بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُواْ لَہُ وَأَنصِتُواْ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُونَ
(سورۃ اعراف، آیت ۲۰۴)
جب قرآن کی قرأت ہو تو اپنی سماعت کو ادھر متوجہ کرو اور زبان حرکت نہ دو تاکہ تمہیں رحمت (ثواب) ملے۔
کافر نہ احکام کے مکلّف نہ رحمت و ثواب کے مستحق، لہذا یہ حکم مسلمانوں کو ملا ہے۔
احادیثِ کثیرہ میں ہے کہ یہ آیت نماز کے بارے میں اُتری۔ (زجاجۃ المصابیح)
امام مسلم کے نزدیک حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث صحیح ہے
(مسلم، ج 1، ص 174):
اذا قرء فانتصتوا
جب امام قراءت کرے تو چپ رہو۔
اسی طرح امام مسلم کے نزدیک حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث بھی صحیح ہے
(مسلم، ج 1، ص 174، مشکوٰۃ ص 79، 81):
فاذا کبر فکبروا واذا قرء فانتصتوا
جب امام تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو اور جب امام قراءت کرے تو تم زبان کو حرکت نہ دو۔
بخاری میں انصات اور لا تحرک بہ لسانک کو مترادف بتایا گیا ہے
(بخاری، حدیث 4)۔
غنیۃ الطالبین میں یہ روایت یوں ہے:
واذا قرء فانتصتوا واذا قال غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَلاَ الضَّالِّیْنَ فَقُوْلُوْا آمِیْنَ
اور جب امام قراءت کرے تو زبان کو حرکت نہ دو اور جب وہ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَلاَ الضَّالِّیْنَ کہے تو تم آمین کہو۔
اسی طرح مقتدی سورۃ فاتحہ زبان سے ادا نہیں کرسکتا۔
سورۃ فاتحہ کی اہمیت کے پیش نظر بعض حضرات نے یہ اجتہاد کیا کہ زبان کو حرکت نہ دے بلکہ اپنے جی (دل) میں تصور کے ساتھ پڑھ لے۔اقرأھا فی نفسک (مسلم)
مگر حدیثِ صحیح مرفوع میں یہ مسئلہ نبی کریم ﷺ سے حل شدہ موجود ہے:
من کان لہ امام فقرأۃ الامام لہ قرأۃ
(کتاب الآثار ص 86، مؤطا امام محمد، حدیث 119)
یعنی جس کا امام ہے تو امام کی قراءت ہی مقتدی کی قراءت ہے۔
لہذا مقتدی کی طرف سے بھی قراءت ہوگئی۔
اسی وجہ سے جو کھڑے ہوکر تکبیرِ تحریمہ کہہ کر فوراً جماعت کے ساتھ رکوع میں شامل ہو جائے تو اس کو رکعت مل جاتی ہے۔
اسی لئے:
وَارْكَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ
(سورۃ بقرہ، آیت 43)
کے حکم میں رکوع کی تخصیص کی گئی ہے کیونکہ رکوع میں نہ ملنے والے کو پوری رکعت کا فائدہ نہیں ملتا۔
صحابہ کرام رکوع سے پہلے آمین میں شامل ہونے کی کوشش کرتے تھے۔
چنانچہ:
کان ابو ہریرہ ینادی الامام لا تفوتنی بآمین
(صحیح بخاری قبل حدیث 780)
اسی طرح حضرت بلال سے منقول ہے:
یا رسول اللہ لا تسبقنی بآمین
(ابوداؤد، حدیث 937)
اگر سورۃ فاتحہ بھی مقتدی کے ذمہ ہوتی تو وہ اپنی سورۃ فاتحہ کو فوت ہونے سے بچاتے، نہ کہ صرف آمین کو۔
حدیث میں ہے:
اذا امن الامام فامنوا
(بخاری 780، مسلم 915، ابوداؤد 936، نسائی 969)
اور دوسری روایت:
اذا امن القاری فامنوا
(بخاری 6402، نسائی 926، 927، ابن ماجہ 851، 852، مشکوٰۃ ص 79)
دونوں کو ملا کر معلوم ہوا کہ جماعت میں قاری صرف امام ہوتا ہے۔
لہذا جب امام آمین کہے تو مقتدی بھی ساتھ آمین کہے۔