اعلیٰحضرت رحمۃ اللہ علیہ کے شعر "واہ کیا مرتبہ ہے غوث بالا تیرا" اور ’’قد می ھذ اعلٰی رقبۃ کل ولی اﷲ‘‘کی وضاحت
اعتراض
اسماعیل دہلوی صاحب کی عبارت ’’اور یقین جان لینا چاہیے کہ ہر مخلوق بڑا ہو یا چھوٹا وہ اللہ کی شان کے آگے چمار سے بھی ذلیل ہے ۔( تقویتہ الایمان )اگر علماء اہل سنت و جماعت (بریلوی) اس عبارت میں ہر چھوٹی بڑی مخلوق کے عمومی الفاظ میں انبیاء و اولیاء کو شامل سمجھتے ہیں تو پھران کے اعلیٰ حضرت کے اس شعر میں بھی عموم پایا جاتا ہے۔
واہ کیا مرتبہ ہے غوث بالا تیرا
اونچے اونچوں کے سروں سے قدم اعلیٰ تیرا
اور اونچے اونچوں کے الفاظ کی وجہ سے مطلب یہ بناکہ اونچے اونچوں یعنی رسولوں ،نبیوں اور صحابہ کے سروں سے بھی غوث اعظم کا قدم اعلی ہے۔لہذا اگر اس شعر کے عموم سے انبیاء و رسل خارج ہیں تو اسماعیل دہلوی کی عبارت میں بھی ہر چھوٹی بڑی مخلوق کے عموم سے نبی کریم ﷺاور دیگرانبیاء و صحابہ اکرام خارج ہیں ۔لہذا دہلوی صاحب پر کسی قسم کا اعتراض باقی نہ رہا ۔اور اگر اس شعر میں نبی کریم ﷺ انبیاء و صحابہ سب شامل ہیں تو یہ ان کی توہین ہے۔ کہ ان کے سروں سے بھی اعلیٰ قدم غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ کا تسلیم کیا جا رہا ہے۔ لہذاسنی ان سب ہستیوں کے گستاخ ٹھہرے ۔
جواب نمبر 1: تخصیص اور عموم کا فرق
اولاََ تو یہ وہابیوں کی فریب کاری ہے کہ وہ اسماعیل دہلوی کی عبارت کو ’’عمومی ‘‘بتا رہے ہیں ۔حالانکہ اسماعیل دہلوی کی عبارت میں عموم نہیں بلکہ تخصیص ہے ۔تقویتہ الایمان کی عبارت میں موجود چھوٹی بڑی مخلوق کا تعین خود اسماعیل دہلوی اور علماء وہابیہ دیوبندئیہ کی کتب سے ثابت ہے ۔اور انہوں نے خود چھوٹی مخلوق سے مراد عام لوگوں کو لیا اور بڑی مخلوق سے مراد انبیاء اکرام علیہ الصلوۃ والسلام اور اولیاء عظام رحمۃ اللہ علیہ اجمین کو لیا ۔
دہلوی صاحب کہتے ہے کہ ’’اور یقین جان لینا چاہیے کہ ہر مخلوق بڑا ہو یا چھوٹا وہ اللہ کی شان کے آگے چمار سے بھی ذلیل ہے ۔( تقویتہ الایمان مع تذکیر الاخوان صفحہ ۲۵ )اور مزید آگئے جا کر بلکل دو ٹوک لفظوں میں انبیاء و اولیاء کا نام لیکر ان کا تقابل ذرہ نا چیز سے کرتے ہوئے انہیں ذرہ نا چیز سے بھی کم تر قرار دیا چنانچہ کہتے ہیں کہ ’’اللہ کی شان بہت بڑی ہے کہ سب انبیاء و اولیاء اس کے رو برو ایک ذرہ نا چیز سے بھی کم تر ہیں (تقویتہ الایمان مع تذکیر الاخوان۵۳)معاذ اللہ عزوجل ۔لہذا اس سے واضح ہو گیا کہ دہلوی صاحب نے انبیاء و اولیاء ہی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں ایسی عبارات میں شامل رکھا۔
پھر آپ مزید اس بات کی خوب تحقیق کر سکتے ہیں کہ شاہ اسماعیل دہلوی نے اپنی کتاب تقویتہ الایمان میں مخلوقات کو صرف اور صرف دو اقسام ہی میں تقسیم کیا ہے۔ (1)ایک چھوٹی مخلوق (2)اور دوسری بڑی مخلوق۔ چھوٹی مخلوقات سے تو اسماعیل دہلوی نے عام لوگوں کو مراد لیالیکن بڑی مخلوق سے مراد انبیاء کرام علہیم السلام و اولیاء عظام رحمتہ اللہ علیہ اجمعین کو لیا۔
شاہ صاحب کہتے ہیں کہ ’’انبیاء و اولیاء کو جو اللہ نے سب لوگوں سے بڑا بنایا ہے۔( تقویتہ الایمان مع تذکیر الاخوان صفحہ ۳۲) اس سے روز روشن کی طرح واضح ہو گیا کہ انبیاء و اولیاء کو اسماعیل دہلوی بڑے لوگ یعنی بڑی مخلوق مانتے ہیں ۔
پھر کہتے ہیں کہ’’جیسا ہر قوم کا چودھری اور گاؤں کا زمیندار سوا ن معنوں کر ہر پیغمبر اپنی امت کا سردار ہے…یہ بڑے لوگ اول اللہ کے حکم پر آپ قائم ہوتے ہیں اور پیچھے اپنے چھوٹوں کو سیکھاتے ہیں۔( تقویتہ الایمان مع تذکیر الاخوان صفحہ ۵۹)
پتہ چلا کہ دہلوی کے نزدیک مخلوقات کی دو اقسام ہیں ۔بڑی اور چھوٹی ۔بڑی مخلوق سے مراد انبیاء و اولیاء ہیں اور چھوٹی سے مراد عام لوگ ہیں۔
تقوییہ الایمان مع تذکیر الاخوان اور چھوٹی بڑی مخلوق سے مراد
دیوبندی وہابی علماء نے ’ تقویتہ الایمان مع تذکر الاخوان‘‘ میں ایک سوال کے جواب میں لکھا ہے کہ ’’ تو اس سبب سے صاحب تقویتہ الایمان علیہ الرحمۃ والغفران نے ایسے عوام لوگوں کے گمان باطل کرنے کو جو بزرگان دین اور اولیاء اﷲ کو سمجھتے ہیں کہ جو چاہیں سو کریں لکھا کہ ہر مخلوق بڑاہو یا چھوٹا اﷲ کی شان کے آگے چمار سے بھی ذلیل ہے۔( تقویتہ الایمان مع تذکر الاخوان‘صفحہ ۲۳۹) تو اس عبارت سے بالکل واضح ہو گیا کہ خود اسماعیل وہلوی صاحب کے پیرو کاروں کو بھی تسلیم ہے کہ ہر مخلوق بڑا ہو یا چھوٹا اس میں انبیاء اکرام اور اولیاء اللہ سب ہی شامل ہیں ۔
رشید احمد گنگوہی اور چھوٹی بڑی مخلوق سے مراد
اسی طرح دیوبندی امام رشید احمد گنگوہی صاحب سے کسی سائل نے(اسماعیل دہلوی کی ) اسی مذکور عبارت کو لکھ کر سوال پوچھا کہ ’’ اس عبارت کے مضمون کا کیا مطلب ہے مولانا علیہ الرحمۃ نے کیا مراد لیا ہے۔‘‘تو گنگوہی نے اس کامطلب سمجھاتے ہوئے لکھاکہ
