Skip to content

انجینیئر مرزا جہلمی کی گنبد خضراء سے دشمنی

ردِّ بدمذہبعقائد

لگ بھگ دو مہینے پہلے احقرنے یو ٹیوب پر مرزا جہلمی کا ایک کلپ دیکھا ، کلپ دو تین منٹ چلا تو بجلی چلی گئی، کلپ میں ایک صاحب جو شیعہ مسلک کے معلوم ہو رہے تھے، مرزا جہلمی سے سوال کررہے تھے ، احقر صرف دو سوال ہی سن سکا کہ لائٹ چلی گئی ۔

ایک سوال مرزا جہلمی سے اُن صاحب نے یہ کیا کہ :

کیا وجہ ہے روضہ مطہرہ رسول اللہ ﷺ پر اتنی روشنی ہے کہ ہر شئے چمک رہی ہے ، لیکن دوسری طرف جنت البقیع میں حضرت سیّدہ طاہرہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے مزارمبارک پر اندھیرا ہے یہ فرق کیوں ہے ؟

میری یاد ہے کہ مرزا جہلمی اس کا کوئی معقول جواب نہ دے سکا ، جواب بھی کیا دیتا ، چہرے پر تعصب نمایاں تھا،غصہ سے ناک کے دونوں نتھنے پھولے ہوئے تھے۔

دوسرا سوال گنبد خضراء کے بارے تھا، مرزا جہلمی نے یہ نہیں کہا کہ اسے گرا دینا چاہئے یا ڈھا دینا چاہئے بلکہ اپنی طرف سے احتیاطاً کہا کہ گنبد کو اُٹھا دینا چاہیے، بات تو وہی ہے کہ گنبد خضراء کو ختم کردینا چاہئے۔ امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :

اُف رے منکر یہ بڑھا جوش تعصب آخر

بھیڑ میںہاتھ سے کم بخت کے ایمان گیا

(بھیڑ یعنی تعصب کا رش)

مرزا جہلمی سے سوال

۱۔ گنبد خضراء کو کیوں ختم کردینا چاہئے؟ اس سے دین اسلام کو کیا نقصان ہے؟

گنبد بنانا شرک توہے نہیں کہ معاذ اللہ ثم معاذ اللہ ، اللہ تعالیٰ کے مزار کا گنبد ہو اور یہ گنبد مقابلہ میں بنایا جائے، یہ بات بھی نہیں، تو پھر اسے ختم کرنے کی وجہ تو بتائیں ؟ گنبد خضراء سے کیا چڑ ہے؟

جواب میں یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ گنبد تو سات سو سال بعد بنا، صحابہ کرام کے زمانے میں نہیں تھا۔

۲۔ کیا گنبد خضراء بننے سے سات سو سال پہلے یا بعد میں روضہ رسول ﷺ پر صرف یہی ایک گنبد تعمیر ہوا، اور کوئی تعمیر نہیں ہوئی؟ کیا گنبد بھی ایک چھت کی شکل نہیں ہے؟ اگر گنبد کی چھت برداشت نہیں تو اُم المومنین رضی اللہ عنہا کے حجرے کی چھت کو کیوں نہیں گرایا گیا؟

۳۔ رسول اللہ ﷺ کو چار دیواری اور چھت والی عمارت یعنی اُم المومنین حضرت سیّد عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں کیوں دفن کیا گیا؟ کیا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو یہ علم نہیں تھا کہ قبر پر کوئی عمارت نہیں ہونی چاہئے؟ اللہ کا نبی جہاں وفات پائے وہیں دفن ہوتا ہے، لیکن یہ حجرے کی عمارت کیوں باقی رکھی گئی؟ کیا صحابہ کرام نے اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کے احکام کی خلاف ورزی کی؟ رسول اللہ ﷺ تو منع فرمائیں کہ قبر پر چھت نہ ہو، لیکن صحابہ کرام انہیں زیر سقف دفن کریں، قبروں کو ڈھانے گرانے کے متعلق جو احادیث بیان کی جاتی ہیں، ہم اس پر آگے بتائیں گے کہ ان احادیث کا کیا مطلب ہے۔

