بسم اﷲ الرحمن الرحیم
غیر مقلدین مدرسہ تدریس القرآن والحدیث وجامع محمدی اہل حدیث، سنت نگر، لاہور کا شائع کردہ کتابچہ’’ داتا کون؟ ‘‘ از مولوی مفتی عبدالرحمن نظر سے گزرا ، اس کے صفحہ ۱۰ پر مولوی صاحب لکھتے ہیں :
’’حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم پانچ بزرگوں کو داتا مانتی تھی اور یہ اُن کے پانچ تن پاک تھے، ہمارے قبر پرست مسلمانوں کا پانچ تن کا عقیدہ اسی قدیم عقیدہ کی یاد گار ہے‘‘۔
حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کے پانچ بت
ہم مختلف کتب تفاسیر اور احادیث کے مستند حوالہ جات سے قرآن مجید کی آیت جس میں پانچ بتوں ودّ، سواع، یغوث، یعوق اور نسر کا ذکر ہے ، قارئین کی خدمت میں تفصیلاً عرض کرتے ہیں ۔
سورۃ نوح میں ہے ، حضرت نوح علیہ السلام نے قوم کو خدائے وحدہٗ لا شریک کی بندگی کی دعوت دی، لیکن لوگوں نے آپ کو جھٹلایا، یہاں تک کہ جو قوم کے بڑے سردار تھے انہوں نے کہا :
وَقَالُوا لَا تَذَرُنَّ آلِہَتَکُمْ وَلَا تَذَرُنَّ وَدّاً وَلَا سُوَاعاً وَلَا یَغُوثَ وَیَعُوقَ وَنَسْراً (سورۃ نوح: آیت ۲۳)
ترجمہ۔ اور وہ بولے ہرگز نہ چھوڑنا اپنے معبودوں کو اور ہرگز نہ چھوڑنا ودّ اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر کو۔
(اگرچہ قوم نوح کے بت بہت تھے مگر یہ پانچ بت اُن کے نزدیک بڑی عزت والے تھے) جن کی تفصیل درج ذیل ہے۔
حضرت شیث علیہ السلام کے واقعہ کا بیان
حافظ ابن عساکر رحمۃ اﷲ علیہ ،حضرت شیث علیہ السلام کے واقعہ میں بیان فرماتے ہیں کہ حضرت عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ حضرت آدم علیہ السلام کے چالیس بچے تھے، بیس لڑکے اور بیس لڑکیاں، اُن میں جن کی بڑی عمریں ہوئیں اُن میں ہابیل ، قابیل، صالح اور عبدالرحمن تھے، جن کا پہلا نام عبدالحارث اور ودّ تھا، جنہیں (حضرت) شیث(علیہ السلام) اور ہبۃ اﷲ بھی کہا جاتا ہے، تمام بھائیوں نے سرداری انہ کو دے رکھی تھی، ان کی اولاد یہ چاروں تھے، یعنی سواع، یغوث، یعوق اور نسر۔ (تفسیر ابن کثیر، پارہ ۲۹)
ابو جعفر نماز کا واقعہ
ابن ابی حاتم میں ہے کہ ابو جعفر نماز پڑھ رہے تھے کہ لوگوں نے یزید بن مہلب کا ذکر کیا ، آپ نے فارغ ہوکر فرمایا وہ وہاں قتل کیا گیا جہاں سب سے پہلے غیر خدا کی پرستش کی گئی، واقعہ یہ ہوا کہ ایک مسلمان جسے لوگ بہت چاہتے تھے وہ مرگیا، یہ لوگ اُس کی قبر پر بابل میں معتکف ہوگئے اور رونا پیٹنا اور اُسے یاد کرنا شروع کردیا اور بڑے بے چین اور مصیبت زدہ ہوگئے، ابلیس لعین نے یہ دیکھ کر انسانی صورت میں اُن کے پاس آکر اُن سے کہا کہ اس کی شبیہہ کیوں قائم نہیں کرلیتے، جو ہر وقت تمہارے سامنے رہے اور تم اُسے نہ بھولو، سب نے اس رائے کو پسند کیا، ابلیس نے اُس آدمی