سوال
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ کوئی عورت اپنے بھنوؤں کے بال اکھیڑے یا نوچے جب کوئی اسے روکے کہ یہ عمل صحیح نہیں تو کہے کہ میںاپنے مرد کی خوشنودی کے لئے ایسا کررہی ہوں تو کیا اس طرح مرد کی خوشی حاصل کرنا صحیح ہے؟
اور زید ایک عالم دین سے وابسۃ ہے وہ کہتا ہے کہ مرد کی خوشنودی کے لئے عورت بال موچ لے تو کچھ برائی نہیں ہے بلکہ اس طرح مرد کی فرنبرداری ہوتی ہے تو کیا اس طرح مرد کی فرمانبرداری کرنے کا شرع میں جواز ہے یا نہیں؟ ازروے شرع شریف جواب باصواب عنایت فرمائیں اور عند اللہ ماجور ہوں۔
سائل محمد کمال حسین رضوی متعلم دارالعلوم انوار القادریہ کراچی
جواب
الجواب بعون الملک العلام الوھاب منہ الصدق والصواب
صورت مسئلہ میں ٹھریڈنگ (بھنویں بنانا) شریعت مصطفیٰ (ﷺ) میں منع ہے اور حرام ہے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو نپے تلے انداز پر پیدا فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم
بے شک ہم نے انسان کو اچھی صورت پر پیدافرمایا۔
تفسیر الطبری ص ۲۹۴ پر ہے اختلف اھل التاویل قولہ فقال بعضھم معناہ فی اعدل خلق وفی احسن صورۃ اہلِ تاویل نے اس آیت کی تاویل میں اختلاف فرمایا ہے تو بعض نے فرمایا ہے کہ اس کے معنی خلقت میں سب سے زیادہ متوازن اور صورت میں سب سے زیادہ حسین بنتا ہے پھر صاحب طبری نے کثیر روایات ذکر کرنے کے بعد فیصلہ فرمایا کہ بہتر ہے ''فی احسن تقویم'' کو ''فی احسن'' کے معنی میں لیا جائے یعنی اللہ تعالیٰ نے انسان کو سب سے اچھی صورت پر پیدا فرمایا ہے اس سلسلے میں علامہ کمال الدین دمیری علیہ الرحمۃ وصال ۸۰۸ھ نے خوب فرمایا ہے کہ خداوند ِقدوس نے فرمایا کہ ہم نے انسان کو بہترین صورت سانچے میں پیدا فرمایا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے اعضاء کو معتدل متناسب اور برابر قاعدے کے مطابق پیدا فرمایا ہے۔ (حیوۃ الحیوان ج ۱ ص ۱۵۲)
اس سلسلے میں علامہ ابو عبد اللہ محمد بن احمد انصاری قرطبی علیہ الرحمۃ مالکی نے ایک واقعہ بیان فرمایا ہے یعنی موسیٰ بن عیسیٰ ھاشمی اپنی اہلیہ سے بہت زیادہ محبت کرتے تھے ایک واقعہ بیان فرمایا ہے یعنی موسیٰ بن عیسیٰ ھاشمی اپنی اہلیہ سے بہت محبت کرتے تھے ایک مرتبہ آپ نے اپنی بیوی سے یہ کہا کہ اگر تو چاند سے زیادہ حسین اور خوبصورت نہیں ہے تو تجھے تین طلاقیں ہیں ان کی بیوی یہ سن کر ان سے پردہ کرنے لگی اور کہا کہ مجھے طلاق ہوگئی چنانچہ جب ان کی بیوی ان سے پردہ کرنے لگی تو آپ کی راتیں کٹنادشوار ہوگئیں جب صبح ہوئی تو خلیفہ منصورتشریف لائے تو ابن العربی نے ان کو اس بات سے آگاہ کیا یہ سن کر منصور نے تمام فقہائے کرام کو طلب کرکے ان کے سامنے یہ مسئلہ پیش کیا تو سوائے ایک فقیہہ کے تمام فقہا نے طلاق واقع ہونے پر اتفاق کیا اختلاف کرنے والے نے یہ کہا کہ عورت کو طلاق واقع نہیں ہوگی اس لئے باری تعالیٰ کا ارشاد ہے لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم : ہم ے انسان کو سب سے اچھے