام کا دل دُکھایا جاتاہے جہاں میں فساد برپا کیا جاتاہے مگر ایک ضدہے کہ اس سے باز نہیں آتے اس قسم کی اور توہینیں اور بے ادبی کے کلمات زبان پر لانا ،کتابوں میں لکھنا ، ان پر اَڑنا، کتابیں چھاپنا، مناظروں کی مجلسیں کرنا ، فساد انگیزیاں کرنا ، مقدمہ بازیوں میں روپیہ ضائع کرنا ، اہل اسلام کی جماعت کو ضعف پہنچانا اور جس حال میں کہ تمام دنیا اپنی ترقی کی فکروں میں ہے مسلمانوں کو خانہ جنگی کی مصیبت میں مبتلا کرنا کس مصلحت سے ہے ؟کس فائدے کے لئے ہے ؟کیا دانائی ہے؟

میلاد النبیﷺ

اسی طرح بعض فروعی مسائل پر جھگڑ بیٹھنا اور اپنا ایک فرقہ اور ٹکڑا الگ بناکر مسلمانوں سے برسرِ پیکار ہوجانا کیا معنی رکھتا ہے؟ اگر کسی شخص نے میلاد مبارک کی محفل میں حضور ﷺ کی ولادت مبارکہ اور مقدس زندگی کے احوال کریمہ اور معجزات مبارکہ بیان کئے مجلس شاندار طور پر ترتیب دی اور باوقار طریق پر ذکر کیا ۔ بیانِ ولادت مبارکہ کے وقت شانِ حبیب ﷺ کے اظہار کے لئے تعظیمی قیام کیا تو کیا برا ماننے کی بات ہے ؟شریعت نے اس کو کون سے محرمات سے بتایا ہے ؟کہاں کبائر میں سے شمار کیا ہے ؟جس پر اس شدومد کے ساتھ جنگ ہے ،ناراضگی ہے ، کتابیں چھاپی جاتی ہیں ، رسالے لکھے جاتے ہیں ، اس کی توہین میں نظمیں لکھی جاتی ہیں ، مسلمانوں کو مشرک اور بے ایمان بتایا جاتاہے جو مخالفت وہابی صاحبان کبھی سینما او رتھیٹر کے لئے نہیں کرتے ، حرام کاریوں اور بدافعالیوں کے لئے نہیں کرتے وہ کوشش محفل مبار ک کے روکنے کے لئے کی جاتی ہیں اس کا کیا باعث؟

التزامی اُمور

آپ مدرسے بنائیں ، اس میں جماعتیں ترتیب دیں ، ہر جماعت کے لئے ایک نصاب اور خاص ایک پڑھانے والا مقرر کریں ، اسباق کے لئے اوقات کا تعین ہو ، تعطلیوں کے لئے ایام معین ہوں ،ان پرا لتزام ہو ،امتحان کے لئے مہینہ مقرر ہو ، امتحان کے پرچے بنائیں جائیں ، نمبر دیئے جائیں ، بعض کتابوں کا تقریری امتحان لیا جائے، ممتحن بلائے جائیں ، ان کے لئے تکلفات کئے جائیں ، بعد امتحان تعطیل کی جائے ،سالانہ جلسے تاریخ کے تعین و تداعی کے ساتھ کئے جائیں ، ان کے لئے اشتہارات چھاپے جائیں ، طالب علموں کے ایک نصاب معینیہ ختم کر لینے پر دستار بندیاں کی جائیں ، دستاروں کے لئے ایک رنگ خاص مقرر کرلیا جائے، مدرسہ کا نام دستار پر لکھوایا جائے یہ تمام چیزیں حضورﷺ کے زمانہ اقدس میں کب تھیں ؟زمانہ صحابہ رضوان اﷲ تعالیٰ علیہم اجمعین میں کب پائی گئیں ؟ان سب التزام ہے ، پابندی ہے ، موجب ثواب جانتے ہیں ، داخل عبادت سمجھتے ہیں ، یہ بدعت کیوں نہیں؟اس کی مخالفت کیوں نہیں کی جاتی؟مولوی رشید احمد صاحب کے مرثیے لکھ کر تو چھاپنا بھی بدعت نہ ہو جو بہت سے ناجائز مبالغوں پر مشتمل ہیں اور سیدعالمﷺ کے ذکر جلیل و بیان ولادت کی محفل بدعت ہوجائے؟

دعوتِ انصاف

ساری جماعت میں کوئی اتنا کہنے والا نہیں کہ جو حیلے حوالے میلاد مبارک اور عرس و فاتحہ ، تیجہ و چہلم کے بدعت بنانے کے لئے تم پیش کرتے ہو اس سے بدرجہا زیادہ خود آپ کے عمل میں ہیں۔

