ترتیب: خلیل احمد رانا
اوّل جیش من اُمتی یغزون مدینۃ قیصر مغفورٌ لھم
(بخاری شریف، جلد وّل ، طبع کراچی ، ص۴۰۱)
ترجمہ۔ میری اُمت میں سے جس نے مدینہ قیصر پر پہلے چڑھائی کی ان کے لئے بخشش ہے۔
بعض لوگ اس حدیث سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ’’ مغفورٌ لھم ‘‘ میں یزید بن معاویہ داخل ہے، کیوں کہ اس نے مدینہ قیصر پر پہلے چڑھائی کی اور وہ اس لشکر میں شامل تھا ، مستدلین مدینہ قیصر سے قسطنطنیہ مراد لیتے ہیں اور یزید کو ’’مغفور لھم‘‘ میں شامل کرتے ہیں۔
تو عرض ہے کہ جس وقت نبی کریم ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا، اُس وقت قسطنطنیہ (ترکی) مدینہ قیصر نہیں تھا، بلکہ اُس وقت حُمَصْ(شام) مدینہ قیصر تھا، اور حمص پر یزید بن معاویہ نے چڑھائی نہیں کی، بلکہ حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اپنی وفات سے چھ ماہ پہلے حمص پر لشکر بھیجا تھا، چھ ماہ یہ لشکر جنگ کرتا رہا، فتح حاصل نہ ہوئی، ۲۲؍جمادی الثانی ۱۳ھ میں حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے وصال فرمایا، لشکر وہیں رہا، جب حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اﷲ عنہ خلیفہ مقرر ہوئے تو مزید کمک بھیجی، پھر حمص فتح ہوا، جہاد کی ابتداء دور صدیقی میں ہوئی اور انتہا دور فاروقی میں ہوئی۔
لہذا اس حدیث سے استدلال کرنا ہی غلط ہے، کیونکہ مدینہ قیصر اس وقت حمص تھا اور اس پر یزید نے چڑھائی نہیں کی۔ اگرمیں علی السبیل التنزل مان لوں کہ مدینہ قیصر اس وقت قسطنطنیہ تھا تو پھرمیں کہوں گا کہ اوّل تو یزید اوّل جیش میں داخل ہی نہیںاور اوّل جیش کا مصداق یزید نہیں ہوسکتا، اگر جیش میں داخل ہو تو یہ ایک ایسا لفظ ہے جو جماعت پر بولا جاتا ہے، ایک جیش نہیں کہتے، لفظ جیش ’’عام‘‘ ہے اور تمام افراد کو شامل ہے۔
قرآن کریم میں ہے:
والمطلقٰت یتربصن بانفسھن ثلٰثۃ قروئٍ (سورۃ بقرہ، آیت ۲۲۸)
ترجمہ: اور طلاق والیاں اپنی جانوں کو روکے رہیں تین حیض تک۔
اس آیت میں المطلقٰت عام ہے اور تمام افراد کو شامل ہے، جس طرح حاملہ عورت المطلقٰت میں شامل ہے اسی طرح یزید بھی جیش میں شامل ہے مگر مغفور لہم کا حکم اس پر نہیں لگے گا، کیونکہ دلیل خاص سے اس کا استثناء ثابت ہے اور جس چیز کا استثناء دلیل خاص سے ثابت ہوجائے وہ چیز حکمِ عام میں داخل نہیں ہوتی، جیسے لفظ مطلقٰت بغیر لف لام کے، اس کا معنی ہے تین کا مجموعہ، یعنی اس میں جمعیت ہے، جب اس پر الف لام داخل کیا گیا، جیسے المطلقٰت تو جمعیت ختم ہوگئی، اب ایک سے لے کر لا تعداد کی تعداد اس میں داخل ہے، مطلقٰت کہیں گے تو اس میں تین طلاق ولی شامل ہوں گی اور المطلقٰت کہا تو اس میں ہر طلاق والی شامل ہے، کیونکہ المطلقٰت عام ہے۔