سانچ میں ڈھالا ہے تو منصور نے کہاکہ ہاں آپ کی بات درست معلوم ہوتی ہے چنانچہ منصور نے اس کی بیوی کو انکشاف سے مطلع کیا ،پس اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہترین صورت پر پیدا فرمایا ہے اب اس میں تغیرات اور ربدل اللہ تعالیٰ کو ناگوار ہے جبھی قرآن قرآن پاک میں تغیر وتبدل کی مذمت آئی ہے کہ ولامرنھم فلیغیرن خلق اللہ (النساء آیت ۱۱۹) میں انہیں حکم دوں گا تو وہ ضروربدل ڈالیں گے اللہ کی خلقت کو، پس یہ شیطان کا دعوٰی ہے کہ وہ لوگوں کو تغیر خلق اللہ پر ابھارے گا اس تغیر خلق خداوندی سے مفسرین کے نزدیک مراد یہ کسی جانو ر کی کھال کاٹ دینا ،کسی کو نامرد کردینا ،عورتوں کا بال کٹانا کر اپنی انوثیت(عورت پن) کو بگاڑ کر مردوں کی مشابہت اختیار کرنا ہے (عامہ کتب) اس بیان سے کوئی یہ نتیجہ اخذ نہ کرے کہ مونچھیں پست کرنا کیونکر شریعت میں ضروری ہے اور ایسے ہی حج وعمرہ میں حلق وتقصیر کا حکم کس کے لئے کیونکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے اس کا حکم فرمایا اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے۔
وما اٰتاکم الرسول فخذوہ وما نھکم عنہ فا نتھو ا
اور جو کچھ تمہیں رسول دیں وہ لے لو اور جس سے تمہیں روکیں بازرہو
تفسیر خازن ج ۱ ص ۶۷۰ پر ہے کہ وھو عام فی کل ما امر بہ النبی (ﷺ) او نھی عنہ ۔ یعنی اس آیت کا حکم عام ہے ہر وہ چیز جس کا حضور (ﷺ) حکم فرمائیں یا جس سے منع فرمائیں چونکہ بھنویں بنانا (ٹھریڈنگ) سے منع فرمایا لہذا (ٹھریڈنگ ) بھنویں بنانے سے باز رہنا اور مونچھوں وغیرہ کے بال پست و صاف کرنا لازم وضروری ہے ۔
حاشیہ محی الدین شیخ زادہ ج ۷ ص ۱۶۴ پر ہے او جمیع ما اٰتاکم بہ من الشرائع والاحکام فاقبلو فان لایتہ والا نزلت فی اموال فئی فھی عامتہ فی جمیع ما مار بہ البی (ﷺ) ونھی عنہ یعنی وہ تمام جو تمہیں شروعی احکام رسول اللہ (ﷺ) عا فرمائیں تو وہ قبول کرلو پس یہ آیت اگرچہ اموال فئی (خراج وجزیہ ) میں نازل ہوئی ہے مگر وہ عام ہے ہر اس چیز کے بارے میں جس میں حضور(ﷺ) نے حکم فرمایا یا اس سے روکا ہے جو بھنویں بناکر دیں۔
بخاری شریف ج ۲ ص ۸۷۹ پر ہے کہ:
لعن عبد اللہ الواشمات والمتنصمات والمفتلجات للحسن المغیرات خلق اللہ
یعنی حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے لعنت کی گود نے والیوں اور نوچنے والیوں اوردانتوں کو خوبصورتی کے لئے بنوانے والیوں پر جو تبدیل کرتی ہیں اللہ عزوجل کی خلقت کو اور صحیح مسلم شریف ج۲ ص ۲۰۵ پر ہے کہ:
عن عبد اللہ قال لعن اللہ الواشمات والمستوشمات والنامصات والمنتمصات والمتفلجات للحسن خلق اللہ قال فبلغ ذالک امراۃ من بنی اسد یقال لھا ام یعقوب وکانت تقر القرآن فاتتہ فقالت ما حدیث بلغنی عنک انک لعنت الواشمات ولمستوشمات والمتنصمات ولمتفلجات للحسن المغیرات خلق اللہ فقال عبد اللہ وما لی لا لعن من لعن رسول اللہ وھو فی کتاب اللہ عزوجل فقالت المراۃ لقد قرات بین لوحی المصحف فما وجدتہ فقال لئن کنت قرائتیہ لقد وجتہ قال اللہ عزوجل ما اٰتکم الرسول فخذوہ وما نھکم عنہ فا نتھو ا فقالت المراۃ فانی اری شیئا من ھذا علی امراتک الان قال اذھبی فانظری قال فدخلت علی امراۃ عبد اللہ فلم تر شیئا فجاء ت الیہ فقالت مارایت شیئا فقال اما لو کان ذالک لم نجا معھا ۔
