Skip to content

میں سُنی کیوں ہوا؟

مصنف: ڈاکٹر محمد سلیمان قادری

انتساب

اپنے پیارے والدین کے نام جن کی شفقت و محبت اور دعاؤں سے اس قابل ہوا۔ اور اپنے شیخ کامل، پیر طریقت حضرت علامہ مولانا ابومحمدعبدالرشید قادری فیصل آبادی رحمۃ اﷲعلیہ اور اساتذہ کرام جن کی علمی و روحانی تربیت سے مجھے اﷲتعالیٰ نے نجدی وہابی فتنے سے نجات دی اور مسلک حق اہلسنت کی طرف رہنمائی فرمائی۔

گرقبول افتدز ہے عزت و شرف
ڈاکٹر محمد سلیمان قادری
جامعہ نعیمیہ لاہور
۱۴اگست ۲۰۰۷ء

بسم اﷲ الرحمن الرحیم نحمدک یاﷲ الصلوٰۃ والسلام علیک یارسول اﷲ

میری یہ تالیف ’’میں سنی کیوں ہوا؟‘‘اس کے لکھنے کی وجہ یہ بنی کہ میں جبکہ میرا نام محمد سلیمان چوہدری تھا جامعہ محمدیہ (اہلحدیث)مظفر آباد میں پڑھتا تھا۔بلوغ المرام تک کتابیں اہلحدثیوں کے پاس پڑھیں خود بھی اہلحدیث تھا اہلحدیث اساتذہ میں میرے استادمولانا محمد یونس اثری مہتمم مظفر آباد،مولانا محمد شریف سلفی، مولانا محمد عبداﷲ، مولانا عبدالرشید تھے ۔ ابتدائی کتب میں نے ان سے پڑھیںمزید حصولِ تعلیم کے لئے لاہور آکر بنگالی باغ بادامی باغ میں دیوبندیوں کی ایک مسجد میں امامت کرانے لگا اور ساتھ ہی ساتھ اپنی پڑھائی بھی جاری رکھی۔

چونکہ میں کافی عرصہ تک غیر مقلدین کے مدرسہ جامعہ محمدیہ مین مارکیٹ مظفر آباد آزاد جموں و کشمیر میں پڑھتا رہا اور یہ بھی دیکھتا رہا کہ دیوبندی اور اہلحدیث ایک دوسرے کے خلاف تقریریں کرتے اور مناظر ے کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود دونوں کے دوسرے کے مدرسوں میں پڑھاتے اور پڑھتے ہیں بلکہ تبلیغی جماعت کے افراد اہلسنّت کے سادہ عوام سے ان کے بچوں کو دین کے نام پرلاکر غیر مقلدین کے مدرسوں میں داخل کروا کر انہیں وہابی نجدی گستاخِ رسول ا بناتے ہیں ۔ غیرمقلدین سب سے پہلے بچے کو ’’تقویۃ الایمان‘‘پڑھاتے ہیں جس کی وجہ سے بچہ اگر نجدی وہابی نہ بھی بنے تودیوبندی ضرور بنتا ہے کیونکہ ابتداء سے ہی اس کے ذہن میں اس بات کو پختہ کردیا جاتاہے کہ نعوذ باﷲنبی مر کر مٹی کے ساتھ مل گئے (تقویۃ الایمان،صفحہ ۸۶)انبیاء ہمارے بڑے بھائی اور ہم ان کے چھوٹے بھائی ہیں جو نبی کو غیب دان جانے وہ پکا مشرک (ایضاً صفحہ ۳۱)جس کا نام محمد یا علی وہ کسی چیز کا مالک و مختار نہیں (مکتبہ دارالاشاعت کراچی صفحہ ۵۵)وغیرہ وغیرہ ایسے عقائد جو غیر مسلموں کو اسلام پر طعن و تشنیع کرنے کا موقع فراہم کریں جیسا کہ جب میں دیوبندی تھا تو میری لائبریری میں سے تقویۃ الایمان کتاب پڑھ کر ایک عیسائی نے مجھے کہا کہ مولانا آپ عیسائی مذہب قبول کرلیں جب میں نے کہا کیوں تواس عیسائی نے کہا یہ دیکھو تمہاری کتاب میں لکھا ہے جس کا نام محمد ا یا علی ہے وہ کسی چیز کا مالک و مختار نہیں جبکہ تمہارا قرآن کہتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کہا کرتے تھے

’’وابریٔ الاکمہ والابرص واحی الموتی باذن اﷲ‘‘

(آل عمران صفحہ ۴۹)

’’اور میں شفاء دیتاہوں مادر زاد اندھے اور سفید داغ والے کو اور میں مردے زندہ کرتا ہوں اﷲ کے حکم سے۔‘‘

(ترجمہ کنز الایمان )

اس طرح اس عیسائی مبلغ نے دوسرا اعتراض یہ کیا کہ یہ دیکھو تمہاری کتاب میں لکھا ہے کہ تمہارے نبی نے کہا کہ میں مر کر مٹی میںملنے والا ہوں جبکہ تمہارا قرآن پاک کہتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمانوں پر زندہ ہیں۔

تو تم زندہ نبی کا کلمہ پڑھو ،مردہ نبی کا کلمہ کیوں پڑھتے ہو؟

تیسرا اعتراض اس نے یہ کیا کہ دیکھو تمہاری کتاب میں لکھا ہے کہ جو نبی کو غیب دان مانے وہ پکا مشرک ہے ۔جبکہ قرآن پاک میں لکھا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام اعلان کیا کرتے تھے ۔

’’وانبئکم بما تاکلون وما تدخرون فی بیوتکم‘‘

(آل عمران ۵۹)

اور میں تمہیں بتاتا ہوں جوتم کھاتے ہو اور اپنے گھروں میں جمع رکھتے ہو ۔

لہٰذا جو نبی غیب جانتا ہے اس کا کلمہ پڑھو ، بے علم نبی کا (نعوذ باﷲ)کلمہ کیوں پڑھتے ہو ؟عیسائی کے ان اعتراضات کا میرے پاس کوئی جواب نہ تھا حالانکہ اس نے یہ سارے اعتراض دیوبندیوں اور غیرمقلدین کے متفقہ مولوی اسماعیل دہلوی کی کتاب سے پڑھ کر کیے تھے اس کے ان اعتراضات کو لے کر میں قاری محمد یوسف صدیقی صاحب رحمۃ اﷲ کے پاس گیا اُنہوں نے کہا بیٹے اس عیسائی کو یہ کہوجس کتاب سے تم نے جو اعتراضات کیے ہیں دراصل یہ لوگ تمہارے ہی پروردہ ہیں جوکہ اسلام پر بدنما داغ ہیں حقیقت میں جمہور اہل اسلام کے یہ عقائد نہیں ۔ جمہور اہل اسلام کا یہ عقیدہ ہے کہ اﷲ کے آخری نبی حضرت محمد اکو اﷲ تعالیٰ نے مالک و مختار بنا کر بھیجا ہے اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نابینا ؤں کو بینا کرتے اور بیماروں کو تندرست کرتے ہیں اور اﷲ جل جلالہ کے حکم سے مُردوں کو زندہ کرتے تو ہمارے نبی اپتھروں کو کلمہ پڑھاتے ہیں، درخت ان کو سلام کرتے ہیں ،چاند دو ٹکڑے کرتے اور ڈوبے ہوئے سورج کو واپس لاتے ہیںجیسا کہ امامِ اہلسنّت ،مجددِ دین وملت امام احمدرضا خان بریلوی فرماتے ہیں جن کے تلوؤں کا دھون ہے آبِ حیات
ہے وہ جانِ مسیحا ہمارا نبی

دوسرے اعتراض کا جواب میرے استاذ محترم نے دیا کہ ہمارے آقاازندہ ہیں ہمارا کلمہ ہمیںیہی بتاتاہے ۔ لا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲا نہیں کوئی معبود مگر اﷲ محمد اا ﷲکے رسول ہیں

امامِ اہلسنّت نے مسلمانوں کے اسی عقیدے کی یوں وضاحت فرمائی تو زندہ ہے و اﷲ تو زندہ ہے و اﷲ
میری چشم عالم سے چھپ جانے والے

رہا تیسرا اعتراض تو ہمارے نبی ا تو جو کچھ ہوچکا اس کو بھی جانتے ہیں اور جو کچھ قیامت تک بلکہ قیامت کے بعد بھی ہوگا سب جانتے ہیں بلکہ اس رب کو بھی دیکھا جو تمام غیبوں کا غیب ہے۔ اور کوئی غیب کیا تم سے نہاں ہو بھلا
جب نہ خدا ہی چھپا تم پہ کروڑوں درود

الغرض ایسے بہت سے عقیدے وہابی و دیوبندیوں کے ہیں جوکہ صرف اور صرف اسلام کو بدنام کرنے اوربانیٔ اسلام علیہ السلام کے خلاف غیرمسلموں کو طعن و تشنیع کرنے کا کوئی نہ کوئی موقع فراہم کرتے ہیں لہٰذا میں نے چاہا کہ ایسی کتاب لکھوں جس میں غیرمسلموں کے ایجنٹوں کو بے نقاب کیا جائے اس کتاب میں غیر مقلدین کون ہیں؟کہاں سے آئے ہیں؟ ان کے کن کن سے رابطے ہیں؟اور حرمین شریفین پر ان کا ناجائز قبضہ کس نے کرایا؟اُصولی عقائد میں غیر مقلدین اوردیوبندی ایک جیسے دیوبندیوں کی دوغلی پالیسی ،غیرمقلدین کو اہلحدیث کس نے بنایا؟

سرکاری نام اہلحدیث ہی کیوںہوا؟اور آخر میں اہلسنّت اور غیرمقلدین کے درمیان اختلافی مسائل کی جامع فہرست اور چند ایک اختلافی مسائل کے جوابات قرآن و حدیث کی روشنی میں نقل کیے ہیں اس کے علاوہ آخر میں حنفی مسلمان جس طرح نماز پڑھتے ہیں وہ حدیث سے ثابت ہے اس کے لئے احادیث بھی نقل کردی ہیں تاکہ پڑھنے والے کو تسلی و تشفی ہو۔ وما توفیقی الا باﷲعلیہ توکلت والیہ اُنیب

خادم العلماء محمد سلیمان قادری

المتوطن بھیڑی مظفر آبادآزاد کشمیر

مدرس جامعہ نعیمیہ گڑھی شاہو لاہور

پہلا باب

غیرمقلد کی تعریف

جو نہ خود اجتہاد کرسکے اور نہ کسی کی تقلید کرے یعنی نہ مجتہد ہو اور نہ ہی مقلد ہوجیسے ملک میں ایک حاکم ہوتاہے باقی رعایا، لیکن جو نہ حاکم ہو نہ رعایا بنے وہ ملک کا باغی ہوتاہے یہی حال غیر مقلد ہے ۔

غیرمقلد اور مجتہد میں فرق

غیر مقلد اور مجتہد میں فرق سمجھنے کے لئے یہی مثال کافی ہے ۔مجتہد فقیہ، ایم بی بی ایس ڈاکٹر کی طرح ہوتاہے جیسے ایک سند یافتہ ڈاکٹر اگر بالفرض کسی مریض کو دوا غلط دے دے تو شرعاً و قانوناً مجرم نہ ہوگا، اسی طرح اگر کوئی جج کسی ملزم کو سزادے دے تو وہ صحیح ہوگا اگر چہ وہ ملزم حقیقتاً مجرم نہ بھی ہو بشرطیکہ جج کو ثبوتِ جرم مل جائے ۔لیکن اگر کوئی عام شخص قانون کو ہاتھ میں لے کر خود ہی منصف بن بیٹھے اور لوگوں کو سزا دینا شروع کردے تو ایسا شخص دنیاوی جیل کا مستحق ہوگا ، اسی طرح اگر کوئی غیرمقلد جو قرآن و حدیث سے مسائل اخذ نہیں کرسکتا اور خود ہی اپنے اٹکل پچو سے اجتہاد وقیاس کرتا ہے تو شرعاً مجرم ہے اور اُخروی جیل کا مستحق ہے لیکن اگر کوئی فقیہ مجتہد جو قرآن و حدیث سے مسائل کا استنباط کرسکتا ہے اس کیا اجتہاد مظاہر پر بھی ثواب ملے گا۔

