Skip to content

وحدت الوجود کیا ہے؟

عقائدفلسفہ

تعارف

اس پر فتنہ دور میں حق و باطل میں تمیز کرنا بے حد دشوار ہو گیا ہے، دلائل و شواہد کی بھول بھلیوں میں صحیح راستہ اختیار کرنا عوام الناس کے لئے ممکن نہیں رہا ۔ اس کے باوجود میں کوشش کروں گا کہ وہ بات جو انتہائی ادق اور پیچیدہ ہے، وہ بے حد سادہ اور عام فہم انداز میں آپ تک منتقل کردوں تاکہ وہ تمام شکوک و شبہات جو موضوع کے حوالے سے پیدا ہوتے ہیں یا پیدا کئے جاتے ہیں ان کا شافی جواب میسر آسکے ۔

توحید کی بنیاد

کلمہ طیبہ دین کی بنیاد ہے، یہ کلمتہ التوحید ہے، یہ وہ جوہر ہے جو اگر ہم میں ہے تو ہم ہیں اور اگر ناپید ہے تو ہم کالعدم ہیں۔ لا الہ الا اﷲ کا مفہوم میں آپ پر واضح کرتا چلوں ۔ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں، کوئی عبادت کے لائق نہیں، اس کے سوا کسی کی پرستش اور پوجا نہیں کی جاسکتی ۔ یا یوں کہیے کہ اس کی ذات مقدسہ وحدت کی صفت سے متصف ہے، اگر کوئی اس کی ذات میں شریک متصور ہو تو لا الہ الا اﷲ کی نفی ہو گی اور اگر کوئی اس کی صفات میں شریک مانا جائے تب بھی لا الہ الا اﷲ کی نفی ہوگی ۔

یہ بھی ذہن میں رہے کہ ذات کا تعقل اور تصور صفات سے علیحدہ ہوکر ممکن نہیں ، انسان کی ذات اس کے جسم ، شکل و شباہت ، عادات و اطوار کے بغیر کچھ نہیں ۔ آپ کسی مکان کے بارے میں سوچیں تو جب تک اس کے بام و در ، اس کی تعمیر ، اس کا خاکہ آپ کے ذہن میں نہ آئے تب تک مکان کا تصور قائم نہیں ہوتا ۔

رب تعالیٰ اپنی ذات اور اپنی صفات دونوں میں وحدہٗ لا شریک ہے ، لیکن قابل غور بات یہ ہے کہ صفات میں شرک کا مفہوم تو سمجھ میں آتا ہے ، وہ سمیع و بصیر ہے ، وہ علیم و خبیر ہے ،وہ حیی و قیوم ہے ، وہ رحمن و رحیم ہے ، وہ قہار و جبار ہے وہ توّاب و غفار ہے یہ تمام صفات اس کی ہیں ، چنانچہ اس کے سوا کسی کو سمیع و بصیر مانو تو مشرک ، علیم و خبیر اس کے سوا کسی کو گردانو تو شرک ، اس کے سوا کسی کو حیی و قیوم سمجھو تو شرک ، اسی طرح اس کی کسی صفت کو کسی دوسرے کے لئے تسلیم کرو تو شرک ہے ۔

لیکن سوال یہ ہے کہ ذات میں شرک کا مفہوم کیا ہے ، ہم کسی کو اس کی ذات میں کیسے شریک ٹھہرا سکتے ہیں ؟۔ ظاہر ہے کہ اس کا جواب فوری طور پر ذہن میں یہ آتا ہے کہ اس کے سوا کسی کو الہٰ مانو تو یہ ذات میں شرک ہوگا ۔ میں عرض کروں گا کہ یہ درست نہیں ، وہ اس لئے کہ الوہیت بھی اس کی صفت ہے ، اس کے علاوہ کسی کو الہٰ ماننے سے اس کی صفت ِ الوہیت میں شرک ہو گا نہ کہ اس کی ذات میں ، تو پھر ذات میں شریک ہونے کا مفہوم کیا ہے ؟۔

