ترتیب: خلیل احمد ران
بسم اﷲ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علیٰ رسولہ الکریم
لَا اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ مُحَمُّدٌ رَّ سُوْلُ اﷲِ
ترجمہ: نہیں ہے کوئی معبود اﷲ کے سوا، محمد (صلی اﷲ علیہ وسلم) رسول ہیں اﷲ کے۔
لاالہ الا اﷲ
توحید
یہ کلمہ طیبہ توحید پر مشتمل ہے، توحیدکے معنی ہیں اﷲ تعالیٰ کو معبودِ برحق، وحدہٗ لا شریک لہٗ ماننا اور یہی دین کی بنیاد ہے۔
الوہیت
استحقاقِ عبادت یا وجوب وجود کو الوہیت کہتے، جو ذات مستحق عبادت ہوگی اس کا واجب الوجود ہونا ضروری ہے، اسی طرح واجب الوجود کے لئے مستحق عبادت ہونا ضروری ہے۔
مشرکین کی سفاہت ہے کہ وہ اپنے بتوں اور بتوں کو ممکن الوجود مان کر معبود اور مستحق عبادت سمجھتے ہیں۔
عبادت
غایتِ تعظیم اور انتہائِ تذلل کو عبادت کہتے ہیں جس کی اصل یہ کہ عبادت کرنے والا جس کی یہ عبادت کرتا ہے اس کے لئے ذاتی اور مستقل صفت مانتا ہے، جس میں کسی کی قدرت و مشیت کو کسی قسم کا کوئی دخل نہ ہو ۔
اصل عبادت اسی اعتقاد کو کہتے ہیں، اس اعتقاد کے ساتھ کسی کی اطاعت محبت یا اس کے لئے کوئی عمل کرنا اس کی عبادت ہے، بغیر عمل کے کسی کے لئے صرف اعتقاد کا ہونا بھی اس کی عبادت قرار پائے گا۔
استعانت
الوہیت اور عبادت کے معنی واضح ہونے کے بعد استعانت کے معنی خود بخود سمجھ میں آجاتے ہیں اور وہ یہ کہ کسی کے لئے عون کی ایسی صفتِ مستقلہ مان کر جو مقہوریت اور مغلوبیت سے بالا تر ہو اس سے طلبِ عون کو استعانت (حقیقہ) کہا جاتا ہے، ایسی استعانت صرف معبود حقیقی کی شان کے لائق ہے، لہذا مستعان وہی ہوسکتا ہے، اس کے غیر سے استعانت دراصل اس کی الوہیت و معبودیت کے اعتقاد کے منافی ہے۔
فائدہ
چونکہ الوہیت اورمعبودیت استقلال ذاتی کے بغیر متصور نہیں، اس لئے کسی کو مجازی معبود الٰہ نہیں کہہ سکتے بخلاف استعانت، محبت اور اطاعت وغیرہ کے کہ یہاں مستعان مجازی اور محبوب مجازی کہہ سکتے ہیں، کیونکہ مظاہر کائنات میں خالق حقیقی نے یہ اوصاف پیدا کئے ہیں اور جو چیز پیدا کی ہوئی ہو، اس میں استقلال ذاتی ممکن نہیں، جس طرح استقلال ذاتی میں حدوث و امکان کا شائبہ نہیں پایا جاتا، لہذا الٰہ اور معبود کو مجازی کہنا بالکل ایسا ہوگا جیسے واجب الوجود کو حادث کہہ دیا جائے۔
مختصر یہ کہ الوہیت کے مفہوم کا خلاصہ ،غلبہ اور استقلالِ ذاتی ہے، جوذات اس سے متصف ہوگی ، اس کے لئے استحقاقِ عبادت و استعانت اور وجوب و وجود بداہۃً ضروری ہوگا اور یہ ملازمت و ضرورت کا سلسلہ ایسا ہے کہ معبود برحق کے تمام اوصاف واقعیہ کو اعتقادکے سامنے لے آتا ہے اور ایک مومن و مصدّق اس کی روشنی میں معبودِ حقیقی کے تمام اوصاف کو بلا تامل تسلیم کرلیتا ہے۔