مذکورہ بالا آیت میں حکم عام مذکور ہے کہ طلاق والیاں تین حیض گزاریں ، لیکن دوسری جگہ دلیل خاص مذکور ہیکہ جو عورتیں حاملہ ہیں ان کی مدتِ عدت وضع حمل ہے۔
قرآن کریم میں ہے:
واولات الاحمال اجلھن ان یضعن حلمھن (سورۃ الطلاق، آیت ۴)
ترجمہ: اور حمل والیوں کی معیاد یہ ہے کہ وہ اپنا حمل جَن لیں۔
واولات الاحمال دلیل خاص ہے اور یتربصن بانفسھن دلیل عام ہے، اب اولات الاحمال اس میں شامل نہیں رہیں گی، کیونکہ جس چیز کا استثناء دلیل خاص سے ہو، وہ عام میں داخل نہیں ہوتی۔
یزید کا دلیل خاص سے استثناء اس طرح ہے ، دلیل خاص حدیث شریف ہے :
’’ جو شخص کہ اہل مدینہ سے بدی کا ارادہ کرے گا اور ان کو ایذا پہنچانے کی غرض سے کسی مقام پر کھڑا ہوگا، وہ شہنشاہ جبار کے عذاب میں گرفتار ہوگا اور آگ میں مانند رانگ کے اور نمک کے پانی میں پگھل جائے گا‘‘۔ (جذب القلوب الیٰ دیار المحبوب، از شیخ عبدالحق محدّث دہلوی،(اُردو ترجمہ)، طبع کراچی، ص۳۱)
دوسری حدیث
’’ اے اﷲ جو شخص میرے اور میرے اہل شہر کے ساتھ برائی کا خیال کرے اس کو جلد ہلاک کر‘‘۔ (جذب القلوب، ص۳۱)
تیسری حدیث
من اخاف اھل المدینۃ ظالماً اخافہ اﷲ و کانت علیہ لعنۃاﷲ والملٰئکۃوالناس اجمعین
’’ جو شخص اہل مدینہ کو ڈرائے اس کو اﷲ تعالیٰ ظلماً ڈراتا ہے اوراس پر اﷲ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے‘‘۔ (جذب القلوب، ص۳۲)
اﷲ تعالیٰ کی لعنت، فرشتوں کی اور جمیع مؤمنین کی لعنت، اسی طرح نمک کی طرح پانی میں پگھلنا، مغفرت میں مطابقت نہیں رکھتا ، ثابت ہوا کہ ان احادیث نے یزید کو جیش سے مذکورہ قاعدہ کے تحت نکال دیا ، یہاں اتنی بات ضرور یاد رکھیں کہ حدیث میں اگر تعدد طرق کی بنا پر تفاوت ہوجائے تو صحت حدیث میں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔
اب کون نہیں جانتا کہ یزید نے مدینہ منورہ والوں پر ظلم نہیں کیا، سعید بن مسیب رضی اﷲ عنہ(متوفی ۹۳ھ) جو کبار تابعین میں ہیں ، مسلم بن عقبہ کے پاس لائے گئے اور کہا یزید کی بیعت کرو ، سعید بن مسیب نے فرمایاکہ میں نے ابوبکر اور عمر رضی اﷲ عنہم کی سیرت پر بیعت کی، مسلم بن عقبہ نے کہا کہ میں ان کی گردن مارنے کا حکم دیتا ہوں، ایک آدمی نے کھڑے ہوکر گواہی دی کہ یہ مجنون ہے تو مسلم بن عقبہ نے ان کے جرم سے در گزر کیا ۔ (جذب القلوب، ص۴۰)
یزید اگر جیش میں داخل ہے تو دلیل میں یہ جو احادیث ہیں انہوں نے یزید کو خارج کردیا ، قاعدہ یاد رکھیں کہ کل کا لفظ جہاں بھی آئے توقرآن پاک میں یا حدیث پاک میں، اس سے وہ تمام احوال جن کی دلیل خاص سے تخصیص ہوگئی ہو، مستثنیٰ ہوں گے، اس سے ثابت ہوا کہ تخصیص کی ایک صورت قرآن کی قرآن سے اور حدیث کی حدیث سے ہے۔
( ہفت روزہ ’’احوال‘‘ کراچی، شمارہ ۲۵؍اپریل تا یکم مئی ۱۹۹۱ء ۔ ’’نوائے انجمن‘‘ کاظمی نمبر، شمارہ مارچ، اپریل ۱۹۹۳ء)