Skip to content

رحمۃللعٰلمین ﷺ

عقائدتوحیدشخصیات

بسم اﷲ الرحمن الرحیم

وَمَا اَرْسَلْنَاکَ اِلَّا رَحْمَۃ َ لِّلْعٰلَمِیْن

’’اور نہیں بھیجا ہم نے آپ کو(اے محمد مصطفیٰ ﷺ) مگر رحمت بنا کر تمام عالموں کے لئے‘‘

اُمت محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والتحیہ کے نزدیک یہ امر قطعی ہے کہ اس آیۂ کریمہ میں (ک)کاف ِ خطاب سے مُراد حضور سیّد عالم حضرت محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذاتِ مقدّسہ ہے، اور یہ امر بھی واضح ہے کہ رحمۃ للعالمین ہونا حضور نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کا وصفِ خاص ہے، یعنی حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کے علاوہ کوئی رحمۃ للعالمین نہیں ہوسکتا، جس کی دلیل یہ ہے کہ آیہ کریمہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مدح میں وارد ہے، اور قاعدہ ہے کہ مقامِ مدح میں جو وصف وارد ہوگا وہ ممدوح کے ساتھ خاص ہوگاکیونکہ تخصیص کے بغیر مدح ممکن نہیں، لہذا ضروری ہوا کہ رحمۃ للعالمین ہونے کا وصف حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے لئے خاص ہو، کسی مسلّم ہستی کے کلام میں کسی دوسرے کے لئے اگر مسامحہ کے طور پر یہ لفظ یا اس کا ہم معنی کوئی کلمہ وارد بھی ہو تو اسے مبالغہ یا مجاز پر محمول کیا جائے گا، حقیقت وواقعیت سے اس کو کوئی تعلق نہ ہوگا۔

اَلْعٰلمین سے مُراد صرف انسان یا جن و بشر وملائکہ ہی نہیں بلکہ کل ما سویٰ اﷲ ہے،اس لئے کہ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کا رحمۃ للعالمین ہونا جہت رسالت سے ہے، اور رسالت کل مخلوق کے لئے عام ہے جیسا کہ خود حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا: اُرْ سِلْتُ اِلَی الْخَلْقِ کَافّۃَ (رواہ مسلم)، ترجمہ۔ میں تمام مخلوق کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں۔

جب رسالت کل مخلوق کیلئے عام ہے تو رحمت بھی سارے جہانوں کیلئے عام اور اﷲ کے سوا ہر ذرّے کو شامل قرار پائی، وﷲالحمد

اس کے بعد لفظ رحمۃ کی طرف آئیے ، مفسرین نے اس دو توجیہیں کی ہیں، اگر مستثنٰی منہ اَعَمِّ علل ہو تو ’’رحمۃ‘‘ اَرْسَلْنَا فعل کا مفعول لہٗ قرار پائے گا، اور تقدیرِ عبارت یہ ہوگی وَمَا اَرْسَلْنَاکَ لِعِلَّۃ مِنَ الْعِلَلِ اِلَّا لِاَجلِ الرحمۃ للعالمین : (ترجمہ) ہم نے آپ کو کسی لئے نہیں بھیجا صرف عالمین کے واسطے رحمت کے لئے بھیجا ہے اور اگر اَعَمّ احوال کو مستثنٰی منہ بنایا جائے تو رحمت ضمیر خطاب سے حال ہوگا، اور لفظ رحمت مصدر مبنی للفاعل ہوکر بمعنی راحم قرار پائے گا اور تقدیر عبارت یوں ہوگی کہ : وما ارسلنک فی حالِِ من الاحوال الا حال کونک راحماً للعٰلمین، (ترجمہ) اے محبوب (صلی اﷲ علیہ وسلم) نہیں بھیجا ہم نے آپ کو کسی حال میں مگر صرف اس حال میں کہ آپ تمام جہانوں کے لئے رحم کرنے والے ہیں، لفظ رحمت مفعول لہٗ ہو یا حال، بہر صورت حضور صلی اﷲ علیہ وسلم راحم قرار پاتے ہیں کیونکہ مفعول لہٗ سببِ فعل ہوتا ہے اور فاعل بھی سبب فعل ہے اس لئے حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کا راحم ہونا حال اور مفعول لہٗ دونوں کے مطابق ہے، خلاصۃ الکلام یہ کہ حضورنبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم تمام کائنات ، کل مخلوقات، ایک ایک ذرہ، ایک ایک قطرہ، غرض اﷲ کے سوا ہر شئے کے لئے رحم فرمانے والے ہیں۔

