بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم
تحریک پاکستان پر کافی کام ہواہے مگرجن حضرات نے اس کی مخالفت کی ان کے ناموں پر پردہ ڈالا جاتا کہا اوران کو تحریک پاکستان کے قا ئدکے طورپرپیش کیاجاتا رہاہے اورجن حضرات نے پاکستان کو بنایا اس کے لیے قربانی دی ان کے ناموںکوپس پشت ڈالاجاتارہاہے ان چنداوراق میںہم مختصرطورپریہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ کن حضرات نے قیام پاکستان کی مخالفت کی تھی؟
جو تحریک پا کستان میں شریک سفر تھے ان راہنماوں،قائدین کے کارناموں کو کماحقہ منظرعام پر نہ لایا گیا ۔ بہرحال ہم ذارامخالفین پا کستان کچھ اقوال نقل کرتے ہیں۔
ابوالکلام آزاد
۱:تقسیم صرف ملک کے نقشے پر ھویٔی ہے لوگوں کے دلوںمیں نہیں اور مجہے یقین ہے کہ یہ تقسیم بہت مختصر مدت کے لیے ھوگی۔ (Ch.phillips:The partition of india,london,1970,page 220)
۲:ابوالکلام آزاد نے غیر اسلامی ترانہ(بندے ماترم)کی تعریف کی۔(روزنامہ مشرق پشاور ۲۵ دسمبر ۱۹۸۴ء بروز منگل)
۳:مسلمانوں کو مرتد اور نیست و نابود کرنے والی تحریکوں شدھی وغیرہ کی ہمت افزایٔی کی۔ (برصغیر پاک و ہندکی سیاست میں علماء کا کردار ،قومی ادار ہ برایٔے تحقیق و ثقافت اسلام آباد،۱۹۸۵ء صفحہ۲۷۵)
۴:ابو الکلام آزاد کے محبوب دوست مسٹر گاندھی۔(بیس بڑے مسلمان ،عبدالرشیدارشد،مکتبہ رشیدیہ لاہور ۱۹۸۶ء صفحہ۳۰۷)
۵:جناح کا یہ نظریہ کہ ہندوستان میںدو جداگانہ قومیں ہیںیہ غلط فہمی پر مبنی ہے میں اس بات میںان سے اتفاق نہیں کرتا۔ (تحریک پاکستان اورنشنلسٹ علماء ،حبیب احمد چودھری،البیان لاھور۱۹۶۶ء صفحہ۲۱۳ )،(ماہنامہ طلوع اسلا م دھلی مارچ۱۹۴۰ء صفحہ۶۷)
۶:نظریہ پاکستان اسلام کے خلاف ہے۔(ماہنامہ طلوع اسلام دھلی جون ۱۹۴۲ صفحہ ۵۹)
۷:ابوالکلام آزاد گانگریسی ملا تھے۔ (علمائے ہند کا سیاسی موقف صفحہ ۹۵)
پنڈٹ لال جواھر نہروکے سیکرٹری نے مولانا ابوالکلام آزاد پرشراب نوشی کا الزام لگایا۔(ہفت روزہ اسلامی جمہوریہ ،لاہور۱۴تا۲۰فروری۱۹۷۸ء صفحہ ۲۵)،(تحریک پاکستان کا ایک باب ،سندھ ساگر اکادمی لاہور ۱۹۸۷ء صفحہ ۴۶،پروفیسر محمد سرور)
اور بقول شورش کاشمیری کیـ؛ھندو انہیں گالیا دیتے تھے ۔( شورش کاشمیری پس دیوار زنداں مطبوعات چٹان لاہور صفحہ ۳۰۷)
عطاء اللہ شاہ بخاری
۱:پاکستان بننا تو بڑی بات کسی ماںنے ایسا بچہ نہیںجنا جو پاکستان کی پ بھی بنا سکے۔ (تحریک پاکستان اور نیشنلسٹ علماء ،البیان لاھور 1966ء صفحہ883)
۲:جو مسلم لیگ کو ووٹ دیں گے وہ سور اور سورکہانے والے ہیں۔(چمنستان ،یونایٔٹڈپبلیکیشنرز لاھور 1944ء صفحہ 125)
۳:اگر پاکستان کی پ بھی بن گی ٔتو میری داڑھی پیشاب سے مونڈھ دینا۔(ماہنامہ عرفات لاھور مارچ 1979ء صفحہ ۴،۵)
۴:قائداعظم انگریز کے پٹھو۔(ہفت روزہ استقلال لاھور ۶تا۳۱دسمبر 1982ء صفحہ 20)
۵:پاکستان ایک بازاری عورت ہے جس کو احرار نے مجبورا قبول کیا ہے۔
(Report of the court of-disturbances-1953,govt.printing punjab lahore,page 256)
مفتی محمود(والد فضل الرحمان)
