Skip to content

قُربِ نبئ کریم ﷺ

عقائدشخصیات

نحمدہٗ ونصلی علی رسولہ الکریم

عزیزانِ محترم!

قرآن کریم میں اﷲ جل جلاہٗ وعم نوالہٗ نے فرمایا:

وَ لَوْ اَنّھُمْ اِذْ ظَلَمُوْااَنْفُسَھُمْ جَآئُ وْ کَ فَاسْتَغْفَرُوااﷲَوَاسْتَغْفَرَلَھُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوااﷲَ تَوَّاباً رَّحِیْماً (سورۃ النسآء، آیت۶۴)

ترجمہ: اور اگر وہ کبھی اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھے تھے تو آجاتے آپ کے پاس پھر مغفرت طلب کرتے اﷲ سے اور مغفرت طلب کرتا ان کے لئے رسول توضرور پاتے اﷲ کو بہت توبہ قبول کرنے والا اور بے حد رحم فرمانے والا۔

یعنی ارشاد ہوتا ہے کہ کاش اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے اے محبوب تیری بارگاہ میں حاضر ہوجاتے ’’جاؤ ک‘‘ یعنی تیرے پاس آجاتے’’فاستغفرواﷲ‘‘ تیرے پاس آکر پھر اﷲ سے مغفرت طلب کرتے۔

اب یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ تو ہر جگہ ہے ، اﷲ تعالیٰ تو کسی سے دور نہیں، قرآن مجید میں اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ’’نحن اقرب الیہ من حبل الورید‘‘ یعنی ہم اس کی شہ رگ سے زیادہ اس کے قریب ہیں۔

تو کوئی بھی کہیں بھی اﷲ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرے ، اﷲ تعالیٰ تو ہر جگہ موجود ہے، لیکن اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے میرے پیارے وہ مغفرت طلب کریں مگر کہاں؟ ’’تیرے پاس آکر‘‘ فرمایا ’’جاؤک ‘‘ یعنی تیرے پاس آکر، پھر خالی ان کا مغفرت طلب کرنا کافی نہیں ہوگا بلکہ کیا ہو؟ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے’’واستغفرلھم الرسول ‘‘ یعنی رسول بھی اﷲ سے ان کی سفارش فرمائیں، یہاں تین باتیں ہیں:

پہلی بات یہ ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ کے پاس آکر اﷲ تعالیٰ سے مغفرت طلب کریں۔

دوسری بات یہ کہ رسول کریم ﷺ بھی ان کے لئے مغفرت طلب فرمائیں۔

تیسری بات یہ کہ پھر تم اﷲ کو رؤف رحیم پائو گے۔

اب میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ اﷲ تعالیٰ تو کسی جگہ مقیّد نہیں کہ ہم حضور ﷺ کے پاس جائیں تو تب ہی اﷲ ملے گا، اگر اِدھر اُدھر ہوں تو اﷲ نہیں ملے گا۔

بھائی یہ بات نہیں بلکہ اس کی شان تو یہ ہے کہ ’’نحن اقرب الیہ من حبل الورید‘‘ یعنی اﷲ تعالیٰ تو ہماری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے، اس کے باوجود اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے’’جاؤک‘‘ میرے محبوب تیرے پاس آئیںاور یہاں آکر اﷲ تعالیٰ سے مغفرت چاہنا کافی نہ ہوگا بلکہ رسول کریم ﷺ بھی ان کے لئے مغفرت طلب فرمائیں، تو نتیجہ کیا ہوگا’’لوجدواﷲ تواباً رحیما‘‘ تم اﷲ تعالیٰ کو ضرور توبہ قبول کرنے والا اور رحیم پائو گے، اس آیت کریمہ کا مطلب بیان کرنے میںمَیں نے کوئی تاویل نہیں کی بلکہ لفظی ترجمہ میں نے آپ کے سامنے پیش کیا۔