مگر نہ مدرسہ کو بدعت کہا جاتاہے نہ دستار بندی کو ، نہ جلسہ سالانہ کو ، نہ تعین اوقات ِ اسباق کو ، نہ قوانین مدرسہ کو تو پھر کیا یہ ناجائز کا حکم غیروں ہی کے لئے ہے ؟تم سے اس مستثنیٰ ہو ؟اتنے بڑے فرقے میں کوئی انصاف کرتا مگر معلوم نہیں قلوب کا کیا حال ہے ؟نور بجھ گئے اور نام کو روشنی باقی نہ رہی کہ دوسروں کے افعال کو جن وجوہ سے بدعت بتائیں جنگ کی بناء ٹھہرائیں اپنے آپ بے دریغ انہیں عمل میں لاتے چلے جائیں ذرا نہ شرمائیں ۔ یہ مسائل ایسے نہ تھے کہ لکھے پڑھے آدمی انہیں سمجھ نہ سکتے اور اصحابِ عقل و خرد ان کو موردِ بحث بناتے یہ ایسی کھلی باتیں تھیں جن کو ہر سمجھدار انسان جان سکتا تھا کہ ان میںکوئی شبہ عدم جواز کا نہیں ہے۔

میلاد مبارک کی محفل حضور سیدالانبیاءﷺ کی مقدس زندگی کے بیان احوال کے لئے منعقد کی جاتی ہے اور حضور ﷺ کے احوال کریمہ کا جاننا اور اس سے باخبر ہونا ایمان دار کے لئے اعلیٰ ترین سعادت ہے ۔ ’’حدیث شریف‘‘ میں حضور اکرمﷺ کے ذکر کو ذکر اﷲ بتایا گیا کلمہ میں آپ ﷺ کا نام نامی وصف رسالت کے ساتھ اس طرح داخل ہے کہ جیسے اﷲ تعالیٰ کی ذات و صفات اور اس کی توحید و بے مثالی کا منکر مومن نہیں ہوسکتا اس طرح سے آپﷺ پر ایمان نہ لانے والا اور آپﷺ کی رسالت کا اقرار نہ کرنے والا بھی ایمان دار نہیں ہو سکتا جس ذات(ﷺ)پر ایمان کا مدار ہے اور جس پر ایمان لائے بغیر کفر کی ظلمتوں سے نجات نہیں مل سکتی اس (ﷺ)کے احوالِ پاک کا بیان یقینا شانِ احترام سے ہونا چاہیے اور وہ جو مجلس اس مقصد کے لئے منعقد کی گئی ہو اس کو زیب و زینت دینا اور عوام میں باوقعت بنانا تقاضائے ایمان ہے حضور اکرمﷺ کا ذکر ذکر اﷲ ہے۔’’حدیث شریف ‘‘ میں وارد ہوا کہ

ذکرک ذکری۔آپ کا ذکر میرا ہی ذکر ہے

دوسری حدیث میں ارشادِ باری ہے

ومن ذکرک ذکر نی۔جس نے آپ کا ذکر کیا اس نے میرا ذکر کیا

اور ذکر الٰہی کی محفل کو حدیث میں جنتی چمنستان بتایا گیا ہے۔ ’’حدیث شریف ‘‘ میں ہے

اذا مررتم بریاض الجنۃ فارتعواقالو او ما ریاض الجنتہ قال حلق الذکر۔

حضور سیدعالمﷺ نے فرمایا جب تمہارا جنتی چمنستان پر گزر ہو تو میوہ چینی کیا کر و صحابہ رضوان اﷲ علیہم اجمعین نے عرض کیا کہ جنتی چمنستان کیا ہیں؟حضور ﷺ نے فرمایا ذکر کی محفلیں۔

ان احادیث سے معلوم ہوا کہ میلادِ مبارک کی محفلیں جن میںذکر حبیب خدا ﷺ ہوتا ہے جن کو ’’حدیث شریف ‘‘ میں ذکر اﷲ بتایا گیا وہ جنتی چمنستان ہیں حدیثیں تو جنتی چمن بتائیں ،بہشتی باغ فرمائیں مگر معاند متعصب اس کو بدعت کہے ناروا پکارے ہوشمند انسان متحیر ہوتے ہیں کہ ان لکھے پڑھے جاہلوں نے کس طرح ذکر حبیب ﷺ کی محافل متبرکہ کو ناجائز کہہ دیا یہ بات عقل میں نہیں آتی ۔ دریافت کرتے ہیں کہ ان محافل کے ناجائز ہونے کا سبب کیا ہے ؟اُس وقت ان معاندین و متعصبین کو حیرانی و پریشانی ہوتی ہے۔