’’ اس عبارت سے مراد حق تعالیٰ کی بے نہایت برائی ظاہر کرنا ہے کہ اسکی سب مخلوقات اگر چہ کسی درجہ کی ہو اُس سے کچھ مناسب نہیں رکھتی۔ کمہار لوٹا مٹی کا بنا دے اگر چہ خوبصورت پسندیدہ ہو اس کو احتیاط سے رکھے مگر توڑنے کا بھی اختیار ہے اور کوئی مساوات کسی وجہ سے لوٹے کو کمہار سے نہیں ہوتی۔ پس حق تعالیٰ کی ذات پاک جو خالق محض قدرت ہے اس کے ساتھ کیا نسبت و درجہ کسی خلق کا ہو سکتا ہے چمار کو شہنشاہ دنیا سے اولاد آدم ہونے میں مناسبت و مساوات ہے اور شہنشاہ نہ خالق و رازق چمار کا ہے تو چمار کو تو شہنشاہ سے مساوات بعض وجودہ سے ہے بھی مگر حق تعالیٰ کیساتھ اس قدر بھی مناسبت کسی کو نہیں کہ کوئی عزت برابری کی نہیں ہو سکتی۔۔فخر عالم علیہ السلام باوجودیکہ تمام مخلوق سے برتر و معزز و بے نہایت عزیز ہیں کہ کوئی مثل ان کے نہ ہوا نہ ہو گا مگر حق تعالیٰ کی ذات پاک کے مقابلہ میں وہ بھی بندہ مخلوق ہیں ۔ تو یہ سب (جو عبارت لکھی ) حق ہے مگر کم فہم اپنی کجی فہم سے اعتراض بہودہ کر کے شانِ حق تعالیٰ کو گھٹاتے ہیں اور نام حب رسول ﷺ رکھتے ہیں۔( فتاوی رشیدیہ صفحہ۲۲۴)
تو گنگوہی صاحب کو بھی اقرار ہے کہ اسکی سب مخلوقات اگر چہ کسی درجہ کی ہو( یعنی ہر مخلوق بڑی ہو یا چھوٹی) اُس سے کچھ مناسب نہیں رکھتی۔…فخر عالم علیہ السلام باوجودیکہ تمام مخلوق سے برتر و معزز و بے نہایت عزیز ہیں (اوردہلوی کے مطابق تو اسی مخلوق کا یہی درجہ تو بڑی مخلوق ہے کہ کوئی مثل ان کے نہ ہوا نہ ہو گا مگر حق تعالیٰ کی ذات پاک کے مقابلہ میں وہ بھی بندہ مخلوق ہیں ۔ تو یہ سب (یعنی اسماعیل دہلوی نے جو کہا کہ ہر مخلوق بڑا ہو یا چھوٹا وہ اللہ کی شان کے آگے چمار سے بھی ذلیل ہے) حق ہے۔معاذ اللہ ثم معاذ اللہ ۔لہذا امام الوہابیہ شاہ اسماعیل دہلوی نے’’بڑی چھوٹی مخلوق کی‘‘ خود تخصیص فرما دی ۔لہذا دہلوی کی عبارت کو عمومی قرار دینا کذب بیانی اور دھوکا دہی ہے۔
جواب نمبر 2: وہابیوں کی جہالت اور تفضیلیہ کے نقش قدم پر چلنا
واہ کیا مرتبہ ہے غوث بالا تیرا
اونچے اونچوں کے سروں سے قدم اعلیٰ تیرا
اس شعر کو پیش کر کے جس لاعلمی وجہالت کا مظاہرہ علماء وہابیہ نے دیا ہے وہ کسی اہل علم پر مخفی نہیں ہے ۔اور وہابیوں نے یہاں وہی انداز اختیار کیا ہے جو اندازتفضیلی حضرات اختیار کیا کرتے ہیں ۔اور تفضیلی حضرات کے نقش قدم پر چلتے ہوئے وہابی حضرات نے بھی اپنی جہالت و علمی کا مظاہرہ کیا ۔آئیے ذرا وہابیوں اور تفضلیوں دونوں کی جہالت آپ کے سامنے رکھتے ہیں تاکہ حقیقت آپ پر منکشف ہو جائے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں امیر المومنین حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی شان اس طرح بیان فرمائی کہ
ر وَ سَیُجَنَّبُہَا الْاَتْقَی ۔ اور بہت جلد اس سے دور رکھا جائے گا جو سب سے بڑا پرہیزگار(پارہ30سورۃ اللیل آیت 17) ۔
امام رازی نے مفاتیح الغیب میں فرمایا
اجمع المفسرون منا علی ان المراد منہ ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ ’’ہم سنیوں کے مفسرین کا اس پر اجماع ہے کہ اتقی سے مراد ابو بکر رضی اللہ عنہ ہیں(التفسیر الکبیر جلد ۳۱/ ۲۰۵)۔
علماء اہل سنت و جماعت نے جب اس آیت مبارکہ سے یہ استدلال کیا کہ امیر المومنین حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر فضلیت حاصل ہے اور اس پر اپنے دلائل پیش کیے تو’’ تفضیلیہ نے کہا کہ اتقی بمعنی تقی ہے اور وہ (اسم تفضیل)معنی تفضیل سے مجرد ہے اسلئے کہ اگر یہ معنیٰ نہ ہو تو اسم تفضیل کے اطلاق کے سبب صدیق (حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کی فضلیت نبی ﷺ کو شامل ہو گی تو لازم آئیگا کہ صدیق (حضرت صدیق اکبررضی اللہ تعالیٰ عنہ) نبی ﷺ سے اتقی ہوں اور یہ قطعاََ اجماعی طور پر باطل ہے‘‘ ۔
جب تفضیلیہ (عرف عام شیعہ) نے یہ باطل استدال کیا تو اکابرین علماء اہل سنت و جماعت نے ان کو منہ توڑ جواب دیا جیسا کہ حضرت شاہ عبد العزیز رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر میں اس کا ذکر فرمایا ہے ۔
وما ذکروا من الضرورۃ مندفع بان الکلام فی سائر الناس دون الانبیاء علھیم الصلوۃ والسلام لما علم من الشریعۃ ان الانبیاء اعلی کرامۃ و اشرف مکانۃ عند اللہ تبارک و تعالیٰ فلا یقاسون بسائر الناس ولا یقاس سائر الناس بھم فعرف الشرع حین جریان الکلام فی مقام التفاضل و تفاوت الدرجۃ یخصص امثال ھذا الفظظ با لامہ و التخصیص العرفی اقوی من التخصیص الذکری کقول القائل خبز القمح احسن خبر لن یفہم منہ تفضیلہ علی خبز اللوز لان استعمالہ غیر متعارف وھو خارج عن المبحث اذا الکلام انما انتظم العبوب دون الفواکہ