دوسراباب

غیر مقلدین کی مختصر تاریخ

ومنھم من یلمزک فی الصدقت فان اعطوامنھا رضواوان لم یعطوا منھا اذاھم یسخطون۔

(سورۃ التوبہ ،۵۸)

اور ان میں سے کوئی وہ ہے کہ صدقہ بانٹنے میں آپ اپر طعن کرتاہے تو اگران کو اس میں سے کچھ ملے تو راضی ہوجائیں اور نہ ملے تو ناراض۔ یہ آیت مبارکہ ذوالخویصرہ کے بارے میں نازل ہوئی ۔اس شخص کا نام جو حرقوص بن ذخیرہ ہے اور یہی خوارج کی اصل بنیاد ہے چنانچہ بخاری اور مسلم میں ہے۔

عن ابی سعیدص یینما النبیایقسم جاء عبداﷲ ذوالخویصرہ التمیمی فقال اعدل یارسول اﷲا فقال ویلک و من یعدل اذا لم اعدل قال عمر بن الخطاب ائذن فاضرب عنقہ قال دعہ فان لہ اصحاباً یحقر احد کم صلاتہ و صیامہ مع صیامہ یمرقون من الدین کما یمرق السھم من الر میہ۔

حضرت ابو سعیدص سے روایت ہے کہ رسول اﷲا مالِ غنیمت تقسیم فرمارہے تھے تو ذوالخویصرہ (جو قبیلہ بنی تمیم کا رہنے والا تھا) اس نے کہایارسول اﷲا عدل کیجئے ۔حضور ا نے فرمایا میں نہ عدل کروں گا تو عدل کون کریگا۔ حضرت عمر ص نے عرض کیا مجھے اجازت دیں کہ اس منافق کی گردن اُتاردوں تو حضورانے فرمایا کہ اسے چھوڑو! اس کے اور بھی بہت سے ساتھی ہیں کہ تم ان کی نمازوں کو اور ان کے روزوں کے سامنے اپنے روزوں کو حقیر سمجھو گے ، وہ قرآن پڑھیں گے لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اُترے گا(ان سب ظاہری خوبیوں کے باوجود)وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے نکل جاتاہے۔

(بخاری شریف جلد۲، صفحہ ۱۰۲۴،مشکوٰۃ شریف صفحہ ۵۳۵قدیمی کتب خانہ کراچی)

اسی طرح حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ اُنہوں نے فرمایا کہ ایک دن حضورانے شام اور یمن کے لئے اس طرح دعامانگی

اللھم بارک لنا فی شامنا اللھم بارک لنا فی یمننأ قالو یارسول اﷲ افی نجدناقال اللھم بارک لنا فی شامنا اللھم بارک لنا فی یمنناقالو یارسول اﷲوفی نجدنا فاطنہ قال فی الثالثہ ھناک الزلاوّل والفتن وبھأ یطلع قرن الشیطان۔

(مشکوٰۃ صفحہ ۵۸۲،قدیمی کتب خانہ کراچی)

اے اﷲہمارے لئے شام اور یمن میں برکت فرما (دعا کے وقت نجد کے کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے )اُنہوں نے عرض کی اور ہمارے نجدمیں یارسول اﷲاآپ انے پھر وہی دعا کی ، اے اﷲ!ہمارے لئے شام اور یمن میں برکت نازل فرما تو پھر اُنہوں نے عرض کیا اور ہمارے نجد میں یارسول اﷲا!راوی کا بیان ہے کہ تیسری مرتبہ حضورانے فرمایا وہاں زلزلوں اور فتنوں کی جگہ ہے اور وہاں سے شیطان کا سینگ نکلے گا۔

مذکورہ حدیث کے آخر میں فرمانِ نبوی اہے وبھا یطلع قرن الشیطان یہاں قرن کے معانی ہیں گروہ ، سینگ، شیطان کے پیروکار۔

(مصباح اللغات)

اگر قرن الشیطان کا معنی شیطانی سینگ کیا جائے تومفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں نجدیوں کو شیطان کہنے کی تین وجوہات ہیں۔ (۱) سینگ والے جانور کے سارے اعضاء سے سخت تر سینگ ہوتے ہیںیہ ٹولہ بھی انبیاء و اُولیاء کی عداوت میں شیطان سے سخت ہے۔ (۲) ہمیشہ سینگ والا جانور سینگوں سے لڑتاہے کہ سامنے والے کے مقابل سینگ کرتا ہے اور خود پیچھے سے زور لگاتاہے۔ (۳) سینگ والا جانورجب کسی گھر میں داخل ہوتاہے تو پہلے سینگ داخل کرتاہے باقی اعضاء بعد میں اسی طرح شیطان دوزخ میں پہلے ان کو داخل کرے گا بعد میںخود جائے گا۔

(مرآت المناجیح ،جلد نمبر۹، صفحہ ۵۷۹نعیمی کتب خانہ گجرات)

لاملئن جھنم منک وممن تبعک منھم اجمعین۔ (صفحہ۷۵)

ترجمہ میں ضرور جہنم بھر دونگا تجھ سے اور ان میں سے جس نے تیری پیروی کریں گے۔

تیسری روایت

ایک اور حدیث پاک ہے جس کا ترجمہ ذکر کیا جاتاہے کہ گستاخی پر حضورانے اس کے متعلق ارشاد فرمایا کہ اس کی نسل سے ایک جماعت پیدا ہوگی جو قرآن پڑھے گی لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اُترے گا،وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتاہے وہ مسلمان کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو چھوڑدیں گے۔

(مشکوٰۃ شریف صفحہ۵۳۵،قدمی کتب خانہ کراچی)

ان مذکورہ احادیث میں نبی پاک انے بہت سے پہلے نجد فتنوں کے اُٹھنے اور گستاخِ رسول اﷲا ذوالخویصرہ کی نسل سے ایک ایسی جماعت کے پیدا ہونے کی خبردی تھی کہ جو مسلمانوں کو قتل کریں گے اوربت پرستوں کو چھوڑ دیں گے تو نبی پاک اکے ارشاد کے مطابق اسی خاندان میں عبدالوہاب نجدی پیدا ہوا جس کی ذات سے نجدی فتنہ پیدا ہوا۔

حضوراکی پیشن گوئی حرف بہ حرف درست ثابت ہوئی کہ اس نے مسلمانوں کا قتل عام کیا مگر بت پرستوں کو چھوڑدیا۔ اس کی صورت یہ ہوئی کہ محمد بن عبدالوہاب نے مسلمانوںکی دو قسمیں ٹھہرائیں۔

نمبر۱مشرک/مسلمان نمبر ۲ موحد۔مسلمان جواس کی من گھڑت توحید کو مانتا اسے وہ موحد مسلمان قرار دیتا اور باقی مسلمانوں کو ’’مشرک‘‘ٹھہرا کر ان کی جان ومال کے حلال ہونے کا فتویٰ دیتا انہیں قتل کرتا اور ان کے گھروں کو لوٹتا اس لئے شروع میں لوٹ مار کے شوقین اور لالچی اس کی جماعت میں شامل ہوئے پھر آہستہ آہستہ دوسرے بہت سے لوگ اس کے ساتھ ہوگئے جن کے ہاتھوں ہزاروں بے گناہ مسلمان قتل ہوئے اور لاکھوں گھر تباہ و برباد ہوگئے۔(صفحہ ۳۰،غیرمقلدین کے فریب)چنانچہ علامہ ابن عابدین شامی رحمۃ اﷲ علیہ تحریر فرماتے ہیں

عبدالوہاب کے ماننے والوں نے نجد سے آکر مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ پر زبردستی قبضہ کرلیا اور وہ لوگ اپنا مذہب حنبلی بتاتے ہیں لیکن ان کا عقیدہ یہ ہے صرف وہی لوگ مسلمان ہیںاور جو ان کے اعتقاد کی مخالفت کریں وہ مشرک اور کافرہیں اس لئے ان لوگوں نے اہلسنّت و جماعت اور ان کے علماء کے قتل کو جائز ٹھہرایا۔

(درمختار جلدنمبر۳، صفحہ ۳۰۹)

غیرمقلدین کے ساتھ اختلاف کی نوعیت

اُمتِ مسلمہ ملتِ واحدہ کی صورت میں دنیا بھر کی اقوام میں مثالی حیثیت سے چل رہی تھی۔

ان کا خدا ایک تھا ان کا عظیم المرتبت رسول اﷲاایک تھا۔ ان کا مرکز اتحاد کعبۃ اﷲایک تھا اور ان کی کتاب بھی ایک تھی اور وہی کتاب بنی نوع انسان کے لئے خدائے ذوالجلال کا آخری پیغام تھی ۔ اس کتابِ برحق نے اپنے ماننے والوں کو حکم دیا۔

واعتصموابحبل اﷲجمیعاًولاتفرقوا۔ (سورۃ نساء ،۱۰۳)

ترجمہ اور اﷲ کی رسی مضبوطی سے تھام لو سب مل کر آپس میں پھٹ نہ جانا۔

تفرقہ کو اس کتاب نے شرک کے مترادف قرار دیا۔ہمارے پیارے آقاانے ملت کو متحد رہنے کی تاکید فرمائی۔

کونوا عباداﷲاخواناکا نورانی حکم فرمایا باہمی جنگ وقتال سے اپنے عظیم الشان آخری خطبہ حجۃ الوداع میں سختی سے روکا تھا۔

مسلمان ان احکام کی وجہ سے فقہی اختلافات کے باوجود باہم شیر و شکر ہو کر رہے اگر کسی گروہ پر افتاد پڑی تو دوسرے گروہ نے آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ پکڑا دینی اور دنیاوی امداد سے نوازا یہ ساراکام دینی فریضہ سمجھ کر کیا سوچوںکے انداز الگ تھے لیکن اس کا مدعا اعلاء کلمۃ اﷲ تھا سب کا مقصدغلبہ اسلام تھا۔

وہ زبان وقلم اور عمل سے آخر میں تلوار سے اسلام کی خدمت کرتے رہے ان کی ان مساعی جمیلہ کے صدقہ میں ہم تک اسلام پہنچا مسلمان اپنے اﷲ کریم کے فرمان اور اپنے پیارے نبی رؤف الرحیم اکے ارشاد کی روشنی میں اپنے محبوب نبی اکرم اکواپنی جان و اولاد ،اپنے ماں باپاور مال ووطن سے زیادہ عزیز رکھتے تھے۔

وہ سمجھتے تھے کہ سارے کا سارا محور نبوت کے اردگرد گھومتاہے۔اس لئے وہ اپنی آنے والی نسلوں کو علامہ اقبال کی زبان میں وصیت کرتے تھے۔ بمصطفی برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست
گربہ او انہ رسیدی تمام بولبی است

(ضربِ کلیم)

اور انہیںقرآن پاک کی یہ آیاتِ مبارکہ اچھی طرح یاد تھیں۔

من یطع الرسول فقط اطاع اﷲ۔

(سورہ آل عمران پارہ ۳)

ترجمہ

جس نے رسول اﷲاکی اطاعت کی اس نے اﷲتعالیٰ کی اطاعت کی۔ مااٰتکم الرسول فخذوہ ومائھکم عنہ فانتھوا۔ جو تمہیںرسول اﷲاعطا کریںوہ لے لو اور جس سے روک دیں اس سے باز آجاؤ۔ قل ان کنتم تحبون اﷲفاتبعونی یحیبکم اﷲ۔

(آل عمران۳)

