Skip to content

محدثین مقلّد تھے

مصنف: فقہیہ اعظم مولانا ابو یُوسف محمد شریف محدّث کوٹلویؔ

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

چند کار آمد حوالے خود غیر مقلّد کے گھر سے

امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ

قال الشیخ تاج الدین اسلبکی فی طبقاتہ کان البخاری اما المسملین وقدوۃ المومنین وشیخ الموحدین والمعول علیہ فی احادیث سید المرسلین قال وقدذکر ابو عاصم فی طبقات اصحابنا الشافعیۃ ۔

شیخ تاج الدین سبکی نے طبقات میں فرمایا کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ امام المسلمین، قدوۃ المؤمنین، شیخ الموحدین اور حدیث سیدالمرسلین (صلی اللہ علیہ وسلم) میں معول علیہ تھے۔ (الحطہ مصنفہ نواب صدیق حسن خان، فصل ۲، ۱۲۱)

نواب صدیق حسن خاں والئی، بھوپال، غیر مقلدین کے اکابر میں شمار کئے جاتے ہیں۔ ان کی یہ عبارت صاف ظاہر کررہی ہے کہ حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ حضرت امام شافعی کے مقلّد تھے۔ موجودہ دور کے غیر مقلدین کو لازم ہے کہ نواب صاحب کی اس عبارت میں غور کریں کہ جب امام بخاری جیسے محدث، تقلید کررہے ہیں۔

تو انہیں بھی لازم ہے کہ ترکِ تقلید سے روگردانی کرکے کسی مجتہد مطلق کی تقلید کریں۔

حضرت امام ابو دائود رحمۃ اللہ علیہ

الامام ابودائود سلیمان بن اشعث اعدہ الشیخ ابو اسحق شیرازی فی طبقات الفقہا ء من جملۃ اصحاب الامام احمد واختلف فی مذھبہ فقیل حنبلی وقیل شافعی ۔

امام ابودائود سلیمان بن الاشعث، جن کو شیخ ابو اسحق شیرازی نے طبقات الفقہاء میں امام احمد بن حنبل کے اصحاب میں شمار کیا ہے۔ ان کے مذہب میں اختلاف ہے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ حنبلی تھے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ شافعی تھے۔ (الحطہ، مصنفہ نواب صدیق حسن صفحہ ۱۲۰)

اس عبارت سے صاف ظاہر ہے کہ امام ابودائود حنبلی تھے۔ اگر حنبلی نہ تھے تو شافعی یقیناً تھے۔ بہر حال مقلّد ضرور تھے۔

حضرت امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ

کان النسائی شافعی المذھب

حضرت امام نسائی شافعی المذہب تھے۔ (کتاب مذکور صفحہ ۱۲۷)

اس عبارت سے معلوم ہوا کہ امام نسائی غیر مقلّد نہیں تھے بلکہ مقلّد تھے۔

ابنِ تیمیہ کے مقلّد ہونے کا اقرار

ابن تیمیہ وہابیوں کے امام ہیں مگر وہ بھی مقلّد تھے۔ اس کا اعلان بھی نواب صدیق حسن کررہے ہیں:

احمد بن الحلیم بن مجد الدین عبد السلام بن عبید اللہ بن عبداللہ بن ابی القاسم بن تیمیہ الحرافی ثم الدمشقی الحنبلی صاحب منھاج السنتہ ۔

احمد بن حلیم بن مجد الدین عبد السلام بن عبید اللہ بن عبد اللہ بن ابی القاسم بن تیمیہ حرانی دمشقی، صاحب منہاج السنتہ حنبلی تھے۔ (منقول من الفوائد البیھہ فی تراجم الحنفیہ، التعلیقات السنتہ علی الفوائد البیھہ، مصنفہ نواب صدیق حسن خاں صفحہ ۸)

اس تحریر سے صاف ظاہر ہے کہ ابن تیمیہ، غیر مقلّد تھے بلکہ امام احمد بن حنبل کے مقلّد تھے۔ وہ کونسا غیر مقلّد ہے؟ جس کے دل میں ابن تیمیہ کی عقدیت اور احترام نہیں۔ لہذا انصاف شرط ہے کہ ابنِ تیمیہ تو تقلید کریں لیکن ان سے عقیدت رکھنے والے تقلید سے نفرت کریں! فیا للعجب!

غیر مقلّدین یہ عبارت بھی غور سے پڑھیں ۔

حضرت شاہ ولی اللہ کا ارشاد

حضرت شاہ ولی اللہ، رحمۃ اللہ علیہ اپنی شہرہ آفاق تصنیف حجۃ اللہ البالغۃ میں فرماتے ہیں:

منھا ان ھذا المذاھب الاربعۃ المدونۃ قد اجتمعت الامۃ او من یعتد بہ منھا علی جواز تقلیدہ الیٰ یومنا ھذا وفی ذالک من المصالح ما لا یخفی الا سیما فی حزا الایام التی قصرت ھمتھم جدا ۔

یہ مذاہب اربعہ جو مدونہ ہیں۔ ان کی تقلید کرنے پر امّت یا امّت میں سے ان لوگوں نے، جن کا دین میں اعتبار کیا جاتا ہے، اجماع کیا ہے ہمارے اس زمانہ تک۔ اور اس تقلید میں بہت سی مصلحتیں ہیں۔ جو کسی پر پوشیدہ نہیں۔ خصوصاً اس زمانے میں جب کہ ہمتیں بہت کوتاہ ہوگئی ہیں۔

خدا را: نتیجہ

مندرجہ بالا حوالوں میں غور فرمائیے اور خود فیصلہ فرمایئے کہ جب امام بخاری جیسے تاج المحدثین اور دیگر اکابر محدثین مقلّد تھے تو مشکوۃ اور بلوغ المرام کا اردو ترجمہ پڑھ کر نام نہاد مولوی ۔۔۔ کس شمار میں ہیں۔

کیا موجودہ دور کے وہابی امام بخاری، امام ابو دائود اور امام نسائی سے زیادہ قرآن وحدیث کی سمجھ رکھتے ہیں؟ کیا یہ لوگ ابن تیمیہ سے بھی زیادہ عالم ہیں؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو لازم ہے کہ وہی راستہ اختیار کیا جائے جو محدثین کرام کا تھا۔ اس میں فلاحِ دارین ہے۔