بسم اللہ الرحمن الرحیم
جو کوئی جمعہ کے روز ایک سو بار درود پاک پڑھے ۔ جب وہ قیامت کے روز آئے گا تو اس کے ساتھ ایک ایسا نو رہوگا کہ ۔ اگر وہ ساری مخلوق میں تقسیم کردیا جائے تو سب کو کافی ہوگا۔
صلوا علی الحبیب! صلی اللہ تعالی علی محمد
ایک بار مولی مشکل کشاء علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ نے خاتون جنت حضرت فاطمۃ الزہرہ رضی اللہ عنہا کے پاس کچھ رقم بھیجی۔ ان دنوں مدینے والے آقا ﷺ مدینے منورہ سے کہیں باہر تشریف لے گئے تھے۔ مولا مشکل کشاء علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ کی بھیجی ہوئی رقم سے خاتون جنت رضی اللہ عنہا نے ایک پردہ خرید کردروازے پر لٹکا دیا اور چاند ی کے دو کنگن بنواکر ہاتھوں میں پہن لیے۔ سرکار نامدار دوجہاں کے تاجدار ہم غریبوں کے مدگارر ﷺ جب مدینہ پاک تشریف لے آئے تو سرکار ﷺ کی یہ عادت کریمہ تھی کہ سیدھے سب سے پہلے اپنی لخت جگر نور نظر سیدتنا النساء حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لے جاتے۔ چنانچہ پیارے آقا صلی اللہ علیہ والہ وسلم جب کاشانہ فاطمہ رضی اللہ عنہاپر تشریف لے گئے ۔جسب معمول آپ کی شہزادی، شہزدی کونیں رضی اللہ نے اپنے بابا جان صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو اھلا وسھلا مرحبا کہا ۔ مگر مدینے کے تاجور نبیوں کے سرور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے جب گھر پر پردہ لٹکا ملاحظہ فرمایا اور ہاتھوں میں چاندی کے کنگن دیکھے تو گھر میں تشریف فرما نہیں ہوئے۔ بلکہ واپس تشریف لے گئے۔ خاتون جنت رضی اللہ عنہانے سرکار صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا یہ حال ملاحظہ فرمایا تو ان کے پیروں تلے زمیں نکل گئی اور آپ رونے لگیں اور سمجھ گئی میرے گھر میں سرکار صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے جو پردہ ملاحظہ فرمایا اور یہ چاندی کے کنگن آپ نے دیکھ لئے ، یہی چیزیں میرے بابا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو ناگوار گزری ہے۔ لہذا خاتون جنت رضی اللہ عنہ نے فوراً پردہ بھی اتاردیا اور دونوں کنگن بھی اتار دیئے اور یہ دونوں چیزیں حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کودے کر فرمایا کہ انہیں نانا جان کے پاس لے جاو اور میری طرف سے عرض کروں کہ آپ کو جس طرح چاہے کام میںلائے۔ جب دونوں شہزادے اپنے نانا جان صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سراپا خدمت میں حاضر ہوئے اور یہ دونوں چیزیں پیش کرتے ہوئے اپنی امی جان کا پیغام سنایا تو رحمت عالم نور مجسم شاہ بنی آدم صلی اللہ علیہ والہ وسلم خوش ہوگئے۔ اور ان دونوں شہزادوں کو اپنے مبارک زانوں پر بٹھایا اور پیار کرنے لگے اور صحابہ کرام علیہم الرضوان کا حکم دیا کہ کنگن کو توڑ کر اور پردے کو ٹکڑے کر کے انہیں اصحاب صفہ میں تقسیم کردو۔ اس کے بعد اللہ کے محبوب صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے دعا مانگی ۔ اے اللہ ! میری بیٹی فاطمہ کو اپنے فضل و کرم سے نواز اس پردے کے بدلے جس سے اصحاب صفہ کے مختاجوں کا بدن ڈھانپا گیا ۔ میری بیٹی کو جنت کا لباس عطافرما اور ان کنگنوں کے بدلے میں جوان غریبوں میںتقسیم کئے گئے۔ اسے جنت کا زیور پہنا۔
اسلامی بہنو!اس واقعہ پر غور تو فرمائے کہ دوجہاں کے تاجدار صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی شہزادی کی صرف اپنے گھر میں پردہ لٹکاتی ہے اور چاندی کے کنگن اپنے ہاتھوں میں ڈالتی ہے تو اللہ کے محبوب صلی اللہ علیہ والہ وسلم جنہوں نے اپنی زندگی سادگی میں گزاری ہے۔ اپنے خاندا ب میں سادگی دیکھنا چاہتے ہیں۔ ان کو تکلف بھی پسند نہیں آیا اور شہزادی کی فرماں برداری پر قربان اور شہزادی رضی اللہ عنہ کے فہم وفراست کے کیا کہنے کہ اان کے بابا جان صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے حالانکہ کچھ نہ فرمایا ۔ مگروہ یہ سمجھ گئیں کہ یہ چیزیں سرکار صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو پسند نہیں ، فوراًاتار کر بھیج دیاکہ سرکار صلی اللہ علیہ والہ وسلم بہت سادہ سادہ طبیعت تھے ۔
تیری سادگی پر لاکھوں تیر ی عاجزی پر لاکھوں
ہوسلام عاجزانہ مدنی مدینے والے ﷺ
اگر ہم اپنے گھر کا جائز ہ لیں تو آج کو ن سے درودیوا ر ایسے ہیں جن کو پردے نہیں پہنائے جاتے ۔ حالانکہ حسب ضرورت گھر میںپردہ لٹکانا گناہ نہیں ہے۔نہ عورت چاندی کے کنگن پہنے یہ کوئی ناجائز ہے بلکہ عورت سونے کے کنگن بھی پہن سکتی ہے۔۔ گھر کی چاددیواری میں وہ زینت ، جائززینت کرسکتی ہے۔ لیکن یہاں بات سادگی کی ہے کہ میرے آقا صلی اللہ علیہ والہ نے یہ معمولی سابھی تکلف برداشت نہ کیا۔تو ہمار ی وہ بہو بیٹیاں ، اس سے عبرت حاصل کریں اور صبر کرنا سیکھئے کہ اگر ان کے پاس زیورات مہیانہیں ہیں۔ اگر ان کے پاس اچھے لباس پہننے کے لئے نہیں ہے تو وہ اپنے ماں باپ کو پریشان نہ کریں، وہ ضد نہ کریںاوردوسریوں کی ریس نہ کریں کہ اس نے اچھا لباس پہنا ہے تو میں بھی پہنوں گی ۔ اس نے اپنے گھر میں ایسی ایسی سجاوٹیں کی ہے تو میں بھی کروں گی، اس طرح کی ضد ٹھیک نہیں ہے۔ بلکہ اسلامی بہنوں کوبھی چاہیے کہ بہت زیادہ سادگی اپنائے اس میں خرچ بھی کم ہے۔ دوسروں کی نظر لگنے کا امکان بھی کم ہے۔ بہت سے فتنوں کا اس میں علا ج ہے۔ مگر ہماری بدقسمتیہے کہ جس قدر فیشن پرستی آج عورتوں میں ہے اس قدر مردوں میں نہیں ہے۔