Skip to content

دشمن ِ احمد ﷺ پہ شدت کیجئے

مصنف: احمد رضا سلطانپوری قادری

مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ وَ الَّذِیْنَ مَعَہٓ اَشِدَّآء ُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَآء ُ بَیْنَہُمْ ۔ محمّد اللّٰہ کے رسول ہیں اور ان کے ساتھ والے کافروں پر سخت ہیں اور آپس میں نرم دل (پارہ26الفتح 29)

دشمن ِ احمد ﷺ پے شدت کیجیے
ملحدوں کی کیا مروت کیجئے

اعتراض

احمد رضا خان صاحب کے مزاج میں شدت تھی ،بہت جلدی غصہ میں آ جاتے تھے اور یہی حال اہل سنت و جماعت والوں کا ہے کہ اہل سنت و جماعت نبی پاک ﷺ کی محبت میں بہت شدد سے کام لیتے ہیں ۔اور ادنیٰ سی بات بھی برداشت نہیں کر تے ،بلکہ شدید غم و غصہ کا اظہار کرتے ہیں اور نہایت ہی شدد سے کام لیتے ہیں ۔لہذا ان کو ذرا نرمی سے کام لینا چاہیے۔الخ۔

الجواب

الحمد للہ عزوجل! ہمارے امام شیخ الاسلام حضرت اما م احمد رضا خان محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ ایک سچے ،پکے عاشق رسولﷺ تھے ۔اور ساری زندگی یہی تعلیم فرماتے رہے کہ اپنی ذات پر تنقید کرنے والوں کو تو معاف کر دینا لیکن جو شخص تمھارے پاک رب عزوجل اور کریم آقا ﷺ کی شان میںبے ادبیاںو گستاخیاں کرے اس کو ہرگز نہیں بخشنا۔ مسلمانوںجب معاملہ خالق کائنات عزوجل اور اس کے محبوب ﷺ کی ذات کا ہوتو شمشیر بے نیام بن کر ان گستاخوں کی گردنیں اڑا دینا۔

آج وہ لوگ جو ہمیں صبر و تحمل کا درس دیکر گستاخوں کو تحفظ دینے کی کوشش کرتے ہیں اگر ان لوگوں کی ذات یا ان کے خاندان کے بارے میں ایک ادنیٰ سی بات کر دو تو غصے سے اپنے مخالفین کا سر پھوڑ دیں گے بلکہ عدالتوں کے دروازے کھٹکٹائیں گے ۔حتی الامکان کوشش کریں گے کہ اپنے مخالفین کو سخت سے سخت سزا ہو جائے ۔لیکن انہی لوگوں کے سامنے جب خالق کائنات عزوجل ،رسول اللہ ﷺ اور صحابہ اکرام علہیم الرضوان کی بات آئے تو ان کی سب حیاء ختم ہو جائے گی ،غیرت کا جنازہ نکل جائے گا ،صبر و تحمل کا درس دینا شروع کر دیں گے ۔

اپنے ماں باپ کی ناموس پر لڑنے والوں کو یہ نہیں معلوم کہ مسلمان کا ایمان اس وقت تک کامل ہی نہیں ہو سکتا جب تک اپنے ماں باپ بلکہ سب عزیز و اقرباء سے بھی زیادہ اپنے کریم آقا ﷺ سے محبت نہیں کرے گا۔اور محبت کا یہ تقاضہ ہے کہ محبوب کے دشمن سے سخت و شدید عداوت و بغض ہو ،لہذا کامل ایماندار ہونے کیلئے ضروری ہے کہ نبی پاک ﷺ کے دشمنوں و گستاخوں سے عداوت و بعض رکھئے۔

قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے ۔

لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّ اللہَ وَ رَسُوْلَہ وَ لَوْ کَانُوْٓا اٰبَآء َہُمْ اَوْ اَبْنَآء َہُمْ اَوْ اِخْوَانَہُمْ اَوْ عَشِیْرَتَہُمْ ۔ تم نہ پاؤ گے ان لوگوں کو جو یقین رکھتے ہیں اللّٰہ اور پچھلے دن پر کہ دوستی کریں ان سے جنہوں نے اللّٰہ اور اس کے رسول سے مخالفت کی اگرچہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا کُنبے والے ہوں ۔(پارہ28المجادلۃ 22)

