Skip to content

پنجتن پاک

عقائدشخصیات

ترتیب: خلیل احمد رانا

لی خمسۃ اطفیٰ بہا حرالوبا الحاطمہ

المصطفیٰ والمرتضیٰ وابنا ھما الفاطمۃ

تعارف

میرے لئے پانچ ہستیاں ایسی ہیں جن کے وسیلے سے جلانے والی آفتوں کو بجھاتا ہوں، وہ پانچ یہ ہیں، حضور ﷺ، حضرت علی، حضرت فاطمہ اور حسن اور حسین۔

قرآن کریم میں اﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

انما یرید اﷲ لیذ ھب عنکم الرجس اھل البیت ویطھرکم تطھیرا (سورۃ احزاب، آیت ۳۳)

ترجمہ: اﷲ یہی ارادہ فرماتا ہے کہ اے رسول کے گھر والو تم سے ہر قسم کی ناپاکی کو دور فرمادے اور تمہیں اچھی طرح پاک کرکے خوب پاکیزہ کردے (ترجمہ قرآن، البیان از علامہ کاظمی)

پنجتن کی شان میں نازل ہونے والی حدیث

علامہ ابی جعفر محمد بن جریر الطبری علیہ الرحمہ (متوفی ۳۱۰ھ) جامع البیان فی تفسیر القرآن، مطبوعہ بیروت (لبنان) ۱۳۹۸ھ/ ۱۹۷۸ء، ج۲۲، ص۵ پر حدیث نقل کرتے ہیں:

محمد بن المثنی قال ثنابکر بن یحییٰ بن زبان العنزی قال ثنا مندل عن الاعمش عن عطیۃ عن ابی سعید الخدری قال قال رسول اﷲ ﷺ نزلت ھذہ الاٰیۃ فی خمسۃ فیّ وفی علی رضی اﷲ عنہ وحسن رضی اﷲ عنہ وحسین رضی اﷲ عنہ وفاطمہ رضی اﷲ عنہا انما یرید اﷲ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت ویطہرکم تطھیرا

ترجمہ: رسول اﷲ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ یہ آیت پنجتن کی شان میں نازل ہوئی ہے، میری شان میں اور علی رضی اﷲ عنہ کی اور حسن اور حسین رضی اﷲ عنہما اور حضرت فاطمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کی شان میں کہ جزاں نیست اﷲ تعالیٰ ارادہ کرتا ہے اے اہل بیت کہ تم سے ناپاکی دور کردے اور تمہیں پاک کردے خوب پاک کردے۔

پنجتن کے معنی ہیں پانچ افراد، اور ان سے مراد حضرت محمد رسول اﷲ ﷺ ، حسنین کریمین، سیدہ فاطمہ زہرا، حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہم اجمعین ہیں، اور آیت تطہیر ان پانچوں مقدسین کے بارے میں نازل ہوئی ، جس میں ویطہرکم تطہیرا موجود ہے، یعنی اﷲ تعالیٰ تمہیں پاک کردے پاک کرنا، جو اس بات کی روشن دلیل ہے کہ یہ پنجتن واقعی پاک ہیں۔

رسول اﷲ ﷺ نے جب خود اپنی زبان مبارک سے ’’خمسۃ‘‘ کالفظ فرمادیا اور خمسہ سے اپنی مراد کو ظاہر فرمانے کے لئے تفصیل ارشاد فرمادی اور صاف صاف ارشاد فرمادیا کہ آیہ تطہیر کی شان نزول یہ پانچ ہیں جن کو اﷲ تعالیٰ نے پاک قرار دیا، تو اب اس کے بعد کے بعد کسی شقی القلب کا یہ کہنا کہ معاذ اﷲ پنجتن کو پاک کہنا جائز نہیں اور پنجتن آیہ تطہیر میں داخل نہیں ، بارگاہ رسالت سے بغاوت اور اور اﷲ کے رسول کی تکذیب نہیں تو اور کیا ہے؟ نعوذباﷲ من ذلک

اس کا مقصد یہ نہیں کہ معاذ اﷲ ان پانچ کے سوا ہم کسی کو پاک نہیں مانتے، ہمارے نزدیک حضور ﷺ کی ازواج مطہرات بھی آیۂ تطہیر میں شامل ہیں، اسی لئے ہم ان کے ساتھ مطہرات کا لفظ لازمی طور پر استعمال کرتے ہیں اور ان کے علاوہ اﷲ تعالیٰ کے بے شمار مقدس محبوب بندے اور بندیاں یقیناً پاک ہیں اور ہم ان کی پاکی کا اعتقاد رکھتے ہیں، لیکن پنجتن پاک بولنے کی وجہ صرف یہ ہے کہ حدیث منقولہ بالا میں خود حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زبان مبارک سے خمسۃ کا کلمہ مقدسہ ادا ہوا ، پھر ان کی تفصیل بھی خود حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمائی اور ان کی شان میں آیۃ تطہیر کے نزول کا ذکر فرمایا۔ ( ماہنامہ السعید، ملتان، شمارہ اکتوبر ۱۹۶۲ء ، ص ۲۲۔۲۳)

کچھ بعید نہیں کہ جہلائے وہابیت و دیوبندیت پنجتن کا لفظ بولنے اور ان کے افراد کا نام ذکر کرنے پر حضور نبی کریم ﷺ پر بھی شیعہ ہونے کا فتویٰ نہ لگادیں۔ یہ لوگ بتائیں کہ پنجتن کون ہیں؟پنجتن میں ایک حضور نبی کریم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ہیں ، تین صحابی ہیں ایک صحابیہ ہیں، اہل سنت ان صحابہ کانام لیں تو شیعہ لیکن دیوبندی وہابی رات دن صحابہ صحابہ کا وظیفہ جپیں ، اپنے جلسوں میں صحابہ کے نام کے نعرے لگائیں، صحابہ کے نام کی تنظیمیں بنائیںتو دیوبندی وہابی شیعہ نہیںبنتے آخر کیوں؟کیا یہ اہل بیت کرام سے عداوت نہیں؟۔

کبھی کہتے ہیں کہ ’’حضرت نوح علیہ السلام کی قوم پانچ بزرگوں کو داتا مانتی تھی اور یہ اُن کے پنج تن پاک تھے، ہمارے قبر پرست مسلمانوں کا پنج تن پاک والا عقیدہ اسی قدیم عقیدہ کی یاد گار ہے‘‘ (کتاب ’’داتا کون‘‘ از مفتی عبدالرحمن غیر مقلد(فاضل دیوبند) ، شائع کردہ مدرسہ تدریس القرآن والحدیث، سنت نگر، لاھور)

لاحول ولا قوۃ الاباﷲ ، تفاسیر اور شروح احادیث میں سورہ نوح کی آیت ۲۳کی تفسیر و شرح میں یہ لکھا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت نوح علیہ السلام کے درمیانی دور میں پانچ برگزیدہ بندے تھے ، ودّ، سواع، یغوث، یعوق اور نسر ، بعثت حضرت نوح علیہ السلام سے قبل لوگوں نے اُن کے بت بنالئے تھے اور ان بتوں کو الٰہ اور معبود ٹھہرا لیا تھا، وہ لوگ ان کی پوجا کرتے تھے ، کوئی مسلمان اہل بیت کو یا کسی ولی اﷲ کو الٰہ اور معبود نہیں مانتااور نہ ہی اُس کی پوجا کرتا ہے، بہتان بازی کا کوئی علاج نہیں۔