فرمادیجئے کہ اگر تم اﷲ تعالیٰ سے محبت کرتے ہو تو میری فرمانبرداری کرو اﷲ تم سے محبت فرمائے گا۔

اور اپنے پیارے آقااکا یہ ارشاد بھی یاد تھا

لا یؤمن احد کم حتی اکون احب الیہ من والدہٖ وولدہ والناس اجمعین۔

(مشکوٰۃ شریف)

تم میں سے کوئی اس وقت تک کامل مومن نہیں ہوسکتا جب تک وہ مجھے اپنے باپ ،بیٹے اورتمام لوگوں سے بڑھ کر محبوب نہ سمجھے۔

مسلمانوں کی تاریخ شاہد ہے کہ اُنہوں نے سرکارِ دوعالم اکی محبت کو اپنے ایمان کی جان قرار دیا۔ مغز قرآں جانِ ایماں روحِ دیں
ہست حب رحمۃ للعلمین

روزِ اول سے لے کرآخر تک مسلمانوں کا یہی شعار رہا اورصبح قیامت تک یہی طریقہ کار رہے گا۔

ادیانِ باطلہ کے پیروکار سمجھتے تھے کہ جب تک عشقِ رسول اﷲاکا گلشن مسلمانوں کے دلوں میں کھلا ہوا ہے اُس وقت تک اسلام کے خلاف کوئی کوشش بھی کامیاب نہیں ہوسکتی لہٰذا غیروں نے کوشش کی جس طرح ممکن ہوسکے ذاتِ رسول پاک اکی اس غیر مشروط والہانہ محبت کی چاشنی کو ختم کردیا جائے یا کم کردیا جائے اور ذاتِ رسول اﷲاکی صفات کو متنازعہ بنادیا جائے تاکہ مسلمان آپس میں اُلجھ پڑیں۔

ان بحثوں کے ذریعے ان کے سینے سے عشقِ مصطفیاکی روشن شمع کو گل کردیا جائے آپ اسلام کی پوری تاریخ پر نظر ڈالیںاس جارہ نا مرضیہ پر سب سے پہلے ابن تیمیہ چلتے نظر آتے ہیںان کی قلم سے آگ نکلتی ہے ان کے منہ سے افتراق کے شرارے اُبلتے ہیں۔

مسلمان ایک دوسرے کو فقہی اختلافات کے باوجود مسلمان سمجھتے تھے مگر ابن تیمیہ پہلے انسان ہیں جنہوں نے مسلمانوں کو مشرک قرار دیا،قبروں کی زیارت کے خلاف فتویٰ دیا،ساری اُمت یا رسول اﷲاکہہ رہی تھی مگر ابن تیمیہ نے یہ محبت کا نعرہ لگانے والوں کو مشرک کہا۔

مسلمان اپنے اخلاق اور عقلی ونقلی دلائل سے لوگوں کو اسلام کی طرف دعوت دے رہے تھے لیکن ابن تیمیہ دنیائے اسلام کو شرک کی تلوار سے دونیم کررہے تھے۔ابن تیمیہ کے نظریات ان کے متوسلین کو اس حدتک عزیز ہیں کہ وہ قولِ ابن تیمیہ کی پیروی باعثِ نجات سمجھتے ہیں۔

حق جانشینی ادا کردیا

ابن تیمیہ نے جو بیج بویا تھا اسے پانی دینے کے لئے محمد بن عبدالوہاب نجدی آگے بڑھے ،شیخ نجدی نے ابن تیمیہ کے نظریات کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالا۔

یہ وہ وقت تھا جب مغربی استبداد کا دیومسلمانوں کی گردنوں کو دبوچنے کے لئے اسلامی دنیا پر یلغar کررہاتھا۔

استعماریت کا یہ شیطان جانتاتھا کہ جب تک مسلمان متحد ہیں اس کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیںہوسکتالہٰذا اس نے افتراق کے پودے کو پالنے کے لئے محمد بن عبدالوہاب نجدی کے قلم کو منتخب کیا۔

اگر مسلمانوںکی صفوں میں اتحاد ہوتاتو مغربی استعماراسلامی دنیا کو مسخر کرنے میں ہرگز کامیاب نہ ہوتامگر ان اندرونی سازشوں نے جن کی بنیاد ہی گستاخی رسول اﷲاپر رکھی گئی تھی، مسلمانوںکے گلے میں غلامی کا طوق ڈال دیا۔اس گروہ نجدیہ نے کئی متفق علیہ مسائل وعقائد کا اختلاف بناکر مسلمانوں کومشرک قرار دینے میں وہ بے باکی اختیار کی کہ شیطان بھی اپنا دھندہ چھوڑ کر ہاتھ جوڑکر بیٹھ گیا کہ لیجئے آپ نے ہمیں فارغ کردیا اور ہمارا حق جانشینی ادا کردیا۔

مٹھی بھر نجدیوں کے بغیر شیخ نجد کو سارا عالم اسلام مشرک نظر آنے لگا ۔مسلمانوںمیں پہلے بھی تو مصلح پیدا ہوئے تھے مگر اُنہوں نے مسلمانوں میں گھل مل کر اپنے عمل سے وہ خرابیاں دور کیں جو قرآن وسنّت کے خلاف تھیں، یہ دنیا ئے اسلام کا پہلا بزعم خویش مصلح تھا۔جس نے ساری دنیا ئے اسلام کو شرک کی بھٹی میں تبدیل کردیا اور پھر اصلاح کی تلوار لیئے میدان میں اُتر آیابین الاقوامی سطح پر شیخ نجدی کے پیروکار نے ہمیشہ استعمار اور کفر کا ساتھ دیا۔

(تاریخ نجد وحجاز مصنف مفتی عبدالقیوم ہزاروی مطبوعہ لاہور)

(اسلام پر سامراجیت کے بھیانک سائے مصنف محمد میاں مظہری مطبوعہ کراچی)

جب انگریز کا اقتدار سمٹا اور جزائر برطانیہ کی محدود فضاؤں تک محدود ہوگیاتو آلِ سعوداپنے نئے آقاکی تلا ش میں نکل کھڑی ہوئی اور چچا سام امریکہ کے وجود ِ نامسعود کی صورت میں انہیں نیا آقا مل گیا۔

اب اس نئے آقا کے چشم وابرو کے اشاروں پر ناچنا آل سعود کا دین بن گیا ہے وہ دنیائے اسلام کی ہرا س تحریک کی مخالفت کرتے ہیںجو استعماریت کی دشمن ہے اور ہراس تحریک پر جان نچھاور کرتے ہیںجو استعماریت کی لونڈی ہے ۔ اسکی نوک پلک سنوارنا ان کا ایمان بن چکا ہے۔

اندرونِ ملک نجدیوں کے کارنامے

بیرونِ ملک تو ان کی یہ سیاست ہے اور اندرونِ ملک ان کا کارنامہ یہ ہے کہ (۱) مسلمان اس بات پر متفق ہیں کہ حضوراکے بعد خلفائے راشدین اسلام کا معیار ہیں۔خلفائے راشدین کے زمانے میں جس طرح مسلمان اپنے امیر کا چناؤ کرتے تھے اب بھی مرکزاسلام میں اس طرح چناؤ ہو؟تو جواب نفی میں ہوگا۔ (۲) کسی بھی خلیفہ نے اپنی اولاد کویہ حق نہیں دیا کہ نسل در نسل ایک ہی خاندان حکومت کرتارہے تو پھر سعودی خاندان کویہ مقام کیسے ملا؟ (۳) پھر سوال یہ ہے کہ قانونِ اسلام نے رعایا کو یہ حق دیا ہے کہ وہ اپنے امیر سے برسرِ اجلاس کسی بات پر باز پرس کرسکتا ہے جس کی مثال سیدنا ابوبکر و فاروق رضی اﷲعنہما کے ادوار میں ملتی ہے۔

(تاریخ الخلفاء امام جلال الدین سیوطی)

کیا آج مرکز اسلام پر شاہی خاندانوںکے حضور کسی مسلمان کی یہ جرأت ہے کہ وہ ایک لفظ ہی ان کے خلاف زبان سے نکال سکے۔جس نے ایسی جسارت کی اسے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے سعودی حکومت کے راستے سے ہٹادیا جاتاہے جس کی مثال یہ ہے کہ اخباری خبر کے مطابق ریاض کی جامع مسجد کے امام نے یہ جسارت کی تو اس کو بمعہ اس کے نوجوان بیٹے کو موت کے گھاٹ اُتار دیا گیا۔

(مصنف حکیم محمد ریاض گوجرانوالہ،خلیجی جنگ اوراختلاقِ اُمت)

نجدیوں کامسلمانوں کے مزارات کے خلاف جہاد

مرکز اسلام پر قابض نجدی جو اسلام کا دم بھرتے ہیںان کا کردار یہ ہونا چاہیے تھا کہ امریکہ اور برطانیہ اوردوسرے ممالک جو مسلمانوں کے قلب میں زہر آلود نیزہ گاڑ رہے ہیں ان سے باقاعدہ جہاد کا اعلان کیا جاتا اور مسلمانوں کو پکارتے کہ ہم ہر قسم کی مالی امداد دینے کے لئے تیار ہیں۔ان یہودیوں اور عیسائیوں سے مقابلہ کرو اگر یہ نہ کرسکتے تو کم از کم ایمان کی دلیل تو پیش کرتے کہ یہود ونصاریٰ سے مکمل بائیکاٹ کرتے ان سے ہر قسم کا لین دین بند کردیتے ،ان کے بینکوں سے اپنی دولت نکال لیتے ، علیحدہ اسلامی بینک کا قیام عمل میں لاتے لیکن وہابیہ نجدیہ اپنے آقاؤںکو ناراض کرنا تو گوارہ نہ کرسکے ہاں اُنہوں نے یہ ضرور کیا کہ آسمانِ ملت کے درخشاں ستارے صحابہ کرام و اہلِ بیت عظام رضوان اﷲ علیہم اجمعین کے مزارات پر اُنہوں نے بلڈوزرزچلوادیے ،قبرستانوںکو اُکھاڑ پھینکا ہے اور جنت المعلی وجنت البقیع کواپنے جہاد کا نشانہ بنایا ہے ۔ ان کا جہاد کافروں کے خلاف نہیں ہوتامسلمانوں کے خلاف ہوتاہے کہ انہیں مشرک قرار دیتے ہیںاور مسلمانوںکے مزارات کے خلاف ہوتاہے کہ انہیں اُکھاڑ پھینکتے ہیں۔

سعودیوں نے جس انداز میں قبرستانوں کی حرمت کو پامال کیا ہے اور عظیم المرتبت ستارگانِ ہدایت کی قبور کو تہس نہس کیا ہے اس کی مثال چودہ سو سال پرانی تاریخ ہی نہیں بلکہ انسانیت کی تاریخ پیش کرنے سے قاصر ہے۔

حاصلِ کلام

حاصلِ کلام یہ کہ نجدی تحریک نے مسلمانوں کے مسلمات کے خلاف زبان چلائی ،قلم چلائی اور تلوار چلائی ، اسلامی نظریات کو یقینیات اور ایمانیات سے نکال کر اوہام و شکوک کی دلدل میں ڈال دیا ،قبور سے انتقام لیا اورآثارِ رسول اﷲا کومٹایا۔

(تاریخ نجدو حجاز ،مفتی عبدالقیوم ہزاروی ،مطبوعہ ضیاء القرآن گنج بخش روڈ لاہور)

آلِ نبوت اور صحابہ رسالت کے خلاف محاذ قائم کرکے ان کے مزارات کو اپنے مظالم کا تختہ مشق بنایا ۔اُولیائے رحمان کے ساتھ تمسخرکیا ،قرآنی آیات کی من مانی تفسیریں کیں، بتوں کے خلاف نازل ہونے والی آیات کو اُولیاء اﷲپر چسپاں کیا۔