اور جو ضرورت تفضیلیہ نے ذکر کی وہ مندفع ہے اس لئے کہ کلام انبیاء علہیم الصلوۃ والسلام کو چھوڑ کر باقی لوگوں میں ہے کیونکہ شریعت سے معلوم ہے کہ انبیاء کی عظمت سب سے زیادہ ہے اور انکا مرتبہ سب پر ہے تو انھیں باقی لوگوں پر قیاس نہ کیا جائے گا ،نہ باقی لوگ ان پر قیاس کئے جائینگے ۔ تو شریعت کا عرف مقام فضلیت اور تفاوت مراتب کی جاری گفتگو میں ایسے الفاظ کو امت کے ساتھ خاص کر دیتا ہے۔ اورتخصیص ذکری سے زیادہ قوی ہے جیسے کوئی کوئی کہے کہ گہیوں کی روٹی سب سے اچھی ہے ،اس سے گہیوں کی روٹی کی فضلیت بادام کی روٹی پر نہ سمجھی جائیگی اس لئے کہ اس کا استعمال متعارف نہیں ہے اور وہ بحث سے خارج ہے اس لئے کہ کلام اناج کو شامل ہے نہ کہ میووں کو ۔(تفسیر فتح العزیز تحت الآیۃ ۹۲/۱۷ پ عم ص ۳۰۴۔فتاوی رضویہ جلد ۲۸ صفحہ ۶۰۵)۔
اسی طرح شیعہ حضرات کا یہ بھی اعتراض ہے کہ تم سنی لوگ صدیق کو صدیق اکبر(سب سے بڑا سچا)کہہ کراللہ و رسول پر فضلیت دینے کر مرتکب ہوتے ہو۔اسلئے کہ اللہ و رسول سچے یعنی صدیق ہیں۔اللہ و رسول صدیقوں ہی میں شامل ہے خارج تو نہیں تو جب تم سنی یہ کہتے ہووہ ابو بکر ’’صدیق اکبر ‘‘ ہیں تو یہاں اللہ و رسول کو صدیقیت سے کیونکر خارج کر سکتے ہو۔ تو شاہ عبد العزیز رحمۃ اللہ علیہ کے مذکورہ بالا تحریر سے شیعوں کے اس اعتراض کا جواب بھی ہو گیا۔ الحمد للہ عزوجل۔
(…شیعہ وہابی بھائی بھائی …)
قرآن کی مذکورہ بالا آیت میں ’’اتقی ‘‘سب سے بڑے متقی سے مراد مفسیرین کرام نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو لیا ہے اور اس پر اجماع نقل فرمایا ہے۔ لیکن تفضیلیوں نے جہالانہ اعتراض گھڑا ۔اور آج تفضیلیوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اور انہی کے اعتراضات کو اپنے الفاظ میں تبدیل کر کے وہابی حضرات ہم اہل سنت و جماعت کی بعض اصطلاحات و عبارات پر اعتراض کرتے نظر آتے ہیں ۔
جیسے امام اعظم ، غوث اعظم ، اعلیٰ حضرت جیسے الفاظ پر وہابیوںنے تفضیلیی طرز استدلال اختیار کیا ہوا ہے۔اگر یہ وہابی لوگ سنی ہوتے تو ایسے اعتراضات واستدلال ہی نہ کرتے کیونکہ سنی ہو کر اپنے ہی مواقف کے خلاف استدلال کیونکر بیان کر سکتے ہیں؟اگر یہ وہابی لوگ سنی ہوتے تو صاف کہہ دیتے کہ یہ اصطلاحیں یا ’’ کلام انبیاء علہیم الصلوۃ والسلام کو چھوڑ کر باقی لوگوں میں ہے کیونکہ شریعت سے معلوم ہے کہ انبیاء کی عظمت سب سے زیادہ ہے اور انکا مرتبہ سب پر ہے تو انھیں باقی لوگوں پر قیاس نہ کیا جائے گا ،نہ باقی لوگ ان پر قیاس کئے جائینگے ۔تو شریعت کا عرف مقام فضلیت اور تفاوت مراتب کی جاری گفتگو میں ایسے الفاظ کو امت کے ساتھ خاص کر دیتا ہے۔ ‘‘۔
جواب نمبر 3: وہابیہ کا استدلال وہابیوں کے اپنے گلے کی پھندا
پھر ایسا استدلال خود ان کے اپنے بھی خلاف ہے کیونکہ خود وہابی حضرات بھی سنیوں کی طرح بہت ساری اصطلاحات استعمال کرتے ہیں ۔ جیسے خود علمائے دیوبند نے اپنے پیر و مرشد حضرت امداد اللہ مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ کو’’ اعلیٰ حضرت‘‘ کا لقب دیا اور غیر مقلدین اہلحدیث نے اپنے امام نذیر حسین دہلوی کو ’’شیخ الکل ‘‘ کا لقب دیا ۔
تو کیا وہ نبی پاک ﷺ یا صحابہ کرام علہیم الرضوان کو حضرت یا شیخ نہیں سمجھتے ؟ یقینا سمجھتے ہیں تو کیا ان القابات کو استعمال کرنے سے امداد اللہ مہاجر مکی اور نذیر حسین دہلوی کی فضلیت نبی کریم ﷺ یا صحابہ کرام علہیم الرضوان پر ثابت ہو گی؟(معاذ اللہ عزوجل)۔ کاش کہ وہابی حضرات شاہ عبد العزیز کی اس بات کو سمجھ سکتے ’’ شریعت کا عرف مقام فضلیت اور تفاوت مراتب کی جاری گفتگو میں ایسے الفاظ کو امت کے ساتھ خاص کر دیتا ہے۔اورتخصیص ذکری سے زیادہ قوی ہے جیسے کوئی کہے کہ گہیوں کی روٹی سب سے اچھی ہے ،اس سے گہیوں کی روٹی کی فضلیت بادام کی روٹی پر نہ سمجھی جائیگی اس لئے کہ اس کا استعمال متعارف نہیں ہے اور وہ بحث سے خارج ہے اس لئے کہ کلام اناج کو شامل ہے نہ کہ میووں کو ۔(تفسیر فتح العزیز ص ۳۰۴)
جواب نمبر 4: اعلیٰ حضرت کے شعر کا مزید تحقیقی جواب
الحمد للہ عزوجل ! ہماری اس مذکورہ بالا تفصیل سے اہل علم حضرات پر وہابیت کی جہالت واضح ہو چکی ہے ۔لیکن وہابی حضرات کے لئے مزید تفصیل پیش خدمت ہے ۔
واہ کیا مرتبہ ہے غوث بالا تیرا
اونچے اونچوں کے سروں سے قدم اعلیٰ تیرا
اولاََ تو عرض ہے کہ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کا یہ شعر اولیاء اکرام کے مشہور قول ''قد می ھذ اعلٰی رقبۃ کل ولی اﷲ‘‘ کی بنا پر ارشاد فرمایا گیا۔اس اس میں اونچے اونچوں(اولیاء) کے بارے میں خود اعلیحضرت رحمۃ اللہ علیہ نے دو ٹوک وضاحت فرما دی کہ ’’ اس لفظ (اولیاء )کا تیسرا اطلاق اخص اور ہے جس میں صحابہ بلکہ تابعین کو بھی شامل نہیں رکھتے کہ وہ اسمائے خاصہ سے ممتاز ہیں، جیسے کہتے ہیں اس مسئلہ پر صحابہ وتابعین واولیائے امت وعلمائے ملت کا اجماع ہے اس وقت یہ لفظ اصطلاحِ مشائخ وصوفیہ کاہم عناں ہوتا ہے، اس معنیٰ پر بیشک حضور غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سیدالاولیاء ہیں لا یخص منہ نفس الاان یقوم دلیل (اس معنٰی کہ اولیاء میں آپ بلا تخصیص سب کے سردار ہیں بغیر دلیل کسی ولی کی تخصیص نہ ہوگی)تو فرمان واجب الاذعان ''قد می ھذ اعلٰی رقبۃ کل ولی اﷲ (میرا یہ قدم ہر ولی کی گردن پر ہے۔ )میں تخصیص بلا مخصص کی اصلاً حاجت نہیں۔(فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۱۰ صفحہ ۸۱۰)۔