اگر کوئی کہے کہ عمارت میں دفن ہونا حضور نبی کریم کی خصوصیت ہے ، تویہ حضور نبی کریم ﷺ کی خصوصیت بھی نہیں ، کیونکہ اس عمارت میں دو غیر نبی بھی بعد میں دفن ہوئے اور قرب قیامت حضرت سیّدنا عیسیٰ علیہ السلام بھی یہیں دفن ہوں گے۔

جس حجرہ مبارکہ میں نبی کریم ﷺ کی تدفین ہوئی ، اس حجرہ پر چھت بھی تھی اور چار دیواری بھی قائم تھی ، گویا یہ حجرہ مقبرے کے مترادف ہو گیا ۔ اسی حجرہ مبارکہ کے پہلو میں مسجد نبوی ﷺ بھی ہے ، اگر حضور نبی کریم ﷺ کے قول و فعل کے اتباع کے لئے ضروری ہے اور صحابہ کرام کا اسوہ حسنہ واجب العمل ہے ، تو کیا یہ اتباع سنت نہیں کہ قبر انور پر چھت کا ہونا اور قبر انور کے پہلو میں مسجدکا ہونا مستحسن ہے ۔

۴۔ احادیث میں انبیاء کی قبروں کو مساجد بنانے کی ممانعت ہے، کیا قبر انور کے اوپر مسجد بنائی گئی ہے؟ یا قبر انور کو مسجد بنا یا گیا ہے؟ قبر کو سجدہ گاہ بنانے کی ممانعت ہے، گنبد کا اس سے کیا تعلق؟

اگر تعمیریں نا جائز ہیں تو کیا اَب بھی مسجد نبوی کی چھت کھجور کے پتوں کی ہے ؟ اور اس کے ستون کھجور کے تنوں کے ہیں ؟کیا صحابہ کے زمانے میں مسجد نبوی کے مینار تھے؟ نہ اس میں حوض تھا ، نہ سبیلیں ، نہ غسل خانے تھے ، مسلمان آج ذرا اپنی مسجدوں کو دیکھیں اِن کے مینار آسمان سے سرگوشیاں کررہے ہیں ، مسجدوں کے گنبدوں کو دیکھیں عقل دنگ ہوتی ہے ، ان میں رنگ و روغن اور زیب و زینت دیکھا جاسکتا ہے ، کیا یہ مسجدیں بھی خلاف شرح ہیں اور کیا ان کا ڈھاہ دینا ضروری ہے ؟ معلوم ہوا کہ یہ سب تعمیریں بعد کی ہیں اور اب تک ہورہی ہیں، لیکن کوئی مرزا جہلمی نہیں بولتا ، ان کو بلا وجہ گنبد خضراء سے چڑ ہے ۔

مرزا جہلمی کو چاہئے کہ سب سے پہلے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ( کراچی ) کے مزار کا گنبد گرائیں، پھر سارے ملک میں اولیائے کرام کے مزارات کے گنبد گرائیں ، پھر ثمر قند (بخارا) جائیں اور وہاں امام بخاری علیہ الرحمۃ کی قبر مبارک جو کہ تین چار فٹ اُونچی ہے اور ان کے مزار پر شاندار گنبد بنا ہوا ہے ، اُس کو ملیا میٹ کریں، پھر دوسرے اسلامی ممالک میں مزارات پر بنے گنبد گرائیں،ان کو آٹے دال کا بھائو معلوم ہوجائے گا ۔

مرزا جہلمی اینڈ کمپنی کو چاہیے کہ اپنے شہر جہلم سے یہ کام شروع کریں کہ جو عمارت بلند اور پختہ دیکھیں بے دھڑک ڈھانی شروع کریں، کیونکہ ابو داؤد شریف(حدیث ۵۲۳۹) میں ہے حضور نبی کریم ﷺ نے ایسی عمارتوں کو ناپسند فرمایا ہے ، یہاں تک کہ ایک صحابی سے کلام تک ترک فرمادیا جب تک کہ انہوں نے اونچی عمارت کو ڈھا نہ دیا ۔

