Skip to content

سود قرآن حدیث کی رو سے

مصنف: محمدبرھان اٌلحق جلالی (جہلم)

بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم

تعارف

اللہ رب العزت نے انسانوں کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔ ارشاد خداوندی ہے کہ:

(وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون) (سورۃ الذاریات، آیت نمبر ۵۶، پارہ نمبر ۲۷، رکوع نمبر ۳)

ترجمہ: میں نے جن و انس کو پیدا نہیں کیا مگر عبادت کے لیے۔

اللہ رب العزت نے ہمیں عقل و شعور دے دیا۔ اس نے ہمارے سامنے دونوں راستے رکھ دیے - بھلائی کا بھی، برائی کا بھی۔ اور ہم کو اختیار دے دیا کہ جس راستے کہ تم چاہو اختیار کر لو۔ یہ تمہارے اختیار میں ہے کہ اگر تم نیکی کا رستہ اختیار کرو گے تو دنیا و آخرت میں کامیاب ہو گے۔ اور اگر تم برائی اختیار کرو گے تو دنیا و آخرت میں ذلیل ہو گے۔

اللہ رب العزت نے واضح فرمایا ہے کہ کون کونسے کام تمہارے لیے بھلائی والے ہیں اور کون کونسے نقصان والے ہیں۔ ان ہی کاموں میں ایک سود ہے۔ آئیے قرآن کریم کی طرف رجوع کرتے ہیں، وہ اس بارے میں ہماری کیا رہنمائی کرتا ہے؟

قرآن میں سود کی حرمت

ارشاد ربانی ہے کہ:

(الذین یأکلون الربا لا یقومون إلا کما یقوم الذی یتخبطه الشیطان من المس) (سورۃ البقرۃ، آیت نمبر ۲۷۵، پارہ نمبر ۳، رکوع نمبر ۶)

ترجمہ: کہ وہ لوگ جو سود کھاتے ہیں وہ قیامت کے دن اس شخص کی طرح کھڑے ہوں گے کہ جس کو شیطان نے چھو کر مخبوط الحواس کر دیا ہو۔

ربا کی تعریف

ربا عربی زبان کا لفظ ہے اس کا معنیٰ سود ہے، انگریزی میں اس کو Interest کہتے ہیں۔ لغت میں ربا کا معنیٰ زیادتی، بڑھوتری اور بلندی کے ہیں۔ علامہ راغب اصفہانی نے اصل مال پر زیادتی کو ربا کہا ہے۔

علامہ بدرالدین عینی لکھتے ہیں کہ علامہ ابن اثیر کہتے ہیں کہ شریعت میں ربا عقد بیع کے اصل مال پر زیادتی ہے۔ اور ہمارے نزدیک ربا یہ ہے کہ مال کے بدلے مال میں جو مال بلا عوض لیا جاتا ہے۔ مثلا کوئی شخص دس درہم کو گیارہ درہم کے بدلے فروخت کر لے اور اس میں ایک درہم زیادتی بلا عوض ہے۔ (عمدۃالقاری، جلد ۱۱، صفحہ نمبر ۱۹۹)

اس کی شرعی تعریف یہ ہے:

(فی الشرع فضل مال بلا عوض فی معاوضۃ المال بمال) (دستور العلماء، جزنمبر ۲، صفحہ نمبر ۱۲۸)

جس وقت مال کا مال کے ساتھ سودا ہو رہا ہو، ایک طرف تو مال زیادہ ہو اور دوسری طرف کم ہو، اور اس وقت مال بھی ان چیزوں سے ہو جو مکیلی ہیں یا موزونی تو ایک طرف جو اضافہ ہو گا اور اس کے عوض دوسری طرف کچھ نہ ہو تو اس شریعت میں ربا کہتے ہیں۔

قرآن پاک نے سود کو مطلقاً حرام قرار دیا ہے، خواہ نجی ضروریات کے قرضوں پر سود ہو یا تجارتی قرضوں پر سود ہو، خواہ اس سود سے غریبوں کو نقصان ہو یا نفع۔ اللہ تعالیٰ نے امارت اور غربت کا فرق کیے بغیر سود کو علیٰ الطلاق حرام قرار دیا ہے۔ (تبیان القرآن، جلد ۱، صفحہ ۱۰۲۹)

اللہ تعالیٰ قیامت کے دن سود خوروں کی یہ علامت بنا دے گا کہ مخبوط الحواس اٹھیں گے۔ قیامت کے دن مجمع عظیم میں وہ شخص پاگلوں کی طرح مخبوط الحواس ہو کر اٹھے گا اور اسے دیکھ کر سب اسے پہچان لیں گے کہ یہ دنیا میں سود خور تھا۔

الٰہ اور اس کے رسول سے جنگ کا اعلان

ارشاد خداوندی ہے:

(یا ایها الذین آمنوا اتقوا اللہ وذروا ما بقی من الربا إن کنتم مؤمنین فإن لم تفعلوا فأذنوا بحرب من اللہ ورسوله) (سورۃ البقرۃ، آیت نمبر ۲۷۸-۲۷۹، پارہ ۳، رکوع نمبر ۶)

ترجمہ: اے ایمان والو، اللہ سے ڈرو اور باقی ماندہ سود کو چھوڑ دو اگر تم مومن ہو۔ پس اگر تم ایسا نہ کرو گے تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلان جنگ سن لو۔

یعنی ان آیات میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ اگر تم سود لو گے تو اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کے لیے تیار ہو جاؤ، اور یہ بھی جان لو کہ تم اللہ کو ہرگز عاجز نہیں کر سکتے۔

سود کی حرمت کی حکمت

قارئین گرامی قدر!