لہذا جس قول کی بنا پر اعلیٰحضرت رحمۃ اللہ علیہ نے یہ شعر ارشاد فرمایا،جب اس قول کی وضاحت ہو گی کہ اس سے میں انبیاء اکرام علیہم الصلوۃ والسلام اور صحابہ اکرام علہیم الرضوان اجمعین شامل نہیں ہے بلکہ اس ان اولیاء اکرم جن کے مقام و مرتبے سے حضور غوث پاک رضی اللہ عنہ کی ذات کو بتایا جا رہا ہے وہ مشائخ و صوفیہ ہیں ۔لہذا جب قول میں تخصیص ہے تو پھر شعر میں بھی تخصیص ہی ہو گی لہذا عمومی بات ہی نہ رہے ۔
پھر امام اہل سنت الشاہ امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ نے یہ شعر اس وقت لکھا جب بعض لوگوں نے اپنے پیروں و مشائخ کو حضور غوث اعظم رضی اللہ عنہ پر فضلیت دی۔ جیسا کہ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں یہ سوال پیش کیا گیا کہ ’’ زید کہتا ہے کہ جناب قطب الاقطاب غوث الثقلین میراں محی الدین ابو محمد سید عبد القادر جیلانی قدس سرہ اپنے وقت میں غوث یا قطب الاقطاب نہیں تھے بلکہ جناب سید احمد کبیر رفاعی رحمۃ اللہ علیہ قطب الاقطاب اور غوث الثقلین تھے …عمرو کہتا ہے کہ سیدنا احمد کبیر رفاعی کی ولایت اور قطبیت میں ہمیں بالکل کلام نہیں ،مگر ان کی تفضیل سیدنا جناب عبد القادر جیلانی قدس سرہ پر نہیں ہو سکتی… اس مضمون پر بڑودہ میں خفیہ خفیہ بحثیں ہوا کرتی ہیں ‘‘
تو اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے اس سوال کے جواب میں ’’طرد الافاعی عن حمی ھاد رفع الرفاعی‘‘یعنی سانپوں(موذیوں)کو دور کرنا اس ہادی کی بارگاہ سے جس نے امام رفاعی کو رفعت بخشی ‘‘ نامی مکمل کتاب تحریر فرمائی۔ جس میں اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ ’’حضرت رفاعی اور ان کے امثال قبل و بعد کے قطبوں کو حضور(شیخ عبد القادر رحمۃ اللہ علیہ) پر تفضیل دینی ہوسِ باطل و نقصان دینی ہے۔ والعیاذ باللہ تعالیٰ۔(فتاوی رضویہ جلد ۲۸ صفحہ ۳۷۳)
اور پھر گیارہ روایات حضور غوث اعظم رضی اللہ عنہ کی فضلیت کی بیان فرما کر حضرت رفاعی جیسے بزرگوں پر حضور غوث اعظم کی فضلیت ثابت کی۔ اور معترضعین کے اسے نظریے کے رد کر کے یہ شعر ارشاد فرمایا کہ
واہ کیا مرتبہ ہے غوث بالا تیرا
اونچے اونچوں کے سروں سے قدم اعلیٰ تیرا
یعنی اے غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ کو اللہ عزوجل و رسول اللہ ﷺ نے وہ مقام و مرتبہ عطا فرمایا ہے کہ جن اونچے اونچوں (مشائخ و صوفیہ)کا ذکر یہ لوگ کر رہے ہیں اور ان کوآپ رضی اللہ عنہ سے افضل و اعلیٰ بتا رہے ہیں ان جیسے اونچے اونچوں (مشائخ و صوفیہ) کے سروں سے بھی آپ رضی اللہ عنہ کا قدم اعلیٰ ہے۔
یہاں بحث ہی مشائخ وصوفیہ کے لحاظ سے ہیں نہ کہ نبی پاک ﷺ یا صحابہ کے
جواب نمبر 5: کلام کا سیاق و سباق
اور اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ یہاں مکمل بحث ہی اولیاء و مشائخ عظام کے مراتب کے لحاظ سے فرما رہے تھے اور ان کا یہ رسالہ آپ اول تا آخر پڑھ کر دیکھ لیجئے ۔
- کسی ایک جگہ بھی نبی کریم ﷺ اور غوث اعظم کا تقابل نہیں۔
- کسی ایک جگہ بھی خلفائے راشیدین علہیم الرضوان اجمعین اور غوث اعظم کا تقابل نہیں۔
- کسی ایک جگہ بھی کسی صحابی رضی اللہ عنہ اور غوث اعظم کا تقابل نہیں۔
بلکہ یہاں غوث اعظم کی فضلیت پر جو گفتگو کی گئی وہ صوفیاء کرام و مشائخ عظام کے بارے میں ہے ۔لیکن وہابیہ کی ضد و سینہ زوری دیکھئے کہ کہاں کی بات کہاں لے جا رہا ہے۔ لہذیہاں کلمہ عموم سرے سے موجود ہی نہیں ہے بلکہ یہاں عموم سمجھنا ایسا ہی ہے جسے الاتقی (سب سے بڑے متقی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ) سے تفضیلیہ نے عموم سمجھ کر مسلک حقہ اہل سنت و جماعت پر اعتراض کیا تھا ۔جس کا ذکر پہلے ہو چکا۔
جواب نمبر 6: "اونچے اونچوں" سے مراد
بے شک انبیاء و رسل اور صحابہ کرام کا مقام و مرتبہ سب سے اعلیٰ و افضل ہے لیکن یہاں اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ جن اونچے اونچوں کا ذکر فرما رہے ہیں ، ان اونچے اونچوں میں انبیاء و رسل اور صحابہ کرام شامل نہیں کیونکہ یہاں تو صوفیاء و مشائخ پر گفتگو ہو رہی تھی لہذاجس پہلو میں گفتگو ہو رہی ہو کلام بھی اسی میں کیا جاتا ہے۔جیسا کہ ہم آغاز میں اس موضوع پر گفتگو کر چکے ہیں۔
قرآن پاک میں ہے کہ الْاَتْقَی ’’سب سے بڑا پرہیزگار‘‘(پارہ30سورۃ اللیل آیت 17) اور یہاں مراد ابو بکر رضی اللہ عنہ ہیں(التفسیر الکبیر جلد ۳۱/ ۲۰۵)تو کیا تفضیلیہ کی طرح وہابی بھی کہیں گے کہ نبی پاک ﷺ بھی متقی ہیں بلکہ تمام انبیاء و رسل بھی متقی ہیں لہذا حضرت ابو بکر صدیق کو سب سے بڑا متقی کہہ کر ان سب پر فضلیت دی جا رہی ہے؟معاذ اللہ عزوجل۔لیکن حق وہی ہے جو ہم بیان کر چکے۔