وکان ابن عمر یراھم شرار خلق اﷲالذین اتخذوآیات نزلت فی القرآن جعلوھا علی المومنین۔

(بخاری شریف ۲/۱۰۲۴)

ترجمہ

حضرت ابن عمر رضی اﷲ عنہما اﷲ کی مخلوق میں ان لوگوں کو بدترین مخلوق قرار دیتے تھے کہ جو آیات بتوں کے بارے میں نازل ہوتیں اور وہ انہیں اُولیاء اﷲ پر چسپاں کیا کرتے تھے۔

شفیع اُمت رحمت دوعالم ا کے علومِ عالیہ کو شیطان کے علم سے بھی کم قرار دیا اور اب امریکہ کے مقاصد کی ترجمانی ہورہی ہے ۔ لیلائے نجد امریکہ کی ناقہ کی حدی خواں بن گئی ہے ۔آلِ سعود دنیائے نجدیت کے لئے اپنے ریالوں کی تجوریاں کھولے ہوئے ہے مسلمانوں کے خلاف شرک کے تیر برسائے جارہے ہیں،گروو بندیاں ہورہی ہیں، ملت کا شیرازہ بکھیرا جارہا ہے ،یارسول اﷲا علیک المدد اور یاعلیص مدد کہنے والے کو مشرک کہنے والے یا ’’استعمارالمدد‘‘اور ’’یابش المدد‘‘کی گردانیں پڑھ رہے ہیں۔

روضۂ رسول اﷲاکی طرف منہ موڑ کر دعا مانگنے کو شرک کہنے والے وائٹ ہاؤس کے اندر جھانک جھانک کر دیکھ رہے ہیںبش یا کلنٹن خواب میں بڑبڑاتاہے تو یہ گروہ اسے نجدی پر نازل ہونے والی وحی سمجھ کر قبول کرتا ہے ۔ امریکی مسلمان پر گولیاں برساتے ہیں ،شیلنگ کرتے ہیں اور بم گراتے ہیںتو ان کا نعرہ ہوتاہے مرحبا۔

غیر مقلدین سے اختلاف کی قسمیں

اہلِ سنّت کا غیر مقلدین کے ساتھ دو قسم کا اختلاف ہے۔ (۱)اُصولی

(۲)فروعی

اُصولی عقائد میں غیر مقلدین اور دیو بندی مشترک

ہمار ا غیر مقلدین کے ساتھ اصل اختلاف عقائد میں ہے میں یہاں غیر مقلدین کے چند اُصولی عقائد کا مختصر ذکر کرتاہوںدورِ حاضر کا ہر مسلمان ان کے نام اور مقام کو جانتاہے اس موضوع پر ہمارے اکابر نے بہت کچھ لکھا ہے جن میں سے مندرجہ ذیل شخصیات کے نام تاریخ میں سنہری حروف سے لکھے جانے کے قابل ہیں۔

مولانا احمد رضاخاں بریلوی رحمۃ اﷲ علیہ نے سبحان السبوح الکوکبۃالشہابیہ اہلاک الوہابیین، تمہید الایمان وغیرہم لکھیں ،امام فضل حق خیرآبادی رحمۃ اﷲ علیہ نے تحقیق الفتوی، غزالی دوراںسید امام احمد سعید شاہ صاحب کاظمی رحمۃ اﷲ علیہ نے الحق المبین ، تسبیح الرحمن ، التبشیر برد التحذیر لکھیں۔مذکورہ بالا بزرگانِ دین کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے ان حضرات کی کتب کے چند حوالے نقل کردیتاہوںتاکہ پتہ چل سکے کہ جمہور مسلمین کے خلاف کہاں کہاں ان حضرات نے نشتر چلائے ہیں اور تیر برسائے ہیں۔میں لاتعداد حوالوں میں سے صرف چند حوالے نقل کرنے پر کفایت کروں گا تاکہ میرا مقالہ طویل ہونے کی بناء پر موضوع سے ہٹ بھی نہ جائے اور نجدیت کی حقیقت بھی واضح ہوجائے۔

عقیدہ توحیداور نجدیت

توحید کا مدار اسلام ہے مسلمانوںکے سب طبقات اس بات پر متفق ہیںکہ ذاتِ خداوندی وحدہ ہے لاشریک ہے اس کی ساری صفات حق ہیں وہی عبادت کے لائق ہے اور جاہل سے جاہل مسلمان بھی اس کے علاوہ کسی کو مستحقِ عباد ت نہیں سمجھتا مگر ان نجدیوں غیر مقلدوں نے عقیدہ توحید کی علمبرداری کا دعویٰ بھی کیا ،ذاتِ خداوندی کے بارے میں باتیں بھی کیں، جو کسی اعلیٰ شخصیت کے بارے میں بھی نہیںکی جاسکتیں مثلاً جھوٹ اور کذب ایسی بُرائی ہے جس کے قبیح ہونے پر تمام اُمتیں متفق ہیںاس لئے اس کو قبیح لذاتہ قرار دیا گیا ہے۔

اﷲ تعالیٰ خود صادق ہے اور سچ کو ہی پسند فرماتاہے مسلمانوں کوبھی تاکید فرماتاہے کونوا مع الصادقین(التوبہ) سچوں کے ساتھ ہو جاؤ

اور جھوٹوں کو اﷲکریم کتنا ناپسند فرماتاہے ذرا ملاحظہ ہو۔

لعنۃ اﷲعلی الکاذیبن۔ (سورہ آل عمران پارہ ۳) جھوٹوں پر اﷲ تعالیٰ کی پھٹکارہے ۔

مگر دوسری طرف آپ نجدیوں کی توحید بھی دیکھئے ۔اﷲ تعالیٰ جھوٹ بولنے پر قادر ہے اور وہ فرشتوں اور انبیاء علیہم السلام پر جھوٹ کا القاء کرسکتاہے۔

(رسالہ یک روزہ ،مصنف مولوی اسماعیل دہلوی، صفحہ ۱۷،۱۸فاروقی کتب خانہ ملتان)

ایک دوسرے صاحب بولے کہ افعالِ قبیحہ مقدور باری تعالیٰ ہیں۔

(الحیدالمقل ،صفحہ۴۱،۴۲مصنف مولوی محمود الحسن مکتبہ ساڈھور)

میں تو یہاںصرف یہی لکھوں گا ساری دنیا کے مسلمان حکمران جیلیں توڑ دیں کیونکہ سب جیلیں افعالِ قبیحہ کی سزا کے لئے ہیں اور جب دربارسدا بہار نجدسے فتوی آگیاہے کہ یہ قبیحہ حرکتیںمقدورِ باری تعالیٰ ہیں تو مجرموںبے چاروں کا کیا قصور ہے ؟انہیں جیل میںکیوں ڈالاجائے اگرچہ اس موضوع پر بہت سی گوہر افشانی ان مصنفین کے دیگر ساتھیوں نے بھی کی ہے مثلاً رشید احمد گنگوہی نے فتاویٰ رشیدیہ میں اور غلام دستگیر نے تذکرۃ الخلیل میں۔

(تذکرۃ الخلیل صفحہ ۵۸۶)

مگراپنے اندر ہمت نہیں پاتاکہ ان کی عبارات نقل کروں بھلا وہ لوگ انسانوں کی قبیح حرکات ذاتِ کبریا میں ثابت کرنے لگ جائیںان سے یہ شکایت کون کرے کہ نبیوں کو اپنے جیسا بے مایہ انسان نہ کہوہاں صرف ایک اور عبارت ملاحظہ فرمائیںتاکہ کچھ اندازہ ہوسکے۔ اے لیلائے نجد ایں ہم آور دہ تست

اور انسان خود مختار ہے اچھا کرے یا نہ کرے اﷲ کو پہلے سے کوئی علم بھی نہیں کہ کیا کرے گا؟بلکہ اﷲتعالیٰ کو اس کے کرنے کے بعد معلوم ہوگا۔ (۱) واہ کتنی حسین عکاسی فرمائی ہے عقیدہ توحید کی اﷲ تعالیٰ کو تب پتہ چلتاہے جب انسان کام کرچکتاہے واقعی نجدیت زندہ باد ہاں یہی معنی ہوگا۔

اس آیت کریمہعندہ مفاتیح الغیب۔

غیب کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں۔

(بلغۃ الحیران صفحہ ۱۴۵،۱۵۷مولوی حسین علی واں بھچراں )

(استاد مولوی غلام اﷲ خان راولپنڈی )

شاید یہی مفہوم ہے وحی کے ان الفاظ کا وھو بکک شی ئً علیم

وہ ہر چیز کو جانتاہے۔

مسلمانوںکو تو یہ شکایت ہے کہ یہ حضرات اﷲ تعالیٰ کی عطاء سے علم سیدالانبیاء ا کے قائل نہیں۔ اب شکوے چھوڑدو، اُنہوں نے تو خداوند قدوس مجدہ سے بھی علم چھین لیاہے۔ اﷲ تعالیٰ کو بھی اُس وقت علم ہوتاہے جب اﷲتعالیٰ کی مخلوق ایک کام کر چکتی ہے ۔بتایئے اس عقیدے کے بعد خدا اور بندے میں کیافرق رہ گیا؟ہاں فرق ضرور ہے کہ بندے کا علم اﷲ کے علم سے مقدم ہے کہ وہ کام کررہا تھا تو اسے اپنے کام کا علم تھا لیکن اس کے خالق کو تب پتہ چلا جب بندہ کام سے فارغ ہوگیا یہ سب نجدیت کے کارنامے ہیں۔ (نعوذباﷲ)

نجدی درباررسول اﷲامیں

میں اُوپر عرض کرچکا ہوںکہ محبت رسول اہی وہ جذبہ محرکہ ہے جو مسلمانوں کو آپس میں بھی متحد کرتاہے اور غیروں پر بھی دھاک بٹھاتاہے اور غیر آج تک اسی جذبۂ ایمان و عمل کو تباہ کرنے میںمصروف ہیں۔برصغیر میں غیر مقلدین کے قائد ملت وہابیہ کے حدی خواں جناب اسماعیل دہلوی نے غیروں کی خوب مدد کی مثلاً وہ لکھتے ہیںاس شہنشاہ کی تو یہ شان ہے کہ ایک آن میں چاہے تو کروڑوں نبی اور ولی جن ،فرشتے اور محمدا کے برابر پیدا کر ڈالے۔

(تقویۃ الایمان صفحہ ۴۳،مولوی مسافر خانہ اسماعیل دہلوی)

سبحان اﷲ!جس مذہب میں ایسی عبارت تقویت الایمان ٹھہری خداجانے تضعیف ایمان کے لئے کیسی عبارات ہوںگی ۔اﷲ تعالیٰ نے تو سب جہانوںکے لئے ایک ہی رحمت بنائی جو سب کے لئے کافی قرار پائی چنانچہ فرمانِ الٰہی ہے

وماارسلنک الا رحمۃ للعالمین۔ (سورۃ الانبیاء)

ہم نے سب جہانوں کے لئے آپ اکو رحمت بناکر بھیجا۔

صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ آگے چل کر لکھتے ہیںیقین کرلینا چاہیے کہ ہر مخلوق اﷲ کی شان کے آگے چمار سے بھی زیادہ ذلیل ہے۔

(تقویۃ الایمان صفحہ ۲۲،مصنف مولوی اسماعیل دہلوی مطبوعہ کراچی)

قرآن مجید انبیاء کرام علیہم السلام کے لئے عند اﷲوجیہاً(سورۃ الاحزاب)کے پیارے الفاظ بیان کرتاہے کہ اﷲ تعالیٰ کے نزدیک انبیائے کرام کے لئے بڑی وجاہت ہے جبکہ علمدار ِ نجدیت کہتے ہیں کہ وہ اﷲتعالیٰ کے نزدیک چمار سے بھی زیادہ ذلیل ہیں۔

