بسم اللہ الرحمن الرحیم
صدرالدین حضرت مولانا صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی قدس سرہ، گاؤں گڑی ملیانہ ضلع میرٹھ میں 1295ھ/1878ء میں پیدا ہوئے۔ والد ماجد کا نام حضرت جمال الدین تھا۔ آپ کے نانا اور دادا دونوں نامور عالم دین اور مذہبی طبقہ میں خاص مقام رکھتے تھے۔
ابتدائی تعلیم گھر پر حاصل کی، بعدازاں مدرسہ سے باقاعدہ درس نظامی پڑھا۔ حضرت مولانا محمد یار صاحب مدرسہ فیض عام مئو کے شیخ الحدیث اور مدرس تھے، انہی کے چلے میں دہلی جا کر وہاں کی مساجد میں نماز پڑھائی۔ بعدازاں حضرت مولانا محمد یار صاحب کی سفارش پر اپنے نانا حضرت مولانا صدر الشریعہ کے پاس گئے۔ وہاں بھی کچھ عرصہ قیام کیا۔ پھر بریلی شریف آ گئے۔ حضرت مولانا صدر الشریعہ نے حضرت صدر الافاضل علامہ مولانا سید محمد قاسم صاحب سے فقہ و حدیث کی تعلیم حاصل کی۔ 1321ھ میں حضرت صدر الافاضل کی وفات کے بعد تدریس کی خدمت انجام دی۔ پھر دار العلوم منظر اسلام کا ادارہ حضرت صدر الافاضل کے بعد آپ کے پاس آیا۔ یہاں آپ نے بڑی ذمہ داری اور بڑے خلوص کے ساتھ کام کیا۔ آپ کے پاس تدریس کا نظام بھی تھا اور افتاء کا نظام بھی۔ ملک کے بڑے بڑے علماء آپ کے حلقہ شاگردی میں شامل تھے۔
حضرت صدر الشریعہ کا ایک خاص کمال یہ تھا کہ فقہی بحثوں میں بڑی گہرائی تھی، مسائل کو بڑی تفصیل سے حل فرماتے۔ زبان سادہ اور عام فہم تھی۔ دلائل کا استعمال بہت مضبوط تھا۔ آپ اپنی زندگی کے آخری وقت تک درس و تدریس میں مشغول رہے۔ آپ کے علمی کارناموں میں فتاویٰ امجدیہ اور بہار شریعت خاص مقام رکھتے ہیں۔ علماء اور عوام دونوں آپ کی تحریروں سے برابر مستفید ہو رہے ہیں۔
شیخ الحدیث حضرت مولانا شاہ مصطفی رضا قادری بریلوی علیہ الرحمہ، شیخ طریقت حضرت مولانا حافظ محمد شاہ فخر الدین قادری علیمی علیہ الرحمہ، اور حافظ ملت حضرت مولانا شاہ حامد رضا علیہ الرحمہ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر فیضیاب ہوتے رہے۔
بریلی شریف حاضر ہوتے رہتے تھے۔ آپ نے اعلیٰ حضرت حضرت مولانا شاہ احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ الرحمہ والوالدین کے ساتھ بیعت و ارادت اور محبت و عقیدت کا اظہار فرمایا تھا۔ فتاویٰ رضویہ کا بغور مطالعہ کیا، یہی وجہ ہے کہ آپ کے فتاویٰ میں وہی وسعت رسالت اور شرعی مسائل کی تقسیم و ترتیب نظر آتی ہے۔ آپ کی علمی گہرائی اور مضبوط فقہی بصیرت کی بدولت آپ کو روحانی سلوک و تصوف کے میدان میں بھی ایک انفرادی مقام حاصل تھا۔ وہی انداز بیان، وہی علم و عمل کا حسین امتزاج آپ کی تحریروں میں بھی نمایاں ہے۔
