نحمدہ و نصلی علیٰ رسولہ الکریم،بسم اللہ الرحمن الرحیم
تمہید
پورے علاقے میں علمائے دیوبند کی فتنہ پروری ضرب المثل بن چکی ہے، ان کی دن رات کی غذا مسلمانوں کو بدعت کی رسیوں سے باندھ کر شرک کی چھری سے ذبح کر نا ہے جس علاقے سے بھی ان کی باد سموم کے جھونکے گزر جاتے ہیں اس علاقے کے مسلمان ان کی تبلیغ کی لُو سے جھلس جاتے ہیں، کون نہیں جانتا کہ دن دیہاڑے کاشانۂ ایمانی میں نقب زنی کرنے والے یہ لوگ روح اسلام کی رگ حیات کو کاٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔مکر و فریب کے یہ پیکر بغل میں چھری اور منہ میں رام رام سے اپنا کام نکالتے ہیں۔
لیکن علمائے اہلسنت نے پورے علاقے میں ان کے بھیانک چہرے سے پردہ اُٹھایا ہے، ذلت و رُسوائی ان کا مقد ر بن چکی ہے، اپنے شکار کو دیوبندیت کے پھندے میں مضبوط رکھنے کیلئے مناظرہ کا چیلنج تو کر بیٹھتے ہیں لیکن جونہی علمائے اہلسنت مناظرہ کرنے کیلئے شیروں کی طرح میدان مناظرہ میں آجاتے ہیں پھر یا تو وہ میدا ن مناظرہ میں آنے کی جسارت ہی نہیں کرتے یا اتنی کہ آتے ہی چت لیٹ جاتے ہیں۔ اس سلسلہ کی ایک کڑی موضع مُرالہ تحصیل پھالیہ ضلع گجرات میں ۳ جون بروز پیر کو علماء دیوبند کی انتہائی ذلت آمیز اور مضحکہ خیز شکست ہے۔
مناظرہ کا پس منظر
موضع مرالہ میں اگرچہ کافی عرصہ سے دیوبندی مسلط تھے لیکن وہ نماز جنازہ کے بعد دعا مانگتے تھے تاکہ اسی طرح گول مول رہ کر اپنی قینچی چلاتے رہیں ، یہ سب کچھ اُن کا فریب تھا کہ بھیڑیے سے بھیڑ کی کھال نہ اُتر جائے۔
کیونکر حقیقتوں کا پتہ چل سکے کہ لوگ
ملتے ہیں اپنے آپ سے اوڑھ کر نقاب
چونکہ اب انہوں نے بزعم خویش اپنے قدم پکے جما لئے تھے اسلئے انہوں نے چند دن قبل اپنی اس مصلحت کا پردہ چاک کردیا اور ایک سُنی عورت کے جنازہ پر دیوبندی مولوی عبدالرحمن نے صرف دعا مانگنے سے انکار ہی نہ کیا بلکہ مانگنے پر شدید ردِ عمل کا اظہار کیا ، اسی اثنا ء میں جن لوگوں کو وہ لوریاں دے کر سُلا رہے تھے اُن کی آنکھ کھل گئی۔
مناظرہ کا چیلنج
مذکورہ واقعہ کے بعد دیوبندی مولوی عبدالرحمن نے نماز جنازہ کے جمعہ اجتماع میںچیلنج کیا کہ نماز جنازہ کے بعد دعا کا کوئی ثبوت اور جواز نہیں ہے ، اُس نے بازو بلند کرتے ہوئے نتھنے تانتے ہوئے ، رگیں اُبھارتے ہوئے ، سینہ پسارتے ہوئے کہا کہ تم میرے سامنے کوئی مناظر لائو جو مجھے دعا کے جواز کا ثبوت دے۔
مناظرہ کی تاریخ اور جگہ کا تعین