بلکہ میرے خیال میں عورتوں کے مقابلے میں ایک فیصدبھی نہ ہو۔عورت میں اس قدر فیشن ہے حالانکہ ’’عورت‘‘ کا لفظی معانی’’ چھپانے کی چیز‘‘ بنتے ہیں۔ عورت یعنی چھپانے کی چیز ، اب عورت چونکہ چھپی نہیں رہتی تو اسے عورت کہا جائے یا نہ کہا جائے؟ یہ خودعورتیں فیصلہ کرلیںکہ ان کا عورت کہا جائے یا اور نام رکھا جائے۔سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ کی عقیدت اور محبت ا س کا نام نہیں کہ آپ دشمن اسلام کی من گھڑت کہانیاں، جناب سیدہ کی کہانی پڑھ کر اپنے دل کو مطمئن کرلیں کہ ہم بہت عقیدت مند ہیں ان کی بڑی دیوانیاں ہیں۔ اور یہ بھی عرض کردوں کہ یہ جو کہانیاں چلتی ہیں ، جناب سیدہ کی کہانی ، دس بیبیوں کی کہانی ، کہانی تو پھر کہانی ہے ۔ مسلمانوں میں اس کو پڑھنا جائز نہیں ہے۔ یہ من گھڑت قصے ہیں اس کا ہرگز نہ پڑھا کریں اور اگر کسی نے منت مان بھی لی ہے تواس کی بجائے یٰسین شریف پڑھ لیں ، یٰسین شریف کے صفحے بھی تقریباً اتنے ہیں اور مستند حدیثوں میں یہ مضامین موجود ہے کہ جو ایک مرتبہ یٰسین شریف پڑھتا ہے اس کو دس بار قرآن پاک ختم کرنے کا ثواب ملتا ہے۔ اوررہابی بی فاطمہ رضی اللہ عنہ کے ایصال ثواب کے لئے نیاز کرنا تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
میں سیدہ خاتون جنت رضی اللہ عنہ کی سادگی بیان کررہا تھا۔ آپ کی سادگی کایہ عالم تھا کہ آپ اپنے ہاتھ سے چکی پیستی تھیں ،جھاڑو دیتی،کپڑے دھوتی۔ تو اسلامی بہنیںکہیں گی کہ ہم بھی یہ سب کرتیں ہیں۔ آپ چکی نہیں پیستی ہوں گی۔ اور جو بڑے گھرانوں کی ہے وہ گھر میں درجنوں نوکرانیاں رکھتی ہوں گی۔ خاتون جنت رضی اللہ عنہ کے گھرانے سے بڑا گھرانہ نہ تھا نہ ہے اور نہ کبھی ہوگاتو وہ سارا کام اپنے دست مبارک سے کیا کرتی تھیں۔ کسی نے اس کا بہت خوب نقشہ کھینچا ہے:
| افلاس سے تھا سیدہ فاطمہ کا یہ حال | گھر میں نہ کوئی کنیز نہ کوئی غلام |
| گھس گھس گئی تھیں ہاتھوں کی دونوں ہتھلیاں | چکی کے پیسنے کا جو دن رات کام تھا |
| سینے پر مشک بھر کے جو لاتی تھی بار بار | جو نور سے بھرا تھا مگر نیل بام تھا |
| اٹ جاتا تھا لباس مبارک غبار سے | جھاڑو کا مشغلہ بھی صبح و شام تھا |
| آخر گئیں جناب رسول خدا کے پاس | یہ بھی کچھ اتفاق وہاں اذن عام تھا |
| محرم نہ تھے لوگ تو کچھ کرسکی نہ عرض | واپس گئی کہ حیا کا مقام تھا |
| پھر جب گئیں دوبار تو پوچھا رسول نے | کل کس لئے آئی تھی کیا خاص کام تھا |
| غیرت یہ تھی کہ اب بھی نہ کچھ منہ سے کہ سکی | حیدر نے ان کے منہ کہا جو پیام تھا |
| ارشاد ہوا کہ غریبان بے وطن | جن کا صفہ نہ بوی میں قیام تھا |
| میں ان کے بندوبست میں فارغ نہیں ہنوز | ہر چند اس میں خاص مجھے اہتمام تھا |