کی تصویر بناکر اُن کے پاس رکھ دی جسے وہ یاد کرتے تھے، جب وہ سب اس میں مشغول ہوگئے تو ابلیس نے کہا کہ تم سب کو یہاں آنا پڑتا ہے میں تمہیں اس کی بہت سی تصویریں بنادوں (اُس وقت تصویریں بنانا جائز تھا) تم اپنے گھروں ہی میں رکھ لو، وہ اس پر راضی ہوگئے ، اب تک یہ تصویریں یادگار ہی تھیں، مگر اُن کی دوسری پشت میں جاکر اصل واقعہ سب فراموش کرگئے اور اپنے باپ دادا کو بھی انہیں معبود بنا لیا اور اﷲ جل شانہٗ کے سوا اُن کی عبادت کرنے لگے، سب سے پہلے اﷲ جل جلالہٗ کے بعد جس کی عبادت کی گئی وہ ودّ تھا۔
امام بغوی کی روایت
امام بغوی نے نقل کیا ہے کہ محمد بن کعب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ یہ پانچوں دراصل نیک وصالح بندے تھے جو حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت نوح علیہ السلام کے درمیانی زمانہ میں گزرے تھے، اُن کے بہت سے لوگ معتقد اور متبع تھے، اُن لوگوں نے اِن کی وفات کے بعد ایک عرصہ دراز تک انہی کے نقش قدم پر عبادت اور اﷲ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت جاری رکھی، کچھ عرصہ کے بعد شیطان نے انہیں بہکایا کہ تم اپنے جن بزرگوں کے تابع عبادت کرتے ہو اگر اُن کی تصویریں بنا کرسامنے رکھا کرو تو تمہاری عبادت بڑی مکمل ہوجائے گی، خشوع وخضوع حاصل ہوگا، یہ لوگ اُن کے فریب میں آکر اُن کے مجسمے بنا کر عبادت گاہ میں رکھنے لگے اور اُن کو دیکھ کر بزرگوں کی یاد تازہ ہوجانے سے ایک خاص کیفیت محسوس کرنے لگے، یہاں تک کہ اسی حال میں یہ لوگ یکے بعد دیگرے فوت ہونے لگے اور بالکل نئی نسل نے اُن کی جگہ لے لی،تو شیطان نے اُن سے کہا کہ تمہارے باپ دادا اِن مورتیوں کی پوجا کیا کرتے تھے تم بھی کرو ،وہ بہکاوے میں آگئے، اِس طرح بت پرستی کا آغاز ہوگیا، پھر ان مورتیوں کے ہی مذکورہ بالا نام رکھ لئے۔
محمد بن کعب رضی اﷲ تعالیٰ کی روایت
محمد بن کعب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ہی سے روایت ہے کہ یہ پانچوں حضرت آدم علیٰ نبینا علیہ الصلوٰہ والسلام کے بیٹے تھے، اُن میں سے ایک فوت ہوگیا تو وہ بہت غم ناک ہوئے، شیطان نے کہا میں تمہارے لئے اس جیسا بنادیتا ہوں، جب اُسے دیکھو گے تو اُسے یاد کروگے، اُنہوں نے کہا ٹھیک ایسا بنادو، شیطان نے تانبے اورپیتل سے ایک مورت بنائی اور اسے مسجد میں گاڑ دیا، پھر دوسرا فوت ہوا اُس کا بھی مجسمہ بنادیا، حتیٰ کہ سارے فوت ہوگئے اور اشیاء بدل گئیں، یہاں تک کہ کچھ عرصہ بعد انہیں نے اﷲ کریم جل مجدہٗ کی عبادت ترک کردی، شیطان نے انہیں کہا تمہیں کیا ہوا کہ تم اپنے اور اپنے آبائو اجداد کے معبودوں کی عبادت نہیں کرتے، کیا تم اُن کو اپنے مصلوں میں نہیں دیکھتے، پس لوگوں نے اﷲ کے سوا معبودانِ باطل(بتوں) کی پوجا شروع کردی، حتیٰ کہ اﷲ تبارک وتعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کو مبعوث فرمایا۔