چوہدری ولایت علی ولد سردار ا اور سید بہادر شاہ صاحب نے اس سلسلہ میں خاصی دلچسپی لی اور کسی آدمی کی نماز جنازہ کے بعد جنازہ گاہ میں ہی فریقین کے درمیان مناظرہ کی جگہ اور تاریخ کا تعین ہو گیا کہ مناظرہ انشاء اللہ عزوجل 3جون بروز پیر بوقت صبح 9بجے وسطی جامع مسجد مرالہ میں ہوگا اور فریقین اپنے اپنے مسلک کے کسی بڑے سے بڑے عالم دین کو مناظرہ کیلئے بلا سکتے ہیں۔
علماء اہلسنت کی آمد
چوہدری محمد ولایت ولد سردارا اور مولانا سید بہادر شاہ صاحب نے معرو ف قدیمی و دینی درسگاہ جامعہ محمد یہ نوریہ رضویہ بھِکِھّی شریف سے رابطہ کیا ، لہٰذا ۳ جون بروز پیر جامعہ محمد یہ نوریہ رضویہ بھکھی شریف (ضلع گجرات) کی طرف سے فضلاء جامعہ مولانا حافظ محمد اشرف آصف جلالی اور ان کے معاونین مولانا ارشاد احمد جلالی و علامہ حافظ حق نواز چشتی صاحب کتب مناظرہ کی کثیر تعداد کے ساتھ حسب روایت مقررہ وقت پر مرالہ پہنچ گئے۔ مقررہ وقت کے تقریباً آدھ گھنٹہ بعد سید بہادر علی شاہ صاحب نے علماء دیوبند سے رابطہ کیا کہ ہمارے علماء وقت متعینہ پر پہنچ چکے ہیںلہٰذامناظرہ شروع ہو جانا چاہیے ، لیکن علماء دیوبند میدان مناظرہ میں آنے سے گریز کرتے رہے اور مختلف ہتھکنڈوں اور سفارشات سے مناظرہ رکوانے کی کوشش کی، آخر کار اہلسنت والجماعت کے مقامی ذمہ دار حضرات نے پونے دس بجے کے قریب جامع مسجد جنوبی سے اعلان کیا کہ جولوگ دعا بعد نماز جنازہ کے مسئلے پر مناظرہ سننا چاہتے ہیں وہ وسطی جامع مسجد مرالہ میں پہنچ جائیں، اس اعلان کے بعد علماء اہلسنت و جماعت صاحبزادہ پیر محمد عبد الجلیل صاحب، حافظ محمد اشرف آصف جلالی ، مولانا شیخ محمد امین صاحب اور دیگر علماء کرام عوام اہلسنت کے ہمراہ وسطی جامع مسجد مرالہ میں پہنچ گئے، ہُوا یوں کہ حیرت بھی متحیر تھی کہ جس مسجد کے منبر پر مولوی عبدالرحمن دیوبندی چیلنج کیا کرتا تھا اب اس مسجد میں علماء اہلسنت اور عوام اہلسنت بیٹھے تھے، میز کتابوں سے بھرے پڑے تھے لیکن ابھی تک علماء دیوبند کسی حصار میں بند تھے، اس سے بڑھ کر ان کی ذلّت کیا تھی کہ اب ایک ایک منٹ ان پر رضویت کا قرض اورشکست کا مرض بڑھتا جا رہا تھا۔ ایک ایک گھڑی سے ان کی رسوائی مترشح ہو رہی تھی ۔ بار بار اصرار کرنے پر کہ علماء دیوبند کو مسجد میں لائو ،یہ جواب ملا کہ وہ کہتے ہیں کہ کسی بند کمرے میں دودوآدمی بیٹھ کر مناظرہ کریں گے۔ باقی لوگوں کو وہاں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔ یہ عجیب بات تھی جو پہلے دیوبند تھے تو اب مکان بند کا مطالبہ کرنے لگے۔اس پر حافظ محمد اشرف آصف جلالی صاحب نے جواب دیا کہ عوام مسئلے کی وضاحت کی منتظر ہیں۔ جادو وہ جو سر چڑھ کربولے۔ گفتگو وہ جو عوام کے روبرو ہوگی تاکہ ان کو شکوک و شبہات دورہو جائیں لیکن علماء دیوبند عوام کی عدالت میں پیش ہونے سے اعراض کر رہے تھے انہیں خوف تھا کہ کہیں دیوبندیت کا جنازہ ہی نہ نکل جائے۔