یعنی مومنین سے یہ ہوہی نہیں سکتا اور ان کی یہ شان ہی نہیں ہے اور ان کا ایمان اس کو گوارا ہی نہیں کرتا کہ خدا عزوجل اور رسول اللہ ﷺ کے دشمن سے دوستی کرے ۔لہذا ہم مسلمانوں کو اپنے پیارے صحابہ اکرام علہیم الرضوان کی طرح ایمان رکھنا چاہیے ،اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایاکہ’’امنوا کما امن الناس ‘‘ ایسے ایمان لاؤ جیسے یہ لوگ(صحابہ ) ایمان لائے ۔(پارہ1البقرۃ 13)

دشمنان اسلام کی بدترین سازش

امن واخلاق کی آڑ میں گستاخان ِ رسول کو تحفظ دینے والے نام نہاد مولاں و پروفیسر حضرات ہم اہل سنت و جماعت کو شدد کا طعنہ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آپ سنی حضرات[گستاخوں کے بارے میں] غیر اخلاقی الفاظ استعمال کرتے ہیں لیکن یہ بد بخت لوگ یہ نہیں سوچتے کہ بد تمیزی،بد اخلاقی اور گستاخی کے مرتکب توان کا اپنا نمایندہ ہوا ہے ہمارا عمل تو اس کی بد اخلاقی و گستاخی کے رد میں احتجاجاََسامنے آتا ہے ۔اگر وہ گستاخی نہ کرتے تو ہماری طرف سے رد بھی نہ ہوتا۔و للہ العظیم ! امن و سلامتی ،ادب و احترام تو ہم مسلمانوں کا شعار ہے لیکن جب ہمارے آقا ﷺ کی ناموس کا معاملہ آتا ہے تو پھر بے ادبوں و گستاخوں کے لئے ہمارے پاس ادنیٰ سی بھی رعایت نہیں ۔

لیکن دشمنانِ اسلام بالخصوص یہود و نصاریٰ کی شروع سے یہ سازش رہی ہے کہ مسلمانوں کے دلوں سے عظمت و محبت ِ مصطفیﷺ نکال کر روح ِ ایمانی سے محروم کر دی جائے ۔اُن کی اِس سازش کی نشاندہی کرتے ہوئے حضرت اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے بھی فرمایا تھا کہ

یہ فاقہ کش جو موت سے ڈرتا نہیں کبھی
روح محمدی ﷺ اس کے بدن سے نکال دو

کفار و دشمنانِ اسلام کو پتہ ہے کہ جب تک مسلمانوں کے دلوں میں اپنے نبی ﷺ کی محبت رہی گئی اس وقت تک ہم ان کو رسوا نہیں کر سکتے ۔اسی لئے وہ ایسی سازشیں کرتے ہیں تاکہ مسلمان دین اسلام سے پھر جائیں اور اپنے بڑوں کی بے ادبیاں و گستاخیاں کرنا شروع کر دیں۔معاذ اللہ عزوجل یاد رہے کہ جس مسلمان کو اللہ عزوجل و رسول اللہ ﷺ سے جس قدر زیادہ محبت ہو گی وہ اس قدر با حیاء و غیرت مند بھی ہو گا ۔اور وہ ادنی سے ادنیٰ بات بھی ان کے بارے میں برداشت نہیں کر ئے گا ۔کیونکہ محبت کا اولین تقاضہ ہے کہ محب اپنے محبوب کی ذات پر کسی قسم کی تنقید کو برداشت نہیں کر سکتا ۔اور اپنے محبوب کی طرف اٹھنے والی انگلیوں کو کاٹ ڈالتا ہے ۔

اب اگر کوئی بد بخت شخص اللہ عزوجل و رسول اللہ ﷺ سے ایسی شدید محبت کو تشدد کا نام دیکر گستاخوں کو تحفظ دیتا پھرے اور ان گستاخوں کے ساتھ نرمی کرنے کا مطالبہ کرئے، تویہ اس کی اپنی بد بختی ہے۔ اور ایسا مطالبہ کفار مکہ نے بھی نبی اکرم ﷺ سے کیا تھا ۔چنانچہ سورۃ القلم میں ارشاد ہوتا ہے ۔