| جو جو مصیبتیں اب ان پر گزرتی ہے | میں اس کا ذمہ دار ہوں میرا یہ کام تھا |
| مجھے تم سے بھی زیادہ مقدم ان کا حق | جن کو کہ بھوک پیاس سونا حرام تھا |
| خاموش ہو کہ سیدہ پاک رہ گئیں | جرات نہ کرسکی کہ ادب کا مقام تھا |
| یوں اہل بیت پاک نے کی زندگی بسر | یہ ماجرا دختر خیر الانام تھا |
ایک بار خاتون جنت بیمار ہوگئیں۔دوجہاں کے سردار صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو جب اطلاع ملی تو اپنے ایک جان نثار حضرت سیدنا عمران بن حکیم رضی اللہ عنہ کو ساتھ لیا اور اپنے لخت جگر کی عیادت کو تشریف لے گئے۔ دورازے پر پہنچ کر داخلے کی اجازت مانگی۔ اندر سے سیدہ کی آواز آئی تشریف لائے ۔ ارشاد فرمایا کہ میرے ساتھ حضرت عمران بن حکیم رضی اللہ عنہ بھی ہے۔یہ سن کر سیدہ فاطمۃ الزہرہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا ۔ بابا جان اس خدا کی قسم ! جس نے آپ کو سچا رسول بنا کر بھیجا ۔ میرے پاس ایک عبا کے سواکوئی دوسرا کپڑا نہیں ہے کہ جس سے میں پردہ کرسکوں ۔ سلطان کونین صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنی چادر مبارک اندر ڈال دیں اور ارشاد فرمایا ۔ اس سے پردہ کرلو۔ اب محبوب رب صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور حضرت عمران اندر تشریف لے گئے۔ مزاج پرسی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی ۔ بابا جان ! شدت درد سے بے چین ہوں اور بھوک سے نڈھال ہوں ، گھر میں کھانے کو کچھ بھی نہیں ہے۔ اللہ کے محبوب صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ۔ اے میری بچی! صبر کر، میں بھی آج تین دن سے بھوکا ہوں۔ اللہ تبارک و تعالی سے جو مانگتا وہ ضرور مجھے عطا کرتا ۔ لیکن دنیا پر آخرت کو ترجیح دی ہے۔ پھر شہزادی کی پشت اطہر پر دست شفقت پھیرا اورفرمایا ۔ اے لخت جگر ! دنیا کی مصیبتوں سے دل برداشتہ نہ ہو۔ تم جنت کی عورتوں کی سردار ہو۔
اسلامی بہنو!غور فرمائیے ۔ اس ایمان افروز واقعے کے اندر ہمارے لئے کس قدر سبق ہے یہ بھی معلوم ہوا کہ کیسا ہی نیک آدمی ہو، عورت اس کے سامنے بے پردہ نہیں آسکتی۔جیسے آج کل ، ارے صاحب آپ سے کیا پردہ کرنا، آپ تو گھر کے آدمی ہیں۔جیسے پڑوسی ہوا یا امام صاحب ہوئے یا استاد صاحب ہوئے ، مولوی صاحب ہوئے ، پیر صاحب ہوئے آپ سے کیا پردہ کرنا ۔ آپ کی تو یہ بچیاں ہیں ، آپ ہمارے ابا کی جگہ ہیں۔ تو صحابی سے بڑاتو کوئی بڑے سے بڑا ولی نہیں ہوسکتا۔حضرت عمران رضی اللہ عنہ سرکارصلی اللہ علیہ والہ وسلم کے لاڈلے صحابی ہیں ان سے بھی پرد ہے۔