یعنی حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ اللہ پاک نے گود نے والیوں اور گود وانے والیوں اور بولوں کو نوچنے والیوں اور نچوانے والیوں اور خلقت خدا میں تبدیلی کرنے والیوں پر لعنت فرمائی یہ حدیث بنو اسد کی ایک لونڈی تک پہنچی جس کو ام یعقوب کہا جاتا تھا وہ قرآن مجید پڑھتی تھی اس نے حضرت ابن مسعود کے پاس آکر کہا کہ میرے پاس آپ کی یہ کیسی روایت پہنچی ہے کہ آپ نے گودنے والیوں اور گودوانے والیوں اور بال نوچنے والیوں اور حسن کے دانتوں کوکشادہ کرنے والی اور اللہ کی خلقت بناوٹ میں تبدیلی کرنے والی پر لعنت کی ہے ۔
حضرت ابن مسعود نے فرمایا مین اس پر کیوں لعنت نہ کروں جس پر رسول اللہ (ﷺ) نے لعنت کی ہے حالانکہ وہ لعنت اللہ کی کتاب میں ہے اس عورت نے کہا میں نے تو پورا قرآن مجید پڑھا ہے میں نے اس میں یہ لعنت نہ دیکھی حضرت ابن مسعود نے فرمایا کہ جاکر دیکھ لو وہ عورت حضرت ابن مسعود کی زوجہ کے پاس گئی تو وہاں ان میں سے کوئی چیز بھی نہیں دیکھی پھر آپ کے پاس آئی اور کہنے لگی میں نے ان مین سے کوئی چیز نہیں دیکھی حضرت ابن مسعود نے فرمایا اگر وہ ممنوعہ کاموں کوکرتی تو ہم ان سے مجامعت نہ کرتے ۔
پس حدیث پاک سے بھی ٹھریڈنگ (بال نوچنا ) ممنوع ثابت ہوا جس کی وجہ تو ایذا جسمانی ہے۔اوردوسری وجہ مثلہ ہے یعنی انسانی خدو خال مین تبدیلی لانا جیسا کہ آگے آرہا ہے ۔
مثلہ کیا ہے؟
مثلہ یہ ہے کہ کسی عضو کو اتنا بگاڑدینا کہ وہ عضو اپنی حالت اور ہیئت پر برقرار نہ رہے یعنی تبدیل ہوجائے جیساکہ آجکل عورتیں اپنی بھنوؤں کے بالوں کو اکھیڑ کر اپنے آپ کو خوبصورت بناتی ہیں۔
امام احمد رضا خان کی فتویٰ
چنانچہ ہم اس سلسلے میں امام اہل سنت مجدد اعظم امام احمد رضا خان محدث بریلوی حنفی رحمۃ اللہ علیہ کا فتویٰ نقل کرتے ہیں جس سے مثلہ مو کے عنوان پر خاطر خواہ روشنی پڑ جاتی ہے اور مسئلہ مبرھن ومدلل ہوکر منصئہ شھود پر جلوہ گر ہوجاتا ہے اور ان لوگوں کا شک وشبہ بھی دور ہوجاتا ہے جو خواہ مخواہ کسی پر الزام عائد کرتے ہیں یا بد گمان ہوتے ہیں ۔
چنانچہ امام اہل سنت علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں کہ طبرانی معجم کبیر میں بسند حسن حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنھما سے راوی ہیں کہ رسول اللہ (ﷺ) فرماتے ہیں:
من مثل با لشعر فلیس لہ عند اللہ خلاق