قیام

اس سراسمیگی میں کبھی تو یہ کہہ گزرتے ہیں کہ ’’ذکر شریف تو درست ہے مگر قیام وقت ذکر ولادت پر اعتراض ہے‘‘ مگر اس بات کو کوئی عقل باور نہیں کرسکتا کہ قیام ناجائز ہے اور ناجائز بھی ایسا کہ محفل شریف ہی کو ناجائز کر ڈالے اس لئے دریافت کیا جاتاہے کہ قیام میں کیا مضائقہ؟

اس کی ممانعت کہاں وارد ہوئی؟اس کا جواب یہ دیا جاتاہے کہ ’’قیام وقت ذکر ولادت قرونِ ثلاثہ میں نہیں کیا گیا اس کی اصل ثابت نہیں اس لئے بدعت ہے‘‘مگر ان کی یہ بات ایک لایعنی حیلہ اور بہانہ ہے۔

خود حضور ﷺ کا حضرت خاتون جنت فاطمۃ الزہرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے لئے قیام فرمانا ثابت ہے اس پر یہ لکھنا کہ ’’ایک شخص موجود حاضر کے لئے جو آنکھوں کے سامنے ہو اور سب کو نظرآتاہو قیام شرک ہے‘‘ایک بالکل حقیقت بات ہے کیونکہ جو چیز شرک ہے وہ حاضر کے لئے غائب کے لئے سب ہی کے لئے شرک ہے اس میں یہ تفریق نہیں۔

ہم دیکھتے ہیں کہ کسی عظیم خبر کو سن کر جذباتِ شوق یا خوف کے ساتھ متاثر ہوکر کھڑا ہوجانا طبیعت انسانی کے لئے امر عادی ہے اور ’’حدیث شریف ‘‘ سے بھی ثابت ہے رسول کریمﷺ کی سنت بھی ہے ۔چنانچہ جب آیت اتی امر اﷲ ناز ل ہوئی تو حضوراکرمﷺ کے قلب مبارک میں ایک جذبہ پیدا ہوا اور آپﷺ فوراً کھڑے ہوگئے۔

اسی طرح حضوراقدس ﷺ کی ولادتِ شریفہ کاذکر سن کر بالخصوص ایسی مجلس میں جو حضور ہی کے ذکر مبارک کے لئے منعقد کی گئی ہو اور حضور ﷺ کی نعت مبارک سن کر دلوں میں محبت موجیں مارنے لگی ہو ذکر ولادت سن کر جذبا ت میں ایک لہر آجانا اور سرور کا اظہار ادب و تعظیم کے لئے قیام ہونا کچھ بعید نہیں اور عین اس سنت کے مطابق ہے جو حضور ﷺ کے قیام میں پائی گئی۔

نیز کسی عظیم الشان دینی ذکر کے سننے کے لئے اس ذکر کے احترام کے لئے قیام کرنا بھی سنت صحابہ کرام رضوان اﷲ علیہم اجمعین ہے چنانچہ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ سے ایک حدیث سننے کے لئے قیام فرمایا ۔

حضور اکرمﷺ کے ذکرولادت کا اور حضور ﷺ کے بیانِ ظہور کا قیام تو خود اس سے ثابت ہے کہ خود حضور اقدس ﷺ نے بہ نفس نفیس منبر پر قیام فرما کر اپنی ولادت کریمہ کا ذکر کیا اب قیام میں کیا اشتباہ ہے ؟کیا اعتراض ہے ؟ کیاعذر ہے؟کیا حیلہ ہے ؟کیا بہانہ ہے؟کتنے وجوہ سے قیام ثابت ہے ۔ اچھا! تمہاری آنکھیں بند ہیں ، تمہیں کچھ نظر نہیں آتا ، احادیث تک تمہاری رسائی نہیں ، افعال کریمہ پر نظر نہیں ، سیرت صحابہ رضی اﷲ تعالیٰ علیہم اجمعین سے واقفیت نہیں ، بے خبر انسا ہو تو اگر عقل و خرد کا دعویٰ ہے تو کچھ ہوش سے بھی کام لو اور اتنا سوچو کہ قیام کرنے والا کس نیت سے قیام کرتاہے؟وہابیوں کے مارنے کے لئے اُٹھتا ہے یا شیطانوں کو جلانے کے لئے اُٹھتا ہے یا مجلس سے چلا جانا اس کا مقصود ہوتاہے اس کے اُٹھنے کا مدعا کیا ہے ؟اگر تمہاری سمجھ اتنا بھی نہ بتا سکے کہ یہ لوگ اس وقت کیوں اُٹھے تو اس عقل پر ماتم کر و کیونکہ اتنی بات تو وہ لوگ بھی سمجھ لیتے ہیں جو کھلے کافر ہیں اور اس کے دعویدار نہیں تمہاری سمجھ میں اگر یہ بھی نہ آئے تو میلاد خواں سے پوچھ لو صاحب مجلس سے دریافت کرو شرکائِ مجلس سے سوال کرو؟