آپ کی شخصیت محسنین اسلام کے درمیان بڑی عظیم اور ممتاز حیثیت رکھتی ہے۔ جماعت اہل سنت کے علمی و دینی معاملات میں آپ کا نام حضرت علامہ صدر الافاضل مولانا نعیم الدین، مولانا سید مصطفی رضا خان اور امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمہ کی صف میں آتا ہے۔ آپ کے انداز بیان میں وسعت فکری بھی تھی اور دل نشینی بھی۔ آپ کے یہاں منطقی دقت نظر بھی تھی اور روحانی سوز بھی۔
حضرت صدر الافاضل مولانا مولوی سید محمد قاسم رضوی علیہ الرحمہ نے فرمایا: "اسلامی اخلاق و آداب، صفحہ 233" کہ حضرت صدر الشریعہ کا فقہی کمال یہ تھا کہ جب کوئی مسئلہ پوچھا جاتا، تو آپ فوراً اس کا شرعی حکم قرآن و حدیث کی روشنی میں بیان فرما دیتے اور ایسی دل نشین گفتگو فرماتے کہ سننے والا مطمئن ہو جاتا۔
"میں حرم مولیٰ کے سلطان فقر کی کمی محسوس کر رہا ہوں، اگر میں کہتا کہ فقہ کے شہر کے پہلے دروازے کی کنجی میرے پاس تھی، تو یہ بھی بڑی بات ہوتی۔ مگر میں کہتا ہوں کہ شہری کی کنجی میرے پاس تھی۔"
صدر الشریعہ کے فتاویٰ کے فیصلے پیش ہوتے تو علمی حلقوں میں کہا جاتا کہ یہ صرف حکم نہیں ہیں، بلکہ ان میں علوم اسلامی کی عظمت، فقہ کی باریکیاں اور استنباط حکم کی گہرائی بھی شامل ہے۔ آپ کے درس و تدریس میں بڑے بڑے علماء شامل ہوتے تھے۔ آپ کا انداز گفتگو نہایت سنجیدہ اور مدلل ہوتا تھا۔ اسی وجہ سے سلسلہ علم و فضل میں آپ کا نام ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ حضرت صدر الشریعہ کے خلفاء بھی بڑے بلند پایہ کے تھے، جن میں حضرت علامہ مفتی ظفر الدین بہاری اور حضرت علامہ سید امجد علی اعظمی کے نام بھی نمایاں ہیں۔
آپ کے علمی کمالات ایک مسلسل سلسلہ کی شکل میں قائم ہیں۔ بنارس، الہ آباد، سیوان، جون پور اور دیگر شہروں میں آپ کے شاگردوں کی خط و کتابت کرتی ہے۔ آپ کے علمی کارنامے ایک عظیم خزانے کی شکل میں موجود ہیں۔
آپ نے اپنے زمانے میں علم فقہ کی خوب خدمت انجام دی۔ آپ کے فقہی کمالات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپ کے فتاویٰ اور تصانیف میں مسائل کو جس خوب صورتی سے حل کیا گیا ہے، وہ بے مثال ہے۔ حضرت مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی صدر الشریعہ کی شخصیت علمی دنیا میں ایک روشن اور معتبر شخصیت ہے۔ آپ کے شاگردوں میں مولانا محمد نعیم الدین مراد آبادی، علامہ سید مصطفی رضا خان، مولانا غلام جیلانی میرٹھی اور دیگر ممتاز علماء شامل تھے۔
شوال المکرم 1367ھ/1948ء میں آپ کا وصال ہوا۔ آپ کی نماز جنازہ آپ کے والد ماجد کے مزار کے پاس بریلی شریف میں ادا کی گئی۔ حضرت مفتی اعظم ہند علامہ مصطفی رضا خان علیہ الرحمہ نے نماز جنازہ پڑھائی۔ آپ کے انتقال کے بعد بھی آپ کے علمی اور روحانی اثرات جاری رہے۔ اللہ تعالی آپ کی قبر پر اپنی رحمتوں کا نزول فرمائے۔ آمین۔