۱:ہم پاکستان بنانے کے گناہ میں شریک نہیں تھے۔(ماہنامہ ترجمان سواد اعظم لاھور اگست 1979ء نظریہ پاکستان نمبر صفحہ ۳۷)،(کل پاکستان سنی کانفرنس ملتان ،عبدالحکیم شرفؒ قادری مکتبہ قادریہ لاہور صفحہ ۱۴) (اور یہ بات ۱۹۷۰ء کی قومی اسمبلی کے ریکارڈ میں بھی موجود ہے کہ ،اللہ تعالٰی کاشکر ہے کہ ہم پاکستان بنانے کے گناہ میں شامل نہیں۔)
۲:میرے نزدیک گاندھی کیپ پہننا باعث ثواب ہے۔ (علمائے ہندکا سیاسی موقف صفحہ ۶۶)
فضل الرحمان (بیان)
قیام پاکستان کو فراڈ اعظم کہا۔(روزنامہ خبریں لاہور ۷مارچ 1994ء بروز سوموار)
مولوی عبید اللہ سندھی
۱: ملک میں ایک جدید تعمیری پروگرام کا ھونا ضروری ہے جو گاندھی جی کے زیر قیادت گورنمنٹ کے ساتھ تعاون پر مبنی ہو۔(ماہنامہ طلوع اسلام دھلی اپریل1940ء صفحہ ۷۷)
۲:سچ پوچھوتو اقبال ایک روایت پرست یہودی کی طرح مسلمانوں کی موہوم جماعت کو پوجتا ہے۔(افادات و ملفوظات مولانا عبید اللہ سندھی ،سندھ ساگر اکاد می لاہور1987 ء صفحہ ۴۳۴)
۳:اقبال کا اسلام عملا ایک فرقہ پرست ہندوستانی بلکہ پنجابی مسلمان کا اسلام ہے۔(ایضا ،صفحہ ۴۳۵)
شبلی نعمانی
شبلی نعمانی گانگریسی ملا تھے۔(علمائے ہند کا سیاسی موقف صفحہ ۵۹)
قاضی مظہر (چکوال)
مسلم لیگ کی بنیاد انگریز نے رکھی اور مسلم لیگی انگریز کے ایجنٹ ہیں۔(پاکستان اور گانگریسی علماء کا کردارمکتبہ الرضا لاہور صفحہ۲۷)
ڈاکٹر رشید احمد جالندھری
افسوس کہ پاکستان کی سر زمین پر کویٔی گاندھی جی کے پایہ کا راہنما پیدا نہ ہوا۔ (ہفت روزہ خدام الدین لاہور ۱۴اپریل ۱۹۷۷ء صفحہ ۱۶)
مولوی حسین احمد مدنی
۱:گانگریس میں مسلمانوں کی شرکت فرض ہے۔ (سیرت اشرف ،مطبوعہ ملتان ۱۹۵۶ء صفحہ ۲۶۳)
جبکہ ان کے اپنے مفتی محمدشفیع صاحب کا فتوٰی ہے کہ
گانگریس کی حمایت کفر کی حمایت ہے۔ (ماہنامہ البلاغ کراچی جمادی الثانی تا شعبان ۱۳۹۹ھ صفحہ ۸۲۲)
۲ـ:اقوام اوطان سے بنتی ہیں۔ (مشعل راہ ،عبدالحکیم اخترشاہجھانپوری،فرید بکسٹال لاہور صفحہ ۸۵۶)
۳:نظریہ پاکستان انگریزوں کی ایجاد ہے۔(کشف حقیقت دی پرٹنگ پریس دھلی صفحہ ۳۰)
۴:ہندو مسلم بھائی بھا ئی ہیں ۔(تحریک آزادی ھند اورمشایٔخ وعلماء کا کردار صفحہ نمبر۱۱)
۵:اس نے دو قومی نظریہ کے محاذآرائی کرنے کے لیے ایک جماعت بنائی۔(اکابر تحریک پاکستان ،صادق قصوری ۱۹۷۹ء لاہور صفحہ ۴۷۰)
۶:قائداعظم کو کافر اعظم کہا اورکہا کہ مسلم لیگ میں مسمانوں کی شرکت حرام ہے۔(رہبر دین ۲۹ اکتوبر ۱۹۴۵ء)(پیغام بنام موتمر کل ہند جمیعت علمائے اسلام ،ھاشمی بکڈپو لاہور ۱۹۴۵ء صفحہ ۴۸)
مولوی سراج احمد دین پوری
پاکستان بنتے وقت لاالہ الااللہ کا نعرہ ڈھونگ تھا۔ (ہفت روزہ ترجمان الاسلام لاہور ۱۵نومبر ۱۹۸۵ء صفحہ ۵)
تحریک احرار کے شاعر وںامین گیلانی،سائیں حیات نے میاں چنوں کےایک مشاعرے میں قائداعظم کو گالیاں دیں۔ (تحریک اسلامی اور اس کے مخالفین ،مکتبہ چاہ ٹوٹیانوالہ گھرجاکھ گوجرانوالہ ،صفحہ ۳۸۰،۳۸۱)
۱۲:اندراگاندھی نے دارالعلوم دیوبند کے جشن صد سالہ میں کہاکہ،دارالعلوم دیوبند نے گاندھی جی کی قیادت میںجدوجہدآزادی میںتعاون کیا۔(۱۰ رجب المرجب ۱۴۰۰ھ بروزاتوار روزنامہ نوائے وقت ۲۵میٔ ۱۹۸۰ء)،(ماہنامہ رضوان لاہور میٔ جون ۱۹۸۰ء صفحہ ۷،۸)
(بہرحال یہ چند وہ افراد ت ہے کہ جنھوں نے قیام پاکستان کی ہر ممکن مخالفت کی دعا ہے کہ اللہ پاکستان کو امن وسلامتی کیا گہوارہ بنایٔے آمین)