حضرت عبداﷲ بن عباس کی روایت
حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ نوح(علیہ السلام) کی قوم میں جو بت پوجے جاتے تھے، آخر میں وہ عرب لوگوں میں آگئے، وَدّ(قبیلہ قضاعہ کی شاخ) بنی کلب(بن وترہ) کا بت تھا، انہوں نے دُومہ الجندل میں بنا رکھا تھا، سواع، قبیلہ ہذیل کا بت تھا، (ینبوع کے قریب رُہاط کے مقام پر اس کا مندر واقع تھا)، یغوث، مراد قبیلہ والوں کا بت تھا، یمن مین اس کی پوجا کا رواج تھا(قبیلہ طے کی شاخ اَنْعُم اور قبیلہ مذحج کی بعض شاخوں کی بھی معبود تھا، مذحج والوں نے یمن اور حجاز کے درمیان جُرش کے مقام پر اسکا بت نصب کر رکھا تھا) ، پھر جرف میں بنی عظیف کا ہوگیا جو شہر سبا کے پاس ہے، (سبا وہ شہر ہے جو ملکہ بلقیس کے ملک یمن کا پایہ تخت تھا) ، یعوق ، یمن کے قبیلہ ہمدان کا بت تھا،اور نسر قبیلہ آلِ ذوالکلاع کا بت تھا، (اور بلخع کے مقام پر اس کا بت نصب تھا، سبا کے قدیم کتبوں میں اس کا نام نسور لکھا ہوا ملتا ہے، اس کے مندر کو لوگ بیت نسور اور اس کے پجاریوں کو اہلِ نسور کہتے تھے)۔
بتوں کی تفصیل
یہ سب چند نیک اشخاص کے نام ہیں(حضرت)نوح (علیہ السلام) کی قوم میں تھے، جب وہ فوت ہوگئے تو شیطان نے اُن کے دلوں میں ڈالا کہ ان کو اپنی مجلسوں میں جہاں وہ بیٹھا کرتے تھے بت نصب کردو، اور اُن کے نام وہی رکھوجو اُن کے نام تھے، پس لوگوں نے ایسا ہی کیا، اُن کی عبادت نہیں کی جاتی تھی، حتیٰ کہ جن لوگوں نے اُن کو نصب کیا تھا وہ گزرگئے اور بعد والوں کو اُن کا علم جاتا رہا تو اُن کی عبادت کی جانے لگی اور لوگوں نے انہیں اپنے معبود گمان کرلیا۔
یہ سب نام قوم نوح کے خاص خاص دیوتائوں کے ہیں اور انہی کی مورتیں ملک میں پوجی جاتی تھیں، ان کے ناموں کی تصریح کی ایک مصلحت یہ بھی ہے کہ ان کی پرستش عین نزول قرآن کے زنانہ میں بھی عرب واطراف ِ عرب میں جاری رہی، سردارانِ قوم نے اپنی پیروی کرنے والوں اور عوام سے کہا کہ اپنے معبودوں کو ہرگز نہ چھوڑنا اور نہ ودّ کو اور نہ سواع کو اور نہ یغوث ، یعوق، نسر(غرض کسی کو بھی نہ) چھوڑنا۔
ودّ۔ کلبی کا بیان
ودّ۔ کلبی کا بیان ہے ، یہ دیوتا قوتِ مردانہ اور عشق ومحبت کا تھا، اُس کی مورت قوی ہیکل مرد کی شکل کی تھی، اہل عرب اس سے خوب مانوس تھے، عرب کے قدیم کتبات میں اس کا نام وَدَّم اَبم ِ لکھا ہوا ملتا ہے ، عرب میں ایک شخص کا نام عبد وُدّ ملتا ہے(جسے غزوۂ خندق میں حضرت علی کرم اﷲ وجہہ نے قتل کیا تھا)
سواعاً۔ حسن اور محبوبی کا دیوتا
سواعاً۔ یہ دیوتا حسن ومحبوبی کا دیوتا تھا، اس کی مورتی حسین عورت کی شکل میں تھی۔
یغوث۔ جسمانی قوت اور طاقت کا دیوتا
