Skip to content

عیدوں کی عید

مصنف: پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد

بسم اﷲ الرحمن الرحیم نحمدہٗ ونصلی علی رسولہ الکریم

ذکرِ مصطفیٰ ﷺ کی ابتداء

اﷲ نے سب سے پہلے نورِ محمدی (صلی اﷲ علیہ وسلم) پیدا فرمایا(مدارج النبوت، ج۱، ص۲)، نبوت سے سرفراز کیا،( اشعۃ اللمعات، ج۳،ص۴۷۴) درودوں کا سلسلہ شروع ہوا، فرشتے پیدا ہوئے تو وہ بھی درودوسلام میں شریک ہوگئے، اور جب وہ نور دنیا میں آیا(سورۃ المائدہ: ۱۵) تو انسان بھی شریک ہوگئے(سورۃ احزاب:۵۶، ۵۷) اگر سمجھنے والے سمجھیں تو یہ بھی جشن کا ایک انداز ہے۔

اﷲ اکبر، روزِ اوّل سے ذکر اذکار ہورہے ہیں اور خوشیاں منائی جارہی ہیں ! اﷲ کو اپنے پیاروں سے بڑی محبت ہے ، اُن کی نشانیوں کو اپنی نشانیاں بنادیا(سورۂ بقرہ:۱۵۸) اور تعظیم و تکریم کا حکم دیا(سورۂ حج:۳۲) ان کے یاد گار دنوں کو اپنا یاد گار دن بنادیا (تفسیر خازن و مدارک) اور ارشاد فرمایا’’اور انہیں اﷲ کے دن یاد دلائو‘‘(سورۂ ابراہیم:۵) انبیاء علیہم السلام کا یوم ولادت بھی اﷲ کے دنوں میں ایک دن ہے، یوم ولادت کی اہمیت کا اندازہ قرآن کریم سے ہوتا ہے ،

حضرت یحییٰ علیہ السلام کے لئے ارشاد فرمایا، ’’سلامتی ہو اس پر جس دن وہ پیدا ہوا‘‘(سورۂ مریم:۱۵)

یومِ ولادت کی اہمیت

حضور انور صلی اﷲ علیہ وسلم اس جہانِ رنگ وبو میں پیر کے دن تشریف لائے، آپ اظہار تشکر کے لئے ’’پیر‘‘ کے دن روزہ رکھا کرتے تھے، جب پوچھا گیا تو فرمایا ۔

’’اس دن میں پیدا ہوا اور اسی دن مجھ پر وحی نازل ہوئی‘‘ (ابن اثیر ، اُسد الغابہ، ج۱، ص۲۱، ۲۲)

حضور انور صلی اﷲ علیہ وسلم کی تشریف آوری کی تاریخ بعض روایات کے مطابق ۱۲؍ربیع الاوّل (۵۷۹ء)ہے جس کی تائید تین چار ہزار برس پرانے شواھد سے بھی ہوتی ہے(بھاگوت پرائی، اسکند ۱۲، باب ۲، اشلوک ۱۸) ، تو ’’پیر‘‘ کے دن اور ۱۲؍ ربیع الاوّل کو حضور صلی اﷲ علیہ وسلم سے خاص نسبت ہے اور نسبتوں ہی سے بلندیاں نصیب ہوتی ہیں۔

نعمتِ عظمیٰ اور جشنِ میلاد

اﷲ تعالیٰ نے حضور انور صلی اﷲ علیہ وسلم کو مبعوث فرماکر احسان جتایا(سورۂ آل عمران، :۱۶)

احسان اس لئے جتایا جاتا ہے تاکہ اس کو یاد رکھا جائے ، یاد کیا جائے فراموش نہ کردیا جائے پھر خوشیاں منانے کا بھی حکم دیا (سورۂ یونس: ۵۸)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اﷲ سے عرض کیا’’ہم پر آسمان سے خوان اُتار کہ وہ ہمارے لئے عید ہو، ہمارے اگلوں اور پچھلوں کی ‘‘ (سورۂ المائدہ: ۱۴)

یہ بات قابل توجہ ہے کہ ’’خوان نعمت‘‘ اُترے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام اُس دن عید منائیں اور جب ’’جانِ نعمت‘‘ اُترے تو وہ دن عید کا دن نہ ہو؟ جس رات قرآن کریم اُترا وہ رات ہزار مہینوں سے بہتر قرار پائے ( سورۂ قدر: ۳) ، اور جس دن صاحبِ قرآن ناطق اترا اُس رات کی عظمت کا کیا عالم ہوگا؟ شب قدر ہر سال منائی جاتی ہے تو وہ رات کیوں نہ منائی جائے جس رات آقائے دو جہاں صلی اﷲ علیہ وسلم تشریف لائے!