مثلاً استحقاق عبادت کے لئے ضروری ہے کہ معبود سب سے بڑا اور عظمت والا ہو، نیز اس کے لئے واجب الوجود ہونا بھی ضروری ہو، کیونکہ امکان کی صورت میں احتیاج لازم آئے گی، اور محتاج غایت تعظیم کا مستحق نہیں ہوسکتا، اسی طرح واجب الوجود ہونے کے لئے صانع عالم ہونا لازم ہے ، کیونکہ سلسلہ ممکنات کا غیر متناہی ہونا محال ہے، لا محالہ کسی واجب پر ختم ہوگا، وہی صانع قرار پائے گا ، پھر صانع کا تعدد امکان تمانع کو مستلزم ہے اور امکان تمانع اجتماع نقیضین کو مستلزم ہے، اور ظاہر ہے کہ اجتماع نقیضین ممکن نہیں بلکہ محال ہے ، اور مستلزم محال یقیناً محال ہوتا ہے، اس لئے امکان تمانع باطل قرار پائے گااور تعدد صانع ممتنع ہوگا، معلوم ہوا کہ صانع کا ایک ہونا ضروری ہے، جب صانع کا وجود ضروری ہوا تو اس کے لئے حیات، علم و قدرت، سمع، بصر، کلام ، ارادہ اور حکمت ومشیت تمام اوصاف کا ہونا بھی ضروری ہے ورنہ صانع نہیں ہوسکتا، اسی طرح صانع کے لئے کائنات کا رب ہونا اور ربوبیت کے لئے رحمان و رحیم ہونا سب کچھ ضروریات اور لوازمات سے ہے۔
مختصر یہ کہ لزوم وضرورت کا یہ سلسلہ ایسا ہے کہ ایک صفت کے ساتھ دوسری اور دوسری کے ساتھ تیسری اور اسی طرح ہر صفت ملزومہ کے ساتھ صفت لازمہ چابت ہوتی چل جائے گی۔
شرک
توحید کی تقیض شرک ہے، چونکہ توحید امر واجب لذاتہٖ کا اعتقاد ہے اور واجب لذاتہٖ کی نقیض ممتنع لذاتہٖ ہے، لہذا جب تک کسی امر ممتنع لذاتہٖ کا اعتقاد نہ ہو اس وقت تک شرک متحقق نہ ہوگا، مثلاً اﷲ تعالیٰ کا مستقلاً بالذات قادر مطلق ہونا واجب لذاتہٖ ،اور اس کا اعتقاد توحید ہے اور اﷲ تعالیٰ کے غیر کا مستقلاً بالذات قادر ہونا ممتنع لذاتہٖ ہے ، تو جو شخص غیر خدا کے حق میں ایس ااعتقاد رکھے وہ مشرک ہے، اور اس کا یہ اعتقاد شرک قطعی ہے،خواہ وہ ایسی قدرت بعطائِ خداوندی ہی کیوں نہ مانتا ہو ، کیونکہ صفت مستقلہ اوصاف الوہیت سے ہے اور وصف الوہیت کی عطا ممتنعات ذاتیہ سے ہے، لہذا عطائے الوہیت کا معتقد بھی امر ممتنع لذاتہٖ کا اعتقاد رکھنے کی وجہ سے مشرک قرار پائے گا، لیکن اگر کسی غیر خدا کے حق میں کوئی شخص یہ اعتقاد رکھے کہ اﷲ تعالیٰ نے اسے تمام ممکنات پر غیر مستقل قدرت عطا کردی ہے ، تو یہ اعتقاد شرک نہ ہوگا، کیونکہ غیر مستقل قدرت عطا کرنا تحت قدرت ہے اور جو چیز تحت قدرت ہو ، ممکن بالذات ہے، اور کسی ممکن بالذات کا ممتنع لذاتہٖ ہونا محال ہے ، اور جب تک کسی امر ممتنع لذاتہٖ کا اعتقاد نہ ہو مشرک نہیں ہوسکتا، لہذا تمام ممکنات پر اﷲ تعالیٰ کا اپنے کسی محبوب کو غیر مستقل قدرت عطا کرنے کا اعتقاد ہر گز شرک نہ ہوگا۔
قدرت کی طرح علم ، سمع اور بصرکو بھی سمجھ لیجئے ، اگر کوئی شخص یہ اعتقاد رکھتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے اپنے کسی محبوب کو تمام مخلوقات کا غیر مستقل یعنی ممکن اور حادث علم عطا کردیا ہے یا دور نزدیک کی ہر شے اور ہر آواز کے سننے دیکھنے کی غیر مستقل صفت عطا فرمادی ہے تو یہ اعتقاد ہر گز شرک نہ ہوگا، کیونکہ غیر مستقل اوصاف کا عطا کرنا تحت قدرت ہونے کی وجہ سے