یہ لوگ جتنی بھی احادیث بیان کرتے ہیں ، اُن سے گنبد کی ممانعت تو کیا ثابت ہونی تھی ، مزارات کے ساتھ جو عبادت کے لئے علیحدہ مساجد ہیں اُن کی ممانعت بھی ثابت نہیں ہوتی۔ ان احادیث کا مطلب جاننا ہو تو امام ابن حجر عسقلانی کی فتح الباری شرح بخاری پڑھیں۔

علامہ ابن عابدین شامی ، ’’ رد المحتار ‘‘ میں فرماتے ہیں :

’’ لا یکرہ البناء اذا کان المیت من المشائخ والعلماء والسادات ‘‘

ترجمہ ۔ یعنی مشائخ اور علماء اور سادات کی قبور پر عمارت بنانے میںکراہت نہیں۔

(ردالمحتار ، الجز الثالث ، مطبوعہ دار عالم الکتب الریاض ۲۰۰۳ء ،ص۱۴۴)

علامہ محمد طاہرپٹنی (متوفی۹۸۶ھ) مجمع البحار الانوار،جلد۳،ص۲۰۸ میں لکھتے ہیں :

’’ و قد اباح السلف یبنی علی قبور المشائخ و العلماء المشاھیر لیزورھم الناس و یستریحون بالجلوس فیہ ‘‘ ۔

’’ بے شک اسلاف نے مشائخ، علماء اور مشاھیر کی قبور پرعمارت بنانے کو جائز رکھا ہے کہ لوگ ان کی زیارت کریں اور اس میں آرام کریں‘‘۔

گنبد خضراء کی طرف عقیدت و محبت سے دیکھنا

ملا علی القاری رحمۃ اللہ علیہ(ہرات،افغانستان) اپنی کتاب ’’ المسلک المتقسط فی المنسک المتوسط ‘‘ مطبوعہ مکہ مکرمہ۱۳۲۸ھ، ص ۲۷۶میں لکھتے ہیں :

ولیغتنم ایام مقامہ بالمد ینۃ المشرفۃ… الخ

(عربی عبارت کی طوالت کی وجہ سے عکس آخر میں دے دیا گیا ہے)

ترجمہ۔ مدینہ شریف میں اپنے قیام کے دنوں کو غنیمت سمجھنا چاہیے اور مسجد نبوی میں برابر حضوری اور اس میں اعتکاف اور ختم قرآن اگرچہ ایک بار ہو اور شب بیداری اور حجرہ شریف کی طرف ، (اگر یہ میسر ہو یا قبہ بلند کی طرف اگر حجرہ شریف کی جانب نظر دشوار ہو)برابر نگاہ جمائے رکھنے کی حرص ہونی چاہیے ، کیونکہ حجرہ شریف یا قبہ شریف کی طرف دیکھنا عبادت ہے ، جس طرح کعبہ شریف کو دیکھنا عبادت ہے‘‘ ۔ (یہ ہیں ایمان والوں کے خیالات)

اور شیخ عبدالحق محدّث دہلوی علیہ الرحمہ اپنی تصنیف’’ جذب القلوب ‘‘ میں لکھتے ہیں :

امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب مسجد نبوی میں اضافہ کیا تھا تو حجرہ مبارکہ(روضہ رسول) کو کچی اینٹ سے تعمیر کرادیا تھا ، ولید کی تعمیر کے زمانے تک یہ حجرہ برقرار رہا ، عمر بن عبدالعزیز نے ولید ابن عبدالملک کے حکم سے اس کو منہدم کرکے منقش پتھروں سے تیار کیا ، ۵۵۰؁ھ میں جمال الدین اصفہانی جو کہ مدینہ منورہ کے صاحب کمال لوگوں میں سے تھے ، مدینہ منورہ میں جمال الدین کی نیکیاں اور بھلائیاں زمانے کے اوراق پر لکھی ہوئی ہیں اور ان کے اوصاف اور مناقب کا ذکر مسجد نبوی شریف کے خطیبوں کی زبان پر رہتا تھا ، انہوں نے حضرہ شریف کے گرد صندل کی ایک جالی کھینچی تھی ، یہ ( جمال الدین)باب جبریل میں دفن کئے تھے ، ابن ابی الہیجاجو کہ شاہان مصر کے وزیروں میں سے تھے ، انہوں نے سرخ ریشمی نقوش سے منقش سفید پردہ حجرہ شریف پر لٹکانے کے لئے بھیجا ، اس پر سورہ یٰسین لکھی ہوئی تھی ، یہ منقش پردہ خلیفہ مستضیٰ باللہ کی اجازت حاصل کرکے لٹکایا گیا تھا، اس کے بعد ہر بادشاہ نے اپنی تخت نشینی کے وقت اس پردہ کا بھیجنا اپنے فرائض اور دستورمیں شامل کرلیا، سلاطین روم کا اب تک یہی طریقہ ہے کہ ہدیۃً ایک پردہ بھیجتے ہیں ۔

(جذب القلوب الیٰ دیار المحبوب، فارسی ، مطبوعہ نول کشور لکھنؤ ۱۲۸۶ھ/۱۸۶۹ء ، ص ۱۰۸، ۱۰۹ ،۱۱۰)

شیخ محقق عبدالحق محدّث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں :

۶۷۸ھ میں قلائون صالحی نے تانبے کی جالیوں کے ساتھ قبہ خضراء بنوایا جو خطیرہ شریفہ کے اوپر مسجد کی چھت سے بلند ہے اور اَب تک اسی طرح موجود ہے ، اس سے پیشتر قبہ خضراء کی بلندی مسجدنبوی کی چھت سے آدمی کے نصف قد سے زائد نہ تھی، یہ مسجد شریف جو اس وقت (۱۰۰۱ھ)میں موجود ہے، وہ قاتیبا بادشاہ مصر کی تعمیر سے ہے ، یہ ۸۸۸ھ؁ میں آیا تھا (۱۰۰۱ھ سے یہ مراد ہے کہ اس سن ہجری میں یہ اوراق تحریر کئے ہیں )۔

قاتیبا کی سلطنت کے بعد سلطان سلیمان رومی دسویں صدی کے وسط میں روضۂ متبرکہ میں سنگ مر مر کا فرش لگوایا جو تا حال یعنی ۱۰۰۱ھ میں موجود ہے ۔

(جذب القلوب، فارسی، مطبوعہ نول کشور،لکھنؤ ۱۲۸۶ھ/۱۸۶۹ء ، ص۱۱۰)

شیخ عبدالحق محدّث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ وہ شخصیت ہیں جو ہند میں پہلی بار علم حدیث لائے،ان کے زمانے میں گنبد شریف موجود تھا ، انہوں نے تویہ نہیں کہا کہ گنبد خضراء کو ختم کردینا چاہئے، مرزا جہلمی اور اس کے نجدی بابے کس کھیت کی مولی ہیں ؟

مرزا جہلمی کے بابوں کا عقیدہ بھی سن لیں

مرزا جہلمی کا ایک نجدی بابا ابی عبدالرحمن مقبل کہتا ہے :

’’ میری تمنا ہے کہ گنبد خضراء کو زمین کے برابر کردینا چاہئے ‘‘

( تحفۃ المجیب ، مطبوعہ دارالآثار صنعا ( یمن)۲۰۰۲ء، ص ۴۰۶)

اصل حوالہ کی عکس آخر میں دے دیا گیا ہے

مرزا جہلمی کا ایک اور با با محمد حامد الفقی مصری ( متوفی ۱۹۵۹ء) کہتا ہے :

