Skip to content

یوم میلاد النبیﷺ پر خوشی کا اظہار کرنا

عقائدشخصیات

اََلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ

اََمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِِ اللّٰہِ الرَّحمٰنِ الرَّ حِیْمِِ ط

اللہ تعالیٰ عزوجل نے قرآن کریم میں فرمایا:

قُلْ بِفَضْلِ اللّہِ وَبِرَحْمَتِہِ فَبِذَلِکَ فَلْیَفْرَحُواْ ہُوَ خَیْْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُونَ (سورۃ یونس، آیت ۵۸)

(اے نبی آگاہ کردیجئے اللہ کے فضل ورحمت پر ہی خوشی منایا کرو، کیونکہ یہ اس چیز سے بہتر ہے جو تم جمع کرتے ہو)

سورۃ یونس کی آیت نمبر ۵۸ میں فضل ورحمت سے مفسرین نے حضور نبی کریم ﷺ کو بھی مراد لیا ہے، مولوی اشرف علی تھانوی نے بھی یہی مراد لیا ہے۔

بعض لوگ اس آیت کو سن کر کہہ دیتے ہیں کہ یہاں فضل سے مراد قرآن اور اسلام ہے، تو عرض ہے کہ مفسرین نے اس فضل ورحمت سے حضور نبی کریم ﷺ کوبھی مراد لیاہے۔

علامہ ابن جوزی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی ۵۹۷ھ) نے تفسیر زاد المسیر میں سورۃ یونس کی آیت نمبر ۵۸ میں رحمۃ سے حضور نبی کریم ﷺ کو مراد لیا ہے۔

(تفسیر زاد المسیر ،جز رابع، ص۴۰)

علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی ۹۱۱ھ) نے تفسیر الدرالمنثور میں رحمۃ سے حضور نبی کریم ﷺ کو مراد لیا ہے۔

(تفسیر الدر المنثور،جز السابع، ص۶۶۸)

علامہ ابو حیان اندلسی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی ۷۴۵ھ) نے تفسیر البحر المحیط میں رحمۃ سے حضور نبی کریم ﷺ کو مراد لیا ہے۔

(تفسیر بحر المحیط، جز الخامس، ص۱۶۹)

علامہ سیّد محمود آلوسی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی ۱۲۷۰ھ) نے تفسیر روح المعانی میں رحمۃ سے حضور نبی کریم ﷺ کو مراد لیا ہے۔

(تفسیر روح المعانی ،جز الحادی عشر، ص۱۴۱)

علامہ ابن عطیہ رحمۃ اللہ علیہ (متوفی ۵۴۶ھ) نے تفسیر المحرر الوجیز میں الفضل سے حضور نبی کریم ﷺ کو مراد لیا ہے۔

(تفسیر المحرر الوجیز، جز الثالث، ص۱۲۶)

علامہ سھل بن عبداللہ تستری رحمۃ اللہ علیہ (متوفی۲۷۳ھ) نے تفسیر تستری میں اس آیہ کریمہ سے حضور نبی کریم ﷺ کو مراد لیا ہے۔

(تفسیر تُستری،ص۱۶۳)

ڈاکٹر عبدالرحمن بن حسن النفیسۃ (شاگرد شیخ عبدالعزیز بن بازنجدی) نے تفسیر المبین میں رحمۃ سے حضور نبی کریم ﷺ کو مراد لیا ہے۔

(تفسیر المبین، جلدالرابع،ص۲۶۲)

مولوی اشرف علی تھانوی نے بھی اپنے خطبات میلاد النبی میں فضل ورحمت سے حضور نبی کریم ﷺ کو مراد لیا ہے۔

(خطبات میلاد النبی ، جلد ۵،ص۶۳،۶۴)

صحابی کا خوشی پر قُلْ بِفَضْلِ اللّہِ سے استدلال

ایک صحابی کو خوشی نصیب ہوئی تو انہوں نے اسی آیت مبارکہ سے استدلال کیا، اس واقعہ کی تفصیل امام احمد بن حسین بیہقی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی ۴۵۸ھ) نے شعب الایمان میں نقل کی کہ حضرت عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابی ابزیٰ اپنے والد گرامی سے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

انزلت علی سورۃ وامرت ان ا قرئکھا قال :قلت اسمیت لک قال: نعم

مجھ پر ایک سورت نازل ہوئی ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں وہ سورت تمہیں پڑھائوں ، حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے پوچھا : یا رسول اللہ ﷺ کیا آپ کو میرا نام لے کر بتایا گیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ہاں ، میں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے پوچھا : اے ابو المنذر ! کیا تمہیں اس بات سے خوشی ہوئی ؟

افرحت بذلک یا ابا المنذر

انہوں نے کہا : مجھے بھلا کیوں نہ خوشی ہوگی ، اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اپنے فضل اور رحمت ملنے پرخوش ہونے کا حکم دیا ہے :

قُلْ بِفَضْلِ اللّہِ وَبِرَحْمَتِہِ فَبِذَلِکَ فَلْیَفْرَحُواْ ہُوَ خَیْْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُونَ (سورۃ یونس، آیت ۵۸)