بیان سابق کی روشنی میں جب حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کا تمام عالمین کے لئے راحم ہونا ثابت ہوگیا تو راحماً للعٰلمین ہونے کے لوازمات ومناسبات بھی ثابت ہوگئے ، کیونکہ قاعدہ کلیہ ہے کہ اذا ثبت الشیٔ ثبت بجمیع لوازمہٖ، جب کوئی چیز ثابت ہوتی ہے تو اپنے لوازمات کے ساتھ ثابت ہوتی ہے۔

کسی پر رحم کرنے کیلئے چار باتیں لازم ہیں:

۱۔ سب سے پہلے تو یہ امر لازم ہے کہ رحم کرنے والا زندہ ہو مُردہ نہ ہو ، کیونکہ مُردہ رحم نہیں کرسکتا، وہ خود رحم کا طالب ومستحق ہوتا ہے، لہذا اگر حضور صلی اﷲ علیہ وسلم معاذاﷲ زندہ نہ ہوں تو راحماً للعٰلمین نہیں ہو سکتے، جب آیۃ قرآنیہ سے حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کا راحماً للعٰلمین ہونا ثابت ہوگیا تو حضور نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کا زندہ ہونا بھی ثابت ہوگیا۔

۲۔ دوسری بات یہ ہے کہ صرف زندہ ہونے سے کسی پر رحم نہیں کیا جاسکتا جب تک کہ رحم کرنے والا مرحوم کے حال کا عالم نہ ہو، کیونکہ بے خبر کسی پر کیا رحم کرے گا، اس کی مثال ایسی ہے کہ فرض کیجئے زید انتہائی مظلوم ہے اور چاہتا ہے کہ کوئی شخص اس پر رحم کرکے ظالم کے ظلم سے اسے بچائے، اسی خواہش کو دل میںلے کر وہ عمرو کے پاس جاتا ہے اور اس سے رحم کی درخواست کرتا ہے ، عمرو اس کی درخواست سن لیتا ہے مگر اسے کچھ معلوم نہیں کہ اس کا حال کیا ہے؟ وہ نہیں جانتا کہ یہ کس مصیبت میں مبتلا ہے اور کس نوعیت کے رحم کا طالب ہے، اس لئے وہ اس سے دریافت کرتا ہے کہ تمہیں کیا تکلیف ہے اور تم کس طرح کی مہربانی چاہتے ہو، اب اگر زید اسے اپنا حال نہ بتائے اور یہی کہتا رہے کہ آپ میرا حال نہ پوچھئے بس مجھ پر رحم کر دیجئے، تو کیا عمرو اس پر رحم کرسکتا ہے؟ نہیں اور یقیناً نہیں، جب تک وہ اپنا حال نہ بتائے اور عمرو اس کے حالات سے پوری طرح باخبر نہ ہو اس وقت تک وہ اس پر قطعاً رحم نہیں کرسکتا، آیت قرآنیہ کی روشنی میں حضور صلی اﷲ علیہ وسلم رحماً للعٰلمین ہیں تو جب تک حضور صلی اﷲ علیہ وسلم تمام عالمین کل ماسویٰ اﷲ جمیع کائنات و مخلوقات کے حالات کو نہ جانیں اور جمیع ماکان ومایکون کا علم حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کو نہ ہو ، اس وقت تک حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام راحماً للعٰلمین نہیں ہوسکتے، جب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا راحماً للعٰلمین ہونا ثابت ہے تو تمام کائنات کے احوال کا عالم ہونا بھی ثابت ہوگیا۔

۳۔ تیسری بات یہ ہے کہ صرف عالم ہونے سے بھی کسی پر رحم نہیں کیا جاسکتا جب تک کہ رحم کرنے والا مرحوم تک اپنی رحمت ونعمت پہنچانے کی قدرت و اختیار نہ رکھتا ہو، مثال کے طور پر ایک شخص شب و روز ہمارے پاس مقیم ہے وہ دن رات اﷲ تعالیٰ کی عبادت وطاعت میں مشغول رہتا ہے اور عبادت وریاضت کرتے کرتے وہ اس قدر ضعیف وناتواں ہو گیا ہے کہ اس کیلئے چلنا پھرنا اور اُٹھنا بیٹھنا تک دشوار ہو گیا ہے ، اگر ایسے شخص کو ڈاکہ زنی اور قتل وغارت کے الزام میں پکڑ کر تختۂ دار پر لٹکا دیا جائے اور وہ بے گناہ اس وقت ہم سے رحم کی درخواست کرتے ہوئے کہے کہ آپ خوب جانتے ہیں کہ میں بے گناہ ہوں ، آپ مجھ پر رحم کیوں نہیں کرتے ، تو ہم اسے یہی جواب دیں گے کہ واقعی ہم آپ کے حال سے اچھی طرح باخبر ہیں اور خوب جانتے ہیں کہ آپ بے گناہ ہیں مگر فقط جاننے سے کیا ہوتا ہے؟ ہمارے پاس وہ قدرت و اختیار نہیں کہ آپ کو تختۂ دار سے بچالیں، اپنی رحمت آپ تک پہنچانے کا جب تک ہمیں اختیار نہ ہو اور قدرت نہ پائی جائے اس وقت تک ہم آپ پر رحم نہیں کرسکتے، معلوم ہوا کہ قدرت و اختیار کا ہونا بھی رحم کرنے کے لئے ضروری ہے، جب حضور صلی اﷲ علیہ وسلم تمام مخلوقات اور کل کائنات کے لئے علی الاطلاق راحم ہیں تو ہر ذرہ ٔ کائنات تک رحمت ونعمت پہنچانے کی قدرت و اختیار بھی حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کے لئے حاصل ہے۔