اس شعر میں اونچے اونچوں کاکلام انبیاء ،رسل و صحابہ اکرام جیسی عظیم ہستیوں کو چھوڑ کر باقی لوگوں میں ہے کیونکہ شریعت سے معلوم ہے کہ ان کی عظمت سب سے زیادہ ہے اور انکا مرتبہ سب پر ہے تو انھیں باقی لوگوں پر قیاس نہ کیا جائے گا ،نہ باقی لوگ ان پر قیاس کئے جائینگے ۔تو شریعت کا عرف مقام فضلیت اور تفاوت مراتب کی جاری گفتگو میں ایسے الفاظ کو امت کے ساتھ خاص کر دیتا ہے۔ اورتخصیص ذکری سے زیادہ قوی ہے۔اور یہ اصول علماء اہل سنت و جماعت کا ہے ۔اس لئے وہابیوں کو اس سے کیا علاقہ؟وہابی اگر اس اصول سے متفق ہوتے اور اصلی اہل سنت و جماعت ہوتے تو پھر اس اصول کا انکار کرنے کی جرات نہیں کرتے۔
جواب نمبر 7: اعلیٰحضرت رحمۃ اللہ علیہ کا دو ٹوک فتوی
وہابیوں نے ’’اونچے اونچوں ‘‘ کے الفاظ شعر میں دیکھ کر اعتراض کر دیا حالانکہ یہ ان کی جہالت ہے ۔اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے فتاویٰ رضویہ میں لکھا ہے ’’ واٰلہٖ خلاصۃ الانام مع صحبہ الافاضل الکرامت: اوران کی ال پر کہ خلاصہ مخلوقات ہیں مع صحابہ کے کہ بہت فضیلت وکرم والے ہیں‘‘اس قسم کے کلمات مقام مدح میں استعمال کرتے ہیں مثلا امام ابو حنیفہ ،سیدالاولیاء حضور غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہما بلکہ علماء وساداتِ عصر کو لکھتے ہیں، افضل المحققین، اکمل المدققین، خلاصہ دودمانِ مصطفوی، نقادہ خاندانِ مرتضوی اور ان الفاظ سے عموم واستغراق حقیقی مراد نہیں لیتے۔
ورنہ بایں معنیٰ امام ائمہ وسیدنا الاولیاء حضور اقدس سرور دو عالم ﷺ ہیں وبس، اور اگر امت میں لیجئے تو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ ۔ اسی طرح خلاصہ دودمانِ مصطفوی حضرت بتول زہرا ہیں۔اور اوپر سے لیجئے تو حضرت مولا مشکل کشا ء اور نقادہ خاندان مرتضوی حسن مجتبیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین۔
پس واضح ہو گیا کہ طور متعارف پر حضرات آل ِ اطہار کو خلاصہ مخلوق کہنا بہت صحیح ہے اور اس سے ان کی فضیلت انبیاء ومرسلین بلکہ خلفائے ثلاثہ رضوان تعالٰی علیہم اجمعین پر لازم نہیں آتی کہ جو امور عقائد حقہ میں مستقر ہوچکے وہ خود ایضاح مراد کو بس ہی ہیں(فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۱۰ صفحہ ۸۱۰)
یہاں پر ایک وہابی نے یہ جواب دیا کہ جب یہ اصول ہے تو پھر اسماعیل دہلوی کی عبار ات کے بارے میں بھی اس کو کیوں نہیں تسلیم کیا جاتا؟ تو عرض ہے کہ اسماعیل دہلوی نے خود جگہ جگہ نام لیکر انبیاء اکرام علیہ الصلوۃ ولسلام اور اولیاء عظام رحمۃ اللہ علیہم اجمعین کی تخصیص کر دی اور علماء دیوبند وہابیہ نے بھی ان عبارات میںانبیاء اکرامعلیہ الصلوۃ ولسلام اور اولیاء عظام رحمۃ اللہ علیہم اجمعین کو شامل مانا (جس کی تفصیل آگے موجود ہے)لہذا جہاں خود قائل نے تخصیص کر دے وہاں یہ اصول قابل قبول نہیں کیا جائے گا۔
جواب نمبر 8: جو غوث اعظم کو صحابہ سے افضل مانے وہ بد مذہب ہے
اور اسی طرح اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ کا صاف فتوی ہے کہ جو غوث اعظم رضی اللہ عنہ کو صحابہ سے افضل جانے وہ بد مذہب ہے ،امام اہل سنت الشاہ احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ سے سوال ہوا کہ
’’ اکثر عوام کے عقیدے میں یہ بات جمی ہوئی ہے کہ غوث ا لا عظم رحمۃ اللہ علیہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے زیادہ مرتبہ رکھتے ہیں ۔ان اقوال کا کیا حال ہے ؟‘‘
تو امام اہل سنت الشاہ امام احمد رضا خان محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے اس گمراہ کن عقیدے کا رد ان الفاظ میںفرمایاکہ’’ جس کا عقیدہ ہو کہ حضور پرنورسید نا غوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ حضرت جناب افضل الاولیاء المحمدیین سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے افضل ہیں یا ان کے ہمسر ہیں،(وہ) گمراہ بد مذہب ہے ۔
سبحان اللہ ، اہل سنت کا اجماع ہے کہ حضور صدیق اکبررضی اللہ تعالٰی عنہ حضرت امام اولیاء مرجع العرفاء امیر المومنین مولی المسلمین سیدنا مولٰی علی کرم اللہ وجہہ سے بھی اکرم وافضل واتم واکمل ہیں جو اس کا خلاف کرے اسے بدعتی، شیعی، رافضی مانتے ہیں ، نہ کہ حضورغوثیت مآب رضی اللہ تعالٰی عنہ کی تفضیل دینی کہ معاذاللہ انکار آیات قرآنیہ واحادیث صحیحہ وخرق اجماع امت مرحومہ ہے لاحول ولا قوۃ الاباللہ العلی العظیم۔یہ مسکین اپنے زعم میں سمجھا جائے کہ میں نے حق محبت حضورپر نور سلطان غوثیت رضی اللہ تعالٰی عنہ کا ادا کیا کہ حضور کو ملک مقرب پر غالب یا افضل بتایا ، حالانکہ ان بیہودہ کلمات سے پہلے بیزار ہونے والے سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ ہیں، وباللہ التوفیق۔(فتاویٰ رضویہ نمبر۲۸ کتاب الشتی صفحہ ۴۱۳تا ۴۱۶)۔