جبکہ اولادِ آدم نبی زادے ہیںلہٰذا وہ سب مکرم ہیں۔

’’ولقد کرمنابنی آدم‘‘ (سورۃ بنی اسرائیل) ہم نے اولادِ آدم کو تکریم بخشی ۔

مگر یہ تو اولادِ آدم تو دور کی بات خود نبیوں کو چمارے سے زیادہ ذلیل قرار دے رہے ہیں۔

میرا مقالہ بہت طویل ہوتاجارہا ہے میں مختصر طور پر امام غیرمقلدین کی دریدہ ذہنی اور بے باکی کے چند نمونے پیش کرتاہوں اور معزز قارئین سے توقع کرتاہوںقیاس کن از گلستان من بہار مرا۔

تقویت الایمان میں مولوی اسماعیل دہلوی قتیل نے گوہر افشانی کی (۱) اﷲ کے سوا کسی کو نہ مان اور اس سے نہ ڈر۔

(تقویۃ الایمان صفحہ ۲۷بالمقابل مولوی مسافر خانہ کراچی) (۲) اس کے دربار میں ان کا تو یہی حال ہے کہ جب وہ کچھ حکم فرماتاہے تووہ سب رعب میں آکر بے حواس ہوجاتے ہیں۔ (۳) اس شہنشاہ کی تو یہ شان ہے کہ ایک آن میںچاہے تو کروڑوںنبی ،ولی ،جن ،فرشتے،جبرائیل اور محمداکے برابر پیدا کرڈالے۔ (۴) جس کا نام محمد یا علی ہے وہ کسی چیز کا مالک و مختار نہیں۔ (۵) رسول کے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا۔ (۶) یعنی میں بھی ایک دن مر کر مٹی میں ملنے والا ہوں۔ (۷) انسان آپس میں بھائی بھائی ہیںجو بڑا بزرگ ہوا وہ بڑا بھائی ہے سو اس کی بڑے بھائی کی سی تعظیم کی جائے۔

(تقویۃ الایمان صفحہ۸۶بالمقابل مولوی مسافر خانہ کراچی)

نیز اپنی کتاب صراطِ مستقیم میں یہ بھی لکھا ہے وہ صرف ہمت بسوئے شیخ زا مثال آںاز معظمین گو جناب رسالت مآب باشد بچندیں مرتبہ ترازااستغراق درصورت گاؤفرخوداست۔

(صراطِ مستقیم فارسی صفحہ ۸۶،مصنف مولوی اسماعیل دہلوی مکتبہ سلفیہ لاہور)

اور شیخ یا اسی جیسے بزرگوںکی طرف خواہ جنابِ رسالت مآب ہی ہوں اپنی ہمت کو لگادینا اور بیل اور گدھے کی صورت میں مستغرق ہونے سے بُرا ہے۔

(صراطِ مستقیم اُردوصفحہ۱۲۶مکتبہ سعید اینڈ سنزکراچی)

تیسرا باب

ہندوستان میں فتنۂ غیرمقلدین

ہندوستان میں عام مسلمان اور بادشاہ سب کے سب حنفی رہے جس کی سب سے بڑی دلیل مغلیہ دور کی اہلسنّت کی مساجد ہیںمثلاً بادشاہی مسجد،مسجد وزیر خان ،سنہری مسجداور بابری مسجد وغیرہ۔اسی لئے انگریزوں نے اس ملک کے سنی مسلمانوںکا حنفی مذہب تسلیم کرکے اسی مذہب کی کتابیں مثلاً ہدایہ شریف ، فتاویٰ عالمگیری اوردرمختار کا انگریزی میں ترجمہ کرایا اور انہیں کتابوںکے مطابق مقدمات کا فیصلہ رہا۔پھر چونکہ اس ملک میںشاہ ولی اﷲصاحب محدث دہلوی کے خاندان کا اثر کافی تھا اور مسلمان ان سے کافی عقیدت رکھتے تھے اس لئے مولوی اسماعیل دہلوی جو کہ اسی خاندان کا ایک فرد تھااس نے سوچا کہ ابن عبدالوہاب نجدی کی پالیسی پر عمل کرکے ہم بھی اپنے ماننے والوںکا لشکر تیار کرسکتے ہیںجس سے ہندوستان کے تاج و تخت پر ہمارا قبضہ ہوجائے گا۔

جیسا کہ ابن عبدالوہاب نجدی نے مسلیمہ کذاب کے شہر کے امیر محمدابن سعود کے ساتھ مل کر پاک سرزمین مدینہ منورہ اور مکۃ المکرمہ پر قبضہ کیا اور ’’سعودی‘‘عرب نام رکھا۔

(تاریخ نجد وحجاز مفتی عبدالقیوم ، مطبوعہ ضیاء القرآن گنج بخش روڈ لاہور)

اسی خیال کے پیش نظر مولوی اسماعیل دہلوی نے شیخ نجدی کی کتاب، کتاب التوحید کا اُردو میں ترجمہ کیا اور اس کا نام تقویۃ الایمان رکھا۔اس کے علاوہ اور بھی کچھ کتابیں لکھیںجن میں من گھڑت توحید تحریر کیںمثلاً اﷲ کے سواکسی کو نہ مان، عبدالنبی ،علی بخش ، پیر بخش اور غلام محی الدین نام رکھنے کو شرک ٹھہرایا۔

کسی نبی یا ولی کے مزارات کی زیارت کے لئے سفر کرنا ،ان کے مزار پر شامیانہ کھڑا کرنا،روشنی کرنا،فرش بچھانا، جھاڑوں دینا،لوگوں کو پانی پلانااور ان کے لئے وضو اور غسل کا انتظام کرنااور اس کے چوکھٹ کے آگے کھڑے ہو کر دعا مانگنا ان ساری چیزوں کو شرک قرار دیا۔

(تقویۃ الایمان صفحہ۱۷،مولوی اسماعیل دہلوی دارلاشاعت کراچی)

مولوی اشرف علی تھانوی نے اپنی کتاب حکایاتِ اُولیاء میں (حکایات اُولیاء، ارواحِ ثلاثہ مصنف اشرف علی تھانوی صفحہ ۱۱۹مطبوعہ کراچی)لکھا ہے کہ مولوی اسماعیل دہلوی نے اپنے آباؤواجداد (جو علم و فضل اور تقویٰ ودیانت میں مسلم الثبوت تھے)کہ مذہب کے خلاف رفع یدین کیا کرتے تھے۔حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی کے ایماء پر شاہ عبدالقادر نے مولوی محمد یعقوب کے ذریعے پیغام دیا کہ رفع یدین چھوڑ دو اس سے خواہ مخواہ فتنہ پیدا ہوگا۔

مولوی اسماعیل دہلوی نے جواب دیا کہ اگر عوام کے فتنے کا خیال کیا جائے تو اس حدیث کا کیا مطلب ہوگاجو شخص میری اُمت کے فساد کے وقت میری سنت پر عمل کرے گا اسے سو شہید کا ثواب ملے گا۔

اس پر شاہ عبدالقادر نے فرمایا بابا ہم تو سمجھے تھے کہ اسماعیل عالم ہوگیا ہوگامگر وہ توایک حدیث کا معنیٰ بھی نہ سمجھا۔

یہ حکم تو اُس وقت ہے کہ جب سنت کے مقابل خلافِ سنت ہواور جس مسئلہ کے متعلق گفتگو ہے ۔اس میں سنت کا مقابل خلافِ سنت نہیں بلکہ دوسری سنت ہے کیونکہ جس طرح رفع یدین کرنا سنت ہے یونہی رفع یدین نہ کرنا بھی سنت ہے۔

اس جواب پر اسماعیل دہلوی چپ ہوگئے مگر رفع یدین ترک نہ کیا اور جب پشاور میں پٹھان علماء نے اعتراض کیا تو رفع یدین ترک کردیا اور سو شہید کے ثواب سے دستبردار ہوگئے۔

(تحقیق الفتاویٰ اردو ترجمہ شفاعتِ مصطفیا، علامہ عبدالحکیم شرف قادری مطبوعہ لاہور) تو اس طرح پاک و ہند میں غیر مقلدین کی ابتداء اسماعیل دہلوی نے کی۔

غیر مقلدین کا نجدی وہابی نام کیوں؟

غیرمقلد ین کو محمد بن عبدالوہاب کی پیروی کے سبب نجدی وہابی کہا جاتاہے اگر ان کی نسبت مورثِ اعلیٰ کی طرف کی جائے تو وہابی کہا جاتاہے اور اگر مورتِ اعلیٰ کی جائے پیدائش کی طرف نسبت کی جائے تو نجدی کہا جاتاہے جیسے مرزا غلام علی قادیانی کی اُمت کو مرزائی بھی کہا جاتاہے اور قادیانی بھی پہلی نسبتِ مورث کی طرف اور دوسری نسبت پیدائش کی طرف۔

وہابیوں کا عوام الناس کو ایک اور فریب

نجدی وہابی عوام الناس کو فریب یوں دیتے ہیں کہ وہاب اﷲ تعالیٰ کا صفاتی نام ہے اور آخر میں یہی ’’نسبت‘‘کی ہے جس کا معنیٰ ہے اﷲ والا ،جیساکہ مدنی کا معنیٰ ہے مدینے والا،ایسے ہی وہابی کا معنیٰ ہے اﷲ والا ، جو کہ صحیح نہیں پڑھا لکھا، وہابی اپنے آپ کو وہابی کہلانے سے چڑتاہے ۔اس لئے ہم ملتِ وہابیہ سے پوچھتے ہیں کہ اگر بالفرض وہابی کا معنیٰ اﷲ والا ہے تو وہابی کہنے سے چڑنا نہ چاہیے بلکہ خوش ہونا چاہیے حالانکہ وہابی چڑتے ہیں اس کی ایک واضح مثال 11اکتوبر1991 جنگ اخبار میںشاہ فہد کا بیان سرخی کے ساتھ شائع ہوا۔

شاہ فہد نے مسلم ممالک کے وزراء اطلاعات کی پہلی کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے اسلامی ذرائع ابلاغ سے اپیل کی کہ وہ سعودیوں کو وہابی کہنا بندکردیں۔

اُنہوں نے کہامحمد بن عبدالوہاب اٹھارویںصدی عیسوی کا ایک مسلم سکالر تھا جسے السعود خاندان کی حمایت حاصل تھی اگر وہابی کامعنی اﷲ والا ہوتا تو شاہ فہد پوری ملتِ اسلامیہ سے وہابی نہ کہنے کی اپیل نہ کرتا بلکہ خوش ہوتالہٰذا ثابت ہوا کہ وہابی کا معنیٰ اﷲ والا نہیں بلکہ وہابی سے عرفی معنیٰ مراد لیا جائے گا اور وہابی کا عرفی معنیٰ اُمتِ مسلمہ میں گستاخِ رسول اہے۔

غیر مقلدین کو اہلِ حدیث کس نے بنایا ؟

جیسا کہ پہلے ذکر کیا جاچکا ہے کہ متحدہ ہندوستان میں فرقہ سازی کا سنگِ بنیاد مولوی اسماعیل دہلوی نے رکھا اور نوزائیدہ جماعت کا نام ’’محمدی گروہ ‘‘بنایا ۔

(حیاتِ طیبہ ،مرزا حیات دہلوی۹۹،مطبوعہ لاہور)

مسلمانان پاک وہند ان کے بارے میں کہا کرتے تھے چونکہ یہ ابن عبدالوہاب نجدی کی پیروی کرتے ہیں لہٰذا انہیں وہابی کہنا ہی مناسب ہے کیونکہ اس سے عام آدمی بھی پہچان لے گاکہ جو اپنے آپ کو صرف محمدی کہے وہ وہابی ہے تنگ آکر ان لوگوں نے اپنے آپ کو ’’موحد‘‘کہلوانا شروع کردیا۔

اس پر مسلمان یہ کہتے تھے کہ واقعی منکرین شانِ رسالت ہونے کے باعث وہابی حضرت بھی سکھوں کی طرح موحد ہیں۔