۴۔ چوتھی بات یہ ہے کہ صرف قدرت و اختیار سے بھی کام نہیں چلتا ، کسی پر رحم کرنے کے لئے یہ بات بھی ضروری ہے کہ رحم کرنے والا مرحوم کے قریب ہو اور مرحوم راحم کے قریب ہو۔

اس بات کو ایک مثال کے ذریعے یوں سمجھئے کہ مثلاً آپ تین فرلانگ کے فاصلے پر کھڑے ہوں ، اچانک کیا دیکھتے ہیں کہ ایک خونخوار دشمن نے آپ کے مخلص دوست پر حملہ کردیا وہ چلّا کر آپ سے رحم کی درخواست کرنے لگا ، آپ اس کی مدد کے لئے دوڑے اور خلوص قلب سے اس پر رحم کرنے کے لئے آگے بڑھے، مگر آپ کے پہنچنے سے پہلے ہی دشمن نے اسے ہلاک کردیا، اب غور کریں آپ زندہ بھی ہیں اور اس وقت دوست کو بچشمِ خود ملاحظہ بھی فرمارہے ہیں اور اس کے حال کے عالم بھی ہیں، رحم کرنے کی قدرت اور طاقت بھی آپ کے اندر پائی جاتی ہے، آپ اپنے اختیار سے رحم کرسکتے ہیں لیکن صرف اس وجہ سے کہ وہ مخلص دوست آپ سے دور ہے اور آپ اس سے دور ہیں، آپ اپنی حیات ، قدرت واختیار کے باوجود بھی اس پر رحم نہیں کرسکتے ، معلوم ہوا کہ رحم کرنے کیلئے راحم کا مرحوم سے قریب ہونا بھی ضروری ہے۔

جب آیت قرآنیہ سے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے لئے تمام جہانوں اور مخلوقات کے ہر ذرے کے لئے راحم ہونا ثابت ہو گیا تویہ امر بھی واضح ہو گیا کہ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم اپنی روحانیت و نورانیت کے ساتھ تمام کائنات کے قریب ہیں اور ساری کائنات حضور صلی اﷲ علیہ وسلم سے قریب ہے۔

ایک شُبہ کا ازالہ

اگر یہاں یہ شبہ پیدا کیاجائے کہ ایک ذات تمام جہانوں کے قریب کیسے ہو سکتی ہے؟ ایک فرد کسی ایک کے قریب ہوگا تو اس کے علاوہ باقی سب سے دور ہوگا، یہ کس طرح ممکن ہے کہ فردِ واحد افرادِ کائنات میں سے ہر فرد کے قریب ہو۔

تو اس کاجواب یہ ہے کہ جن دو کے درمیان نزدیکی متصور ہے اگر وہ دونوں کثیف ہوں تو واقعی ایسا ہی ہوگا کہ فردِ واحد افراد مختلفہ فی الزمان والمکان سے بیک وقت قریب نہیں ہوسکتا، اور اگر دونوں لطیف ہوں یا دونوں میں سے کوئی ایک لطیف ہو تو جو لطیف ہوگا وہ بیک وقت تمام موجودات کائنات سے قریب ہوسکتا ہے ، جس میں کوئی شرعی یا عقلی استحالہ لازم نہیں آتا۔

دیکھئے ایک قرآن سارے جہان میں پایا جاتا ہے ، مشرق و مغرب ، جنوب و شمال ، افریقہ ، امریکہ، چین ، جاپان میں ہر مسلمان ہر حافظ ِقرآن کے سینے میں ایک ہی قرآن ہے ، اور وہ ایک ہونے کے باوجود سب سے قریب ہے ۔

عالمِ محسوسات میں شکل وصورت اور آواز ہی کو لے لیجئے کہ ایک شکل ایک صورت اور ایک ہی آواز بے شمار دیکھنے اور سننے والوں سے قریب ہے، ایک بولنے والے کی آواز تمام سامعین کے کانوں میں پہنچتی ہے اور ایک ہی شکل وصورت سب دیکھنے والوں کی آنکھوں اور دماغوں میں پائی جاتی ہے، اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ اگرچہ حافظانِ قرآن کثیف ہیں، اسی طرح سننے دیکھنے والے انسان بھی کثافت سے متصف ہیں ، لیکن قرآن، شکل وصورت اور آواز یہ سب چیزیں لطیف ہیں ، اس لئے سب کے قریب ہیں کسی سے دور نہیں۔

رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی لطافت اتنی قوی اور ارفع واعلیٰ ہے جس کی شان کو کائنات ومخلوقات کی کوئی لطیف سے لطیف چیز بھی نہیں پہنچ سکتی۔

اس لئے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا تمام افرادِ ممکنات سے قریب ہونا بالکل واضح اور روشن ہے، ہم کثیف سہی لیکن حضور صلی اﷲ علیہ وسلم تو لطیف ہیں، لہذا حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کا ہم سب سے قریب ہونا کوئی امر دشوار نہیں، آواز کی لطافت کا یہ حال ہے کہ جہاں تک ہوا جاسکتی ہے آواز بھی وہاں تک پہنچ سکتی ہے، لیکن رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم آواز اور ہوا سے بھی زیادہ لطیف ہیں، ہوا اپنے مقامِ محدود سے آگے نہیں بڑھ سکتی اور آواز ہوا سے آگے نہیں جاسکتی لیکن جہاں آواز اور ہوا بھی نہ جاسکے ، آواز اور ہوا تو کیا یوں کہئے کہ جہاں جبریل امین علیہ السلام کا بھی گزر نہ ہو سکے وہاں بھی حضور صلی اﷲ علیہ وسلم پہنچ جاتے ہیں، بلکہ جہاں زمانہ اور مکان بھی نہ پایا جاسکے وہاں بھی حضور صلی اﷲ علیہ وسلم پائے جاتے ہیں، یقین نہ ہو تو شب معراج کی حال سامنے رکھ لیجئے جس سے آپ کو ہمارے بیان کی پوری تصدیق ہو جائے گی۔

مختصر یہ کہ لطافت ایسی صفت ہے جس کے ہوتے قرب اور بُعد مکانی کا اشکال باقی نہیں رہتا اور حضور صلی اﷲ علیہ وسلم تو ایسے لطیف ہیں کہ تمام کائنات میں کوئی چیز رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے برابر لطیف پیدا نہیں ہوئی ، حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اﷲ علیہ مکتوبات شریف ، جلد۳، ص۱۸۷، مطبوعہ نول کشور لکھنؤ میں فرماتے ہیں کہ:

’’ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا سایہ نہ تھا، دلیل یہ ہے کہ ہر چیز کا سایہ اس چیز سے زیادہ لطیف ہوتا ہے ، اگر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا سایہ ہوتا تو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وجود مبارک سے زیادہ لطیف ہوتا اور حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کے وجود مبارک کے برابر کوئی لطیف چیز جہان میں پیدا نہیں ہوئی، چہ جائیکہ اس سے زیادہ لطیف ہو، اس صورت میں حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کا سایہ کس طرح ہوسکتا ہے‘‘۔

حاصل کلام یہ کہ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم تمام عالموں کے قریب اسی وقت ہوسکتے ہیں کہ جب اعلیٰ درجے کے نورانی، روحانی اور لطیف ہوں، چونکہ راحماً للعٰلمین ہونے کی وجہ سے ان کا تمام جہانوں سے قریب ہونا ضروری ہے، اس لئے ان کا روحانی، نورانی اور لطیف ہونا بھی ضروری ہوا، ایک آیت سے پانچ مسئلے وضاحت کے ساتھ ثابت ہو گئے ، یعنی حضور صلی اﷲ علیہ وسلم تمام عالموں کے لئے رحمت فرمانے والے ہیں لہذا زندہ ہیں اور تمام کائنات کے حالات وکیفیات کے عالم بھی ہیں اور ساتھ ہی عالم کے ہر ذرّے تک اپنی رحمت اور نعمت پہنچانے کی قدرت اور اختیار بھی رکھتے ہیں اور اس کے ساتھ تمام عالم کو محیط اور تمام کائنات کی ہر شیٔ سے قریب بھی ہیں ، نیز ایسے روحانی، نورانی اور لطیف ہیں کہ جس کی بنا پرآپ کا کسی ایک چیز سے قریب ہونا دوسری چیز سے بعید ہونے کو مستلزم نہیں بلکہ بیک وقت تمام افرادِ عالم سے یکساں قریب ہیں ۔

واٰ خر دعونا ان الحمد ﷲ رب العٰلمین

(پندرہ روزہ ’’السعید‘‘ ملتان، شمارہ یکم ستمبر ۱۹۵۹ء / ۲۶ صفر المظفر ۱۳۷۹ھ ، ص۲۶ تا ۲۹)