Skip to content

نماز کی فضیلت کا بیان

مصنف: مفتی احمد یار خان نعیمی

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

حافظو علی الصّلَوَاتِ والصلوۃِ الوسطیٰ وقومو للہِ قٰنیِتِیْن

اس مقام پر تین امور قابلِ غور ہیں۔ گزشتہ آیت سے اس کیا تعلق کہ وہاں تو طلاق قبل الدخول اور اس کے مہر کا ذکر تھا ۔یہاں نمازوں کا ذکر آگیا۔اس کی شان نزول کیا ہے اس سے احکام کیا معلوم ہوئے۔

۱) شانِ نزول

شانِ نزول یہ ہے کہ ایک قوم مکانات بنائے اور ان کے آراستہ کرنے میں ،مشغول ہوگئی ،اور مساجد کو ویران کردیا۔اس پر یہ آیت ِ کریمہ نازل ہوئی ۔

۲) گزشتہ آیت سے تعلق

اس کا تعلق گزشتہ آیت سے دو طرح ہے۔ یا تو اس طرح کہ قرآن کریم کا قاعدہ ہے کہ جہاں دنیاوی احکام بیان فرماتا ہے ۔وہاں دینی احکام بھی فوراً بیان بیان فرماتا ہے۔ تاکہ لوگ دنیا میں مشغول ہوکر آخرت سے غافل نہ ہوجاویں پہلے یہ فرمایا تھا کہ فاتو ا حرثکم انی شئتم وقدمو ا لانفسکم چونکہ بہت دیر سے طلاق کے احکام بیان ہورہے تھے اور بعد میں بھی اسی قسم کے احکام آرہے ہیں ۔لہذا اب نماز کا ذکر کیا۔

اس میں علماء کو تنبیہ ہے ۔کہ ان مسائل میں مشغول ہوکر نمازوں سے غافل نہ ہوجاویں ۔ اور عامۃ الناس کو یہ تنبیہ ہے کہ طلاق ونکاح کے جھگڑوں میں ایسے نہ پھنسیں ، کہ نماز وغیرہ عبادات سے غافل ہوجاویں ۔ حضرت امام غزالی کے چھوٹے بھائی امام حامد غزالی ولی کامل تھے مگر امام غزالی کے پیچھے نماز نہ پڑھتے تھے ۔ انہوں نے اپنی والدہ ماجدہ سے شکایت کی۔والدہ صاحبہ نے وجہ دریافت کی ۔ تو حامد صاحب نے فرمایا ۔کہ یہ نماز میں کھڑے ہوکر مسائل شروع سوچتے ہیں۔محراب عبادت کی جگہ ہے ۔ یا دارالافتاء والدہ ماجدہ نے فرمایا ۔کہ وہ تو مسائل ڈھونڈتے ہیں۔ اور تم ان کے عیب وہ قرآن میں رہتے ہیں ، تم نماز سے نکل کر ان کے دل میں گھستے ہو۔ نماز میں نہ تم رہتے ہو ۔ نہ وہ آخر حامد غزالی نے معذرت کی ۔ دوسرے یہ کہ آیت طلاق میں آیا تھا لا تنسو الفضل بینکم۔ آپس کے احسانات نہ بھولو۔ جب مخلوق کے احسانات کا شکریہ ضروری ہوا تو خالق کے احسانات کا شکریہ بدرجہ اولیٰ ضروری ہے ۔ اس کا شکریہ نمازوں کی محافظت ہے اس حکمت سے یہاں نماز کا ذکر فرمایا گیا ۔