ان تمام حالات سے تنگ آکر مولوی حسین بٹالوی نے حکومت کا سہارا لیا کہ وہ قانوناً ہماری جماعت کا نام اہل حدیث مشتہر کرے تاکہ آئندہ کوئی سرکاری یا غیر سرکاری آدمی اس نام کے سوا کسی اور نام سے موسوم نہ کرے۔

چنانچہ مولوی محمد حسین بٹالوی نے ارکانِ جماعت اہل حدیث کی ایک دستخطی درخواست لیفیٹنیٹ گورنر پنجاب کے ذریعے وائسرائے ہند کی خدمت میں روانہ کی ۔گورنر پنچاب نے وہ درخواست اپنی تائید تحریر کے ساتھ گورنمنٹ آف انڈیا کو بھیج دی وہاں سے باقاعدہ منظوری آگئی کہ آئندہ وہابی کے بجائے ’’اہل حدیث‘‘کا لفظ استعمال کیاجائے۔

اس امر کی اطلاع مولوی محمد حسین بٹالوی کو گورنمنٹ یو ۔پی کی طرف سے بذریعہ خط نمبر 20,386جولائی 1828 کوملی چنانچہ غیر مقلد مولوی ثناء اﷲامرتسری (المتوفی 1968)کے سوانح نگارمولوی عبدالمجید خادم سہروردی نے مولوی محمد حسین بٹالوی کے اس کارنامے کو یوں خراجِ تحسین پیش کیا۔

مولوی محمد حسین نے اشاعۃ السنتہکے ذریعے اہل حدیث کی بہت خدمت کی لفظ وہابی آپ ہی کی کوشش سے سرکاری دفاتر سے منسوخ ہوا اور جماعت کو اہل حدیث کے نام سے موسوم کیا گیا۔آپ نے حکومت کی خدمات بھی اور انعام بھی اور جاگیر بھی پائی ۔

(سیرت ثنائی مصنف مولوی عبدالمجید صفحہ ۳۷۲،مطبوعہ گوجرانوالہ1952)

نوزائیدہ گروہ کا سرکاری نام اہل حدیث منظور کیوں کروایا گیا؟

مولوی محمد حسین بٹالوی نے اپنے نوزائید ہ گروہ کا نام اہل حدیث اس لئے منظور کروایا تھا کہ علمائے کرام کی تصانیف میں محدثین حضرات کے لئے محدث اور اہل حدیث کے الفاظ عام استعمال ہوتے تھے لہٰذا اس نام کے باعث یہ بے خبر مسلمانوں کی آنکھوںمیں بڑی آسانی سے دھول جھونک سکتے تھے کہ دیکھئے ہماری جماعت کا ذکر متاخرین تو کیا متقدمین کی تصانیف عالیہ میں بھی موجودہے۔لہٰذا جب سے قرآن و حدیث اسی وقت سے اہل حدیث بھی تھے۔

اس نام کے رکھنے اور لکھوانے میں مصلحت

کاش!یہ حضرات جماعت کا نام بدلنے کی جگہ اپنی روش کو بدلتے جس ناجی گروہ اہل سنت و جماعت سے بھاگے تھے۔اسی میںآملتے ملتِ اسلامیہ کا ساتھ دیتے اور برٹش نوازی پر لعنت بھیجتے اور اسی آواز پر کان دھرتے۔ گرچہ ہے دلکشا بہت حسن فرنگ کی بہار
طائرک بلند بال د انہ و دام سے گزر

غیرمقلد علمائے دیوبند کی نظرمیں

دیوبند کے شیخ الاسلام مولوی حسین احمد مدنی سابق صدر المدرسین دارالعلوم دیوبند لکھتے ہیںکہ محمد بن عبدالوہاب نجدی تیری صدی میں نجد میں ظاہر ہوا۔چونکہ یہ خیالاتِ فاسدہ اور عقائد باطلہ رکھتاتھا۔اس لئے اس نے اہل سنت سے قتل وقتال کیاان کو بالجبر اپنے خیالات کی تکلیف دیتارہا۔ان کے اموال کو غنیمت کا مال اور حلال سمجھتا رہاان کے قتل کو باعثِ ثواب و رحمت شمار کرتارہا۔

اہل حرمین کو خصوصاً اور اہلِ حجاز کو عموماً اس نے تکالیف شاقہ پہنچائیں، سلفِ صالحین کی شان میں گستاخی اور بے ادبی کے الفاظ استعمال کئے ۔بہت سے لوگوں کو اس کی تکالیفِ شاقہ کی وجہ سے مدینہ منورہ اور مکہ چھوڑنا پڑا اور ہزاروں آدمی اس کے اور اس کی فوج کے ہاتھوں شہید ہوئے۔

(شہاب ثاقب صفحہ ۲۴،مصنف مولوی حسین احمد مدنی مطبوعہ لاہور)

دیوبند مسلک کے ایک دوسرے مشہور مولوی خلیل احمد انبیٹھوی لکھتے ہیں محمد بن عبدالوہاب کے وہابی چیلے اُمت کی تکفیر کیا کرتے تھے۔

(المہندصفحہ۳۷)

مولانا محمد علی جوہر لکھتے ہیں نجدیوں کا یہی کارنامہ ہے کہ مسلمان کے خون میں ان کے ہاتھ رنگے ہیں۔

(حالات محمد علی جوہر حصہ اول۳۷)

میل جول سے احتیاط

حاجی امداداﷲ مہاجر مکی علیہ الرحمۃ جو کہ اکابر دیوبند مولوی قاسم نانوتوی ،مولوی رشید احمد گنگوہی ،مولوی اشرف علی تھانوی،مولوی خلیل احمد انبیٹھوی وغیرہ ہم کے پیرو مرشد ہیں۔وہابیہ نجدیہ کے متعلق فرماتے ہیں

’’غیر مقلد لو گ دین کے رہزن ہیںان کے ساتھ میل جول سے احتیاط کرنی چاہیے۔‘‘

(شمائم امدادیہ صفحہ ۲۸،مطبوعہ مدنی کتب خانہ ملتان)

غیر مقلدین کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ ہے

علمائے دیوبند کا فتویٰ

مولوی رشید احمد گنگوہی کا ارشاد ہے کہ جوعلمائے دین کی توہین اور ان پر طعن و تشنیع کرتے ہیںقبر کے اندر ان کا منہ قبلہ سے پھر جاتاہے بلکہ یہ فرمایا کہ جس کا جی چاہے دیکھ لے۔

غیر مقلدین چونکہ آئمہ دین کو بُرا سمجھتے ہیں اس لئے ان کے پیچھے نماز بھی پڑھنا مکروہ ہے۔

(تذکرہ الرشید صفحہ۲۸۲، جلد ۲،سطر ۲۱تا۲۳مطبوعہ دہلی)

علمائے دیوبند کی دوغلی پالیسی

گذشتہ صفحات میں آپ نے غیر مقلدین کے بارے میں علمائے دیوبند کی رائے پڑھی اب ذرا غیر مقلدین کے ساتھ ان کی دوغلی پالیسی کا بھی جائز ہ لیں اور دیکھیںکہ کیا ان کی وہی صورتِ حال نہیں جو منافقین مدینہ کی تھی مثلاً دیوبندیوں کے پیشوا مولوی رشید احمد گنگوہی نے اپنے فتاویٰ رشیدیہ (جلد اول کتاب التقلید صفحہ ۱۱۹)میں لکھا ہے۔

’’لوگ محمد ابن عبدالوہاب کے مقتدیوں کو وہابی کہتے ہیںان کے عقائد عمدہ تھے اور مذہب ان کا حنبلی تھا البتہ ان کے مزاج میں شدت تھی اور ان کے مقتدی اچھے ہیں مگر ہاںجو حدسے بڑھ گئے اور ان میں فساد آگیا ہے اور عقائد میں سب کے متحد ہیں اور اعمال میں فرق حنفی،شافعی ،مالکی اور حنبلی کا ساہے۔

تقلید کی بحث

تقلید کا لغوی معنی ،لغت کے اعتبار سے تقلید ،اتباع،اطاعت اوراقتداء سب ہم معنی ہیں۔تقلید کا مادہ قلاوۃہے قلاوۃ جب انسان کے گلے میں ڈالا جائے ہار کہلاتاہے۔

تقلید کا شرعی معنی

التقلید ھو قبول قول غیر بلا حجۃ۔

(المستصفے صفحہ ۳۸۷،جاء الحق حصہ اول تقلید کی بحث)

شرعی محقق کے قول کے بلاحجت قول کرنا؟

تقلیدکی اس تعریف کے مطابق راوی کی روایت کو قبول کرنا تقلید فی الروایت ہے کسی محدث کی رائے کسی حدیث کو صحیح یا ضعیف ماننا بھی تقلید ہے کسی اُمتی کے بنائے ہوئے اُصولِ حدیث اور اُصولِ تفسیر کو ماننا بھی تقلید ہے۔

تقلید جائز و ناجائز

جس طرح لغت کے اعتبار سے کتیا کے دودھ کو بھی دودھ ہی کہا جاتاہے اور بھینس کے دودھ کو بھی دودھ کہتے ہیں مگر احکام میں حلال اور حرام کا فرق ہے اسی طرح تقلید کی بھی دوقسمیں ہیں ۔مذموم ، محبوب

مذموم تقلید

اگرحق کی مخالفت کے لئے کسی کی تقلید کرے تو یہ مذموم ہے جیساکہ کفار و مشرکین خدا اور رسول اکی مخالفت کے لئے اپنے گمراہ آباؤاجداد کی تقلید کرتے ہیں۔

محبوب تقلید

اگر حق پر عمل کرنے کے لئے تقلید کرے کہ میں مسائل میں براہ راست استنباط نہیں کرسکتااور مجتہد کتاب وسنت کو ہم سے زیادہ سمجھتا ہے اسی لئے اس خداوند کریم اور نبی کریم ا کی بات سمجھ کر عمل کرے تو یہ تقلید جائز و محبوب ہی نہیں بلکہ واجب ہوتی ہے۔

کن مسائل میں تقلید کی جاتی ہے؟

شرعی مسائل تین طرح کے ہیں۔ (۱)عقائد (۲)وہ احکام جو صراحتاً قرآن و حدیث سے ثابت ہوں۔ (۳)وہ احکام جو قرآن وحدیث سے استنباط و اجتہاد کرکے نکالے جائیںان میں تقلید کی جاتی ہے ۔

عقائد میں تقلید

عقائد میں کسی کی تقلید جائز نہیں لہٰذا اگر کوئی پوچھے کہ تو حید ورسالت تم نے کیسے مانی تویہ نہ کہا جائے گا کہ امامِ اعظم ابوحنیفہص کے فرمانے سے بلکہ دلائلِ توحید و رسالت سے کیونکہ عقائد میں تقلید نہیں ہوتی۔ (۲)صریح احکام میںبھی کسی کی تقلید جائز نہیںمثلاً پانچ نمازیں ، نمازوں کی رکعتیں ،تیس روزے ، روزے کی حالت میں کھانا پینا حرام ہونایہ وہ احکام ہیںجن کا ثبوت نصِ قطعی سے صراحتاً ہوتاہے ایسے ہی وہ احکام جو نصِ قطعی سے ثابت ہو ں ان میں بھی تقلید کرنا واجب ہے۔