جو بالوں کے ساتھ مثلہ کرے اللہ عزوجل کے یہاں اس کا کچھ حصہ نہیں والعیاذ با للہ رب العٰلمین یہ حدیث مثلہ مو میں ہے بالوں کا مثلہ یہی ہے کہ جو کلماتِ آئمہ سے مذکور ہوا ہے کہ عورت سر کے بال منڈوانے یا مرد داڑھی خواہ عورت بھنویں منڈوائیں کما یفعلہ کفرۃ الھند فی الحداد یا سیاہ خضاب کرے کمافی المنادی والعزیزی والخفی شروح الجامع الصغیر یہ سب صورتیں مثلہ مو میں داخل ہیں اور یہ سب حرام ہیں (فتاویٰ رضویہ شریف جلد نمبر ۱۰ ۱۳۳) اور جب مثلہ یہ ہے کہ بال بھنوؤں کے مونڈتا تو اس مثلہ سے بچنا لازم ہے کہ حدیث مبارک میں مثلہ کی مذمت وارد ہوئی مزید اس کی ممانعت اور مذمت حدیث پاک سے ذکر کی جاتی ہے چنانچہ احمد وبخاری حضرت عبد اللہ بن زید اور احمد وابوبکر بن شیبہ حضرت زید بن خالد اور طبرانی حضرت ابو ایوب بن انصاری (ص)سے راویت ہے کہ > نھی رسول اللہ (ﷺ) عن النھبتہ والمثلۃ
رسول اللہ (ﷺ) نے لوٹ اور مثلہ سے منع فرمایا۔
اب آلات کو ملاحظہ فرمائیں جن سے تھریڈنگ (بھنوؤں کے ) بال نوچے جاتے ہیں اور ایذا سے آنسو بہہ پڑتے ہیں اور ابرو کے اوپر نیچے سوجن واضح نمودار ہوجاتی ہے جس کے ازالے کے لئے کریم کا استعمال وغیرہ بھی کیا جاتا ہے اور تو اور بعض ضعیف العمر خواتین بھی اس مخنثانہ فعل کا ارتکاب کرتی ہیں جو شرعاً با لک ناجائز طریقہ زینت ہے ۔
طریقہ تھریڈنگ
(۱) دھاگہ (۲) چمٹی (۳) تھریڈر آلہ
(۱) دھاگہ :۔دھاگہ کے ذریعہ جیسا کہ آج کل عام طور پر کیا جاتا ہے کہ خاص دھاگے سے بھنوؤں کے بالوں کو ایک رگڑ سے نوچا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ بال رگڑ کی وجہ سے بھنوؤں سے غائب ہوجاتے ہیں ۔اسی طرح بھنوؤں کے بالوں کو باریک کردیا جاتا ہے اور حسب ِ ضرورت خواتین اسے اپنی خوبصورتی کے لئے موٹا یا باریک کرتی رہتی ہیں ۔ اس عمل سے جو کہ بالوں کو جڑ سے اکھیڑنا ہے ،بہت زیادہ تکلیف ہوتی ہے ۔
(۲) چمٹی :۔ چمٹی کے ذریعے سے بھی بالوں کو نوچا جاتا ہے ۔اور اس سے بھی حسب ِ ضرورت خوبصورتی کے لئے باریک یا موٹی بھنویں بنائی جاتی ہیں اس طرح چمٹی کے ذریعے بال اکھیڑکر اپنے لئے ایذا کا سامان کیا جاتا ہے ۔
(۳) تھریڈ آلہ:۔ اسی طرح ایک آلہ (ٹھریڈر) بھی دستیاب ہے جس کے ذریعے سے بالوں کو جلایا نوچا جاتا ہے ۔
اس دور میں قابل افسوس بات یہ ہے کہ جگہ جگہ بیوٹی پارلرز کھل چکے ہیں اور خواتین کی اکثریت ان بیوٹی پارلرز مین جاکرتھر یڈنگ(بھنویں بناتی ) کرواتی ہیں جوکہ شرعاً ناجائز ہے البتہ اگر بھنوؤں کے بال کچھ بڑھ گئے اور بھدے وبرے معلوم ہوتے ہوں تو از خود یا پھر شوہر کے کہنے پر بھی ترشواسکتی ہے ۔یعنی پھر بھی بالوں کو جڑ سے نہیں اکھیڑ سکتی جیسا کہ دھاگہ وچمٹی سے اکھڑاجاتا ہے۔
شرعی حکم
جیسے کہ فتاویٰ شامیہ ج ۵ ص ۴۶۴ پر ہے کہ
والناصیہ الخ ذکرہ فی الاختیار ایضا وفی المغرب النمص نتف الشعر ومنہ المنماص المنقاش ۱ھ ولعلہ محمول علی ما اذا فعلتہ لتتزین للاجانب والا فلو کان فی وجھھا شعر ینفرزوجھا عنھا بسبہ ففی تحریم ازالتہ بعد لان للنساء مطلوبۃ للتحسین الا ان یحمل علی مالا ضرورۃ الیہ لما فی نتفتہ با لمنماص من الایذا و فی تبیین المحارم ازالتہ بل تحسب ۱ھ وفی التاتارخانیہ عن المضمرات ولا باس با خذا الحاجبین وشعر وجھہ مالم یشبہ المخنث ۱ھ ومثلہ فی المجتبی تامل
