بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
ہم مسلمانوں کو دیکھتے ہیں کہ جب کوئی مرجاتا ہے تو اس کے ماتم میں شرعی حکم کی پرواہ نہیں کرتے ۔شریعت کے برخلاف مدتوں ماتم رکھتے ہیں حالانکہ حدیث شریف میں تین دن سوگ سے زیادہ کی ممانعت آئی ہے ۔البتہ عورت کو شوہر کے مرجانے پر چار مہینہ دس سن کی اجازت ہے ۔ کسی اور کو نہیں۔
روایتِ اہلِ سنت :۔
زینب بنت ابی سلمہ کہتی ہیں کہ میں رسول ِکریم (ﷺ) کی زوجہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئی ۔جب کہ ان کا باپ ابو سفیان بن حرب فوت ہوا تو انہوں نے خوشبو منگواکر استعمال کی اور فرمایا کہ خدا کی قسم مجھے خوشبو کی کوئی ضرورت نہ تھی ۔صرف رسول کریم(ﷺ) سے سناہے کہ آپ نے منبر فرمایا:
لا یحل لامراۃ توھن بالل والیوم الاخران تحد علی میّت فوق ثلث الا علی زوج اربعۃ اشھر وعشرا۔
کسی عورت پر جو اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتی ہے حلال نہیں کہ تین دن سے زیادہ میّت پر سوگ کرے ۔مگر خاوند پر چار مہینہ اور دس دن جائز ہے ۔
زینب کہتی ہے پھر میں زینب بن حجش کے پاس گئی جب کہ ان کا بھائی فوت ہوا تو انہوں نے بھی خوشبو استعمال کی اور یہی فرمایا کہ مجھے کچھ حاجت نہ تھی ،صرف رسول کریم (ﷺ) کو سنا کہ آپ منبر پر فرماتے ہیںـ لایحل لامراۃٍ (الحدیث بخاری ومسلم)
اسی طرح ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسو ل کر یم (ﷺ) نے فرمایا :
لاتحد امراۃ علی میت فوق ثلث الا علی زوج اربعۃ اشھر وعشرا۔ (متفق علیہ)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ماتم کا شرعی حکم یہ ہے کہ تین دن سے زیادہ کسی میّت پر سوگ نہ کیا جائے ۔البتّہ عورت کو شوہر کے مر جانے پر چار ماہ اور دس دن تک سوگ کی اجازت ہے ۔اس سے زیادہ اس کو بھی نہیں ۔ مرد پر ترک لذائز وترکِ زینت اور عورتوں کی طرح سوگ کرنا ،شریعتِ محمدیہ میں ہر گز ثابت نہیں ،معلوم ہوا کہ مسلمانوں پر لازم ہے کہ تین دن کے بعد ماتم ختم کردیں اور کسی مرد یا عورت کو سوگ کے لیے نہ بیٹھنے دیں۔ الا التی مات زوجھا ۔
روایاتِ شیعہ:۔
شیعہ کی نہایت معتبر کتاب من لایحضرہ الفقیہ کے صفحہ ۳۶ میں حضرت صادق علیہ السلام سے آیا ہے۔ کہ آپ نے فرمایا :
لیس لاحدکم ان یحد اکثرمن ثلثۃ ایام الا المراۃ علیٰ زوجھا حتی تقضی عدتھا۔
کسی کو جائز نہیں کہ تین دن سے زیادہ سوگ کرے مگر عورت کو اپنے خاوند کی موت پر عدت گذرنے تک سوگ کی اجازت ہے ۔
یہ محمد بن مسلم نہایت ثقہ ہیں۔ حضرت امام باقر اور امام جعفر صادق علیہما السلام سے راوی ہیں۔ رجال کشی میں ان کی بہت تعریف ہے ۔
اہل سنت وشیعہ صاحبان کو ان متفقہ روایات پر عمل کرنا چاہئے ۔ جو ان احادیث سے ثابت ہوتا ہے۔ (وللہ الموفق )
خاتونِ جنّت کو صبر کا حکم :۔