کن کی تقلید کرے

مسائلِ اجتہاد میں مجتہد کی تقلید کی جائے گی اور مجتہد کا اعلان ہے کہ(القیاس مظہر و مثبت)کہ ہم مسئلہ اپنی ذاتی رائے سے نہیں بتاتے بلکہ ہر مسئلہ کتاب وسنت اجتماع اُمت سے ظاہر کرکے بیان کرتے ہیں یعنی پہلے مسئلہ قرآن پاک سے لیتے ہیں وہاں نہ ملے تو حدیث سے اگر حدیث سے واضح طور پر نہ ملے تو اجماعِ صحابہ سے اگر اجماعِ صحابہ میں بھی اختلاف ہو تو جس طرح خلفائے راشدین اس سے مسئلہ اخذ کرتے ہیںاگر یہاں بھی کسی مسئلہ کا حل نہ ملے تو اجتہادی قواعد سے اس طرح مسئلہ کا حل تلاش کرتے ہیںجس طرح ایک حساب دان نئے سوال کا جواب حساب کے قاعدوں کی مدد سے معلوم کرلیتاہے اور وہ اُس کی ذاتی رائے نہیں فنِ حساب ہی کا ہوتاہے۔

کون تقلید کرے؟

جیساکہ ایک ریاضی دان کے سامنے جب سوال آئے گاتو وہ خود حساب کرکے قواعد کی مدد سے جواب معلوم کرے گا لیکن جس کو حساب کے قواعد ہی نہیں آتے وہ حساب دان سے پوچھ لے گا اس طرح مسائل اجتہاد یہ میں کتاب وسنت پر عمل کرنے کے دو ہی طریقے ہیں۔ قواعدِ اجتہاد یہ سے مسئلہ تلاش کرکے کتاب و سنت پرعمل کرے گا۔ (۲) جبکہ غیر مجتہد یہ سمجھ کر میں خود کتاب وسنت سے مسئلہ استنباط کرنے کی اہلیت نہیں رکھتا اس لئے کتاب و سنت کے ماہر سے پوچھ لوں کہ اس میں کتاب و سنت کا کیا حکم ہے ؟اس طرح عمل کرنے کو تقلید کہتے ہیںلیکن مقلد ان مسائل کو ان کی ذاتی رائے سمجھ کر عمل نہیں کرتا بلکہ یہ سمجھ کر تقلید کرتاہے کہ مجتہد نے ہمیں مرادِ خدا اور رسول اسے آگاہ کیا ہے۔

کانوں تک ہاتھ اُٹھانا

نماز کے وقت تکبیر تحریمہ میں مردوں کو کانوںتک ہاتھ اُٹھانا سنت ہے مگر نجدی وہابی غیر مقلد عورتوں کی طرح کندھوں سے انگوٹھے چھو کر ہاتھ باندھ لیتے ہیں لہٰذا ہم اپنے مؤقف پر احادیثِ مبارکہ سے دلائل دیں گے کہ کانوں تک ہاتھ اُٹھانا سنت ہے کانوں تک ہاتھ اُٹھانے کے بارے میںبہت سی احادیث ہیں جن میں چند پیش کی جاتی ہیں۔

حدیث

کان النبی ااذا کبر رفع یدیہ حتی یحاذی اذنیہ و فی لفظ حتی یحاذی بھما فروع۔

حضرت مالک بن حویرث ص سے مروی ہے کہ رسول اﷲا جب تکبیر تحریمہ کہتے تو اپنے دونوں ہاتھ کانوں تک اُٹھاتے اور ایک روایت کے مطابق کان کے اُوپر تک ہاتھ اُٹھاتے۔

(مسلم شریف جلد ۱صفحہ۶۸،طحاوی شریف جلد ۱ صفحہ ۱۶مطبوعہ اسلام آباد)

زیر ناف ہاتھ باندھنا سنت ہے

غیر مقلدین نماز میںسینے پر ہاتھ باندھتے ہیں جبکہ سنت طریقہ یہ ہے کہ مرد ناف کے نیچے ہاتھ باندھے اور عورتیں سینے پر اس کے متعلق بہت سی احادیث وارد ہیں جن میں سے چند ذکر کی جاتی ہیں۔ (۱)

عن علقمۃ وائل بن حجر عن ابیہ قال رای النبی ا وضع یمینہ علی شمالہ فی الصلوٰۃ تحت السرۃ۔ (۲) عن ابی جحیفۃ ان علیا قال من السنۃ وضع الکف علی الکف فی الصلوٰۃ تحت السرۃ۔

(ابو داؤدنسخہ ابن الاعرابی جلد ۱صفحہ ۲۸۰، بیہقی جلد ۳صفحہ۳۱،سنن داقطنی ) (۳)

عن علی قال ثلثۃ من اخلاق الانبیاء تعجیل الفطارو تاخیر السحورووضع الکف تحت السرۃ فی الصلوٰۃ۔

(منتخب کنز العمال برمسند احمد بن صفحہ ۳۵)

حضرت علی ص فرماتے ہیں تین چیزیں انبیائِ کرام علیہم السلام کے اخلاق میں سے ہیں۔ (۱)افطار جلدی کرنا (۲)سحری دیر سے کھانا (۳)نماز میں ہاتھوں کو ناف کے نیچے رکھنا۔

ابن قدامہ حنبلی کا قول

ناف کے نیچے ہاتھ باندھنے کی روایت حضرت علی ،حضرت ابوہریرہ،حضرت ابو مجلز ،حضرت ابراہیم نخعی اور حضرت سفیان ثوری رضوان اﷲ علیہم اجمعین (جن کا فتویٰ اکثر امام بخاری نقل کرتے ہیں)سے مروی ہے کہ حضرت علیص فرماتے ہیں سنت یہی ہے کہ نماز میں دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر ناف کے نیچے رکھے۔

(المغنی جلد۱صفحہ۴۷۲)

مذکورہ احادیث و آثار کاخلاصہ

ان کا خلاصہ یہ ہے کہ دورانِ نماز ہاتھوں کو ناف کے نیچے باندھنا مسنون ہے کیونکہ حضرت وائل نے حضوراکو ناف کے نیچے ہی ہاتھ باندھے ہوئے دیکھا ہے۔ حضرت علیص ناف کے نیچے باندھنے کو سنت قرار دیتے ہیں۔ جلیل القدر تابعین حضر ت ابو مجلز ،حضرت ابراہیم نخعی اور حضرت سفیان ثوری رضوان اﷲ علیہم اجمعین اور ان جیسے دیگر بہت سے اکابر اسی کو اپناتے ہیںلیکن ان تمام احادیث و آثار کے خلاف غیر مقلدین کہتے ہیں کہ ہاتھ سینے پر باندھے جائیں۔

قرأت خلف الامام

چونکہ کلامِ پاک کلامِ ربانی اور صحیفۂ آسمانی ہے ادلہ اربعہ میں اس کا مقام سب سے اُونچا اور بلند اور برتر ہے یہ ہمارے باہمی اختلافات وافتراقات کا دو ٹوک فیصلہ دے سکتاہے۔اس لئے مسلمان ہونے کے ناطے سے تمام مسلمانوں کے لئے خواہ وہ کسی بھی فرقہ سے تعلق رکھتے ہوںیہ لازم ہے کہ جب ان میں سے کسی مسئلہ کے بارے میں اختلاف رونما ہوادھر اُدھر تانکنے جھانکنے کے بجائے سب سے پہلے وہ اس کلام ازلی وابدی کی طرف رجوع کریں۔اس متنازعہ فیہ مسئلہ کو قرآنِ کریم کی روشنی میں حل کرنے کی کوشش کریں اگر قرآن کریم میں اس مسئلے کا حل مل جائے تو اس کے مطابق اپنے اعتقادات وخیالات کو ڈھالنا مسلمانوں کے لئے ہر فرض سے بڑا فرض ہے۔

اب میں اس متنازعہ فیہ مسئلہ (امام کے پیچھے سورۃ الفاتحہ کا کیا حکم ہے)کو قرآن کریم کی روشنی میں حل کرنے کی کوشش کروں گا۔

جب میں قرآن سے استفسار کرتاہوںتو قرآنِ کریم دوٹوک فیصلہ دیتاہے ۔سورۃ آل عمران میں ارشادِ گرامی ہے کہ

واذا قری القرآن فاستمعواالہ وائصتوا لعلکم ترحمون۔

(آیت ۱۸۶سورۃ اعراف پارہ۹)

ترجمہ جب قرآن کریم پڑھا جائے تو اس کی طرف کان لگا کر رہو اور خاموش رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔

جمہور سلف حلف کا متفقہ فیصلہ ہے کہ اس آیت کریمہ میں حق تعالیٰ نے مسئلہ قرأ ت خلف الامام کو واضح فرمایا ہے کہ جب قرآن کریم پڑھا جائے (امام قرأت کرے)تومقتدیوں کا وظیفہ صر ف اور صرف یہ ہے کہ نہایت توجہ کے ساتھ قرآنِ کریم کو سنیں اور خاموش رہیں۔اب ہم مناسب سمجھتے ہیںکہ مذکورہ آیتِ کریمہ کی تفسیر اور تشریح میں صحابہ کرام رضوان اﷲعلیہم اجمعین کے ارشاداتِ عالیہ اور اقوال نقل کریں کہ اس مقدس جماعت نے اس آیت مبارکہ کا کیا مطلب سمجھا ہے۔

اس آیت کی تفسیر صحابہ کرام رضوان اﷲعلیہم اجمعین سے

یوں تو سبھی صحابہ کرام آسمانِ ہدایت کے روشن ستارے ہیں جیسا کہ فرمانِ نبو ی ا ہے

اصحأبی کالنجوم فبکیھم اقتدیتم اھتدیتم۔

لیکن بعض صحابہ کرام رضوان اﷲ علیہم اجمعین دوسروں سے علم و فضل اور فہم و فراست میں بہت آگے ہیں۔ان میں سے ایک حضرت عبداﷲ بن عباسص ہیں حضرت عبداﷲ بن عباس ص کو بعض ایسے جزوی فضائل حاصل تھے کہ صحابہ کرام میں کوئی دوسرا ان کا شریک نہیں تھا۔قرآنِ کریم کے معلمین میں یہ سب صحابہ سے ممتاز ،لائق وفائق اور برتر تھے معلمین قرآن میں ان کا نمبر پہلا ہے ان کے بارے میں بے شمار ارشاداتِ نبوی اہیں جن میں سے ایک یہ ہے۔

تمسکواٰ بعھد ابن ام عبد۔ (ترمذی شریف جلد۲صفحہ ۱۹۳)

محدثین کے چند اُصول

(۱)تمام محد ثین کا اس پر اتفاق ہے کہ جب قولی اور فعلی روایات میں تعارض آجائے تو قولی روایات کو ترجیح دی جاتی ہے۔چونکہ رفع یدین قولی ہے اور جواز رفع یدین والی روایات فعلی ہیںلہٰذا ترکِ رفع یدین والی روایات کو ترجیح ہوگی۔

(۲)ترک رفع یدین کے راوی زیادہ تر ثقہ اور فقہی ہیںاس کے لئے ان کی روایات راجع ہیں۔

(۳)رفع یدین نہ کرنے کی روایات و احادیث پر خلفائِ راشدین کا عمل ہے اسی لئے وہ راجع ہیں۔

(۴)رفع یدین نہ کرنے کی احادیث پر صحابہ کرام رضوان اﷲ علیہم اجمعین ،تابعین اور تبع تابعین کا متواتر عمل ہے اسی لئے انہی پر عمل کیا جائے گا۔

غیر مقلدین سے سوالات

جیسا کہ مختلف احادیث سے ثابت ہوتاہے کہ صحابہ کرام نے شروع میں رفع یدین تین جگہ ، چار جگہ بھی اور پانچ جگہ بھی کیا اب کس حکم کے تحت تین جگہ رفع یدین اختیار کر رکھا ہے اور باقی کو ترک کردیا ہے کیا متروک و منسوخ سنت پر عمل کرنے کا ثواب ملتاہے اگر منسوخ سنت پر عمل کرنے سے ثواب ملتاہے تو حالتِ نماز میں ایک دوسرے کو سلام کیوں نہیں کرتے حالانکہ صحیح بخاری میں ابتدائے اسلام میں حالتِ نماز میںسلام کا ثبوت ہے صحاح ستہ میں سے ایک حدیث پیش کریں جس میں حضورانے طریقۂ نماز بتاتے ہوئے رفع یدین کرنے کا حکم دیا یعنی بے شمار احادیث سے اس عمل کا نسخ ثابت ہوگیا اب بھی یہ سنت باقیہ میں سے ہے۔