ممکن ہے اور امر ممکن کا اعتقاد شرک نہیں ہوسکتا، لہذا استقلال ذاتی ہی کا عقیدہ شرک ہوگا، کیونکہ استقلال و الوہیت کی عطا ممتنع لذاتہٖ ہے اور اس کا اعتقاد شرک ہے۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ توحید و الوہیت اور عبادت و شرک کے ان مفاہیم کو ذہن نشین کرلینے کے بعد یہ حقیقت بے غبار ہوکر سامنے آجاتی ہے کہ الٰہ بر حق صرف وہی ذات واجب الوجود ہے جو ہر صفت کمال سے متصف اور ہر عیب و نقص سے پاک ہو اور اسی ذات مقدسہ کا نام اﷲ ہے، اس کے سوا کوئی مستحق عبادت نہیں ، یہی معنی ہیں لا اِلٰہ الا اﷲ کے اور اصل دین بھی یہی ہے۔
مُحَمَّدٌ رَسُولُ اﷲ
محمد (صلی اﷲ علیہ وسلم) اﷲ (تعالیٰ) کے رسول ہیں
محمد (ا)
لفظ محمد کا مادہ حمد ہے، التمحید مصدر سے اسم مفعول کا صیغہ ہے ، جس میں مبالغہ کے معنی پائے جاتے ہیں، اﷲ تعالیٰ کے آخری رسول خاتم النبیین صلی اﷲ علیہ وسلم کا نام مبارک اور اسمائے مبارکہ میں اسم ذات ہے اس کے معنی ہیں بہت زیادہ بار بار حمد کیا ہوا ، بے شمار تعریف کیا ہوا ، مطلقاً سراہا ہوا۔
مواہب ا لدنیہ میں امام قسطلانیرحمۃ اﷲ علیہ نے ایک حدیث کا مضمون ارقام فرمایا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ آسمانوں میں حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کا (مشہور) نام مبارک احمد ہے اور زمین میں محمد (صلی اﷲ علیہ وسلم)۔
احمد
لفظ احمد کا مادہ بھی حمد ہے، الحمد مصدر سے اسم تفضیل کا صیغہ ہے جس کے معنی ہیں بہت زیادہ حمد کرنے والا، حمد کرنے والا ضرور قابل تعریف ہوتا ہے، اور جو قابل تعریف ہو وہ یقیناً مستحق حمد کی تعریف کرتا ہے، لہذا احمد ہونے کے لئے محمد ہونا ضروری ہے اور محمد ہونے کے لئے احمد ہونا لازمی ہے، یہی وجہ ہے کہ بعض علماء نے احمد ومحمد دونوں کو حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کے اسماء ذاتیہ سے شمار کیا ہے اور بعض نے دونوں کو ہم معنی بھی قرار دیا ہے۔
بشارت عیسیٰ علیہ السلام اور ایک شبہ کا ازالہ
قرآن کریم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ایک بشارت ان لفاظ میں مذکور ہے:
ومبشر ابرسول یاتی من بعدی اسمہ احمد
میں بشارت دیتا ہوا آیا ہوں اس رسول کی جو میرے بعد آئے گا، جس کا نام احمد ہے۔
اس مقام پر ایک شبہ وارد ہوسکتا ہے اور وہ یہ کہ قرآن مجیدمیں چار جگہ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کا نام مبارک محمد آیا ہے(صلی اﷲ علیہ وسلم) اسی طرح اذان، نماز، کلمہ، درود سب میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا نام مبارک محمد ہی وارد ہے ، تو ایسی صورت میںحضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اسمہ احمد کی بجائے اسمہ محمد کیوں نہیں فرمایا؟ لفظ احمد کے ساتھ بشارت میں یہ خدشہ لاحق ہوسکتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ’’احمد‘‘کے آنے کی بشارت دی ہے اور حضور محمد ہیں ، لہذا ممکن ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیش گوئی کا مصداق کوئی اور ہو جس کا نام احمد ہو۔