وَدُّوْا لَوْ تُدْہِنُ فَیُدْہِنُوْنَ ۔ وہ تو اس آرزو میں ہیں کہ کسی طرح تم نرمی پڑوتو وہ بھی نرم پڑجائیں۔ (پارہ 29القلم 9 )

لہذا بے ادبوں و گستاخوں کے ساتھ نرمی برترنے اور ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنے کا مطالبہ کرنا کفار کا طریقہ ہے اور آج جو لوگ ایسی گردان پڑھ رہے ہیں۔ یہ لوگ بھی انہی کے مطالبے کو پورا کروانے کے خواہش مند ہیںلیکن یاد رہے کہ قرآن نے اہل ایمان کی یہ صفت بیان فرمائی ہے کہ وہ آپس میں یعنی مسلمانوں کے ساتھ بہت نرم ہیں لیکن بے ادبوں و گستاخوں پر بہت سخت ۔

مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ وَ الَّذِیْنَ مَعَہٓ اَشِدَّآء ُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَآء ُ بَیْنَہُمْ ۔ محمّد اللّٰہ کے رسول ہیں اور ان کے ساتھ والے کافروں پر سخت ہیں اور آپس میں نرم دل (پارہ26الفتح 29)

الحمد للہ عزوجل ! اہل سنت و جماعت اسی طریقے پر گامزن ہیں کہ آپس میں بہت نرم دل ہیں لیکن کفاریعنی دشمنان اسلام پر نہایت ہی سخت ۔اور امام اہل سنت الشاہ امام احمد رضا خان محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ بھی ہم مسلمانوں کے لئے تو نہایت ہی نرم مزاج ثابت ہوئے لیکن گستاخوں ،بے ادبوں کے لئے شمشیر بے نیام تھے ،الحمد للہ عزوجل و ہ با حیاء تھے بے حیاء ہرگز نہیں تھے اور محبت میں یہ شدت انہیں اور ان کے ذریعے ہم سنی مسلمانوں کو صحابہ اکرام علہیم الرضوان سے ورثہ میں ملی ہے ۔جیسا کہ صحابہ اکرام علہیم الرضوان کے بارے میں قرآن کہتا ہے وَ الَّذِیْنَ مَعَہٓ اَشِدَّآء ُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَآء ُ بَیْنَہُمْ ۔

لہذا اب اگر کوئی ہمیں بُرا بھلا کہتا ہے تو کہتا رہے ۔لیکن ہم اس وقت تک ان گستاخوں پر سختی کرتے رہے گئے جب تک ایسے گستاخ مر کر مٹی میں نہیں مل جاتے ۔بلکہ جب تک ہمارے جسم میں آخری سانس ہے ہم گستاخانِ رسول پر شدد کرتے رہے گئے ۔انشاء اللہ عزوجل

بتلا دو گستاخ نبی کو غیرت مسلم زندہ ہے
دین پہ مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا آج بھی ہے

قرآن پاک نے بے ادبوں سے کس طرح کلام کیا؟

جب اہل سنت و جماعت کی طرف سے گستاخوں کی گستاخیوں کے رد میں جوابات دئیے جاتے ہیں تو گستاخ اپنی بکواسات پر شرمندہ ہونے اور توبہ کرنے کی بجائے ہمیں شدد کا طعنہ دیتے ہیں ۔گویا الٹا چور کتوال کو ڈانٹے ۔

لیکن گستاخوں پر شدد کرنا ہرگز ہرگز عیب نہیں بلکہ خود ہمارے رب تبارک و تعالیٰ نے گستاخ رسول کے ساتھ سختی سے کلام فرمایا ہے اور اس کے بارے میں ایسے الفاظ استعمال فرمائے ہیں کہ جن کے بارے میں آج کے پینٹ کوٹ میں ملبوس پروفیسر اور گستاخوں کے ساتھ نرمی برترنے کا مطالبہ کرنے والے بد نصیبوں کیلئے نا قابل برداشت ہو سکتے ہیں ۔لیکن یہ کلمات کسی حدیث میں نہیں کہ ضعیف قرار دیکر جان چھوڑا لی جائے بلکہ قرآن مجید میں ہیں ۔چنانچہ سورۃ القلم میں گستاخ ِ رسول ولید بن مغیرہ کے بارے میں کہا گیا کہ