ایک اعتراض کا جواب

عزیزانِ محترم ! یہ کہناکہ یہ آیت اسی زمانے کے مسلمانوں کے لئے تھی، جب حضور نبی کریم ﷺ اس زمانے میں زندہ موجود تھے اور لوگ وہاں پہنچ سکتے تھے، یہ بات اس لئے قابل قبول نہیںکیونکہ حضور ﷺ جس زمانے میں ظاہراً حیاۃ کے ساتھ موجود تھے، اس زمانے میں اسلام مشرق ومغرب میں پھیل چکا تھا اور دور دور کے لوگ مسلمان ہوچکے تھے اور اس زمانے میں سارے مسلمان حضور ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں حاضر نہیں ہوسکتے تھے، حضرت اویس قرنی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی محبت کی بنیاد پر فرمایا کہ یمن سے محبت کی بو آتی ہے ، لیکن حضرت اویس قرنی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ حضور نبی کریم ﷺ کی بارگاہ اقدس میں حاضر نہیں ہوئے، حالانکہ وہ حضور ﷺ کے زمانے میں تھے، تو کیا یہ آیت کریمہ اُن کے لئے نہ تھی؟ اب یہ کہنا کہ یہ آیت فقط اس زمانے کے مسلمانوں کے لئے تھی جو وہاں پہنچ سکتے تھے تو یہ بات قابل قبول نہیں ہوسکتی۔

یہ تو ایک خواجہ اویس قرنی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی بات میں نے کہی ، آپ کے علاوہ ہزاروں مسلمان سرکار مدینہ ﷺ کے زمانے میں تھے لیکن وہ حضور ﷺ کی بارگاہ اقدس حاضری نہیں دے سکے، تو معلوم ہوا کہ یہ بات نہیں ۔

ارے بھائی قرآن مجید تو قیامت تک کے لئے ہے، یہ نہیں کہ قرآن کا کچھ حصہ تو قابل عمل ہو اور کچھ حصہ اب قابل عمل نہ رہا ہو، استغفراﷲ، اﷲ تعالیٰ نے فرمایا تَبٰرَکَ الَّذِیْ نَزَّ لَ الْفُرْقَانَ عَلیٰ عَبْدِہٖ لِیَکُوْنَ لَلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرَا(سورۃ الفرقان، آیت۱) ’’بڑی برکت والا ہے وہ جس نے فیصلہ کرنے والی کتاب اپنے(مقدس) بندے پر اُتاری تاکہ وہ تمام جہانوں کو ڈرانے والا ہو‘‘، اور اﷲ تعالیٰ نے قرآن کے بارے میں فرمایا’’ھدی للناس‘‘(لوگوں کو ہدایت کرنے والا) ’’الناس‘‘ میں قیامت تک آنے والے لوگ شامل ہیں، لہذا قرآن کریم کی آیت ولو انھم اذ ظلموا …الخ ، حضور ﷺ کے زمانہ مبارک تک خاص نہیں بلکہ قرآن کریم میں اﷲ تعالیٰ نے فرمایا قرآن کی ہدایت سب لوگوں کے لئے ہے۔

ایک شبہ کا ازالہ

اب آپ کہیں گے کہ ایسی صورت میں حضور تاجدار مدنی ﷺ کا بارگاہ بیکس پناہ میں ہر ایک شخص کا حاضر ہونا کیسے ممکن ہے؟ اور اس آیت پر عمل کیسے ممکن ہوگا؟ کیونکہ خود حضور ﷺ کے زمانہ میں سب مومن حضور ﷺ کی بارگاہ اقدس میں حاضر نہ ہوسکے تو اب اس زمانے میں کیسے ہوگا؟ کیونکہ جن لوگوں نے مدینہ منورہ حاضر ہوکر حضور نبی کریم ﷺ کی بارگاہ اقدس میں حاضری دی وہ تو گنے چنے ہیں اور حضور ﷺ کے غلام توکروڑوں اربوں کی تعداد میں ساری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں، تو ان کے لئے کیا ہوگا؟ ادھر تو حکم ہے کہ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے میرے محبوب کی بارگاہ اقدس میں حاضر ہوجائیں اور ادھر محبوب (ﷺ) کی بارگاہ میںہر ایک کے لئے حاضر ہونا ممکن نہیں تو یہ کیسے ہوگا؟ اور بات کیسے بنے گی؟

میرے محترم دوستو اور عزیزو !