ہر شخص تمہیں بتادے گا کہ یہ قیام بہ نظر تعظیم تھاتو اب بتاؤ کہ تعظیم رسول ﷺ سے کچھ تمہیں عداوت ہے ؟اس کو ناجائز سمجھتے ہو ؟ کیا قرآن وحدیث میں حضورسیدعالمﷺ کی تعظیم و توقیر کے لئے کوئی ادا خاص کر دی گئی اور طریقہ معین کردیا گیا ہے ؟او تعین کے دشمنو! اوتعین میں کلام کرنے والو! یہاں اپنے دل سے کیوں تعین کرتے ہو جو طریقہ تعظیم کا ہو جس قوم میں جوا مر تعظیم کے لئے معروف ہوچکا وہ یقینا تعظیم کا فرد اور توقروہ کے حکم میں داخل دیکھو قرآن سے منحرف نہ ہو جب تم مانتے ہو کہ رسول اﷲﷺ کی تعظیم ضروری ہے تو کون سی وجہ ہے قیام کا انکار کرو؟

اب رہا حیلہ کہ قیام تعظیمی جائز تو ہے لیکن مجلس مبارک میں فقط ذکر ولادت شریف کے وقت ہی قیام کیا جاتاہے ؟او ل سے آخر تک قیام کیوں نہیں کیا جاتا؟ایسے لغو حیلے امر جائز کو ناجائز نہیں کرسکتے۔

وہابیوں سے پوچھو کہ کیا کسی امر جائز کا ایک معین وقت میں کرنا اور دوسرے اوقات میں نہ کرنا ان کو ناجائز کردیتاہے ؟اگر ہاں کہیں تو دلیل لاؤ کوئی ’’آیت‘‘یا ’’حدیث‘‘سناؤ محض اپنے رائے فاسد و خیال سے کسی جائز کو ناجائز مت ٹھہراؤشریعت کسی کے خیال کا نام نہیں ہے وہ بیچارے مجبور ہوں گے اور کوئی دلیل نہ لاسکیں گے تو ظاہر ہوجائے گا کہ ان کا دعویٰ جھوٹا تھا اور امر جائز کو کسی وقت معین میں کرنا ناجائز نہیں کرسکتا۔

اس مضمون کو وہابیہ اور ذہن نشین کردو فقہ و حدیث کا درس مدرسوں میں جماعت بندی کے ساتھ جو تمہارا معمول ہے جائز ہے ، موجب ثواب ہے تو فقط دن ہی میں مدرسے کیوں کھلتے ہیں رات میں درس کیوں نہیں ہوتا؟اس تعین پر کوئی آیت یا حدیث ہے ؟یہں ہے تو کیا اس تعین سے وہ امر جائز ناجائز ہوگیا ؟اسی طرح جمعہ کے سواباقی ایام میں پڑھانا ایسے ہی رمضان شریف میں مدرسے کو بند رکھنا اس تعطیل کے لئے جمعہ و رمضان کی تخصیص و تعین کیا اس کو ناجائز کردیتی ہے ؟کرتی ہے تو تم سب اس کے مجر م ہو نہیں کرتی تو قیام پر تمہارا اعتراض ایسی جاہلانہ ہٹ ہے جس کے خود تمہارے عمل تکذیب کرتے ہیں۔

علاوہ بریں اُوپر ذکر کئے ہوئے دلائل سے معلوم ہوتاہے کہ قیام کو ذکر ولادت کے ساتھ ایک قوی مناسبت ہے حضور اقدسﷺ کا قیام کے ساتھ خود ذکر ولادت فرمانا اسی نہج پر تھا مجلس حاضرتھی حضورﷺ تشریف فرماتھے دین کے مسائل کا ذکر و بیان تھا اسی میں جب ذکر ولادت مبارک فرمایا تو قیام فرمایا جب وہ ذکر مبارک فرما چکے پھر جلوس فرمایا پھر وہ ذکر مسائل تھا تو معلوم ہوا کہ خاص ذکر ولادت شریف کے لئے قیام مستحب و منسون ہے ۔اسی طرح حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کا ایک مسئلے کے لئے قیام فرمانا باوجود یہ کہ اس سے قبل بھی مسائل دین ہی کا ذکر ہورہا تھا اس بات کی دلیل ہے کہ کسی مسئلہ خاص مہتم بالشان کے لئے مجلس میں بیٹھے ہوئے کھڑا ہوجانا سنت رسول ﷺ بھی ہے اور سنت صحابہ رضی اﷲ عنہم اجمعین بھی۔