خدا کی پہلی صفت

اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لئے ہمیں مزید غور و خوض سے کام لینا ہو گا ۔ خدا تعالیٰ کی سب سے پہلی صفت صفتِ وجود ہے ۔ ’’وجود ‘‘ کا مفہوم کیا ہے ؟ کیا وجود جسم کو ، اس کے اعضاء کو ، گوشت پوست ، ہڈیوں اور اور خون کو کہتے ہیں ؟۔ گفتگو کے دوران ہم کہتے ہیں کہ میرا جسم کمزور ہو گیا ہے ، میرے اعضاء متناسب ہیں ، میری ہڈیاں مظبوط ہیں ، میرا خون بہہ رہا ہے وغیرہ وغیرہ ، گویا ہم یہ کہتے ہیں کہ ہم کچھ اور ہیں اور ہمارا جسم ، ہمارے اعضاء ، ہمارا گوشت ، ہڈیاں ، خون وغیرہ کچھ اور ہیں ، جیسے ہم کہیں کہ یہ میرا مکان ہے ، یہ میرا کمرہ ہے ، یہ میری کتاب ہے ، یہ میرا لباس ہے ، ظاہر ہے کہ جسے ہم نے اپنا کہا ہے وہ کچھ اور ہے اور ہم کچھ اور ہیں ۔

اب ’’وجود ‘‘ کا مفہوم سمجھئے ’’ الوجود شدن ‘‘ یعنی وجود کے معنی ہیں ’’ہونا ‘‘ ۔یوں سمجھئے کہ ’’ہست و نیست ‘‘ ’’وجود و عدم‘‘ ۔ہست ’’ہونا ‘‘ ہے اور نیست ’’نہ ہونا ‘‘ ہے ۔ وجود ’’ ہونا‘‘ ہے ۔ عدم ’’نہ ہونا ‘‘ ہے ۔ذات کی پہلی صفت’’ وجود ‘‘ہے ۔ہم کہیں کہ زید ہے ، یا زید نہیں ہے ۔ہم نے زید پر’’ ــہونے ‘‘ یا ’’نہ ہونے ‘‘ کا حکم لگایا ہے ، گویا ہونا یا نہ ہونا زید کی صفت ہے ۔ یہ علیحدہ بحث ہے کہ یہ صفت عین ذات ہے یا غیر ذات ۔ اگر پہلے ہم اﷲ کی صفت وجود کو نہ مانیں تو نہ ہم اس کو سمیع و بصیر مان سکتے ہیں نہ حیی و قیوم ، نہ علیم و خبیر مان سکتے ہیں ، نہ رحمن و رحیم ، نہ اس کی قدرت پر ایمان لا سکتے ہیں نہ اس کی حکمت پر ، خدا کی کسی صفت پر ایمان نہیں لایا جاسکتا جب تک اس کی صفت ِوجود کو نہ مانا جائے ۔

صفت وجود، عین ذات ہے

رہی یہ بحث کہ وجود عین ذات ہے یا غیر ذات ۔ تو اس کے بارے میں عرض ہے کہ اگر ذات کا وجود ہے تو ذات ہے، اگر وجود نہیں ہے تو ذات نہیں ہے، ذات کا ہونا ہی تو ذات ہے، گویا ہم صفت وجود کو غیر ذات نہیں مانتے بلکہ عین ذات مانتے ہیں ۔ یا یوں کہئیے کہ صفت وجود وہ صفت ہے جو عین ذات ہے ۔ اس مقام پر ہمیں اس سوال کا جواب ملا کہ صفات الہیٰہ میں شرک کا مفہوم تو واضح ہے لیکن ذات الٰہی میں شرک کا تصور کیا ہے؟ اگر ہم غیر خدا کو سمیع و بصیر، علیم و خبیر، رحیم و کریم، قہار و جبار مانیں تو ہم خدا کی صفات میں شرک کے مرتکب قرار پائے اور اگر ہم نے خدا کے سوا کسی اور کے وجود کو تسلیم کیا تو یہ شرک فی الذات ہونے کے ساتھ شرک فی الصفات بھی ہوا ۔

جب ہم نے کلمہ طیبہ پڑھا اور کہا کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ وحدہٗ لا شریک ہے اپنی ذات میں اپنی صفات میں یکتا ہے، تو جب تک ہم یہ نہ مانیں کہ اس کی صفتِ وجود میں کوئی شریک نہیں، اس کے سوا کسی کا وجود نہیں، اس وقت تک توحید کا صحیح تصور ممکن نہیں ۔