الحمد للہ عزوجل اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کا نظریہ بالکل واضح و دو ٹوک ہے کہ حضور غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ کو صحابہ اکرام علہیم الرضوان پر ہرگز فضلیت حاصل نہیں ۔بلکہ جو ایسا بہودہ نظریہ پیش کرے وہ گمراہ و بد مذہب ہے۔
تو کیا اسماعیل دہلوی نے بھی اپنی کتاب تقویتہ الایمان میں کوئی اس طرح کا عقیدہ و مواقف بیان کیا ہے ؟بلکہ وہ تو کہتے ہے کہ جو بڑا بزرگ ہو اس کی تعظیم بڑے بھائی کی سی کرو ۔اور جو بشر کی سی تعظیم ہے اس جیسی کرو بلکہ اس میں بھی اختصار کرو اور سب انبیاء و اولیاء اس کے رو برو ذرہ نا چیز سے بھی کم تر ہیں ۔گاؤں کے چودھری و زمییندار کے مقام پر لا کھڑا کرو۔ لاحول ولا قوۃ الاباللہ العلی العظیم۔
جواب نمبر 9: اعلیٰ حضرت کی وضاحت اوروہابیہ کی جہالت
اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی اسی کتاب ’’طرد الافاعی عن حمی ھاد رفع الرفاعی‘‘ جس کے اندر یہی شعر لکھا ۔اسی کتاب کے اندر اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے حضور غوث اعظم رضی اللہ عنہ کا قول نقل فرمایا کہ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ
انا حجۃ اللہ علیکم جمیعکم انا نائب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم و وارثہ فی الارض
’’میں تم سب پر اللہ کی حجت ہوں ،میں رسول اللہ ﷺ کا نائب اورزمین میں ان کا وارث ہوں‘‘ (فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۸ صفحہ۳۹۶)
تو اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ توصاف فرما رہے ہیں کہ غوث اعظم رضی اللہ عنہ ہمارے آقا ومولا محمد رسول اللہ ﷺ کے نائب ہیں ۔لہذا یہاں ایسے بہودہ اعتراض کرنا تفضیلیہ کے طریقہ پر عمل نہیں تو اور کیا ہے؟اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ دو ٹوک الفاظ میں ارشاد فرماتے ہیں کہ
خلق سے اولیاء ،اولیاء سے رسل
اور رسولوں سے اعلیٰ ہمارا نبی
یعنی عام مخلوق(مسلمانوں) میںاعلیٰ مقام اولیاء رحمۃ اللہ علیہ اجمعین کا ہے ۔اور اولیاء سے بھی اعلی مقام رسل عظام علیہ الصلوۃ والسلام کا ہے اور رسولوں سے بھی اعلیٰ مقام ہمارے نبی پاک ﷺ کا ہے ۔
جواب نمبر 10: اہل سنت و جماعت کا مواقف اور وہابیہ کی جہالت
وہابیوں نے ’’اونچے اونچوں ‘‘(اولیاء) کے الفاظ دیکھ کر یہ کہا کہ دیکھو انبیاء و رسل بھی اونچے اونچوں میں شامل ہیں ۔ لہذا ان پر بھی فضلیت ثابت ہوئی لیکن یہ استدلال ہی بال و جہالانہ ہے ۔شاہ عبد العزیز رحمۃ اللہ علیہ نے تفضیلیوں کو یہی جواب ارشاد فرمایا تھا کہ دیکھئے گہیوں کی روٹی بھی روٹی ہی کہلاتی ہے اور بادام کی روٹی بھی روٹی ہی کہلاتی ہے ۔دونوں کے لئے الفاظ ’’روٹی ‘‘ ہی استعمال کیے جاتے ہیں ۔ لیکن علماء اہل سنت کا اصول پہلے بیان ہو چکا کہ اگر’’ کوئی کہے کہ گہیوں کی روٹی سب سے اچھی ہے ،اس سے گہیوں کی روٹی کی فضلیت بادام کی روٹی پر نہ سمجھی جائیگی اس لئے کہ اس کا استعمال متعارف نہیں ہے اور وہ بحث سے خارج ہے اس لئے کہ کلام اناج کو شامل ہے نہ کہ میووں کو ۔(تفسیر عزیزی)
لہذا وہابی حضرات یا تو خود کو اہل سنت و جماعت کہلوانا چھوڑ دیں یا پھر مذکورہ شعر کو بیان کر کے جو تفضیلیی طریقے کے مطابق اعتراض کرتے ہیں اس سے توبہ کر لیں۔وہابیوں اب ذرا شاہ عبد العزیز رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھو کہ شاہ صاحب ایک طرف تو آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ ’’ گہیوں کی روٹی سب سے اچھی ہے ‘‘ اور یہاں ’’سب ‘‘ کے الفاظ بھی ہیں اور ’’ روٹی‘‘ کے بھی لیکن پھر بھی بادام کی روٹی پر فضلیت نہیں مانتے ہو ۔وہابیوں ذرا ہمت کرو اور شاہ عبد العزیز رحمۃ اللہ علیہ کی اس بات کو جواب دیکرکر تفضیلیت کو تقویت پہنچا۔
قد می ھذ اعلٰی رقبۃ کل ولی اﷲ پر اعتراض کا جواب
معنی و مراد کے اعتبار سے یہ اعتراض بھی وہی ہے جو کہ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے شعر کے الفاظ’’ اونچے اونچوں ‘‘کو دیکھ کرکیا گیا تھا ۔ ہم عرض کر چکے کہ الْاَتْقَی۔ سب سے بڑا متقی‘‘ میں لفظ’’ بڑا ‘‘بھی موجود ہے اور’’ متقی‘‘ بھی۔اسی طرح صدیق اکبر میں’’اکبر ‘‘کا لفظ بھی ہے اور ’’صدیق‘‘کا بھی۔ فاروق اعظم میں لفظ ’’فاروق ‘‘ بھی ہے اور ’’اعظم ‘‘بھی ۔امام اعظم میں لفظ ’’امام ‘‘ بھی ہے اور ’’اعظم‘‘ بھی ۔غوث اعظم میں لفظ ’’غوث ‘‘ بھی ہے اور ’’اعظم ‘‘بھی۔شیخ الکل میں لفظ ‘‘ شیخ ‘‘بھی ہے اور ’’کل ‘‘ اسی طرح اعلیٰ حضرت میں لفظ ’’حضرت ‘‘بھی ہے اور ’’اعلی‘‘بھی ۔