امام بخاری رحمۃا ﷲ علیہ ’’بخاری شریف ‘‘ کی ہر ایک حدیث لکھنے کے لئے غسل فرماتے دو رکعت نماز پڑھتے تب لکھتے ۔ مولود قیام سے چڑنے والے وہابی بتائیں تو کہ ان کا یہ فعل بدعت تھا یا نہیں ؟کبھی صحابہ کرام یا تابعین یا تبع تابعین رضی اﷲ عنہم اجمعین نے بھی ایسا کیا تھا؟قرونِ ثلاثہ میں یہ عمل پایا گیا تھا ؟جب ایسا نہیں ہے تو بقول تمہارے بدعت کیوں نہیں ہوا؟

اس سے بھی قطع نظر کرکے وہی قیام والا سوال کرو کہ ’’اگر احادیث لکھنے کے لئے نیا غسل اور دور کعت پڑھنا جائز ہو تو پھر بخاری ہی لکھتے وقت ایسا کرنے کی کیا تخصیص تھی جب حدیث رسول اﷲﷺ لکھتے تھے ہمیشہ ہی ایسا کیوں نہیں کرتے تھے ؟‘‘

امام مالک رضی اﷲ عنہ جب رسول اکرمﷺ کی ’’احادیث‘‘بیان فرماتے تھے تو مجلس آراستہ کی جاتی ، بہترین فرش بچھائے جاتے ، نفیس مسند لگائی جاتی ، خود امام مالک رضی اﷲ عنہ عمد ہ پوشاک پہنتے ، عطر لگاتے ، خوشبوئیں مہکائی جاتیں یہ اہتمام ان کی مجلس حدیث کے لئے ہوتا تمہاری بدعت کہاں تک چلے گی ؟مگر بات یہ ہے کہ یہ آنکھ والے تھے قدر رفیع اور منزلت علیہ نبی کریمﷺ کی انہیں معلوم تھی آداب سے واقف تھے جو حضور ﷺ کی ایک ایک حدیث کے لئے یہ اہتمام کرتے تھے تم بھی اگر کچھ باخبر ہوتے اور حبیب رب العالمین ﷺ کے مرتبے کو کچھ پہچانتے تو ذکر میلادِ مبارک کی محفل اور تعظیمی قیام میں پس و پیش نہ ہوتی۔

نعت خوانی

ایک حیلہ یہ ہے کہ ’’ذکر و ولادت و قیام تو سب درست ہے لیکن اس میں نظمیں پڑھی جاتی ہیں‘‘یہ حیلہ بھی بیکار ہے نظم کوئی ناجائز چیز نہیں اور بالخصوص نعت شریف کی نظم حضور اقدس ﷺ کے دربار میں حضرت حسان بن ثابت رضی اﷲ عنہ نعت شریف کی نظمیں پڑھتے تھے اور حضرت حسان رضی اﷲ عنہ کے مسجد شریف میں منبر بچھا یا جاتاتھا اور حضوراقدس ﷺ حضرت حسان رضی اﷲ عنہ کے لئے دعائیں فرماتے ہیں اور فرماتے تھے

اللھم ایدہ برو ح القدس۔

تواب نظموں پر کیا اعتراض رہا؟حضور اکرمﷺ کی مجلس میں پڑھی گئیں حضور ﷺ کے اذن و اجازت سے پڑھی گئیں حضورﷺ اس پر راضی و خوش ہوئے حضور ﷺ نے پڑھنے والے کے حق میں دعائیں فرمائیں ایسا امر بھی ناجائز اور بدعت ہوسکتاہے ؟آوازیں ملانااس کی کہیں شریعت میں ممانعت وارد ہوئی ؟یا دین کے مسائل میں تمہیں کوئی ایسا اختیارحاصل ہوگیا ہے کہ جس امر کو چاہو محض اپنی رائے سے ممنوع و ناجائز قرار دے لو؟ایسے حکم دینا ایسا ناجائز بتانا یہی ’’احادیث فی الدین‘‘اور یہی بدعت سیئہ ہے اور ابے بدعتیو ! خود بدعت کرتے ہو اور متبعین سنت کے افعال کو بدعت بتاتے ہو ؟یہ تو تمہیں کیا خبر ہوگی کہ صحابہ کرام رضوان اﷲ علیہم اجمعین خندق کھودتے جاتے تھے اور آوازیں ملاکر ایک ساتھ حضور اقدس ﷺ کی نعت شریف اور اپنی جانثاری کی نظمیں پڑھتے جاتے تھے اس آواز ملانے کو بے دلیل ممنوع کہتے ہو ؟فعل صحابہ رضوان اﷲ علیہم اجمعین پر اعتراض ہے اور خاص اس فعل پر جو حضور ﷺ کے سامنے ہوا۔