ایک شبہ اور اس کا ازالہ

اس پر سوال ہو تا ہے کہ یہ زمین ، آسمان ، چاند ، سورج ، چرند ، پرند ، انسان ، حیوان ، نور، ظلمت ، ہدایت و گمراہی ، خیر و شر ان سب کا وجود ہے اور اگر ہم ان کا وجود نہ مانیں تو اﷲ کی صفت تخلیق کا انکار لازم آئے گا اور اس طرح ہم شرک سے بچ کر کفر کا شکار ہو جائیں گے ۔

اس کے جواب میں عرض ہے کہ وجود حقیقی تو اﷲ ہی کا ہے ، باقی تمام کائنات کا وجود حقیقی نہیں مجازی ہے ۔ حقیقتِ وجود ، وجودِ واحد کے سوا موجود نہیں ، آئینہ خانے میں جہاں ہر طرف ، ہر سمت بے شمار آئینے جڑے ہوں ، ایک شمع روشن ہو تو وہ ہر آئینے میں جگمگاتی نظر آتی ہے ، ہر عکس اس ایک شمع کا محتاج ہے ، وہ ایک شمع بجھ جائے تو ہر سو اندھیرا چھا جائے ۔ ساری جگمگاہٹ اور روشنی اسی ایک شمع کی مرہون منت ہے ۔لیکن شاید اس مثال پر اعتراض ہو کہ آئینوں کا تو اپنا وجود ہے ، اس لئے اس بات کو دوسرے انداز میں سمجھنے کی کوشش کیجئے ، آپ ایک کمرے میں تشریف رکھتے ہیں ، آپ کے سامنے چار پائی ہے ، پیچھے دروازہ ہے ، دائیں طرف کھڑکی ہے اور بائیں طرف الماری ہے ، آپ کے اوپر چھت ہے اور نیچے فرش ہے ۔ اگر آپ رکھ پھیر لیں تو آگے پیچھے ، دائیں ، بائیں کا مفہوم بدل جائے گا اور اسی طرح اگر آپ چھت پر چلے جائیں تو اوپر نیچے کا تصور بھی تبدیل ہو جائے گا ۔ یہ آگے، پیچھے ، دائیں ، بائیں ، اوپر ، نیچے ، ان کا اپنا کوئی وجود نہیں ہے ۔ آپ ہیں تو یہ سمتیں اور جہتیں بھی ہیں ، اگر آپ نہیں تو یہ بھی نہیں ۔ آپ جب کمرے میں داخل ہوئے تو ان سمتوں کو ساتھ لے کر نہیں آئے کہ ان کا اپنا علیحدہ کوئی وجود نہیں ہے ، آپ کے وجود کے باعث یہ از خود متصور ہو گئی ہیں ۔

اگر ریاضی کے حوالے سے سوچیں تو تمام اعداد ’’ایک ‘‘ کے مرہون منت ہیں ۔ بلکہ کمپیوٹر میں تو ایک اور صفر صرف یہی عدد استعمال ہوتے ہیں ، ’’ایک ‘‘وجود ہے ، ’’صفر ‘‘ عدم ہے ، باقی تمام اعداد و شمار اسی ایک وجود کے مرہون منت ہیں ۔ وجود حقیقی وہی ایک وجود ہے ، باقی سب کچھ اس کی صفات کا جلوہ ہے ، اس کی قدرت کی کرشمہ سازی ہے ، کہیں اس کی صفت ِ جلال جلوہ نما ہے ، کہیں اس کے جمال کی جلوہ آرائی ہے ۔

جدت پسند اذہان کی تسکین کے لئے اسی بات کو ایک دوسرے انداز میں عرض کرتا ہوں ، کسی مسئلہ کی تحقیق کے لئے کچھ چیزیں فرض کرلی جاتی ہیں ، فرض کرو ایک شخص ہے ، اس کے فلاں فلاں اہل خانہ ہیں ، فلاں حالات سے وہ گذرتا ہے اور فلاں صورت حال پیش آتی ہے ، اس صورت میں اس شخص کے لئے شریعت کا کیا حکم ہے ۔علماء جانتے ہیں کہ مسائل کے استنباط کے لئے اس نوعیت سے چیزیں فرض کرنا ضروری ہو جاتا ہے ۔ یا جیسے حساب و کتاب کے معاملات میں سوال حل کرنے کے لئے چند چیزیں فرض کرلی جاتی ہیں ۔ الجبرا میں کہتے ہیں کہ اس چیز کی قیمت خرید فرض کرلی جو برابر ہے ’’لا ‘‘ کے ۔ اب سب جانتے ہیں کہ ’’لا ‘‘ کا تو مفہوم ہے ’’نہیں ‘‘ ۔ لیکن جب قیمت ’’لا ‘‘فرض کرلی جاتی ہے تو سوال حل ہو جاتا ہے اور جواب تلاش کرنے میں آسانی ہو جاتی ہے ۔