۳) آیت سے مستنبط احکام

اس آیت سے بہت سے احکام معلوم ہوئے ۔اولاً یہ کہ تمام نمازوں کی محافظت ضروری ہے ۔ محافظت میں بہت وسعت ہے۔ ہمیشہ پڑھنا ۔صحیح وقت پر پڑھنا۔فرائض وواجبات ، مستحبات تک کا لحاظ رکھنا خشوع وخضوع وحضور قلب سے ادا کرتا ۔ دوسرے یہ کہ صلوۃ وسطی سے مرادنمازِ عصر ہے ۔حدیث احزاب میں ہے شغلو انا عن الصلوۃ الوُسطیٰ ۔ تیسرے یہ کہ وسطی معلوم ہوتا ہے۔کہ نمازیں پانچ ہیں۔اس لئے کہ وسطی یعنی بیچ کی نماز وہ کہلاوے گی جس کے آس پاس برابر کاعدد ہو ۔اور عدد کم سے کم دو ہیں ، ایک عدد نہیں ۔ کیونکہ عدد اسے کہتے ہیں جو مجموعہ حاشینین کا نصف ہو ۔ تو نماز ِ وسطیٰ نماز جب ہی ہوسکتی ہے ۔ کہ آس پاس دودو نمازیں ہو اور درمیان میں یہ ہو تو لا محالہ نمازیں پانچ ہوئیں ۔ تین کے آس پاس کوئی عدد نہیں ان میں واسطہ نہ بن سکے گا۔

۴) نمازِ عصر کی تاکید کی وجوہات

چند وجہوں سے نماز ِ عصر کی تاکید زیادہ ہے۔ اولاً یہ کہ یہ وقت ہے تجارت کے فروغ اور سیر و تفریح اور کھیل وکود کا ۔ ممکن ہے ۔کہ لوگ اس سے غافل ہوجاویں ۔دوم ۔ حضرت سلیمان علیہ السلام گھوڑوں میں مشغول ہوکر اسی نماز کو نہ پڑھ سکے تھے ۔ سوم۔ اس نماز میں رات و دن کے فرشتے جمع ہوتے ہیں ۔بروایت بعض ۔چہارم ۔ یہ نماز قصری اور غیر قصری کی درمیانی ہے۔ پنجم مرتے وقت اور قبر میں سولات کے وقت یہ ہی وقت محسوس ہوگا ۔اگر بندہ اس نماز کا پابند ہے تو سولِ نکیریں کے وقت کہتا ہے کہ سوال بعد میں کرنا پہلے مجھے نماز عصر پڑھ لینے دو۔ اسی وجہ سے صوفیائے کرام بعد نماز عصر کھانا پیناوغیرہ حتیٰ کہ کلام دنیا کو بھی پسند نہیں کرتے کہ نزع میں پانی پینے کی ضرورت در پیش نہ آوے۔

۵) قومو للہ قنیتین سے مستنبط احکام

قومو للہ قنیتین۔سے چند باتیں معلوم ہوئیں ۔ نماز مین قیام فرض ہے امر وجوب کے لئے ۔ جماعت ضروری ہے ۔کہ صیغہ جمع اجتماع کو چاہتا ہے ۔قانتِتین سے معلوم ہوتا ہے بات کرنا سلام کرنا ۔کھانا پینا۔اِدھر اُدھر دیکھنا منع ہے ۔ یہ تمام امور نماز میں جائز تھیاب ممنوع ہوگئے ۔ اور اِ ذَا قرء القرآن سے نماز میں امام کے پیچھے قرأت منع کردی گئی۔ قنوت کے معنی سکوت کے بھی ہیں۔ اور اطاعت کے بھی ۔

للہ سے معلوم ہوا ۔کہ نماز صرف رضائے الٰہی کے لئے چاہئے ۔اس میں ریاکاری ، نام و نمود کو دخل نہ ہو۔ نماز حاجت ، نماز غوثیہ وغیرہ میں بھی رب تعالیٰ ہی کو راضی کرنا منظور ہرتا ہے ۔ پھر رب تعالیٰ سے حاجت چاہی جاتی ہے کسی مقصد کے لئے نماز پڑھنا اللہ کے خلاف نہیں اسی طرح للہ سے یہ بھی معلوم ہو ا کہ نماز اللہ کے لئے چاہئے ۔کعبہ کے لئے نہیں ،کعبہ کی طرف صرف رُخ کرایاگیا ہے۔چہرہ کعبہ کی طرف اور دل خالقِ کعبہ کی طرف ضروری ہے ۔ رب تعالیٰ ایسی نمازیں نصیب کرے۔آمین