وَلَا تُطِعْ کُلَّ حَلَّافٍ مَّہِیْنٍ ۔ اور ہر ایسے کی بات نہ سننا جو بڑا قسمیں کھانے والا ذلیل۔

ہَمَّازٍ مَّشَّآء ٍ بِنَمِیْمٍ ۔ بہت طعنے دینے والا بہت اِدھر کی اُدھرلگاتا پھرنے والا۔

مَنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ اَثِیْـمٍ ۔ بھلائی سے بڑا روکنے والا حد سے بڑھنے والا گنہگار۔

عُتُـلٍّ بَعْدَ ذٰلِکَ زَنِیْـمٍ ۔ درشت خو اس سب پر طُرّہ یہ کہ اس کی اصل میں خطا(حرامی ہے) ۔ (پارہ29القلم آیت 10تا13)

مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو ولید بن مغیرہ نے اپنی ماں سے جا کر کہا کہ محمّد (مصطفٰیﷺ) نے میرے حق میں دس باتیں فرمائیں ہیں نو(9)کو تومیں جانتا ہوں کہ مجھ میں موجود ہیں لیکن دسویں بات اصل میں خطا (حرامی)ہونے کی ،اس کا حال مجھے معلوم نہیں۔ اس کے بارے میں تو مجھے سچ سچ بتادے ورنہ میں تیری گردن ماردوں گا اس پر اس کی ماں نے کہا کہ تیرا باپ نامرد تھا مجھے اندیشہ ہوا کہ وہ مرجائے گا تو اس کا مال غیر لے جائیں گے تو میں نے ایک چرواہے کوبلالیا اور اس سے بد کاری کی تو اس سے پیداہوا ہے ۔

ولید بن مغیرہ نے نبی کریمﷺ کی شان میں ایک جھوٹا کلمہ کہا تھا مجنون ، تو اس کے جواب میں اللہ تعالی نے اس کے دس واقعی عیوب ظاہر فرمادیئے ۔اس سے سیّدِ عالَم ﷺکی فضیلت اور شانِ محبوبیّت معلوم ہوتی ہے ۔اور پتہ چلا کہ گستاخ رسول کے بارے میں سختی سے کام لینا چاہیے ۔اور یہ سنت الہیہ بھی ہے۔

انگریز کے ذر خرید اور گستاخوں کے حامیوں نے بہت سر پیٹا کہ کسی نہ کسی طرح گستاخوں کو تحفظ فراہم کر کے ان سے وفا داری کا ثبوت دیا جائے لیکن بچارے سر پیٹتے ہی رہ گے کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے مشن کو خاک میں ملا دیا۔اور ان کی زبانوں سے بھی یہ اعلان و اقرار کروا دیا کہ گستاخ رسول ذلیل و بد کردار ہوتے ہیں ۔اب یا تو ایسے لوگ قرآن کی ان آیات کے منکر ہو جائیں تو ایسی صورت میں قرآن کے منکر ہو کر کافر ٹھہریں گے اور اگر ان پر ایمان رکھتے ہیں تو پھر گستاخوں کے ساتھ نرمی کے مطالبے کی تردید ہو گئی ۔الحمد للہ عزوجل

دشمنان اسلام گستاخ لوگ بد ترین جانور

اللہ عزوجل و رسول اللہﷺ کے دشمنوں کے بارے میں خود قرآن پاک میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے نہایت سخت الفاظ استعمال فرمائے ہیں ۔کہیں ان کو بھڑکتے ہوئے گدھے کہا گیا ،تو کہیں بدترین جانورکہا گیا۔

  • اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللہِ الصُّمُّ الْبُکْمُ الَّذِیْنَ لَا یَعْقِلُوْنَ ۔بے شک سب جانوروں میں بدتراللّٰہ کے نزدیک وہ ہیں جو بہرے گونگے ہیں جن کو عقل نہیں(پارہ 9الانفال22) یہ آیت بنی عبد الدار بن قُصَیْ کے حق میں نازل ہوئی جو کہتے تھے کہ جو کچھ محمّد مصطفٰے ﷺ لائے ہم اس سے بہرے گونگے اندھے ہیں ۔
  • ا ِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ وَ الْمُشْرِکِیْنَ فِیْ نَارِ جَہَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْہَا اُولٰٓئِکَ ہُمْ شَرُّ الْبَرِیَّۃِ ۔بے شک جتنے کافر ہیں کتابی اور مشرک سب جہنّم کی آ گ میں ہیں ہمیشہ اس میں رہیں گے وہی تمام مخلوق میں بدتر ہیں(پارہ30البینۃ 6)
  • ابو نعیم حلیہ میں انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی، رسول اللہﷺ فرماتے ہیں:اھل البدع شرالخلق والخلیقۃ ۔بدمذہب لوگ سب آدمیوں سے بدتر اورسب جانوروں سے بدتر ہیں۔( حلیۃ الاولیا ترجمہ ابومسعود موصلی 291/8بحوالہ فتاویٰ رضویہ ) علامہ مناوی نے تیسیر میں فرمایا:الخلق الناس والخلیقۃ البھائم ۔خلق سے مراد لو گ اور خلیقہ سے مراد جانور ہیں۔ ( التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث ماقبل مکتبہ امام شافعی الریاض سعودیہ ۳۸۳/۱(

دشمنان اسلام گستاخ لوگ جہنم کے گدھے

  • فَاَمَّا الَّذِیْنَ شَقُوْا فَفِی النَّارِ لَہُمْ فِیْہَا زَفِیْرٌ وَّشَہِیْقٌ ۔ تو وہ جو بدبخت ہیں وہ تو دوزخ میں ہیں وہ اس میں گدھے کی طرح رینکیں گے ۔(پارہ12ھود 106)
  • فَمَا لَہُمْ عَنِ التَّذْکِرَۃِ مُعْرِضِیْنَ ۔کَاَنَّہُمْ حُمُرٌ مُّسْتَنْفِرَۃٌ ۔تو انہیں کیا ہوا نصیحت سے منہ پھیرتے ہیں۔گویا وہ بھڑکے ہوئے گدھے ہوں۔(پارہ29آیت49,50)

رسول اللہﷺ فرماتے ہیں:

لاتجالسوھم، ولاتشاربوھم، ولاتؤاکلوھم ولاتناکحوھم بدمذہبوں کے پاس نہ بیٹھو، ان کے ساتھ پانی نہ پیو، نہ کھانا کھاؤ، ان سے شادی بیاہ نہ کرو۔( الضعفاء الکبیر للعقیلی حدیث ۱۵۳دارالکتب العلمیہ بیروت۱۲۶/۱)

  • سرکار ﷺ نے ارشاد فرمایا اھل البدع کلاب اھل النار ’’بد مذہب دورخ والوں کے کتے ہیں۔‘‘ ( دار قطنی)
  • سرکار ﷺ نے بد مذہبوں کے بارے میں ارشاد فرمایا ایحب احدکم ان تکون کریمتہ فراش کلب فکرھتموہ ۔کیا تم میں کسی کوپسند آتا ہے کہ اس کی بیٹی یا بہن کسی کتے [بد مذہب]کے نیچے بچھے تم اسے بہت برا جانوگے۔( سنن ابن ماجہ ابواب النکاح صفحہ ۱۳۹،مسند احمد بن حنبل مروی از مسند علی رضی اللہ عنہ۸۶/۱)

اب بتائیں کہ بد مذہب گستاخوں کو کتے کی مثل کہا گیا کہ نہیں؟اور ایسی مثال دی گئی کہ با حیاء و با ایمان مسلمان کبھی بھی گستاخوں کو دیکھنا تک گوارہ نہ کرے ۔یاایھا الناس ضرب مثل فاستمعوالہ ،واﷲلایستحیی من الحق ۔اے لوگوں! ایک مثل کہی گئی اسے کان لگا کر سنو، بیشک اللہ عزوجل حق بات فرمانے میں نہیں شرماتا۔