مباحثہ کا آغاز
علماء دیوبند ،علماء اہلسنت کے بالمقابل مسجد میں بیٹھ گئے، درمیان میں صرف کتابیں حائل تھیں۔ عوام الناس کے انتظار کی گھڑیاں ختم ہونے والی تھیں کہ ابھی حق و باطل کا امتیاز ہونے والا ہے۔ سُنی مناظر حافظ محمد اشرف آصف جلالی نے کہا کہ پہلے شروط طے کر لیں۔ ادھر سے دیوبندی مناظر مولوی عبدالرحمن اُٹھا لیکن وہ اچانک مناظر نہیں سائل تھا۔ علماء اہلسنت کو مخاطب کر کے کہنے لگا کہ میں مناظرہ نہیں کروں گا۔ اس کا یہ کہنا ہی تھا کہ دیوبند یوں کے سرنگوں ہوگئے کہ جس مسجد کے منبر پر بیٹھے ہمارے مولوی صاحب نے علماء اہلسنت کو للکارا تھا اب اسی مسجد میں ہمارے مولوی صاحب مناظرہ سے پہلے ہی چت لیٹ گئے ہیں۔
قارئین! دیوبندی مناظر نے جب اپنے عوام کے ڈر سے اور کوئی راہ فرار نہ پائی تو سائل بن بیٹھا دیکھو خدا تعالیٰ کی شان یہی دیوبندی کہتے ہیں کہ غیر اللہ سے سوال شرک ہے وہی آج غیر اللہ کے سامنے سائل بنے بیٹھے ہیں، بہر حال سُنّی مناظر نے ارخاعنان کے طور پر دیوبندی مناظر مولوی عبدالرحمن کو سائل تسلیم کر لیا پھر گفتگو شروع ہوئی۔ دیوبندی سائل نے کہا کہ مجھے کچھ شکوک و شبہات ہیں اگر وہ دور ہوجائیں تو اس مجمع میں معافی مانگوں گا اور توبہ بھی کروں گا۔
سنی مناظر حافظ محمد اشرف جلالی: اگر تم سائل ہو تو پھر تم نقص و منع و معارضہ وغیرہ کے مجاز نہیں ہو گے اور تم نے ایسے جرح کرنی ہے تو پھر پہلے شروط طے کر لیتے ہیں تو پھر مناظرہ شروع ہوگا۔بہرحال علماء دیوبند کے اس نمائندہ نے کہا کہ میں مناظر نہیں ہوں لیکن یہ اس نے صرف شروط مناظرہ سے بچنے کیلئے حیلہ تلاش کیا تھا ویسے وہ ایک مناظر کی طرح معارضہ و منع پیش کرتا رہا۔ اے سائل تم اپنی حیثیت بیان کرو اسلئے کہ سائل کی حیثیت کے پیش نظر جواب دیا جائے گا۔
مولوی عبدالرحمن دیوبندی: سوال کے جواب کیلئے سائل کی حیثیت کی کیا ضرورت ہے؟
حافظ محمد اشرف جلالی: جیسی بیماری ہو ویسا علاج کیا جاتا ہے ، آپ بتائیں کہ آپ مقلد ہیں یا غیر مقلد، اگر مقلد ہیں تو کس کے مقلد ہیں۔ آپ اپنی حیثیت بیان کریں آپ کی حیثیت کے پیش نظر آپ کو جواب دیا جائے گا۔
مولوی عبدالرحمن دیوبندی: (کافی دیر ہچکچانے کے بعد) سائل حنفی ہے۔
حافظ محمد اشرف جلالی: ٹھیک ہے اب تم سوال کرو۔
مولوی عبدالرحمن دیوبندی: میرا سوال یہ ہے کہ مجھے بعد از نماز جنازہ کے کیلئے حدیث چاہیے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے میت اُٹھانے سے پہلے بیٹھ کر میت کیلئے دعا کی ہو۔