اللہ رب العزت نے سود کو حرام قرار دیا ہے کچھ مصلحتوں کے باعث، اور مفسرین کرام ان مصلحتوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

سود کے نقصانات

سود کے باعث صلح رحمی مٹ جاتی ہے۔ اس فعل بد کی وجہ سے صدقہ و خیرات اور قرضہ حسنہ دینے والے مکارم اخلاق ناپید ہو جاتے ہیں۔ سود خوری کی وجہ سے انسان بغیر کام کے پیسہ کمانے کا عادی ہو جاتا ہے۔

سود کے اخلاقی، معاشرتی اور اقتصادی نقصانات کے باعث علامہ محمد بخش اپنی شہرہ آفاق تفسیر، تفسیر نبوی، میں یہ حدیث رقم فرماتے ہیں:

ایک وقت آئے گا اللہ تعالیٰ کی زمین میں کوئی سود خور نہ رہے گا۔ سود ظاہراً لینا یا خفیہ لینا دونوں حرام ہے۔ جو اس کے جواز کے فتوے دیتے، قیامت کے دن ان کے پیٹ چیر دیے جائیں گے۔ (تفسیر نبوی، جلد نمبر ۱، صفحہ ۳۷۷، مکتبہ نبویہ لاہور)

سود کھانے سے بے مروتی، قلبی کمزوری پیدا ہوتی ہے۔ حرام مال کھانے سے اطاعت و تابعداری کی طاقت نہیں رہتی، سود سے انسان میں بخل پیدا ہوتا ہے۔ (تفسیر حسنات، جلد ۱، صفحہ ۶۸۲)

دیگر قرآنی آیات

آیت نمبر ۳:

ارشاد الٰہی ہے:

(یا ایها الذین آمنوا لا تأکلوا الربا) (سورۃ آل عمران، آیت نمبر ۱۳۰، پارہ نمبر ۴، رکوع ۵)

ترجمہ: اے ایمان والو، سود نہ کھاو۔

آیت نمبر ۴:

(وأحل اللہ البیع وحرم الربا) (سورۃ البقرۃ، آیت ۲۷۵، پارہ ۳، رکوع ۶)

ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے بیع کو حلال قرار دیا اور سود کو حرام قرار دیا۔

آیت نمبر ۵:

(یمحق اللہ الربا ویربی الصدقات) (سورۃ البقرۃ، آیت نمبر ۲۷۶، پارہ ۳، رکوع ۶)

ترجمہ: اللہ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو پروان چڑھاتا ہے۔

بہرحال اس کے علاوہ بھی کئی آیات میں اس سے منع کیا گیا ہے۔ اب آئیے ہم حدیث نبوی ﷺ کی طرف رجوع کرتے ہیں۔

احادیث میں سود کی مذمت

سود زنا سے برتر ہے

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

(من أکل درهماً من الربا فھو ثلث وثلاثین زنیة من بنت لحمۃ من سحت فالنار أولی بہ) (المطلب اللم وسط، طبرانی، جلد ۳، صفحہ ۲۱۱)

ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے ایک درہم سود کھایا، یہ اس شخص کی طرح ہے جس نے ۳۳ مرتبہ زنا کیا۔ اور جس کا پیٹ گوشت حرام سے بڑھا تو وہ نار جہنم کا زیادہ مستحق ہے۔

سود خور اور سود دینے والے پر لعنت

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں:

(لعن رسول اللہ ﷺ أھل الربا وموکلھ) (الترغیب والترھیب، جلد ۲، حصہ ۱، صفحہ ۱۲)

ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سود کھانے والے اور کھلانے والے دونوں پر لعنت ہے۔ (اس حدیث کو امام مسلم، امام ترمذی اور امام نسائی نے بھی نقل کیا ہے)

سود شرک کی مانند ہے

حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ سود کا گناہ ۷۰ اور کچھ درجے ہیں اور شرک اس کی مانند ہے۔

قیامت کے دن سود خوروں کے پیٹ میں سانپ بھرے ہوں گے۔ علامہ ابن کثیر اپنی شہرہ آفاق تفسیر میں شب معراج کا واقعہ لکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کچھ لوگوں کو دیکھا جن کے پیٹ مثل بڑے بڑے گھڑوں کے تھے۔ پوچھنے پر بتایا گیا کہ یہ سود خور ہیں۔

تفسیر مظہری میں سورۃ البقرۃ کی آیت نمبر ۲۷۹ کے ضمن میں لکھا ہے کہ سود خوروں کے لیے اللہ نے پانچ قسم کے عذاب تیار کر رکھے ہیں: ۱۔ قبروں سے پاگل بن کر اٹھیں گے ۲۔ دوزخ کی آگ میں عرصہ دراز تک رہیں گے ۳۔ ان کا مال و دولت زندگی میں تباہ کر دیا جائے گا ۴۔ سود کو حلال جاننے والے کافر ہیں ۵۔ اور سود خور اللہ اور اس کے رسول سے لڑائی کرتا ہے

اختتام

سود اضافہ نہیں بلکہ نقصان ہے۔ ان احادیث کے علاوہ بھی کافی احادیث ہیں جن میں سود کی مذمت بیان ہوئی ہے۔ ہمیں ان آیات قرآنی اور احادیث نبویہ ﷺ سے سبق حاصل کرنا چاہیے اور سود سے توبہ کرنی چاہیے۔

اللہ ہم سب کے حال پر رحم فرمائے اور پاکستان کو امن امان کا گہوارہ بنائے۔ (آمین)