اس کے متعدد جواب ہو سکتے ہیں ، لیکن سر دست ہم صرف ایک جواب پر اکتفا کرتے ہیںاور وہ یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمانی الاصل ہیں اور وہ اس طرح کہ ان کی تخلیق نفخ جبریل علیہ السلام سے ہوئی یعنی اس کے بغیر کہ نفخ جبریل علیہ السلام کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے مادہ تسلیم کیا جائے، بلکہ محض سبب اولین ہونے کی حیثیت سے اور اس اعتبار سے کہ جبریل علیہ السلام کانفخ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ حضرت مریم علیہ السلام کے حامل ہونے کا ذریعہ بنا ،لہذا عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کی اصل نفخ جبریل علیہ السلام قرار پایا اور نفخ جبریل ذات جبریل علیہ السلام سے متعلق ہے اور ذات جبریل علیہ السلام آسمانی ہے ، اس لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمانی الاصل قرار پائے۔
اور ہم سابقاً عرض کر چکے ہیں کہ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کا نام مبارک احمد آسمانی ہے ، لہذا حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اسی نام پاک کے ساتھ بشارت دی تاکہ اس بشارت سے خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمانی الاصل ہونے پر روشنی جائے، کیونکہ بہترین کلام وہ ہوتا ہے جس سے متکلم کی حیثیت نمایاں ہو جائے، تو گویا حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے لفظ احمد کے ساتھ بشارت دے کر بتادیا کہ میں آسمانی الاصل ہوں اسی لئے آسمانی بولی بول رہا ہوں ، جو جہاں کا ہوتا ہے وہیں کی بولی بولتا ہے۔
اب لفظ محمد کی طرف آئیے اور کلمہ طیبہ میں اس کے وارد ہونے پر غور کیجئے۔
کلمہ طیبہ دراصل دین متین کی بنیاد ہے، اسے پیش نظر رکھنے سے معلوم ہوگا کہ یہاں لفط محمد (صلی اﷲ علیہ وسلم) کی حیثیت کس قدر عظیم وجلیل ہے، اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ اس کلمہ طیبہ کا جزو اوّل جو توحید اور اﷲ تعالیٰ کی الوہیت و معبودیت کے مضمون پر مشتمل ہے، بمنزلہ دعویٰ کے ہے جسے تسلیم کرنے کے لئے ہر انسان دلیل کا محتاج تھا، وہی دلیل کلمہ طیبہ کا جز ثانی’’محمد رسول اﷲ ‘‘ ہے۔
ابھی عرض کر چکا ہوں کہ لفظ محمد کے معنی ہیں بہت زیادہ تعریف کیا ہوا اور تعریف ہمیشہ خوبی اور حُسن وجمال کی ہوتی ہے، عیب کی تعریف نہیں ہوتی بلکہ اس کی مذمت کی جاتی ہے، معلوم ہوا کہ جس ذات پاک کو محمد کہا گیا ہے وہ عیب و نقص اور بُرائی و ذم سے پاک اور مجسمہ حُسن وجمال ہے، اور یہ اس لئے کہ وہ دلیل ہے دعویٰ توحید کی ، توحید کا دعویٰ بالکل بے عیب ہے، اس لئے اس کی دلیل بھی بے عیب ہونی چاہئیے، اسی بے عیب دلیل کا نام ہے۔ محمد رسول اﷲ (صلی اﷲ علیہ وسلم)۔