Skip to content

امام احمد رضا خاں پر تکفیرِ مسلمین کے الزام کی حقیقت

بعض لوگ کم علمی کی بنا کہہ دیا کرتے ہیں کہ مولانا احمد رضا خاں بریلوی قدس سرہٗ نے اپنے سوا تمام مسلمانوں کی تکفیر کی ہے، تو اس مسئلہ کی وضاحت مولوی محمد ادریس کاندھلوی دیوبندی (م۱۹۷۴ء) کے اس بیان سے بھی ہوجاتی ہے :

’’حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی فرمایا کرتے تھے کہ علماء کسی کوکا فر نہیں بناتے اور نہ کوئی کسی کو کافر بنا سکتا ہے، کافر تو خود اپنے قول و فعل سے بنتا ہے، البتہ علماء اس کو یہ بتادیتے ہیںکہ اس قول و فعل سے آدمی کافر ہوجاتا ہے، کافر بنانا علماء کے اختیار میں نہیں اور بتا دینا جرم نہیں‘‘۔( مولانا محمد ادریس کاندھلوی، مسلمان کون کافر کون، مطبوعہ لاہور، ص۱۱)(ایضاً۔ افاضات الیومیہ(ملفوظات مولانا اشرف علی تھانوی)حصہ چہارم، ملفوظ نمبر ۷۴، مطبوعہ ادارہ اشرفیہ پاکستان، ٹمپل روڈ کراچی(سن طباعت ندارد) ص۴۹ )

امام احمد رضا کی احتیاط

امام احمد رضا خاں بریلوی علیہ الرحمہ نے کسی کو کافر نہیں بنایا، بلکہ شرعی فریضہ ادا کیا اور بتایا کہ تم لوگوں کی یہ عبارتیں تنقیص الوہیت و رسالت کی وجہ سے کفریہ ہیں ، تمہیں اسلام سے خارج کر رہی ہیں ، ان سے توبہ کیجئے، یہ کہنا کوئی جرم نہیں بلکہ خیر خواہی ہے، امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمہ کی احتیاط کا یہ عالم ہے کہ ۱۳۰۹ھ میں رسالہ’’ سبحان السبوح‘‘ پہلی بار شائع ہوا، اس میں گنگوھی صاحب اور قائلین امکان کذب پر اٹھتر وجہ سے لزوم کفر ثابت کیا ، لیکن تکفیر نہیں کی، ۱۳۱۶ھ میں رسالہ’’ الکوکبۃ الشہابیہ‘‘ شائع ہوا، جس میں مولوی اسماعیل دہلوی(م۱۸۳۱ء) کے ستّر کفریات گھائے، لیکن تکفیر سے اجتناب ہی کیا۔

اس حقیقت کو خود امام احمد رضا بریلوی رحمتہ اﷲ علیہ نے یوں بیان فرمایا ہے:

’’ مسلمانو! یہ روشن ظاہر، واضح قاہر عبارات تمہارے پیش نظر ہیں، جنہیں چَھپے ہوئے دس دس اور بعض سترہ اور تصنیف کو اُنیس سال ہوئے اور ان دشنامیوں کی تکفیر تو اب چھ سال یعنی ۱۳۲۰ھ سے ہوئی ہے، جب سے ’’ المعتمد المستند‘‘ چھپی، اب عبارات کو بغور نظر فرمائو اور اﷲ و رسول کے خوف کو سامنے رکھ کر انصاف کرو۔

یہ عبارتیں فقط اُن مفتریوں کی افتراء ہی نہیں ردّ کرتیں بلکہ صراحۃً صاف صاف شہادت دے رہی ہیں کہ ایسی عظیم احتیاط والے نے ہرگز ان دشنامیوں کو کافر نہ کہا، جب تک یقینی قطعی واضح روشن جلی طور سے اُن کا صریح کفر آفتاب سے زیادہ روشن نہ ہو لیا، جس میں اصلاً اصلاً ہرگز ہرگز کوئی گنجائش ، کوئی تاویل نہ نکل سکی۔

آخر یہ بندہ خدا وہی تو ہے جو ان کے اکابر پر ستر ستر وجہ سے لزوم کفر کا ثبوت دے کر یہی کہتا ہے کہ ہمیں ہمارے نبی صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے اہل لا الہٰ الا اﷲ کی تکفیر سے منع فرمایا ہے، جب تک وجہ کفر آفتاب سے زیادہ روشن نہ ہوجائے اور حکم اسلام کے لئے اصلاً کوئی ضعیف سا ضعیف محمل بھی باقی نہ رہے۔

یہ بندہ خدا وہی تو ہے جو خود ان دشنامیوں کی نسبت جب تک ان کی دشنامیوں پر اطلاع یقینی نہ ہوئی تھی، اٹہتروجہ سے بحکم فقہائے کرام لزوم کفرکا ثبوت دے کر یہی لکھ چکا کہ ہزار ہزار بار حاش ﷲ میں ہرگز ان کی تکفیر پسند نہیں کرتا۔