تو جس طرح تفضیلیوں نے اعتراض کیا آج وہابی بھی تفضیلیہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے وہی اعتراض کر رہے ہیں۔جبکہ اہل سنت و جماعت کا مواقف بیان کیا جا چکا کہ یہاں سرے سے وہ بات ہی نہیں جو وہابی حضرات کو نظر آ رہی ہیں اگر وہابی حضرات اپنی آنکھوں سے تفضیلی عینک اتار کر دیکھیں گے تو انشاء اللہ عزوجل قوی امید ہے کہ بات سمجھ جائے گی اور ضد و ہٹ دھرمی نہ کی تو ہماری بات کو قبول بھی کریں گے۔
امام احمد رضا خان محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی فتاویٰ رضویہ میں حضور غوث اعظم کا قول نقل فرمایا آپ فرماتے ہیں کہ
انا حجۃ اللہ علیکم جمیعکم انا نائب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم و وارثہ فی الارض (فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۸ صفحہ۳۹۶)
تو یہاں غوث اعظم رضی اللہ عنہ کا مقام و مرتبہ بھی خود اعلیحضرت رحمۃ اللہ علیہ نے بیان فرما دیا ۔کہ غوث اعظم رضی اللہ عنہ ہمارے آقاﷺ کے نائب و خادم ہیں ۔لہذا وہابی حضرت جو بہودہ نتیجہ پیش کر کے اعلیحضرت رحمۃ اللہ علیہ کو بد نام کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں ،اس میں انشاء اللہ عزوجل کبھی کامیاب نہیں ہوں گے ۔
اعلیٰحضرت کی زبانی قد می ھذ اعلٰی رقبۃ کل ولی اﷲ کی وضاحت
وہابیوں نے بھی یہاں’’ولی ‘‘ کا لفظ دیکھ کر وہی اعتراض کیا جو ’’الاتقی ‘‘ کے تحت تفضیلیہ نے کیا تھا۔لیکن وہابیوں کو اس سے کچھ فائدہ حاصل نہ ہو گا کیونکہ خود اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے فتاوی رضویہ میں ''قد می ھذ اعلٰی رقبۃ کل ولی اﷲ‘‘ کی مکمل وضاحت فرما دی جس کو پڑھنے کے بعد وہابیوں دیوبندیوں کی جہالت و لاعلمی سب پر عیاں ہو جائے گی۔انشاء اللہ عزوجل۔ اعلیٰ حضرت خودفرماتے ہیں کہ ’’ اولیاء کا اطلاق کبھی بمعنیٰ اعم آتا ہے یعنی ہر محبوب خدا، توانبیاء بلکہ ملائکہ کوبھی شامل، اس معنیٰ پر قرآن عظیم میں فرمایا:
الا ان اولیاء اﷲ لاخوف علیھم ولا ھم یحزنون (سن لو بیشک اللہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہے نہ غم۔(القرآن ۱۰/۶۲)
بایں معنیٰ سیدالاولیاء حضور سید المحبوبین ہیںﷺ، اور کبھی ماورائے انبیاء ومرسلین مراد لیتے ہیں ہزاروں بار سنا ہوگا انبیاء واولیاء اور عطف مقتضے مغایرت ہے اس معنی پر سید الاولیاء حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ ہیں کہ باجماع اہل سنت تمام امت سے افضل واکمل ہیں
ا ور اس لفظ کا تیسرا اطلاق اخص اور ہے جس میں صحابہ بلکہ تابعین کو بھی شامل نہیں رکھتے کہ وہ اسمائے خاصہ سے ممتاز ہیں، جیسے کہتے ہیں اس مسئلہ پر صحابہ وتابعین واولیائے امت وعلمائے ملت کا اجماع ہے اس وقت یہ لفظ اصطلاحِ مشائخ وصوفیہ کاہم عناں ہوتا ہے، اس معنیٰ پر بیشک حضور غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سیدالاولیاء ہیں لا یخص منہ نفس الاان یقوم دلیل (اس معنٰی کہ اولیاء میں آپ بلا تخصیص سب کے سردار ہیں بغیر دلیل کسی ولی کی تخصیص نہ ہوگی)تو فرمان واجب الاذعان ''قد می ھذ اعلٰی رقبۃ کل ولی اﷲ (میرا یہ قدم ہر ولی کی گردن پر ہے۔ )میں تخصیص بلا مخصص کی اصلاً حاجت نہیں۔(فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۱۰ صفحہ ۸۱۰)۔
الحمد للہ عزوجل! شیخ الاسلام امام اہل سنت الشاہ احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے جب اپنی مراد بیان فرما دی تو وہابیوں کی تمام تر محنت خاک میں مل گئی۔جب اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے خود فرما دیا کہ اس قول میں نبی پاک ﷺ تو کیا صحابہ و تابعین کو بھی شامل نہیں رکھتے تو پھر وہابی خواہ مخواہ شور مچا رہے ہیں ۔اب مذکورہ بالا دو ٹوک فیصلے کے بعد بھی کوئی ضد و ہٹ دھرمی سے باز نہ آئے تو ہمارے پاس اس کا کچھ علاج نہیں ۔
اعلیٰحضرت کی زبانی ایسے کلمات کی مزید وضاحت
اور اسی طرح اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے فتاویٰ رضویہ میں لکھا ہے ’’ واٰلہٖ خلاصۃ الانام مع صحبہ الافاضل الکرامت: اوران کی ال پر کہ خلاصہ مخلوقات ہیں مع صحابہ کے کہ بہت فضیلت وکرم والے ہیں‘‘اس قسم کے کلمات مقام مدح میں استعمال کرتے ہیں مثلا امام ابو حنیفہ ،سیدالاولیاء حضور غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہما بلکہ علماء وساداتِ عصر کو لکھتے ہیں، افضل المحققین، اکمل المدققین، خلاصہ دودمانِ مصطفوی، نقادہ خاندانِ مرتضوی اور ان الفاظ سے عموم واستغراق حقیقی مراد نہیں لیتے۔ ورنہ بایں معنیٰ امام ائمہ وسیدنا الاولیاء حضور اقدس سرور دو عالم ﷺ ہیں وبس، اور اگر امت میں لیجئے تو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ ۔ اسی طرح خلاصہ دودمانِ مصطفوی حضرت بتول زہرا ہیں۔اور اوپر سے لیجئے تو حضرت مولا مشکل کشا ء اور نقادہ خاندان مرتضوی حسن مجتبیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین۔پس واضح ہو گیا کہ طور متعارف پر حضرات آل ِ اطہار کو خلاصہ مخلوق کہنا بہت صحیح ہے اور اس سے ان کی فضیلت انبیاء ومرسلین بلکہ خلفائے ثلاثہ رضوان تعالٰی علیہم اجمعین پر لازم نہیں آتی کہ جو امور عقائد حقہ میں مستقر ہوچکے وہ خود ایضاح مراد کو بس ہی ہیں(فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۱۰ صفحہ ۸۱۰)۔
اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے فتاویٰ حدیثہ کے حوالہ سے یہ روایت بھی بیان فرمائی کہ
بل جاء با سانید متعددۃ عن کثیرین انھم اخبر واقیل مولدہ بنحو مائۃ سنۃ انہ سیولہ بارض العجم مولود مظھر عظیم یقول ذلک فتندرج الاولیاء فی وقتہ تحت قدمہ
بلکہ متعدد سندوں سے بہت اولیاء کرام مقدمیں سے مروی ہوا کہ انھوں نے سرکار غوثیت کی ولادت مبارکہ سے تقریباََ سو برس پہلے خبر دی تھی کہ عنقریب عجم میں ایک صاحب عظیم مظہر والے پیداہونگے اور یہ فرمائیں گے کہ ’’میرا یہ پاؤں ہر ولی اللہ کی گردن پر‘‘ اس فرمانے پر اُس وقت کے تمام اولیاء ان کے قدم کے نیچے سر رکھیں گے اور اُس قدم کے سایہ میں داخل ہوں گے(فتاویٰ رضویہ جلد ۲۸ صفحہ ۳۹۹)
اعلیٰحضرت رحمۃ اللہ علیہ کی اس بیان کردوہ روایت سے بھی یہی ثابت ہوا کہ غوث اعظم رضی اللہ عنہ کا قدم صرف اس وقت کے انہی اولیاء اللہ رحمۃ اللہ علیہ اجمعین کی گردنوں سے اونچا ہے جو مقام و مرتبہ سے حضور غوث اعظم رضی اللہ عنہ سے کم ہیں ۔
علماء وہابیہ کے گھر سے اس مسئلے کی وضاحت پر ثبوت
وہابیوں دیوبندیوں کے رشید احمد گنگوہی سے پوچھا گیا کہ پیران پیرصاحب کا قدم سب پیروں کی گردن پر ہے(’’''قد می ھذ اعلٰی رقبۃ کل ولی اﷲ ) اس کا کیا مطلب ہے؟
تو علماء دیوبند کے رشید احمد گنگوہی لکھتے ہیں کہ’’پیران پیر کا قدم ہونا سب کی گردن پرمراد ان کی بزرگی اور بڑائی ہے اس میں کیا حرج ہے جو ان سے بڑے ہیں ان کا قدم حضرت پیران پیر کی گردن پر ہے ۔(فتاویٰ رشیدیہ کامل صفحہ۵۹ مکتبہ رحمانیہ لاہور)
لہذا خود وہابیوں کی کتاب سے ہمارا موقف و نظریہ ثابت ہو گیا کہ جو ان پیران پیر سے بڑے ہیں(یعنی انبیاء و رسل اور صحابہ وغیرہ) ان کا قدم حضرات پیران پیر کی گردن پر ہے جبکہ غوث اعظم جن سے بڑے ہیں ان پر پیران پیر کا قدم ہے۔یعنی غوث اعظم رضی اللہ عنہ سے نیچے جتنے بھی اونچے اونچے اولیاء کرام ہیں ان سب اونچے اونچوں کے سروں سے بھی غوث اعظم رضی اللہ عنہ کا قدم ( یعنی بزرگی و بڑائی )اعلیٰ ہے۔ لہذا جب خود یوبندی وہابی حضرات یہ بات مانتے ہیں اور جانتے ہیں کہ وہ بات سرے سے یہاں ہے ہی نہیں،تو پھر خواہ مخواہ اس کو پیش کرکے اسماعیل دہلوی کی گستاخانہ عبارت کا دفاع کرنا محض عوام الناس کی آنکھوں میں دھول جھونکنا اور دیوبندی وہابی عوام کو الو بنانا ہے۔
کیا اسماعیل دہلوی نے بھی ایسی وضاحت پیش کی؟
اللہ عزوجل کا شکر ہے کہ مخالفین نے جب بھی اہل سنت و جماعت کے خلاف منہ کھولا ،اس کو منہ توڑ جواب دیا گیا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ جس دہلوی صاحب کا دفاع کرنے کے لئے زندگی کی آخری سانس تک تاویلات باطلہ گھڑتے رہتے ہیں حتکہ کے مر کر مٹی میں مل جاتے ہیں ،اُسی اسماعیل دہلوی کا اپنااقرار ہے کہ ٭ـ’میں جانتا ہوں کہ اس میں بعض جگہ ذرا تیز الفاظ بھی آگئے ہیں اور بعض جگہ تشدد بھی ہو گیا ہے … مجھے اندیشہ ہے کہ اس کی اشاعت سے شورش ضرور ہو گی… گو اس سے شورش ہو گی مگر توقع ہے کہ لڑ بھڑ کر خود ٹھیک ہو جائیں گے۔‘‘(ارواح ثلاثہ صفحہ ۸۴) گویا ذہر رگوں میں داخل کر کے صحت یابی کی توقع و امید رکھتے ہیں۔
اسی کتاب تقویتہ الایمان کی عبارات کے بارے میں علماء دیوبندکے رشید احمد گنگوہی نے کہا کہ ‘‘ بعض مسائل میں بظاہر تشدد ہے۔(فتاویٰ رشیدیہ صفحہ ۲۲۶)
غلام رسول مہر صاحب لکھتے ہیں کہ تقویتہ الایمان میں ’’شاہ صاحب کی عبارت ایسی سادہ،سلیس، شگفتہ اور دلکش ہے کہ چند مخصوص الفاظ و محاورات کو چھوڑ کر آج بھی ایسی دلکش کتاب لکھنا سہل نہیں( مقدمہ تقویتہ الایمان صفحہ ۳۱)
اشرفعلی تھانوی کے مطابق ’’تقویتہ الایمان میں بعض الفاظ جو سخت واقع ہیں‘‘(امداد الفتاویٰ جلد ۴ص۱۱۵)
لہذا جب خود مصنف اور اسکے پیرو کار اقرار کر چکے کہ تقویتہ الایمان میں تیز الفاظ،سخت الفاظ ،تشدد واقع ہو ا ہے ۔جس کی وجہ سے شورش اور لڑائی جھگڑے شروع ہو ئے اور آج دن تک ختم ہو نے کا نا م نہیں لے رہے ۔تو پھر ایسی کتاب و عبارات کا دفاع کرنا ضد و ہٹ دھرمی کے سوائے کچھ نہیں ہے۔
جب قرآن و حدیث سے ان لوگوں کو اپنی کتاب تقویتہ الایمان کی حمایت و دفاع پر کوئی ثبوت نہ ملا تو اب ان لوگوں نے ایک نیاء طریقہ اختیار کیا ۔کہ کبھی تو اپنی حمایت پر اولیاء اللہ کے در پر جا کھڑے ہوتے کہ شاہد ہماری مشکل کشائی ہو جائے اور کبھی علماء اہل سنت کہ حوالہ جات پیش کر کے خود کوبچانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ لیکن انشاء اللہ عزوجل بے ادبوں کو یہاں بھی کچھ نہیں ملے گا اور نا امیدہو کر ہی لوٹیں گے۔انشاء اللہ عزوجل۔