تم فرمائو اللہ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت اور اسی پر چائیے کہ خوشی کریں وہ ان کے سب دھن دولت سے بہتر ہے(ترجمہ کنزالایمان)

(المستدرک حاکم :کتاب معرفۃالصحابہ: حدیث ۵۳۲۴) ھذا حدیث صحیح

جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے نام لینے کی خوشی پر اس آیت کریمہ سے استدلال جائز ہے تو ولادت نبوی ﷺ کی خوشی پر یہ استدلال بطریق اولیٰ جائز ہونا چاہئے۔

کسی خوشی کی بات پر ثواب ملنا

’’ مولوی اشرف علی تھانوی کے ایک مرید نے تھانوی صاحب سے کہا کہ میرے دل میں بار بار یہ خیال آتا ہے کہ کاش میں عورت ہوتا حضور کے نکاح میں، اس اظہار محبت پر حضرت والا غایت درجہ مسرور ہوکر بے اختیار ہنسنے لگے اور یہ فرماتے ہوئے مسجد کے اندر تشریف لے گئے ، یہ آپ کی محبت ہے ثواب ملے گا، ثواب ملے گا، ان شاء اللہ ‘‘۔

(اشرف السوانح، جلد ۲،ص۶۴)

اَب عرض ہے کہ تھانوی صاحب کی بیوی بننے کی خواہش پر تو ثواب ملے گا، اور ساتھ ان شاء اللہ بھی کہا، کیا حضور نبی کریم ﷺ کی ولادت پر خوشی ہونے سے ثواب نہیں مل سکتا ؟

اسی طرح تذکرۃ الرشید میں ہے کہ:

ایک مرتبہ مولوی رشید احمد گنگوہی صاحب نے اپنے مرید سے اس کے گائوں آنے کا وعدہ کیا، مرید صاحب کہتے ہیں کہ میں صبح اُٹھ کر دیکھتا ہوں کہ ایک بڑھیا چماری راستہ میں جھاڑو دے رہی ہے، میں نے اس سے پوچھا آج کیا بات ہے، اس نے کہا کہ تمہیں معلوم نہیں آج مولوی صاحب آرہے ہیں، آگے چلا تو دیکھتا ہوں چار طرف حضرت کی تشریف آوری کا شور مچ رہا ہے اور اہل دیہہ عید سے زیادہ خوشی منارہے ہیں۔

(ملخص، تذکرۃ الرشید، جلد ۲،ص۳۸)

عرض یہ ہے کہ مولوی رشید احمد گنگوہی کی آمد پر عید سے زیادہ خوشی ہو نے کو برداشت کیا جائے، لیکن افسوس میرے آقا حضور نبی کریم ﷺ کی آمد پر صرف عید کہہ دیا جائے تو ہم پر خلاف شرع اور بدعتی کے فتوے سے کم بات نہ ہو۔

حوالہ جات کا عکس

یوم میلاد النبیﷺ پر خوشی کا اظہار کرنا - صفحہ 1یوم میلاد النبیﷺ پر خوشی کا اظہار کرنا - صفحہ 2یوم میلاد النبیﷺ پر خوشی کا اظہار کرنا - صفحہ 3یوم میلاد النبیﷺ پر خوشی کا اظہار کرنا - صفحہ 4یوم میلاد النبیﷺ پر خوشی کا اظہار کرنا - صفحہ 5یوم میلاد النبیﷺ پر خوشی کا اظہار کرنا - صفحہ 6یوم میلاد النبیﷺ پر خوشی کا اظہار کرنا - صفحہ 7یوم میلاد النبیﷺ پر خوشی کا اظہار کرنا - صفحہ 8یوم میلاد النبیﷺ پر خوشی کا اظہار کرنا - صفحہ 9یوم میلاد النبیﷺ پر خوشی کا اظہار کرنا - صفحہ 10یوم میلاد النبیﷺ پر خوشی کا اظہار کرنا - صفحہ 11یوم میلاد النبیﷺ پر خوشی کا اظہار کرنا - صفحہ 12یوم میلاد النبیﷺ پر خوشی کا اظہار کرنا - صفحہ 13یوم میلاد النبیﷺ پر خوشی کا اظہار کرنا - صفحہ 14یوم میلاد النبیﷺ پر خوشی کا اظہار کرنا - صفحہ 15یوم میلاد النبیﷺ پر خوشی کا اظہار کرنا - صفحہ 16یوم میلاد النبیﷺ پر خوشی کا اظہار کرنا - صفحہ 17یوم میلاد النبیﷺ پر خوشی کا اظہار کرنا - صفحہ 18یوم میلاد النبیﷺ پر خوشی کا اظہار کرنا - صفحہ 19یوم میلاد النبیﷺ پر خوشی کا اظہار کرنا - صفحہ 20یوم میلاد النبیﷺ پر خوشی کا اظہار کرنا - صفحہ 21یوم میلاد النبیﷺ پر خوشی کا اظہار کرنا - صفحہ 22یوم میلاد النبیﷺ پر خوشی کا اظہار کرنا - صفحہ 23یوم میلاد النبیﷺ پر خوشی کا اظہار کرنا - صفحہ 24یوم میلاد النبیﷺ پر خوشی کا اظہار کرنا - صفحہ 25