اﷲ نے فرمایا’’ اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو(سورۂ ضحی : ۱۱)

امام بخاری فرماتے ہیں سب سے بڑی نعمت تو خود حضور صلی اﷲ علیہ وسلم ہیں ( بخاری شریف، ج۲، ص۵۶۶) تو چاہئے اُن کا چرچا کیا جائے ۔

عہدِ رسالت و صحابہ میں ذکرِ میلاد

حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم نے خود برسر منبر اپنا ذکر ولادت فرمایا(ترمذی شریف، ج۲، ص۲۰۱)،بعض صحابہ کرام کو حکم دیا اور انہوں نے آپ کے فضائل وشمائل بیان کئے(ذرقانی شرح مواہب اللدنیہ، ج۱، ص۲۷)

آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس رضی اﷲ عنہ نے ۹۰ھ / ۶۳۰ء میں غزوۂ تبوک سے واپسی پر آپ کے سامنے منظوم ذکر ولادت فرمایا(ابن ، کثیر، میلاد مصطفی ، ۲۹، ۳۰، مطبوعہ رضا اکیڈمی لاہور )

حضرت حسان بن ثابت رضی اﷲ عنہ کے لئے حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم نے خود منبر پر چادر شریف بچھائی اور اُنہوں نے منبر پر بیٹھ کر آپ کی شا ن میں قصیدہ پیش کیا( بخاری شریف، ج۱، ص۶۵)، آپ نے دعائوں سے نوازا ، یہ تمام حقائق احادیث میں موجود ہیں ۔

اسلافِ امت اور محفلِ میلاد

مشہور تبع تابعی حضرت مالک بن انس رضی اﷲ عنہ جب حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم کی پیاری باتیں سناتے تو برا اہتمام فرماتے (اقامۃ القیامۃ، س۴۴) ،ٹھیک ایسا ہی اہتمام جیسا آج علماء و مشائخ کی بعض محافل میں نظر آتا ہے۔

حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اﷲ عنہ ہر ماہ کی گیارہ تاریخ کو سرکار ِ دوعالم صلی اﷲ علیہ وسلم کے حضور نذرو نیاز پیش فرماتے تھے(قرۃ الناظر، ص۱۱) ، اور یہ طریقہ اب تک رائج ہے، ابن تیمیہ بھی محافل میلاد منعقد کرنے والے مخلصین کی تائید کرتے ہوئے اجر وثواب کی بشارت دیتے ہیں ( اقتضاء الصراط المستقیم) ، مجالس میلاد النبی صلی اﷲ علیہ وسلم کوئی نئی چیز نہیں، صدیوں سے اس کا سلسلہ جاری ہے اور اس کی اصل عہد نبوی صلی اﷲ علیہ وسلم میں موجود ہے۔

حضرت شاہ ولی اﷲ محدّث دہلوی علیہالرحمہ کے والد ماجد حضرت شاہ عبدالرحیم علیہ الرحمہ پابندی کے ساتھ یوم ولادت باسعادت پر کھانا پکا کر فقراء میں تقسیم کرتے تھے(الدرثمین، ص۸)

خود حضرت شاہ ولی اﷲ علیہ الرحمہ اور ان کے صاحبزادے شاہ عبدالعزیز محدّث دہلوی علیہ الرحمہکا معمول تھا کہ ۱۲؍ ربیع الاوّل کو ان کے ہاں لوگ جمع ہوتے ، آپ ذکر ولادت فرماتے پھر کھانا اور مٹھائی تقسیم کرتے۔ ( الدرّالمنظم، مولانا عبدالحق الٰہ آبادی مکی، ص۸۹)

حضرت شاہ ولی اﷲ علیہ الرحمہ مکہ معظمہ میں ایک محفلِ میلاد میں شریک ہوئے جہاں آپ نے مشاہدہ فرمایا کہ انوار و تجلیات کی بارش ہورہی ہے(الدرالثمین)، مولوی رشید احمد گنگوہی کے مرشد حاجی امداد اﷲ مہاجر مکی رحمۃ اﷲ علیہ محفل میلاد کو ذریعہ نجات سمجھ کر ہر سال منعقد کرتے اور کھڑے ہو کر صلوٰۃ وسلام پیش کرتے۔(فیصلہ ہفت مسئلہ)