دشمنان اسلام گستاخ لوگ پر لعنت

  • اُولٰٓئِکَ جَزَآؤُہُمْ اَنَّ عَلَیْہِمْ لَعْنَۃَ اللہِ وَالْمَلٰٓئِکَۃِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ ۔ ان کا بدلہ یہ ہے کہ ان پر لعنت ہے اللّٰہ اور فرشتوں اور آدمیوں کی سب۔ (پارہ3آل عمران 87)
  • فَلَمَّا جَآء َہُمْ مَّا عَرَفُوْا کَفَرُوْا بِہٖ فَلَعْنَۃُ اللہِ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ ۔تو جب تشریف لایا ان کے پاس وہ جانا پہچانا اس سے منکر ہو بیٹھے تو اللّٰہ کی لعنت منکروں پر۔ (پارہ1البقرۃ 89)

لہذا جو بھی گستاخ رسول ہے وہ بد ترین کافر و مرتد ہے اور ان سب باتوں کا مصداق ہے ۔ان بے ادبوں کے بارے میں سرور کائنات ﷺ نے فرمایا

اذا رایتم صاحب بدعۃ فاکفھرو ا فی وجھہ فان اللہ یبغض کل مبتدع جب تم کسی بد مذہب کو دیکھو تو اس کے سامنے تر شروئی سے (سختی)پیش آؤ۔اس لئے کہ اللہ تعالیٰ ہر بد مذہب کو دشمن رکھتا ہے۔(ابن عساکر)

کیا حضرت ابو بکر بھی شدد پسند تھے؟

امیر المومنین سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی نرم دلی سے کون واقف نہیں لیکن صلح حدیبیہ کے موقع پر جب عروہ بن مسعود ثقفی نے سرکار ِ دو عالم ﷺ کے سامنے توہین آمیزلہجہ اختیار کیا تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ جیسے حلیم الطبع شخص بھی نہ رہ سکے اور جو کچھ فرمایا وہ ایک وہابی عالم صفی الرحمن مبارکپوری کے قلم ہی سے ملاحظہ کیجیے ۔ اس پر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا’’لات کی شرمگاہ کا لٹکتا ہوا چمڑا چوس‘‘(الرحیق المختوم صفحہ ۵۵۳)

اب بتائیں کہ کیا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی متشدد قسم کے انسان تھے؟[معاذ اللہ عزوجل]نہیں نہیں بلکہ معاملہ ناموس رسالت مآب ﷺ کا تھا اس لئے اپنے محبوب کی شان و عظمت اور ان کی ناموس کے تحفظ کی خاطر شمشیر بے نیام بن کر سامنے آ کھڑے ہوئے ۔

الحمد للہ عزوجل امام اہل سنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ میں اور ان کے چاہنے والوں میں یہی غیرت ایمانی ہے کہ جس نے شانِ الوہیت عزوجل و شان ِ رسالت ﷺ میں توہین کرنے والوں کو بے نقاب فرما دیا ۔اب چونکہ ایسی توہین کرنے والے فرقہ وہابیہ کے اکابرین تھے اس لئے وہابیہ اور ان جیسے دیگر باطل فرقوں کو ایسی شدید محبت تشدد و غصہ دکھائی دیتا ہے ۔لیکن قرآن پاک کا یہ صاف حکم ہے کہ

مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ وَ الَّذِیْنَ مَعَہٓ اَشِدَّآء ُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَآء ُ بَیْنَہُمْ ۔ محمّد اللّٰہ کے رسول ہیں اور ان کے ساتھ والے کافروں پر سخت ہیں اور آپس میں نرم دل (پارہ26الفتح 29)

دشمن ِ احمد ﷺ پہ شدت کیجیے
ملحدوں کی کیا مروت کیجئے

گستاخ رسول کی صرف ایک ہی سزا
سر تن سے جدا ،سر تن سے جدا