اس کا حل بھی قرآن کریم نے ہمیں بتادیا، وہ کیا ہے؟ وہ یہ ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ حیات ظاہری میں بھی اﷲ کے رسول ہیں اور حیات ظاہری کے بعد بھی وہ اﷲ کے رسول ہیں، یہ نہیں کہ حیاۃ ظاہری میں تو کوئی اور بات تھی اور اب کوئی اور بات ہے، اسی لئے اب بھی تمام مومن حضور ﷺ کا کلمہ پڑھتے ہیں، کلمہ میں ’’محمد (ﷺ) اﷲ کے رسول ہیں ‘‘کہتے ہیں ، محمد (ﷺ) اﷲ کے رسول تھے، نہیں کہتے، اس لئے جب آپ ﷺ حیاۃ ظاہری میں مسند رسالت پر جلوہ گر تھے اور پھر رسالت کے جو اوصاف، جو صفات اور جو خواص اﷲ تعالیٰ نے عطا فرمائے ، وہ اس وقت بھی حضور ﷺ کو حاصل تھے اور اسی طرح حضور ﷺ کو اب بھی حاصل ہیں، کیونکہ قاعدہ ہے کہ جب کوئی چیز ثابت ہوتی ہے تو وہ اپنے مناسبات اور لوازمات کے ساتھ ثابت ہوتی ہے اور حضور رحمۃ اللعالمین ﷺ کے مناسبات نبوت اور لوازمات رسالت میں یہ بات بھی ہے جو قرآن نے بیان کی کہ : وَ لَوْ اَنّھُمْ اِذْ ظَلَمُوْااَنْفُسَھُمْ جَآئُ وْ ک…الخ تو ثابت ہواکہ بارگاہ حضور پرنور ﷺ میں حاضری کا حکم آج بھی اسی طرح ہے، تو پھر ہر ایک مومن کس طرح حاضر ہوسکتا ہے؟

میرے دوستو اور عزیزو ! قرآن نے اس حقیقت کو اس طرح ظاہر فرمایا اور قرآن مجید نے یہ عقدہ اس طرح حل فرمایا، قرآن نے کہا : ’’النبی اولیٰ بالمؤمنین من انفسھم ‘‘ یعنی اﷲ تعالیٰ نے فرمایا اے ایمان والو یہ تردّد نہ کرو کہ ہم وہاں کیسے حاضر ہوں گے اور کیسے جائیں گے، اس لئے کہ میں نے تو اپنے نبی محترم کو تمہاری جانوں سے بھی زیادہ قریب کردیا، نبی محترم، نبی معظم، نور مجسم ﷺ کی شان اقدس یہ ہے کہ آپ ایمان والوں کے ساتھ ان کی جانوں سے زیادہ قریب ہیں، اے ایمان والو یہ فکر نہ کروکہ ہم کیسے حاضر ہوں گے، تمہیں حاضر ہونے کا تردّد تو تب کرنا پڑے کہ میرا محبوب (ﷺ) تم سے دُور ہو، میں نے تو اپنے محبوب کو تمہاری جانوں سے زیادہ قریب کردیا ، اور میں آپ سے کیا کہوں یہ بات ایسی ہے کہ اگر اس کو سمجھ لیا جائے تو یقیناً یہ کہنا پڑے گا کہ حضور ﷺ کے سامنے تو ابو جہل اور ابو لہب بھی تھے، مگر خدا کی قسم حضور ﷺ ان کے قریب نہیں تھے، اور حضرت خواجہ اویس قرنی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اگرچہ یمن میں تھے مگر خدا کی قسم حضور ﷺ ان کے قریب تھے۔

میرے دوستو عزیزو ! میرے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ مومن کا چاہئے کہ بارگاہ نبوت کے ساتھ اپنے آپ کو منسلک رکھے اور کسی وقت بھی حضور ﷺ کی ذات مقدسہ سے اپنے آپ کو بعید تصور نہ کرے، بلکہ یہی سمجھے کہ میں حضور ﷺ کی بارگاہ بے کس پناہ میں حاضر ہوں، جہاں تم نے اپنی توجہ کو حضور ﷺ کی بارگاہ اقدس میں حاضر کرلیا ، وہیں استغفار کرلیا ، وہیں سرکار ﷺ نے استغفار فرمالیا اور وہیں تم نے اﷲ تعالیٰ کو’’ تواباً رحیما‘‘پالیا۔

دل کے آئینے میں تصویر یار
جب ذرا گردن جھکائی دیکھ لی

اللھم صل علی سیّدنا محمد وآلِ سیّدنا محمد وبارک وسلم