یہ تمام چیزیں جو ہم فرض کرتے ہیں ان کا حقیقتاً کوئی وجود نہیں ہوتا ، لیکن عالم فرض میں ایسی بے شمار اشیاء آن واحد میں متحقق ہو جاتی ہیں ، اﷲ تبارک وتعالیٰ جب کسی شئے کی تخلیق کا ارادہ فرماتا ہے تو فرماتا ہے ’’کن ‘‘ تو وہ چیز ہوجاتی ہے انما امرہ اذا ارادشیئا ان یقولہ کن فیکون ۔ اس کا حکم یہی ہے جب وہ کسی چیز کا ارادہ فرمائے تو اس سے کہے ہو جا تو وہ (فوراً )ہو جاتی ہے ۔

ظاہر ہے کہ حقیقی اشیاء کے بنانے میں وقت صرف ہوتا ہے ، فرضی اشیاء کی تخلیق میں نہیں ، فرق اتنا ہے کہ جتنی ہماری حیثیت اور وقعت ہے اتنی حیثیت ہماری فرض کی ہوئی چیزوں کی ہے اور خدا کی تخلیق کردہ اشیاء اس حقیقی وجود کے مقابلے میں فرضی ہونے کے باوجود ’’موجود ‘‘ معلوم ہوتی ہیں ، دیکھئے شاعر بتاتے ہیں اور صوفیاء کرام نے کہا ہے کہ یہ دنیا دراصل عالم خواب ہے ، جب ہماری موت آئے گی تو یوں کہئے کہ ہماری آنکھ کھلے گی ۔ تو اس کائنات کو بھی اسی انداز میں خواب تصور کیجئے ، لیکن یہ خواب دکھانے والا وہ قادر مطلق ہے اس لئے اس خواب کو خواب سمجھنا بھی خواب و خیال کی بات معلوم ہوتی ہے ۔

بہر کیف اس تمام گفتگو کا مقصد یہ ہے کہ یہ تمام کائنات مجاز ہے ، فرضی چیز ہے اور حقیقی وجود صرف اس کا ہے ۔

اب غور کیجئے کہ ’’وحدت الوجود ‘‘ پر یقین رکھنے والوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے شرک کیا ، کہ یہ چونکہ صرف رب کے وجود کو مانتے ہیں اس لئے انہوں نے گویا ہر موجود شئے کو خدا تسلیم کرلیا ، ان کے کہنے کے مطابق جب خدا کے سوا کچھ نہیں تو پھر جو کچھ ہے وہ خدا ہی ہے ، پھر ہر شئے خدا ہے ۔ دراصل یہ مغالطہ ہے ، شرک تو اس وقت ہو گا جب خدا کے سوا کسی شئے کو مانو گے ، تسلیم کرو گے ، پھر اسے خدا کی ذات و صفات میں شریک ٹھہرائوگے ، جب تمہارا عقیدہ یہ ہوگا کہ خدا کے سوا کچھ نہیں ، یہ کائنات رنگ و بو ، یہ عالم آب و گل ، یہ زمین و آسمان ، یہ ستارے ، یہ کہکشاں ، یہ نباتات و جمادات ، یہ انسانوں کی فوج ظفر موج ، یہ حشرات الارض ، یہ سیم و زر کے انبار ، یہ اجناس و اثمار ، یہ شجر و حجر ، یہ سب مجاز ہیں ، یہ سب فرضی چیزیں ہیں ، یہ ذہن و نظر کا فریب ہے ، یہ ساری کائنات اعتباری ہے ، حقیقی نہیں ، خدا کے سوا کچھ نہیں ہے ، جب تم اس کے سوا کسی کے وجود کو تسلیم ہی نہیں کرتے تو اس کی ذات میں کسی کو شریک کیسے کر سکتے ہو ۔ جس کو تم شریک کرنا چاہو گے پہلے اس کے وجود کو تو مانو گے ، جو چیز ہے ہی نہیں وہ خدا کی ذات و صفات میں شریک کیسے ہو سکتی ہے ؟۔

وماعلینا الاالبلاغ المبین