سرکار صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے پہلے اطلاع دی پھر چادر بھی دی کہ اچھی طرح اپنے وجود کو ڈھانپ لیں کہ غیر آدمی نہ دیکھ سکیں۔ ایک ہماری بہو بیٹیاں ہیں ، ہماری ماں بہن ہیں کہ جن کو پردے سے کوئی سروکار نہیں رہا۔ جن کا ذہین ہی نہیں بنتا۔ شیطان ان کو طرح طرح کے مشورے دیتا ہے۔ کیونکہ عورت کو اگر ناقص العقل کہا جائے تو بجا نہ ہوگا۔ الہ ماشآء اللہ ۔ ہر عورت نہیں ہوتی ۔ مگر اکثریت شیطان کے جھانسے میں آجاتی ہیں۔ ارے آنکھوں کا پردہ ہے ، دل کا پردہ ہے۔ نیت صاف ہے تو منز ل آسان ہے۔ مجبوری ہے، آج کل حالات ایسے ہیں۔تو فلاں ہے ۔ قبرمیں نہ دل کا پردہ چلے گا، قبر میں نہ حالات ساتھ دیں گے، نہ قبر میں آپ کی اپنی پیدا کردہ مجبوریاں چلیں بچاسکیں گی۔ نہ کوئی تسلی دینے والا ہوگا۔ اگر رب ناراض ہوگیا ۔ اس کے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ والہ وسلم ناراض ہوگئے ۔ اوربہانوںسے شریعت کی خلاف ورزی ہوتی رہیں۔ تو یاد رکھئیے! بہت مشکل ہوجائے گا او ر اپنے آپ کو عذاب سے بچانے کی کوئی صورت نہیں ہوگی۔ تو اس لئے اسلامی بہنوں کو چاہیے کہ وہ اس مختصر سی دنیا کے اندر اپنی زندگی ایسی گزارے ۔ جیسی اللہ عزوجل اور اس کے پیارے حبیب نے حکم فرمایا۔ دنیا کے تونگروں، مالداروں کی نقل نہ کریں ، دوسروں کی فیشن سے سبقت لے جانے کی کوشش نہ کریں ۔ اور اپنی خود آخرت خراب نہ کرئے کہ اسے اتنا ملا ، اتنا ملا مجھے کچھ نہیں ملا۔
اللہ تبارک و تعالی سورۃ توبہ میں ارشاد فرمارہا ہے۔میرے آقائے نعمت امام اہل سنت مولانا شاہ احمد رضاخان علیہ رحمتہ الرحمن اس کا ترجمہ یوں کرتے ہیں۔ تو تمھیں ان کے مال اور ان کی اولاد کا تعجب نہ آئے ۔ خدا عزوجل یہ چاہتا ہے کہ دنیا کی زندگی میں ان کی ان چیزوں سے ان پر وبال ڈالے۔ اور کفر پر ہی ان کا دم نکلے۔
اس کی تفسیر میں بتایا گیا کہ وہ مال ان کے حق میں مصیبت ، وہ مال ان کے حق میں سبب راحت نہیں ہیں۔یہ کفار کا تذکرہ ہے کہ کفار کے پاس کثیر دولت ہے یا مال ہے یا اولاد کی کثرت ہے ۔ اور آسانیاں ، آسائشیں بظاہر ہے۔ اس سے مسلمانوں کو دل تھوڑا نہیں کرنا چاہیے۔ تو بہرحال یہ کہ اسلامی بہنو! اپنے حال پر رحم کریں اور توجہ کریں کہ اس طرح گناہوں بھری زندگی گزارکر دنیا سے رخصت ہوئیں ۔ اور اللہ نہ کرئے، اللہ نہ کرئے، اللہ نہ کرئے، ایمان برباد ہوگیا تو کیا کریں گی۔ توا للہ سے ڈرتی رہیںاور زندگی سادگی سے بسر کرنے کی کوشش کریں ۔ اور پردے میں خوب اہتمام کرئے ۔خوب اہتمام کرئے کہ بے پردگی حرام ہے اور اس کی وجہ سے جو آفات او بلیات کا نزول ہورہا ہے۔ یہ بھی سمجھ سکتی ہوں گی کہ آج کس کی ماں بہن کی عزت محفوظ ہے۔کس قدر برائیاں جنم لے رہی ہیں۔ اور گھر وں میںجو گناہوں کے آلات رکھے ہوئے ہیں۔ کس قدر بربادی کا سامان مہیا کررہے ہیں ۔ ہم چھوٹے چھوٹے تھے تو ریڈیوہوتا تھا۔ تھوڑا ہوش سنبھالاتو ٹی وی آگیا۔تو ٹی وی بھی کہیں کہیں لگا ہوتا تھا۔ جیسا کہ ہم لوگ کراچی کے علاقہ اولڈ ٹاون میں رہا کرتے تھے تو ککڑی گروانڈ میں ٹی وی لگاہوتا تھا،بلیک اینڈ وائٹ ،چھوٹے چھوٹے ہم لوگ کھیلتے ہوتے تھے۔ تب کی بات ہے۔ پھر یہ بد نصیب گھرگھر میں داخل ہوگیا۔ پھر کافی ہوش سنبھالنے کے بعد پتہ چلا کہ ایک وی سی آر نامی بیماری بھی آتی ہے۔ تو وہ دس دس روپے لیکر فلمیں دیکھاتے ہیں۔ جس کے پاس وی سی آرہوتا تھا تو وہ سینما گھر جیسا بن گیا ۔ تو لائنیں لگتی تھیں۔ پھر ظالموں نے یہ سستا کردیا تو یہ بھی گھر گھرمیں گھس گیا۔ اس کے بعد کچھ مزید ہوش سنبھالا ۔ تو چھتوں پر ڈش انٹینا نظر آنے لگا۔ کہ یہ کیا مصیبت ہے۔ یہ ایسی مصیبت ہے کہ خدا کی پناہ۔ جس کے پاس ہے وہی اسے سمجھ سکتا ہے۔ نہ میرے پاس ہے نہ کبھی زندگی میں ٹی وی آن کیا ہے ۔ بہرحال دنیا میں بھی رہتا بستا ہوں ۔ دنیا کے لوگوں سے ملتا ہوں ۔ گھاٹ گھاٹ کا پانی پیا ہے۔ تو معلومات تو ہوجاتی ہے۔ تو اس مصیبت کا side effect میں آپ کو بتاتا ہوں۔ مکہ مکرمہ میں کسی نے مجھے خط پڑھایا ۔ اس میں ایک سولہ سترہ برس کی جوان لڑکی نے فریاد کی تھی۔ مجرم کون؟واقعہ کچھ یوں ہے لکھا تھا کہ ہمارے گھر میں چھوٹاسا ٹی وی تھا۔ جس پر مقامی پروگرا م دیکھا کرتے ہیں ۔ ہمارے والد صاحب ایک بار ڈش انٹینا خرید کے لئے آئے۔ اور ہمیں بتایا ۔ اس کے ذریعے دنیا کے مختلف پروگرام دیکھے جاسکتے ہیں۔ہم لوگ بڑے خوش ہوئے۔ مختلف پروگرام دیکھنے لگے دنیاکے۔ نئی نئی تہذیبوں کی معلومات ہونے لگیں ۔ جہنم کا شارٹ کٹ مل گیا۔ میں سکول جاتی ہوں۔ تو میری سہلیاںنے مجھے بتایا کہ ڈش انٹینا کے فلاں چینل پر بہت بہت اچھے مناظر نظر آتے ہیں۔ تو میں نے بھی اپنا ذہین بنالیا کہ موقع پاکر اس کو دیکھنا ضرور ہے ۔ تو ایک بار ایسا ہو ا کہ ہمارے گھر کوئی نہیں تھا۔سب گھر والے باہر گئے تھے۔ تو میں نے وہ چینل آن کیا ۔ گھر میں تنہائی تھی۔ اس میں واقعی وہ مناظر دیکھے تو میرے جذبات مشتعل ہوگئے، بے قابوہوگئے۔ اورمیں گھر سے باہر نکلی ، کوئی گاڑی والانوجوان گزررہاتھا۔ میں نے اسے اشارہ دیا ،و ہ بھی روک گیا۔ میں نے اس سے لفٹ مانگی ، اس نے مجھے بٹھالیا، اب میں چونکہ جذبات میںپاگل ہوچکی تھی ۔ میں نے اسے آفر کی۔ تو وہ بھی میرے جیسا نکلا۔ اور ہم دونوں نے جاکر کالامنہ کیا۔ مولانا صاحب ! بتائے مجرم کون؟ اس جوان دوشیزہ کی فریاد۔ کہ اس نے اپنے کنوار پن کو تباہ کردیا، اپنی عزت اپنے ہاتھوں سے دے آئی۔ اب وہ پریشان کہ مجرم کون؟ میں مجرم کہ میرا بدنصیب باپ مجرم جو ڈش انٹینا اٹھالایا۔ تو یہ تو ایک بیٹی کا واقعہ ہے کہ جس کی غیرت جاگی اور اس نے خط لکھا۔ اب آپ بتائے کہ ان آلات کے ذریعے برائیاں کس قدر پھیل رہی ہیں۔ اور کتنے گندے گندے واقعات ان آلات پر ٹی وی پر آتے ہیں۔ آپ کو کیا ہوگیا ہے؟ آپ کی شرم وحیا کہاں سوگئی ہے۔ آپ کی غیرت کہاں جاچھپی ہے؟آپ یہ کیا کررہی ہیں ۔