جب کیا ان سے کوئی ملاپ تھا اب رنجش ہوگئی؟ جب ان سے جائداد کی کوئی شرکت تھی اب پیدا ہوئی؟ حاشا ﷲ مسلمانوں کا علاقہ محبت وعداوت صرف محبت وعداوت خدا ورسول ہے، جب تک ان دشنام دہوں سے دشنام صادر نہ ہوئی، یا اﷲ و رسول کی جناب میں ان کی دشنام نہ دیکھی سنی تھی، اس وقت تک کلمہ گوئی کا پاس لازم تھا، غایت احتیاط سے کام لیا ، حتیٰ کہ فقہائے کرام کے حکم سے طرح طرح ان پر کفر لازم تھا، مگر احتیاطاً ان کا ساتھ نہ دیا اور متکلمین عظام کا مسلک اختیار کیا، جب صاف صریح انکار ضروریات دین و دشنام دہی رب العٰلمین و سید المرسلین صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وعلیہم اجمعین آنکھ سے دیکھی تو اب بے تکفیر چارہ نہ تھا کہ اکابر آئمہ دین کی تصریحیں سن چکے۔ ( امام احمد رضا، تمہید ایمان، مطبوعہ ادارہ معارف نعمانیہ لاہور۱۴۰۹ھ/ ۱۹۸۸ء، ص۴۹، ۵۰)

مخالفین کا اعتراف

مرتضیٰ حسن دربھنگی(م۱۹۵۱ء) سابق ناظم تعلیمات شعبہ تبلیغ دارالعلوم دیوبند لکھتے ہیں!

’’ اگر (مولانا احمد رضا) خاں صاحب کے نزدیک بعض علماء دیوبند واقعی ایسے تھے جیسا کہ انہوں نے سمجھا، تو خاں صاحب پر ان علماء دیوبند کی تکفیر فرض تھی اگر وہ ان کو کافر نہ کہتے تو خود کافر ہوجاتے‘‘۔

(مرتضیٰ حسن دربھنگی، اشدالعذاب، مطبوعہ مجتبائی جدید دہلی، سن طباعت ندارد، ص۱۳)

پروپیگنڈے کا جواب

امام احمد رضاقدس سرہٗ العزیز الزامِ تکفیر کے بارے میں فرماتے ہیں!

’’ ناچار عوام مسلمین کو بھڑکانے اور دن دہاڑے ان پر اندھیری ڈالنے کو یہ چال چلتے ہیں کہ علمائے اہل سنت کے فتوائے تکفیر کا کیا اعتبار؟ یہ لوگ ذرہ ذرہ سی بات پر کافر کہہ دیتے ہیں ، ان کی مشین میں ہمیشہ کفر ہی کے فتوے چھپا کرتے ہیں، اسماعیل دہلوی کو کافر کہہ دیا، مولوی اسحاق صاحب کو کہہ دیا، مولوی عبدالحی صاحب کو کہہ دیا، پھر جن کی حیاء اور بڑھی ہوئی ہے وہ اتنا اور ملاتے ہیں کہ معاذ اﷲ حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب کو کہہ دیا، شاہ ولی اﷲصاحب کو کہہ دیا، حاجی امداد اﷲ صاحب کو کہہ دیا، مولانا شاہ فضل رحمن صاحب کو کہہ دیا، پھر جو پورے ہی حد حیاء سے اونچے گزر گئے وہ یہاں تک بڑھتے ہیں کہ عیاذاباﷲ عیاذاباﷲ حضرت شیخ مجدد الف ثانی رحمتہ اﷲ علیہ کو کہہ دیا، غرض جسے جس کا زیادہ معتقد پایا، اس کے سامنے اسی کا نام لے دیا کہ انہوں نے اسے کافر کہہ دیا، یہاں تک کہ ان کے بعض بزرگواروں نے مولانا مولوی شاہ محمد حسین صاحب الہٰ آبادی مرحوم مغفور سے جا کر جڑی کہ معاذاﷲ معاذاﷲ معاذاﷲ حضرت سیدنا شیخ اکبر محی الدین ابن عربی قدس سرہٗ کو کافر کہہ دیا، مولانا کو اﷲ تعالیٰ جنت عالیہ عطا فرمائے ، انہوں نے آیہ کریمہ اِن ْجآ ئَ کُمْ فَا سِقٌ بِنَبَاِِ فَتَبَیَّنُوْا پر عمل فرمایا، خط لکھ کر دریافت کیا ، جس پر یہاں سے رسالہ’’انجاء البری عن وسواس المفتری‘‘ لکھ کر ارسال ہوا اور مولانا نے مفتری کذاب پر لاحول شریف کا تحفہ بھیجا، غرض ہمیشہ ایسے ہی افتراء اٹھایا کرتے ہیں ‘‘۔

(امام احمد رضا بریلوی، تمہید ایمان، مطبوعہ ادارہ معارف نعمانیہ لاہور ۱۹۸۸ء، ص۴۵،۴۶)