شیرینی

اب آپ کا صرف یہ اعتراض باقی رہا گیا کہ ’’بعد ختم شیرینی تقسیم کی جاتی ہے ‘‘تو تقسیم شیرینی کوئی حرام ہے ؟ممنوع ہے؟ شریعت میں کہیں اس کی ممانعت وارد ہوئی ؟وہ کوئی ناجائز چیز ہے؟ہدیہ اور ضیافت کا زمانہ اقدس میں معمول تھا حضورﷺ نے اس کا حکم فرمایا سرور کے وقت ضیا فتیں اور احباب و اقارب میں تقسیم طعام یا شیرینی سنت صحابہ رضوان اﷲ علیہم اجمعین ہے جابجا اس کے تذکرے ہیں ۔حضرت فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ نے ختم قرآن کے بعد اُونٹ ذبح فرما کر ہدیہ احباب کیا ایک دو کیا صدہا مثالیں عہدرسول ﷺ میں ملتی ہیں اور آپ کے یہاں جو ’’بخاری شریف ‘‘ کا ختم اور اس میں شیرینی کا معمول ہے وہ کبھی آپ کو نہ کھٹکا ؟اس پر کبھی بدعت ہونے کا حکم نہ لگایا ؟زمانہ اقدس میں کبھی اس طرح کا ختم کیا گیا تھا ؟اس میں شیرینی تقسیم ہوئی تھی ؟بہر حال کوئی ادنیٰ سی وجہ بھی ایسی نہیں ہے جس سے کوئی عاقل منصف مجلس مبارک میلاد کو ناجائز تو کیا غیر مستحب بھی سمجھ سکے ایسی حالت میں اس کو موردِ بحث بنانا اور ذریعہ جدال قرار دینا اور ا س حیلہ سے مسلمانوں کو بُرا کہنا اور جماعت میں تفرقہ ڈال دینا شیطانی فعل نہیں تو کیا ہے؟

ہندو نوازی

آپ ہی تو وہ ہیں جو ہندوؤں کی محبت میں وارفتہ ہو کر جلسوں میں پھرا کرتے ہیں ،مشرکین کے ساتھ آوازیں ملاکر ’’جے‘‘ پکارا کرتے ہیں یہ کوئی چیز آپ کو بدعت معلوم نہیں ہوتی مگر ذکر حبیب ﷺ اور میلاد مبارک رسول کریمﷺ آپ کو بدعت نظرآتاہے ؟اس کے نام سے سودا اُٹھتاہے ؟خفقان ہوتاہے؟آپے سے باہر ہوجاتے ہیں ؟اس تفرقہ انگیزی سے باز آؤ اور سوچو کہ مجلس مبارک میلاد شریف پر بے جا ضداور ہٹ کیا فائدہ دے سکتی ہے ؟اور اس سے مسلمانوں میں تفرقہ انگیزی کرکے فتنہ پیدا کرنا کیا فائدہ پہنچا سکتاہے؟

گیارہویں شریف

اسی طرح گیارہویں تاریخ میں کسی خوش عقیدت مسلمان نے حضور غوثِ اعظم رضی اﷲ عنہ کی فاتحہ کردی تو وہابی جل بھن گئے مرچیں لگ گئیں آپ کا کیا نقصان ہوا ؟آپ کو کیا ایذا پہنچی ؟آپ کے دل میں کیوں درد اُٹھا؟

اومیاں! ناٹکوں سے نہ چڑنے والو، سینماؤں سے نہ کھسیانے والو ، کانگریسی جلسوں اور جلوسوں میں بے پردوہ عورتوں کے ساتھ اختلاط رکھنے والو ، ان کی تقریریں سننے والو ، ایسے مجمع میں جہاں بے پردہ عورتیںبے حجابانہ تقریریں کرتی ہوں شرکت کرنے والو، گیارہویں شریف سے کیوں کھسیاتے ہو؟اس میں تمہیں آزردہ کرنے والی کیا چیز ہے؟