میرے آقا امام اہلسنت رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ لڑکی کو سورۃ یوسف کی تفسیر نہ پڑھائو کہ اس میں عورت کے مکر کا ذکر ہے ۔ (ذلیخا کے عشق کی داستان ہے اگرچہ بعد وہ ایمان بھی لے آئیں ۔ اور ان کا خواہش بھی نہ رہی مگر بہرحال شروع میں تو ہے ) کہ نازک شیشی ہے معمولی سی ٹھیس اس کے لئے کافی ہے۔ بلکہ سورۃ نور کی تفسیر پڑھا و۔ یعنی لڑکی کو قرآن کی تفسیر (سورۃ یوسف) سے بھی منع فرمارہے ہیں۔ کہ یہ ابھی اسے مت پڑھیں کہ کہیں ایسا نہ کہ شیطان اس سے کھیلے ۔ تو یہاں لڑکی اب قابو میںکہاں ہے۔ اب تو وہ رومانی ناول پڑھتی ہے۔ اب تو مزے سے مطلب عشقیہ غزلیں گاتی ہے۔ اب تو وہ بڑی ڈھٹائی کے ساتھ گلے میں دوپٹہ لپیٹ کر کالج جاتی ہے۔ ۔ دفتر میں کام کرتی ہے۔مردوں کو کنگن پہنادو، عورت خود کماکر کھلائے گی۔ وہ دفتر میں کام کرتی ہے ، مردکے گلے میں زنجیر ڈال کر اس کو کھونٹی سے باندھ دو، اس لئے کہ عورت بازار میں جاکر خریداری کرتی ہے۔مرد اوندھا لیٹا ہے۔ کتنی بدنصیبی ہے اس زمانے کی ۔ عورت جس کے معنی ہیں چھپانے کی چیز اب وہ برسر بازار اس کی آبرو نیلام ہورہی ہے۔ اس کی نمائش لگی ہ ے۔ اور یہ مٹکاتی ہوئی گزررہی ہے۔ اس کو شرم نہیں آتی نہ مردوں کو حیا ہے نہ عورتوں کو شرم ہے۔ بہر حال مرد تعاون کرئے یا نہ کرئے۔ عورت کو اپنا نظام صحیح کرنا ہے کہ یہ اپنی قبر میں جائے گی ۔ مرد اپنی قبر میں جائے گی۔ اس کواپنی اصلاح کی کوشش کرنی ہے ۔ ورنہ یہ عذر نہیں چلے گا۔ توجتنا ممکن ہواگر باہر شرعی مجبوری سے نکلے بھی خود کا اچھی طرح چھپالیں۔ موٹے بھدے کپڑے چھالیں۔ امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ رنگین چادر ہوگی تو اس کو لوگ دیکھیں گے۔ اسلئے خیمہ نما برقعہ ۔ یہ جیسا بھی ہے غنیمت ہے ۔ برقعہ ایسا ہو کہ جس میںبوڑھی ، جوان عورت کا فرق پتہ نہ چلے۔ اس میں بالکل ، چمکیلا پن نہ ہو۔ ہر جگہ پردہ کرنا ضروری ہے۔ کیونکہ مرنے کے بعد اس کی سزا برداشت نہ ہونگی۔ یہ بھی ذہین میں رکھئے کہ بہت سے رشتے داروں سے پردہ ہے۔ ذی ارحام سے پردہ نہیں۔ جیسے ماں ہے ، بیٹے کا ماں سے پرد ہ نہیں ، تو نانی سے بھی، پڑنانی سے بھی نہیں، اسی طرح باپ، دادا، دادی، خالہ ، ماموں، سے بھانجی کا پردہ نہیں۔اسی طرح کے رشتے داروں سے پردہ نہیں ہے۔ لیکن کئی رشتے دار وں سے پردہ ہے۔ مثلاچچی ، تائی ، ممانی ، اگر آپ کسی کی ہیں تو پھر آپ کو پردہ کرنا ہے۔ اسی طرح دیور بھابھی کا سخت پردہ ہے۔ دیور اورجیٹھ اور بھابھی ۔ لیکن آج کل تو یہ رواج نہیں ہے۔بدقسمتی سے تقریباًہر گھر میں بے پردگی کا دور دورہ ہے۔ تو اسلامی بہنو ں کو چاہیے کہ اگر گھر کی لوکیشن اس طرح ہے کہ بچ نہیں سکتی تو اس طرح اپنی چادر لیں کہ دیور کی نظر نہ پڑے ۔ جیٹھ کی نظر نہ پڑے ۔ شروع میں پھڈے ہونگے ۔ آہستہ آہستہ ذہین بن جائے گا۔ جب آپ لڑائی نہیں کریں گی، غصہ نہیں کریں گی۔اور میرے بیان کا کیسٹ سنادیں تو اگر مسلمان ہوئے تو ان شآء اللہ ذہین بن جائے گا۔کبھی تو بنے گا۔ ان شآء اللہ عزوجل۔ اور ظاہر ہے مسلمانوں ک ملک ہے ، اکثریت مسلمانوں کی ہے۔ تو اگر نرمی سے ، پیار سے سمجھایا جائے تو ذہین بنے گا۔ آہستہ آہستہ بنتا جارہا ہے۔ تو اب پرد ہ کریں ورنہ پھنس جائیں گی۔یادرکھئے کہ ! جس طرح مرد عورت کو نہیں دیکھ سکتاکہ حرام ہے۔ اسی طرح عورت بھی مرد کو نہیں دیکھ سکتی کہ حرام ہے۔ حدیث شریف میں ہے ۔جو اپنی آنکھ کو حرام سے پر کرئے گا ، اس کی آنکھوں میں جہنم کی آگ بھری جاے گی۔ اپنی کمزوری پر نظر رکھے ، دیور بھابھی کاپردہ ضرور نافذ کریں۔ یہ سب محنت کرنے سے ہوگا۔ کوشش سے ہوگا، ایسے نہیں ہوگا۔
میری درخواست ہے کہ اپنے بچوں کو جو بابا سوٹ پہناہیں اس پر جاندار وں کی تصاویر نہ ہوں۔ مذہبی گھرانوں میں بھی میں نے دیکھا ہے کہ بچوں کے سوٹ پر جانداروں کی تصاویر بنی ہوتی ہے۔ حدیث پاک میں ہے جس گھر میں تصویر ہو وہاں رحمت کے فرشتے نہیں آتے۔ اب ظاہر ہے جب تصاویر آپ دیوار وں پر لگایں گی۔فریزر پر لگائیں گی۔ چاکلیٹ میںتصویر نکلتی ہے ۔ اسٹیکر بچے لگاتے ہیںسب آپ کو صفائی کرنی ہوگی۔ اگر فرشتوں کا داخلہ چاہیے ورنہ آپ کی مرضی۔ اسی طرح شوکیس میں کھلونے سجائے جاتے ہیں۔ یہ بھی گناہ ہے تو گھر میں سے بالکل جانداروں کی تصاویر اور بت نکل دیں۔ اگر آپ رحمت کا نزول چاہتی ہیں۔ اورآپ کی گھر میں چلتی ہے تو ورنہ جھگڑا مت کیجئے گا۔ بچوں کے بابا سوٹ پر تصویر کا چہر ہ چھپا دیں۔ تو بھی کافی ہے۔ چہر ے پر کوئی پھول کا اسٹیکر لگادیں ۔ باقی جسم میں حرج نہیں۔ ہماری بہو بیٹیاںکو اور اسلامی بہنوں کوسیدہ فاطمہ الزہرہ کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق مل جائے۔اور نمازوں کا بھی اہتمام کرلیں۔یہ یاد رکھیں کہ اسلامی بہنو کو نمازیں معاف نہیں ہیں۔ ان کو پڑھنا لازمی ہے۔ یہ مصروفیت کے اعذار نہیں چلیں گے۔ رمضان کے روزوں کا اہتمام کریں۔ فلموں اور ڈراموں سے بچے بے پردگی سے بچیں اور جتنا ہوسکے اپنے کمزور وجود پر رحم کرتے ہوئے گناہوں سے بچیں ورنہ کمزور بدن اللہ کا عذاب برداشت نہیں کرسکے گا۔