’’ فالقبر المعظم المقدس وثن وصنم بکل معانی الوثنیۃ لو کان الناس یعقلون ‘‘

( حاشیہ شرح الصدور بتحریم رفع القبور،مطبوعہ قاہرہ ۱۳۶۶ھ، ص ۲۰)

( حاشیہ شرح الصدور بتحریم رفع القبور،مطبوعہ مکتبہ دارالسلام ریاض ۱۴۱۲ھ، ص ۳۵)

ترجمہ۔ ’’ پس قبر معظم و مقدس وثن ( بُت) اور صنم ( بُت) ہے ، بت ہونے کے ہر معنی کے اعتبار سے اگرچہ لوگ اس کو سمجھتے نہیں ‘‘ ۔

جو لوگ ہمارے آقا و مولیٰ حضور نبی کریم ﷺ کی قبر انور کومعاذاللہ بُت کہیں ، ہمارے دل میں اِن کے لئے کوئی جگہ نہیں۔

علامہ شمس الدین محمد ذہبی (متوفی ۷۴۸ھ ) بہت بڑے نقاد ہیں،یہ شاگرد ہیں علامہ ابن کثیر دمشقی( متوفی ۷۷۴ھ ) کے اور ابن کثیر شاگرد ہیں علامہ ابن تیمیہ (متوفی ۷۲۸ھ) کے ، علامہ ذہبی اتنے بڑے نقاد ہیں کہ صحیح بخاری کی مشہور حدیث قدسی ’’ من عادیٰ لی ولیّاً ‘‘ ( یعنی جس نے میرے ولی کے ساتھ عداوت کی اُس کے ساتھ میرا اعلان جنگ ہے) کے متعلق لکھتے ہیں کہ اگر امام بخاری کی ہیبت نہ ہوتی تو میں اس حدیث کا انکار کردیتا ۔

حفاظ حدیث کے حالات پر علامہ ذہبی اپنی مشہور کتاب ’’ تذکرۃ الحفاظ ‘‘ حصہ دوم ، طبقہ گیارہ کے شروع میں حافظ حدیث امام ابو عوانہ اسفرائینی نیشا پوری کے تذکرہ میں لکھتے ہیں :

’’ آپ کا اسم گرامی یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم ہے ، اسفرائن کے رہنے والے آپ کے آبائو اجداد نیشا پور کے رہنے والے تھے ، بہت بڑے حافظ حدیث ہیں ، سب محدثین کے کے نزدیک قابل اعتماد ہیں ، آپ ایک ’’ المسند الصحیح ‘‘ کے مصنف ہیں ، جو دراصل صحیح مسلم پر استخراج ہے ، ( یعنی صحیح مسلم کی احادیث اپنی سند سے ذکر کی ہیں ) ، امام حاکم فرماتے ہیں ابو عوانہ فن حدیث کے عالم اور پختہ کار ہیں ، ۳۱۶ھ؁ میں ان کا انتقال ہوا ، آپ کی قبر اسفرائن شہر کے اندر ہے ، اس پر گنبد بنا ہے اور زیارت گاہ عوام ہے ۔ (ملخصاً )

( تذکرۃ الحفاظ، الجز الثانی ،(عربی) مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ، ص۷۷۹، ۷۸۰)

( تذکرۃ الحفاظ ، اُردوترجمہ شیخ الحدیث حافظ محمد اسحاق غیر مقلد، تقدیم و تہذیب منیر احمد سلفی، مطبوعہ اسلامک پبلشنگ ہائوس شیش محل روڈ لاہور ۱۹۸۱ء، ص ۵۴۵)

علامہ شمس الدین ذہبی نے امام ابو عوانہ کے مزار پر گنبد ہونے پر اعتراض نہیں کیا ، حالانکہ یہ بہت بڑے تنقید کرنے والے عالم ہیں اور یہ بھی کہا کہ عوام مزار کی زیارت کرتے ہیں،علامہ ذہبی نے یہ نہیں کہا کہ عوام مزار کی زیارت کرکے شرک کرتے ہیں ، احقر اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہے کہ اِن لوگوں کو شرک کی تعریف کاہی پتا نہیں ۔