قرآن کریم کی تلاوت مومن کے گھبرانے کی بات نہیں بے ایمان ضرور اس سے چڑتے ہیں

اذا ذکر اﷲ وحد ہ اشتماذت قلوب الذین لایومنون بالاخرۃ۔

جب خدائے وحدہ کا ذکر کیا جاتاہے تو ان کے دل پریشان ہوجاتے ہیں جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ۔

وقال اﷲ تعالیٰ وقال الذین کفرو الا تسمعوالھذا لقران والغو فیہ لعلکم تغلبون

کافروں نے کہا اس قرآن کو نہ سنو اور اس میں بے ہودہ شور مچاؤ تاکہ تم غالب ہو

قرآن پاک کے سننے سے گھبرانا ، اس سے چڑنا اور بُرا ماننا یہ تو ’’قرآن پاک‘‘نے کفار کا کام بتایا ہے۔

گیارہویں شریف کی فاتحہ میں ’’قرآن شریف ‘‘کی تلاوت کی جاتی ہے آپ اس سے کیوں گھبراتے ہیں ؟اس کے علاوہ اور کیا ہوتاہے ؟کچھ طعام یا شیرینی ہدیہ ناظرین کو کردی جاتی ہے اس میں کیا مضائقہ ہے ؟حسن سلوک اور احسان شریعت میں محمود ہے ۔ حضور سیدعالمﷺ نے مومن کی علامتوں میں شمار فرمایا ہے۔اطعام الطعامکوئی بہت ہی بڑا سخت دل کنجوس ہوتاوہ بھی دوسرے کے خرچ کرنے پر بُر انہ مانتا آپ میں کیا صفت ہے ؟جو آپ انفاق علی المسلمین سے بگڑ کر ’’مناع للخیر ‘‘بنے جاتے ہیں ؟اس میں آپ کو کون سی چیز ناجائز نظرآتی؟

ہاں ایک یہ بات شاید آپ کہیں کہ ’’تلاوت وطعام کا ایصالِ ثواب کیا جاتاہے حضور غوثِ پاک کو‘‘تو آپ کو معلوم نہیں کہ ایصالِ ثواب عباداتِ بدنیہ و مالیہ کا شریعت نے جائز رکھا ہے ۔حضرت سعد رضی اﷲ عنہ نے حضورسیدعالمﷺ کے حسب ارشاد اپنی والدہ رضی اﷲعنہا کے ایصالِ ثواب کے لئے کنواں بنوایا ۔

حدیث شریف میں موجود ہے کہ اس مسئلہ پر تمام اہل سنت کا اتفاق ہے شرح عقائد اور تمام دینی کتب میں مصرح ہے پھر وہ کیا چیز ہے جو آپ کو بدعت لگتی ہے ؟صرف گیارہویں تاریخ کا تعین ؟تو کیا اس کی ممانعت میں کوئی حدیث وارد ہوگئی ہے ؟عمل خیر کے لئے تعین اور خاص اموات کے ایصال ثواب کے لئے ’’حدیث شریف‘‘سے ثابت ہوتاہے خود حضوراکرم، نورِ مجسم ، جانِ ایمان ﷺ سالانہ شہدائے اُحد رضوان اﷲ علیہم اجمعین کی زیارت کے لئے تشریف لے جاتے تھے اس سے تعین کا پتا چلا اور تعین کا پتہ چلانا ہو تواحادیث کی کتابیں مالا مال ہیں ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے روزِ فتح کی خوشی کے لئے اسی تاریخ کو حضور سیدعالمﷺ نے روزہ رکھنے کے لئے فرمایا اپنی ولادت شریف کے روز یعنی دوشنبہ کو حضور سیدعالم ﷺ روزہ رکھتے تھے اور فرماتے تھے کہ فیہ ولدت اس دن میری پیدا ئش ہوئی۔