یغوث۔ یہ دیوتا جسمانی قوت اور طاقت کا تھا اس کی مورت شیر اور بیل کی شکلوں میں ہوتی تھی، عبد یغوث نام کا رواج عرب کے شمال ومشرق میں تھا۔
یعوق۔ دوڑ بھاگ کا دیوتا
یعوق۔ یہ دوڑ بھاگ کا دیوتا تھا اس کی مورت گھوڑے کی شکل کی تھی۔
نسراً۔ دُور بینی اور حدّتِ نظر کا دیوتا
نسراً۔ یہ دُور بینی اور حدّتِ نظر کا دیوتا تھا، اس کی مورت پرندہ(باز یا عقاب) کی شکل کی تھی۔
آجاز
مذکورہ بالا تفصیل سے یہ بات واضح ہوئی کہ حضرت آدم ونوح علیٰ نبینا علیہما الصلوٰۃ والسلام کے درمیانی دور میں پانچ برگزیدہ بندے تھے، ودّ، سواع، یغوث، یعوق اور نسر ، بعثت حضرت نوح علیہ السلام سے قبل لوگوں نے اُن کے بت بنالئے تھے اور اُن بتوں کواِلٰہ ومعبود ٹھہرالیا تھا، وہ لوگ اِن لکڑی پتھر کی مورتیوں کی پوجا کرتے تھے، بت اُن کے اِلٰہ تھے۔
اختتتامی سوال
کوئی مسلمان کسی نبی، ولی کو الٰہ نہیں مانتا اور نہ ہی اُس کی پوجا کرتا ہے، بہتان بازی کا کیا علاج کیا جاسکتا ہے؟
کوئی شخص ایسی تحریر وتقریر ثابت نہیں کرسکتا کہ جس میں کسی صحیح العقیدہ سُنی عالم دین نے یہ لکھا ہویا کہ ہو کہ سیدی علی ہجویری داتا گنج بخش، سیدنا عبدالقادر جیلانی یا دیگر اولیاء کرام رضی اﷲ تعالیٰ عنہم ، اِلٰہ ومعبود ہیں ، جاہل سے جاہل اور کم سے کم عقل والا سنی مسلمان چودہ سو سال گزرنے کے بعد بھی اپنے عمل اور کردار سے یہ ثابت کرتا ہے کہ اﷲ تبارک وتعالیٰ واجب الوجود و،مطلق وبسیط وبے حد کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، وہی اِلٰہ ہے جس کا نام اﷲ(جل جلالہٗ) ہے، تعصب اور کینہ سے پاک نگاہِ ایمان سے اگر ملاحظہ کیا جائے تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ زائرین جو بزرگانِ دین کی قبور ، جو کہ جنت کا باغ ہوتی ہیں، کے پاس بیٹھ کر تلاوت قرآن مجید کرتے ہیں ، جونہی نماز کا وقت ہوتا ہے جماعت میں شامل ہونے کے لئے وہاں سے اُٹھ جاتے ہیںاور قبلہ کی طرف منہ کرکے نماز ادا کرتے ہیں، اگر زائرین کسی ولی اﷲ کو اِلٰہ سمجھتے ہوں تو نماز بھی اُن کی قبورمنور کی طرف منہ کرکے پڑھیں اور قوم نوح کی طرح بزرگان دین کو الٰہ بنا کرانےیں پوجیں، مگر فرقہ پرستی کا بُرا ہو اُس نے متعصبین کی عقل کا بیڑہ غرق کردیا کہ خواہ مخواہ مومنین پر کفروشرک کے فتوے لگا کر اپنی عاقبت کو تباہ کرلیا، کاش یہ لوگ حضور ﷺ کے اس ارشاد مبارک کا مطالعہ کرلیتے کہ جب کوئی کسی کو کافر کہتا ہے تو دونوں میں سے ایک کافر ہوجاتا ہے، اگر تو وہ جسے کافر کہا گیا ہے پھر تو وہ کافر ہی ہے، لیکن اگر وہ کافر نہیں تو پھر کہنے والا کافر ہوجاتا ہے۔
وہابی دیوبندی جو مرضی کہتے پھریں ، ان کے کہنے سے کوئی ولی اِلٰہ نہیں ہوسکتا اور نہ کوئی مومن، مشرک وکافر ہوسکتا ہے۔