شارح صحیح بخاری امام کرمانی رحمۃ اللہ علیہ کا عمل

شاہ عبدالعزیزمحدّث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ’’ بستان المحدثین‘‘ میں لکھتے ہیں :

شیخ شمس الدین محمد بن یوسف بن علی بن عبدالکریم کرمانی رحمۃ اللہ علیہ ،۱۶؍جمادی الآخر۷۱۷ھ میں پیدا ہوئے، تیس سال بغداد میں مقیم ہو کر درس و تدریس میں مشغول رہے، دیناداروں سے بہت گریز کرتے تھے، علمی مشغلہ پر کسی چیز کو ترجیح نہیں دیتے تھے، حسن خلق و تواضح میں یکتا روزگار تھے،’’ الکواکب الدراری‘‘کے نام سے۲۵ جلدوں میں صحیح بخاری کی شرح لکھی جو کہ مشہور ہے، آخر عمر میں حج کیا، حج سے واپسی میں راستہ میں ۱۶؍محرم الحرام۷۸۶ھ کو انتقال ہوا، وہاں سے ان کی نعش کو بغداد پہنچایا گیا، آپ نے اپنے زمانہ حیات میں ہی اپنے لئے قبر اور عاقبت خانہ حضرت شیخ ابو اسحاق شیرازی رحمۃ اللہ علیہ کے مزار کے جوار میں بنا لیا تھا اور اس کے اوپر ایک قبہ بھی تعمیر کرالیا تھا، چنانچہ اُسی جگہ دفن ہوئے۔

امام کرمانی علیہ الرحمہ جنہوں نے پچیس جلدوں میں بخاری شریف کی شرح لکھی ان کو تو علم نہیں تھا کہ قبر پر قبہ نہیں بنانا چاہیے، کیا اُردو کتابیں پڑھنے والے مرزا جہلمی کا علم ان سے زیادہ ہے کہ قبر انور سے گنبد خضراء کو اُٹھا دینا چاہیے ؟۔ اللہ تعالیٰ بد عقیدگی سے محفوط رکھے ، اللہم آمین

(تمام حوالوں کے اصل عکس آخری میں دئیے گئے ہیں)


حوالہ جات کی تصاویر

گنبد خضراء سے دشمنی - حوالہ 1

گنبد خضراء سے دشمنی - حوالہ 2

گنبد خضراء سے دشمنی - حوالہ 3

گنبد خضراء سے دشمنی - حوالہ 4

گنبد خضراء سے دشمنی - حوالہ 5

گنبد خضراء سے دشمنی - حوالہ 6

گنبد خضراء سے دشمنی - حوالہ 7

گنبد خضراء سے دشمنی - حوالہ 8

گنبد خضراء سے دشمنی - حوالہ 9

گنبد خضراء سے دشمنی - حوالہ 10

گنبد خضراء سے دشمنی - حوالہ 11

گنبد خضراء سے دشمنی - حوالہ 12

گنبد خضراء سے دشمنی - حوالہ 13

گنبد خضراء سے دشمنی - حوالہ 14

گنبد خضراء سے دشمنی - حوالہ 15

گنبد خضراء سے دشمنی - حوالہ 16

گنبد خضراء سے دشمنی - حوالہ 17

گنبد خضراء سے دشمنی - حوالہ 18

گنبد خضراء سے دشمنی - حوالہ 19

گنبد خضراء سے دشمنی - حوالہ 20

گنبد خضراء سے دشمنی - حوالہ 21

گنبد خضراء سے دشمنی - حوالہ 22

گنبد خضراء سے دشمنی - حوالہ 23

گنبد خضراء سے دشمنی - حوالہ 24

گنبد خضراء سے دشمنی - حوالہ 25