ترجمہ:۔اور نامصہ ،اس کو اختیار میں بھی ذکر کیا گیا ہے اور مغرب میں ’’ نمص ‘‘ بال اکھیڑنا ہے اور اسی سے منماص ومنقاش (چمٹی نقش ونگار کے آلات)ہے اور ہوسکتا ہے وہ اس پر محمول ہوکہ جب عورت جانبوں(بھنویں اور اسکے اوپر نیچے ) کی زینت کیلئے اسے کرے ورنہ تو اگر اس کے چہرے پر بال ہوں جن سے اس کا شوہر نفرت کرے تو اس کے ازالے کی تحریم میں بُعد (دوری) ہے اس لئے کہ زینت عورتوں کی خوبصورتی کے لئے مطلوب ہے مگر جبکہ وہ محمول ہو اس پر کہ جس کی ضرورت نہیں ہے اس لئے بال اکھیڑنے والی چیز سے بال اکھاڑنے میں تکلیف حد سے زیادہ ہے اور تبیین المحارم میں ہے کہ چہرے سے بال دور کرنا حرام ہے مگر جبکہ اگ آئے عورت کی داڑھی مونچھیں تو ان کا زائل کرنا حرام نہیں بلکہ مستحب ہے اور مضمرات سے تاتارخانیہ میں نقل کیا گیا ہے کہ کچھ برائی نہیں ہے دو نوں بھنوؤں کو لینے میں اور اسکے چہرے کے بال لینے میں جیساکہ مخنث(ہیجڑا) کے مشابہ نہ ہو جائے اوراسکی مانند مجتبی میں ہے تو غور وفکر کر۔
ترشوانا :۔بعض لوگ فتاویٰ شامی کی عبارت سے تسامح کا شکار ہوئے ہیں اور ٹھریڈنگ کو جائز جانا جو سرارس مفاہیم فقہ اور تصریحات فقہا ء کے منافی ہے اور تسامح کا شکار لفظِ اخذ سے ہوئے ہیں کہ چونکہ عبارت میں اخذ ہے یعنی بال نوچنا کسی لغت ککی کتاب سے ثابت نہیں بلکہ اس کے معنی لینا ہے چنانچہ المنجد ص ۴۹پر ہے اخذ ،اخذ ،لینا اورفیروز الغات ص ۱۰ پر ہے اخذ ،اخذ اً،لینا،پکڑنا اور مصباح الغات ص ۲۹ پر ہے اخذ اخذاً ،لینا پس ثابت ہوا کہ تمام کتب لغات سے اخذ کے معنی لینا اور پکڑنا ہی ثابت ہیں بال نوچنا اور اکھیڑنا ثابت نہیں ہیں پھر لینا کیا ہے تو اس کا معنی جامع اردو فیروز الغات ص ۱۱۷۶ پر ہے ۔
- پکڑنا
- گرفت کرنا
- حاصل کرنا
- اخذ کرنا
بال نوچنا اور اکھیڑنا یہاں بھی ثابت نہیں ہیں پس اخذ کے معنی بال نوچنا یا اکھیڑنا سمجھنا بہت دور کی بات ہے اور خلاف قیاس ہے پھر فتاویٰ شامی کی اس عبارت کا ترجمہ صدر الشریعت معتمد ِ اعلحضرت الفقہ سیدی وسندی مولانا امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ نے فرمایا ہے اس سے ہماری تائید ہوجاتی ہے کہ اخذ کے معنی لینا اور تراشنا ہیں نہ کہ نوچنا اور اکھیڑنا ۔چنانچہ بہارِ شریعت سولہویں حصے میں ہے ۔
بھنوؤں کے بال اگر بڑے ہوگئے تو ان کو ترشواسکتے ہیں چہرہ کے بال لینا بھی جائز ہے جس کو خط بنوانا بھی کہتے ہیں ۔سینہ اور پیٹھ کے بال مونڈنا یا کتروانا اچھا نہیں ہاتھ پائوں پیٹ پر سے بال دور کرسکتے ہیں ۔(رد المختار)
تو جن عورتوں نے بھنویں نوچیں یا نچوائیں یا نچوانے کو کہا اسی طرح شوہر نے اپنی بیوی سے ایسا کہا ایسے لوگ سراسر حکم الہیہ وحکم مصطفویہ علیہ الصلوۃ والسلام کی صریح اور کھلم کھلا مخالفت کے سزاوار ہوچکے ہیں اب ان پر ازروئے قرآن پاک وحدیث رسول توبہ اوراستغفارلازمی ہے کہ وہ اپنے اس کردہ گناہ کی معافی مانگیں اوررسول اللہ (ﷺ) کا وسیلہ طلب کریں تاکہ اللہ عزوجل کی بارگاہ سے معافی کے حقدار ہوں بے شک اللہ کریم معاف فرمانے والا اورتوبہ قبول فرمانے والا ہے ۔ کتبـــــــــــــــہ
سید محمد اکبر الحق رضوی