مفتی اعظم شاہ محمد مظہر اﷲ دہلوی علیہ الرحمہ ۱۲؍ ربیع الاوّل کو ہر سال بڑے تزک واحتشام سے محفل میلاد منعقد کراتے جو نماز عشاء سے فجر تک جاری رہتی پھر کھڑے ہوکر صلوٰۃ وسلام پیش کیا جاتا اور مٹھائی تقسیم ہوتی، کھانا کھلایا جاتا(تذکرہ مظہر مسعود، ص۱۷۶، ۱۷۷) ،اﷲ کے بعض فرشتے بھی کھڑے ہوکر صلوٰۃ وسلام پیش کررہے ہیں (سورۂ صٰفّٰت:۱)، تو یہ فرشتوں کی سنت ہے، سات سو برس پہلے فاضل جلیل امام تقی الدین سبکی علیہ الرحمہ علماء کی محفل میں تشریف فرما تھے وہاں حسان وقت امام صرصری کا نعتیہ شعر پڑھا گیا جس میں ذکر مصطفیٰ (صلی اﷲ علیہ وسلم) کے وقت کھڑے ہونے کی آرزو کی گئی تھی ، شعر کا سننا تھا کہ سارے علماء کھڑے ہوگئے (اقامۃ القیامۃ) ، تو کھڑے ہوکر صلوٰۃ وسلام پیش کرنا صلحاء اُمت کی بھی سنت ہے، حضرت شیخ عبدالحق محدّث دہلوی رحمۃ اﷲ علیہ کھڑے ہوکر صلوٰۃ و سلام پیش کرتے تھے اور اس کو قبولیت کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ (اخبار الاخیار، ص۶۲۴)

حرفِ آخر

حضور انور صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا جس چیز کو مسلمان اچھا سمجھیں وہ اﷲ کے نزدیک بھی اچھی ہے(موطا امام محمد، ص۱۰۴)، اور یہ بھی فرمایا ! جس نے اسلام میں اچھا طریقہ نکالا اس کے لئے اس کا ثواب ہے اور اس پر عمل کرنے والوں کا ثواب بھی(مسلم شریف، ج۳، ص۷۱۸)، آپ نے یہ بھی فرمایا ہر حال میں سواد اعظم (مشکوٰۃ شریف، ج۱، ص۵۸) اور جماعت و جمہور کے ساتھ رہو(مشکوٰۃ شریف، ص۳۱) ، تو مجالس عید میلاد النبی صلی اﷲ علیہ وسلم کا اہتمام حضور انور صلی اﷲ علیہ وسلم ، صحابہ کرام، تابعین ، تبع تابعین اور صلحاء اُمت کی سنت ہے اور اُن کے عمل سے ثابت ہے۔

محبت کی فطرت ہے کہ عاشق ہمیشہ اپنے محبوب کی تعریف و توصیف اور ذکر اذکار سننا پسند کرتا ہے بلکہ دل سے چاہتا ہے کہ ہر وقت اس کا ذکر ہوتا رہے ، کوئی ایسا عاشق نہ دیکھا جو محبوب کا ذکر کرنے والے سے الجھتا ہو اور اس کو بُرا بھلا کہتا ہو ، کیونکہ یہ محبت کی فطرت کے خلاف ہے، سچی بات تو یہ ہے کہ اصل خوشی منانا تو یہ ہے کہ ہر دن اور ہر آن طاہر و باطن میں سنتوں پر عمل کریں پھر ہر سال محبوب رب العالمین صلی اﷲ علیہ وسلم کی آمد آمد کی خوشی منائیں جس طرح ہمارے اُن اکابر و اسلاف کے استاد شاہ عبدالغنی محدّث دہلوی علیہ الرحمہ نے خوب فرمایا’’میلاد شریف کی خوشی کرنے ہی میں انسان کی کامل سعادت ہے(شفاء السائل)

اﷲ تعالیٰ حضور انور صلی اﷲ علیہ وسلم کی ایسی سچی محبت عطا فرمائے کہ ہم خود بخود سنت کے سانچے میں ڈھلتے چلے جائیں ، ہمارا وجود دوسروں کے لئے مینار نور بن جائے۔ آمین، بجاہ اسیّد المرسلین رحمۃ للعالمین صلی اﷲ علیہ وآلہٖ واصحابہ وسلم ۔

بمصطفیٰ برساں خویش راکہ دیں ہمہ اوست
اگر بہ او نرسیدی تمام بولہبی است

۱۸؍ صفر المظفر ۱۴۱۳ھ/ ۱۸؍ گست ۱۹۹۲ء احقر محمد مسعود احمد عفی عنہ