یہ تعین ہوایا نہیں؟

دعوتِ انصاف

غرض کوئی عذر وحیلہ ان کے بنائے نہیں بنتا لیکن مسلمانوں میں نزاع پیدا کرنااور اختلاف ڈالنے کے لئے ضد ہے اصرار ہے گیارہویں شریف سے عداوت ہے اس کے نام سے چڑتے ہیں کوئی ادنیٰ سی وجہ بھی ہوتی کوئی شرعی دلیل اس امر کی ممانعت پر قائم ہوتی تو موقع تھا کہ انکار کرتے مگر نفس و ہویٰ کے لئے انکار اور جماعت اہل اسلام میں تفرقہ اندازی نہایت افسوس ناک جرم ہے ۔اسی طرح اور مسائل میں نزاع ۔مدعا یہ ہے کہ یہ اُمور ایسے دقیق و ضامض اور ایسے مشکل ولایخل تو ہیں نہیں جہاں تک صاحب عقل و ہوش رسائی نہ کرسکے ؟سمجھ میں آتاہے اور صاف سمجھ میں آتاہے اور ہر مصنف مزاج جب نظر ڈالتاہے تو اس کو یقین ہوجاتاہے کہ ان فرعیات میں ان کا اعتراض بے جاہے صرف نفسانیت کا کرشمہ ہے شرعی دلائل اور قوی برہانیں ان اُمور کے جواز پر موجود ہیں ایسے ہی اُصول مسائل جن میں وہابیہ نے طوفان برپا کردیا ہے اس قدر مشکل نہیں ہیں کسی وہابی کی فہم ان تک رسائی نہ کرسکے۔

تعظیم رسالتﷺ

یہ توسب کو تسلیم ہے کہ حضور سیدعالمﷺ کی عزت وعظمت اور تعظیم وتوقیر اہم ترین فرائض میں سے ہے حضور ﷺ کی جناب میں ادنیٰ سے گستاخی بلاشبہ کفر پھر مولوی رشید و خلیل و محمد قاسم واشرف علی وغیرہ کی طرف داری میں اس قدر وارفتہ ہوجاناکہ حضور ﷺ کی شان میں ان کے ناقص کلمات اور گستاخانہ الفاظ برداشت کئے جائیں اتنا ہی نہیں بلکہ شد و مد سے ان کی طرف داری کی جائے ایسی کتابیں جن میں یہ کفریہ مضامین ہوں ان کو چھاپ کر شائع کیا جائے ۔ تمام عرب و عجم کے مسلمان آزردہ و رنجیدہ ہوں ،حرمین طیبین تک سے ان ناقص کلمات پر کفر کے فتوے آجائیں مگر ضد اور ہٹ دھرمی میں کمی نہ آئے ، بارگاہ الٰہی میں سر نہ جھکے ؟توبہ کے لئے زبان نہ ہلے؟حضور ﷺ کی گستاخی کرنے کے باوجود ان مولویوں کو نہ چھوڑا جائے ؟نہ انہیں توبہ پر مجبور کیا جائے؟یہ کتنی بڑی بے حمیتی ہے ۔ہندو پاکستان میں ایک عظیم فتنہ برپا ہے ، گھر گھر میں جنگ ہے ، ہر جگہ شور ہے ، غوغا ہے ، کچھ تو سنجیدہ طبیعت انسان اس درد کا احساس کریں او ر مسلمانوں کو اس کمزور کر دینے والے نزاع سے نجات دلائیں ۔ اگر وہابی صاحبان ذرا سی ضد چھوڑ دیںاور شریعت میں اپنی طرف سے ضد کرنے کی عادت چھوڑ دیں تو یہ تمام جھگڑا ایک دم ختم ہوجائے اور ہندو پاکستان کے گوشہ گوشہ میں جنگِ تعصب کے بھڑکنے والے شعلے بجھ جائیں اور یہ آگ سرد ہوجائے ۔ تمہاری زبان سے نکلے ، تمہارے قلم سے لکھے گئے تمام ملک ان سے آزردہ خاطر ہے تمام مسلمان ان سے رنجیدہ ہیں ، ہر مسلمان کا دل ان سے دکھا ہوا ہے تو تمہیں ان کلموں پر کیا اصرار ہے ؟تم اس بات کی پچ کرنے پر کیا مجبور ہو ؟توبہ کے دوکلموں سے اس نزع کا خاتمہ کیوں نہیں کردیتے ؟اگر کوئی باہمت وہابی اپنے اکابر کو توبہ کی ہمت دلائے اور ان پر زور دے تو تمام ہندو پاکستان کی صدسالہ جنگ منٹوں میں طے ہوسکتی ہے۔

کیا ہے کوئی ایسا صلح جو؟کیا ہے کوئی ایسا من پسند؟کیا ہے کوئی ایسا درد مند جو اس کوشش کے لئے کمربستہ اور تیار ہو ؟جاہل سے جاہل انسان اور سرکش سے سرکش شخص بھی خدا جل شانہ کے حضور توبہ کرنے اور جبین نیاز خاک پر رکھنے میں نہیں جھجکتا۔

کیا دعواید رانِ علم و ہمہ دانی علمی طور پر ثابت کریں گے کہ ان میں بھی اتنی حمیت باقی ہے ؟اﷲ تعالیٰ توفیق عطافرمائے۔