مشکوۃ شریف کے صفحہ ۵۶۰ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ آنحضرت (ﷺ) نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کوئی پوشیدہ بات کی تو آپ بہت روئیں ۔پھر آپ نے ان کا حزن معلوم کرکے دوبارہ پوشیدہ بات کی تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا ہنس پڑیں ۔ میں نے دریافت کیا تو انہوں نے نہ بتایا ۔پھر جب حضور کا وصال ہوا تو میں نے دریافت کیا۔ فرمایا اب بتاتی ہوں پہلی بار آپ نے یہ خبر دی تھی کہ جبریل ہر سال میرے ساتھ قرآن کا ایک بار ورد کیا کرتے تھے ۔اب اس نے میرے ساتھ دو دفعہ ورد کیا ہے۔ میں گمان کرتا ہون کہ اب موت قریب ہے۔
فاتقی اللہ واصبری
پس اللہ سے ڈرنا اور صبر کر ۔
تو میں رو پڑی تھی۔ جب آپ نو میرا رونا دیکھا تو فرمایا تھا۔ـ اے فاطمہ کیا تو راضی نہیں کہ تم اہلِ جنت کی تمام بیبیوں کی سردار ہو۔
ایک روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا کہ تو سب اہلِ بیت سے پہلے میرے پیچھے آئے گیتو مین ہنس پڑی تھی۔ ( متفق علیہ)
اس حدیث سے ظاہر ہے کہ رسول کریم(ﷺ) نے حضرت فاطمہ کو صبر کی وصیت کی۔
روایاتِ شیعہ :۔
حیاتِ قلوب جلد دوم ۲۵۲ میں ہے: ـ
حضرت رسول فرمودا اے فاظمہ توکل کن بر خدا و صبر کن چنانچہ صبر کرند پدران تو کہ پیغمبر ان بوندومادران تو کہ زنہائے پیغمبران بوند ــــ۔
حضرت ِ رسول کریم (ﷺ) نے فرمایا اے فاطمہ خدا پر توکل کرو اور صبر کرو ۔ تیرے آبا ء جو کہ پیغمبر تھے صبر کرتے رہے اور تیری مائیں جوکہ پیغمبروں کی بیویاں تھیں ،صبر کرتی رہیں ۔
پھر اسی کتاب کے صفحہ ۶۵۳ میں فرمایا : ـ
بداں اے فاطمہ کہ برائے پیغمبر گریبان نمی باید ورید ورونمی باید خراشید واویلا نمی باید گفت ـ۔
اے فاطمہ جان لو کہ پیغمبر کے لیے گریبان نہیں پھاڑنا چاہئے اور چہرہ نہیں پیٹنا چاہئے اور واویلا نہیں کرنا چاہئے۔
اور صفحہ ۶۵۴ مین ہے:
ابن بابویہ بسند معتبر از محمد باقر روایت کردہ است کہ حضرت رسول درہنگام وفات خود بحضرت فاطمہ گفت کہ اے فاطمہ چوں بمیرم روے خود ابرائے من محراش و گیسوئے خود را پریشان مکن واویلا مگو و برمن نوحہ مکن و نوحہ گراں را مطلبـ۔
اس بن بابویہ معتبر سند سے امام محمد باقر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت رسولِ خدا (ﷺ) انے اپنی وفات کے وقت حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو فرمایا کہ اے فاطمہ جب میں وصال پائوں تو میرے لیے اپنے چہرہ پر خراش نہ ڈالنا اور اپنے بال نہ بکھیرنا اور واویلا نہ کرنا اور مجھ پر نوحہ نہ کرنا اور نوحہ گروں کو نہ بلانا۔
پھر ایک دو سطر کے بعد لکھا ہے۔
پس حضرت فرمود کہ اے فاطمہ گرمکن و صبر را پیشہ کن۔
پس حضرت نے فرمایا کہ اے فاطمہ رونا نہیں اور صبر کو اختیار کرنا۔
فروغِ کافی جلد ۲ صفحہ ۲۲۸ میں ہے کہ رسول کریم(ﷺ) نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو فرمایا:
اذا انا متّ فلا تخمشی علّی وجھا ولا ترخی علی شعر اولا تنادی بالویل ولا تقیمی علّی نائحہ ۔
جب میں فوت ہوجائوں تو منہ نہ چھیلنا ، بال نہ نوچنا ، واویلا نہ کرنا اور نوحہ کرنے والیاں نہ بلانا ۔
پھر فرمایا یہی وہ معروف ہے جس کے متعلق اللہ نے فرمایا ہے۔
المعروف ان لا یشقن جیبا ولا یلطمن خد اولا یدعون ویلا ولا یتخلقن عند قبر ولا یسودن ثوبا ولا یتشرن شعرا ۔
معروف یہ ہے کہ نہ گریبان پھاڑیں نہ رخسار پیٹیں نہ واویلا کریں نہ قبر کے پاس جمع ہوں نہ کپڑے سیاہ کریں اور نہ بال بکھیریں ۔
مندرجہ بالا روایت سے معلوم ہوا کہ رسول کریم (ﷺ ) نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو وصیت فرمائی کہ خدا پر بھروسہ رکھیں اور صبر کریں ۔ نہ گریبان پھاڑیں نہ مُنہ چھیلیں نہ اپنے بال بکھیریں نہ بین بین کریں نہ بین کرنے والوں کو بلائیں ۔
ہمارا ایما ن ہے اور سب مسلمانوں کا یہی ایمان ہون چاہیے ۔ کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے رسول کریم (ﷺ) کی وصیّت پر عمل کیا اور آپ کے بعد نہ گریبان پھاڑا ، نہ پیٹا نہ واویلا کیا نہ نوحہ کیا اور نہ ہی نوحہ گروں کو بلایا ۔ لہذا ہمیں بھی اسی وصیت پر عمل کرنا چاہئے۔
حضرت علی کو صبر کا حکم :۔
حیات القلوب جلد ۲ صفحہ ۶۶۳ میں ملّا باقر مجلسی لکھتے ہیں کہ امیر المومنین جب آنحضرت(ﷺ) کے غسل سے فارغ ہوئے تو:
جامعہ راز روے مبارک دور کرد وگفت پدر ومادرم خدائے تو باد طیب و نیک و پاکیزہ بودی در حیات وبعد از موت، ومنقطع شد بوفات تو احد ے از خلق پیغمبری و نازل شدن وحی ہا آسمانی مصیبت اند در تعزیت تو واگر نہ آں بود کہ امر کردی بصبر کردن ونہی نمودی از جزع نمودن ہر آئینہ آبہائے سر خود اور مصیبت تو فرومی ریختم و ہر آئینہ وراو مصیبت تر ہر گز دوا نمی کردم۔ الخ ،
حضرت علی نے رسول کریم(ﷺ) کے روئے مبارک سے کپڑا ہٹا دیا اور عرض کیا میرے ماں باپ قربان آپ زندگی اور موت کے بعد بھی پاکیزہ اور طیّب ہیں۔
آپ کی وفات سے وہ چیز بند ہوگئی جو کسی پیغمبر کی وفات سے بند نہ ہوتی تھی ۔یعنی نبوت اور وحی کا نازل ہونا ۔آپ کی مصیبت اس قدر عظیم ہے کہ دوسروں کی مصیبت سے ہمیں مطمئن کردیا ۔آپ کی مصیبت ایک عام مصیبت ہے کہ سب لوگ یکساں دلگیر ہیں۔
اگر آپ صبر کاحکم نہ دیتے اور جزع فزع سے منع نہ کرتے تو ہم اس مصیبت پرتمام سر کا پانی بہادیتے اور تیری مصیبت کے درد کی کوئی دو نہ کرتے ۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اس ارشاد سے معلوم ہوا کہ حضرت علی کو بھی یہی وصیّت تھی کہ میری وفات پر جزع فزع نہ کرنا۔ تو اب سوچنا چاہئے ۔کہ رسول کریم کی وفات پر جزع فزع کی ممانعت ہے تو کسی اور کی یاد میں رونا پیٹنا کس طرح جائز ہوسکتا ہے۔
٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ماخوذ:۔ کتاب دلائل المسائل ۔