قرآن پاک میں بھی اور نماز میں بھی سکون کی تاکید

قرآن پاک میں فرمانِ الٰہی ہے ،قوموا اﷲقأنتین ،خدا کے سامنے نہایت سکون سے کھڑے رہو۔

دیکھئے اﷲ تعالیٰ اور نبی کریم ا نے نماز میں سکون کا حکم فرمایا اور آنحضرت ا نے نما زکے اندر رفع یدین کے خلاف سکون فرمایا۔

رفع یدین منسوخ ہے

ابتدائے اسلام میں رفع یدین تھا بعد میں منسوخ ہوگیا کسی حدیث میں یہ ذکر نہیں کہ آخری وقت تک حضوراکا یہ فعل شریف رہا ہو۔صحابہ کرام علیہم الرضوان کی نظر میں بھی رفع یدین منسوخ ہے اسی لئے اُنہوں نے رفع یدین کرنا چھوڑ دیا تھا چنانچہ علامہ عینی علیہ الرحمۃ نے عمدۃ القاشرح بخاری میں حضرت ابن عباسص سے ایک روایت ذکر کی ہے کہ تمام عشرہ مبشرہ صحابہ کرام تکبیر اولیٰ کے سوا رفع یدین نہیں کرتے تھے ان کے علاوہ حضرت عبداﷲ بن مسعود، حضرت جابر بن سمرہ ، حضرت برأبن عازب،حضرت عبداﷲ بن عمراور حضرت ابو سعید خدری رضوان اﷲعلیہم اجمعین کا بھی یہی مسلک ہے۔

(شرح صحیح مسلم جلد۱صفحہ ۵۷۶شارح علامہ غلام رسول سعیدی)

عدم رفع یدین

اہل سنت کے نزدیک رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے اُٹھتے وقت یعنی تکبیراتِ انتقالات میں رفع یدین خلافِ سنت ہے جبکہ غیر مقلدین تکبیراتِ انتقالات میں سے بعض تکبیروں کے وقت رفع یدین کرتے ہیںجو کہ خلافِ سنت ہے لہٰذا میں اپنے مؤقف پر چند عقلی و نقلی دلائل پیش کرتاہوں۔

حدیث مبارکہ

عن جابر ابن سمرۃ قال خرج علینا رسول اﷲافقال مالی راکم ترفعون ایدیکم کائناب خیل شمس اسکئوافی الصلوٰۃ۔

(صحیح مسلم جلد ۲ صفحہ ۱۸۱، ابوداؤدجلد۱صفحہ ۲۰۲،طحاوی شریف جلد ۱صفحہ۱۵۸)

حضرت جابر بن سمرۃصسے روایت ہے کہ نبی اکرم ا ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم (نماز کے اندر رفع یدین کر رہے تھے)کہ فرمایا کہ تم کو نماز میںشریر گھوڑوں کی دم کی طرح رفع یدین کرتے کیوںدیکھتا ہوں؟نماز سکون کے ساتھ پڑھو، نماز تکبیر تحریمہ سے شروع ہوتی ہے اور سلام پر ختم ہوتی ہے اس کے اندر اسی جگہ پر رفع یدین کرنا سوائے نماز ووتر کے اس رفع یدین پر خلاف سکون بھی فرمایا اور پھر حکم دیا کہ نما زسکون سے یعنی بغیر رفع یدین کے پڑھا حضور ا نے ناراضگی کا اظہار بھی فرمایا اور اسے جانوروںکے فعل سے تشبیہ بھی دی اس رفع یدین کے بغیر پڑھا کرو۔یہاں

حدیث

عن علقمۃ قال قال عبداﷲبن مسعود الا اصلی بکم صلوٰۃ رسول اﷲا نصلی فلم یرفع یدیہ الافی اول مرۃ ھذا حدیث حسن۔

حضرت علقمہص سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیںکہ حضرت عبداﷲبن مسعودصنے ایک مرتبہ فرمایا کہ میں تم کو حضورا جیسی نماز نہ پڑھاؤںاس کے بعد اُنہوں نے پڑھائی اور پہلی مرتبہ کے بعد کسی جگہ رفع یدین نہیں فرمایا،یہ حدیث حسن ہے۔

(ترمذی شریف جلد۱صفحہ۳۵،نسائی شریف جلد ۱صفحہ۱۱۷)

رفع یدین کی روایتوں میں تضاد

رفع یدین کی تعداد میں تضاد و اضطراب ملاحظہ فرمائیں۔

تین جگہ رفع یدین

تکبیر تحریمہ کے وقت ،رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے اُٹھتے ہوئے۔

(بخاری ومسلم)

چار جگہ رفع یدین

مذکورہ تینوں جگہوں کے علاوہ سجد ے سے اُٹھتے ہوئے بھی یہ کُل چار جگہ ہوئیں۔

(نسائی ،ابوداؤدجلد۱صفحہ۱۳۲)

پانچ جگہ رفع یدین

مذکورہ چاروں جگہوں کے علاوہ سجدے سے اُٹھتے وقت بھی جبکہ سجدے میں جاتے وقت اورسجدے سے اُٹھتے وقت رفع یدین ان لوگوںکے ہاں بھی جائز نہیں جو رفع یدین کے قائل ہیں(نسائی جلد۱صفحہ۱۲۳) مذکورہ بالا حدیثوں کے تین اضطراب کے علاوہ جو حدیثیں ہیں وہ سنداً بھی ضعیف ہیں مثلاً ابوداؤد ،ترمذی ، دارمی اورابن ماجہ نے حضرت ابو حمید ساعدی سے ایک طویل حدیث جو رفع یدین کے متعلق نقل کی ہے اس حدیث کے روایتوں میں عبدالحمید ابن جعفرمجروح اور ضعیف ہیں۔(طحاوی شریف )

تروایح بیس رکعت ہی مسنون ہیں

اگر چہ یہ مسئلہ فروعی مسائل میں سے ہے مگر حیرت ہے کہ بعض لوگ یہاں تک دعویٰ کردیتے ہیں کہ بیس رکعت تراویح کا کوئی ثبو ت نہیں اور یہ کہ 20رکعت تراویح پڑھنا بدعت ہے اس کے جواب میں سب سے پہلے تو یہ کہہ دینا کافی ہے کہ مذکورہ بالا دعویٰ انشاء اﷲقیامت تک کسی صریح صحیح غیر مجروح حدیث و آثارِ صحابہ کرام ،اقوالِ آئمہ دین سے نمازِ تراویح کا آٹھ رکعت ہونااور 20رکعت کا بدعت مذموم ہونا مخالفین ثابت نہیں کرسکتے ہیں جبکہ اہلسنت کا دعویٰ ہے کہ20رکعت عہد نبوی و عہد خلفائِ ثلاثہ و اقوالِ آئمہ کرام سے ثابت ہے دلائل ملاحظہ فرمائیں۔

عہدنبوی

حضرت ابن عباسصسے روایت ہے کہ

ان رسول اﷲ کان یصلی فی رمضان عشرین رکعۃ۔

(بیہقی شریف جلد ۲صفحہ۳۸۶)

حضور ارمضان المبارک میں 20رکعت تروایح ادا فرماتے تھے۔

عن السائب قال کانوا یقومون علی عھد عمر فی شھر رمضان بعشرین رکعۃ قال و کانوایقررون المین وکانوایکشر کون علی عصبھم فی عھد عثمان من شدہ القیام۔

حضرت سائب سے مروی ہے کہ لوگ زمانہ عمر ص میں ماہ رمضان میں بیس تراویح پڑھتے تھے اور سو سے زائد آیتوں والی سورتیں پڑھتے تھے اور حضرت عثمان صکے زمانے میں شدتِ قیام کی وجہ سے لاٹھیوں پر ٹیک لگاتے تھے۔

(سنن کبری للبیہقی جلد ۲صفحہ۴۹۶)

عہد حضرت علی ص

ان علیا امررجلا یصلی لھم فی رمضان عشرین رکعۃ۔

(عینی شرح بخاری جلد۳صفحہ۵۹۸)

حضرت علی صنے اپنے زمانے میں دورِ خلافت میں ایک شخص کو حکم دیا کہ مسلمانوں کو بیس رکعت تراویح پڑھائے۔

(بیہقی والنقی علی السنن صفحہ۴۹۶)

امام تراویح

ابی ابن کعب ص کا بیان

عن ابی ابن کعب ان عمر بن الخطاب امرہ ان یصلی بالیل فی رمضان نصلی بھم عشرین رکعۃ۔

صحابہ کرام کے نمازِ تراویح کے امام ابی ابن کعب ص فرماتے ہیں کہ حضرت عمرصنے آپ کو رمضان کی راتوں میں تراویح پڑھانے کا حکم دیا تو آپ نے لوگوں کو بیس تراویح پڑھائیں۔

(کنزالعمال جلد۴صفحہ۹۳پارہ نمبر۷)

اجماعِ صحابہ

اجمع الصحابۃ علی ان التراویح عشرون رکعۃ۔

(مرقات شرح مشکوٰۃ ) صحابہ کرام رضوان اﷲ تعالیٰ علیہم اجمعین نے اس پر اتفاق کیا کہ تراویح بیس رکعت ہی ہیں۔

امام ترمذی کی گواہی

صحاح ستہ کی مشہور کتاب ترمذی شریف کے مصنف امام ترمذی نے فرمایا

واکثر اھل العلم علی ماروی عن علی وعمر و غیر ھما من اصحاب النبی ﷺعشرین رکعۃ وھو قول سفیان الثوری وابن المبارک والشافعی وھکذا ببلدنا بمکۃ یصلون عشرین رکعۃ۔

(جامع ترمذی ابواب الصوم جلد ۱صفحہ ۴۳۲)

اکثر اہلِ علم اس پرعامل ہیں علی المرتضیٰص و حضرت عمر صسے مروی ہے ان کے علاوہ نبی کریم کے اصحاب سے بیس رکعت تراویح ہی روایت کی گئی ہیں۔امام سفیان ثوری ص ، ابن مبارکص، امام شافعی صفرماتے ہیں

میں نے اسی طرح اپنے شہر مکہ والوں کو 20رکعت تراویح پڑھاتے ہوئے پایا۔

(ترمذی شریف جلد۱صفحہ۴۳۲)

غیرمقلدین کے شیخ کی گواہی

غیر مقلدین کے امام اور ان کے شیخ الاسلام ابن تیمیہ فرماتے ہیں

فثبتعن ابی ابن کعب کان یقوم بالناس عشرین رکعۃ و یوتر بثلاث فرای اکثر من العلماء من ذالک ھو السنۃ لانہ قام بین المھاجرین والانصارلم ینکرہ منکر۔

(فتاویٰ ابن تیمیہ قدیم جلد۱صفحہ ۱۹۲)

یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ حضرت ابی بن کعبص لوگوں کو بیس رکعت تراویح اور تین وتر پڑھاتے اسی لئے علماء کی اکثریت کی رائے میں تراویح 20رکعت ہی سنت ہے کیونکہ ابی ابن کعب صکے پیچھے مہاجر ین اور انصار بھی بیس رکعات تراویح پڑھتے تھے اور کسی منکر نے بھی رکعتِ تراویح کے سنت ہونے کا انکار نہیں کیا۔

(جدید جلد۳۳صفحہ۱۱۲)

اجماعِ اُمت

ہمیشہ سے تقریباً ساری اُمت کا عمل بیس رکعت تراویح پر رہا اور آج بھی حرمین شریفین اور ساری دنیا کے مسلمان بیس رکعت تراویح ہی پڑھتے ہیں۔شیخ عبدالقادر جیلانیص ،امام غزالیص سے بھی بیس رکعات ہی منقول ہیں۔