حافظ محمد اشرف جلالی: آپ نے ابھی کہا کہ میں مقلد ہو ں اور حنفی ہوں اور اصول فقہ حنفیہ چار ہیں۔ (۱) کتاب اللہ (۲) سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (۳) اجماع (۴) قیاس۔ آپ نے دعا بعد از نماز جنازہ کے لئے حدیث ہی (اور وہ بھی فعلی) کیوں بطور دلیل طلب کی ہے، کیا تمہارے نزدیک کسی شے کے ثبوت کیلئے صرف ایسی دلیل ہی ہوسکتی ہے؟ آپ نے صرف ایک دلیل کو ثبوت مسئلہ کیلئے مختص کر کے باقی ادلہ سے انکار کیا ہے۔ آپ نے اس مسئلہ کے ثبوت کیلئے سب سے پہلے قرآن مجید کی آیت کا مطالبہ کیوں نہیں کیا؟ احناف کے کسی مسئلہ کے ثبوت کیلئے دلیل صرف حدیث(فعلی) ہی بن سکتی ہے تو میں ابھی حدیث پیش کرتا ہوں۔
مولوی عبدالرحمن دیوبندی: (کافی دیر تک تو حدیث کا مطالبہ کرتا رہا بعد میں اُس نے کہا کہ) ٹھیک ہے ادلّہ اربعہ سے دلیل دیدی جائے۔
حافظ محمد اشرف جلالی: (خطبہ پڑھا اور پھر کہا) معزز سامعین میں آپ کو نہایت ہی خوش نصیب سمجھتا ہوں کہ جنہوں نے ایک مسئلہ کی شرعی وضاحت کیلئے اورمحض اظہار حق کیلئے اس مباحثہ کا اہتمام کیاہے۔حضرات سوال یہ کیا گیا ہے کہ نماز جنازہ کے بعد دُعا کے جواز پر ثبوت دیا جائے تو میں سب سے پہلے اس مسئلہ کے ثبوت کیلئے قرآن پاک کی آیت پیش کر رہا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے۔
اُجِیْبُ دَعْوَۃَالدَّاعِ اَذا دَعاَن (پارہ نمبر ۲) کہ میں دُعا کرنے والی کی دعا کی اجابت کرتا ہوں(سنتا ہوں، قبول کرتا ہوں)جب بھی دعا کرنے والا مجھ سے دعا مانگے۔
قرآن مجید کی اس آیت میں دعا کرنے کے وقت کے بارے میں کوئی قید نہیں ہے کہ فلا ں وقت دعا سُنتاہوں فلاں وقت نہیں سنتا کہ آگے پیچھے تو سنتا ہوں جنازہ کے بعد دعا نہیں سنتابلکہ وہ ہر وقت دعا سنتا ہے جب خالق کائنات اللہ تعالیٰ نے دعا کیساتھ کوئی قید نہیں لگائی ہے تو ہمیں یہ اختیار حاصل نہیں ہے کہ ہم اپنی طرف سے قید لگائیں اور کہہ دیں کہ نماز جنازہ کے بعد دُعا جائز نہیں۔ اب صرف ان مقامات پر دعا کا استثناء ہوسکتا ہے جو شرعاً ممنوع ہیں اور پھر یہاں جزی میں کا مطالبہ کرنا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز جنازہ پڑھنے کے بعد میت اُٹھانے سے پہلے دعا مانگی ہو یہ جہالت ہے، اسلئے قرآن مجید ایک قانون ہے اور قانون قائدہ و کلیہ ہوتا ہے جو تمام جزئیات پر منطبق ہوتا ہے ، ہر ہر جزی کو بیان نہیں کیا جاتااسلئے کہ جزئیات تو غیر متناہی بھی ہوسکتی ہیںلہٰذا دلیل سے ایک قانون ثابت ہوگا اور قانون جو کُلّی ہے اس کے تحت جتنے جزئیات ہیں ان تمام کے ثبوت کیلئے وہی دلیل کافی ہوگی۔ تمام اوقات میں دُعا (اوقات منہیہ شرعاً کے علاوہ ) ایک کلی ہے اور جنازہ کے بعد کی دعا اس کلی کے جزئیات میں سے ایک جزی ہے جیسے اس آیت سے مطلقاً دعا ثابت ہورہی ہے ایسے اس کلی کے فرد(دعا بعد از نماز جنازہ) کیلئے یہی آیت ثبوت فراہم کرتی ہے جیسے یہ کلی دعا نماز پنجگانہ کے بعد کی گئی دعا پر منطبق ہوتی ہے ایسے ہی نماز جنازہ کے بعد کی گئی دُعاپر بھی منطبق ہوتی ہے اب اس کی مثال دیکھ لیجئے کہ کلی کے لئے جو حکم ثابت ہو وہی حکم اس کلی کے ہر فرد کیلئے ہوگا اگرچہ علیحدہ فرد کیلئے وہ حکم نہ بیا ن کیا گیا ہو۔قرآن مجید میں ہے، کتب علیکم القصاص فی القتلیٰ۔ کہ جب ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو ناحق قتل کردے تو قاتل کو مقتول کے بدلے میں قتل کیا جائے گا۔
دوسری آیت:
ادعونی استجب لکم ان الّذین یستکبرون عن عبادتی سید خلون جھنّم داخرین( پارہ ۲۴)۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے مجھ سے دعا مانگو میں تمہاری دعا کی اجابت کروں گا وہ لوگ جو مجھ سے دُعا میں تکبر کرتے ہیں عنقریب جہنم میں ذلیل ہوکر داخل ہوجائیں گے۔
یہاں بھی خالق کائنات جلّ جلالہ نے مطلقاً فرمایا کہ مجھ سے دعا کرو میں قبول کروں گا۔ خالق کائنات نے کوئی پابندی نہیں لگائی کہ اگر فلاں وقت دعا کرو گے تو دعا ہوگی اور جنازہ کے بعد دعا مانگو گے تو جائز نہیں ہے بلکہ اُس نے فرمایا جب بھی دُعا مانگو میں سُنتا ہوں، نہ اُسے نیند آتی ہے نہ وہ تھک جاتا ہے اور نہ ہی کہیں سفر پر جاتا ہے، اگر تم جنازہ کے بعد دُعا مانگو تو یہ دُعا اس کو معاذ اللہ ناگوار گزرے اور یہ ناجائز ہو اور اس کو وہ قبول نہ فرمائے بلکہ اس دعا کو بھی وہ قبول فرمائے گا اب میں نے پہلی باری میں قرآن مجید کی دو آیات پڑھی ہیں اور ان میں دعا بعد از نماز جنازہ کوثابت کیا ہے اور میرا دعویٰ یہاں یہ ہے کہ یہاں تقلید نہیں ہے ۔ قرآن مجید کی کسی آیت سے یا کسی حدیث سے کوئی یہ نہیں دکھا سکتا کہ اللہ تعالیٰ جلّ شانہ‘ نے یہ فرمایا ہو ویسے تو مجھ سے دعا مانگو مگر جنازہ کے بعد نہ مانگنا ، جب شارع نے تقلید نہیں کی اور نماز جنازہ کے بعد دعا مانگنے سے نہیں روکا تو آج کوئی اسپیکر کھول کر کہہ دے کہ جناز ہ کے بعد دعا ناجائز ہے تو ہم میں کسی کو اتھارٹی حاصل نہیں ہے ا سلئے کہ قرآن مجید کے مطلق کو مقید کرنے کیلئے آیت کی طرح قطعی دلیل کی ضرورت ہے اور جو کوئی اپنی طرف سے دُعا کے بارے میں کوئی شرط یا قید لگائے تو وہ باطل ہے، یہ میرے ہاتھ میں مشکوٰۃ شریف ہے۔
حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ فقیہہ فاضلہ رضی اللہ عنھا روایت فرماتی ہیں یہ حدیث کے اس حصے کے الفاظ ہیں:
ثم قام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی النّاس محمد اللہ وا ثنی علیہ ثم قال اما بعد فما بال رجال یشترطون شرو طالیست فی کتاب اللہ ماکان من شرط لیست فی کتاب اللہ فھو باطل کہ سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں کھڑے ہوگئے حمد و ثناء کے بعد ارشاد فرمایا ان لوگوں کا کیا حال ہے جو کتاب اللہ میں وہ شرطیں لگاتے ہیں جو کتاب اللہ میں نہیں ہیں اور ایسی شرط لگانا جو کتاب اللہ میں نہیں ہے وہ شرط باطل ہے۔
یہ حدیث بخاری و مسلم کی متفق علیہ حدیث ہے۔ اب آپ پر واضح ہو گیا ہے کہ کتاب اللہ میں تو یہ شرط نہیں ہے کہ جناز ہ کے بعد دعا نہ مانگو یہ شرط دیوبندی اپنے پاس سے لگا رہے ہیں اور اس شرط کی کوئی حیثیت نہیں ہے اسلئے کہ سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ ایسی شرط باطل ہے ۔ اب دوسرے نمبر پر حدیث شریف ہے ۔
امام بخاری کے اُستاد کی کتاب مصنف ابن ابی شیبہ کی تیسری جلد میرے ہاتھ میں ہے، میں تمہارے سامنے خلیفۃ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل پیش کر ر ہا ہوں۔
حدثنا علی ابن مسھر عن الشیبانی عن عمیر ابن سعید قال صلیت مع علیّ علیٰ یزید بن المکفف فکبر علیہ اربعا چم مثیٰ حتّٰی اتاہ فقال اللّٰھُمّ عبدک وابن عبدک انزل بک الیوم فاغفر لہ ذنبہ و و سع علیہ مدخلہ الخ ۔ حضرت عمیر بن سعید فرماتے ہیں کہ میں حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے ساتھ یزید بن مکفف کا جنازہ پڑھا آپ نے اس پر چار تکبیریں کہیں پھر اُس کی چارپائی کے نزدیک گئے تو آ پ نے مذکورہ دعا اس آدمی کے حق میں فرمائی اسلئے کہ جب آپ نے اس کی چار پائی کی طرف چند قدم اُٹھائے تو اُس وقت نماز جنازہ ختم ہوچکی تھی اور یہ دعا نماز جنازہ کے بعد والی دعا تھی۔
مولوی عبدالرحمن دیوبندی: جو حدیث تم نے پیش کی ہے اس میں سلام کا ذکر نہیں ہے صرف چار تکبیروں کا ذکر ہے حالانکہ نماز جناز ہ میں تو چار تکبیروں کے بعد سلا م ہو تا ہے۔
حافظ محمد اشرف آصف جلالی: عدم ذکر عدم شے کو مستلزم نہیں ہوتا یہ متفقہ قانون ہے کہ اگر کسی شے کا ایک مقام پر ذکر نہ ہو تو اُس کا یہ مطلب نہیںہے کہ وہ شے واقعہ ہی نہیں ہے مثلاً آیت کریمہ ہے، اقیمو الصّلوٰۃ واٰ تواالزکوٰۃ وارکعو امع الراکعین۔ اب اس آیت میں حج روزہ کا ذکر نہیں ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں بلکہ اور مقام پر حج روزہ کا ذکر ہے ایسے ہی اور احادیث شریف میں سلام کا بھی ذکر ہے ۔
سُنی مناظر کی اتنی طویل تقریر جوکہ قرآن و حدیث اور اصول پر مبنی تھی، پورے اجتماع نے نہایت توجہ سے سُنی ، اور سمجھی اور ابھی سے لوگوں نے کہنا شروع کر دیا اب فیصلہ ہوگیا ۔
مولوی عبد الرحمن دیوبندی: تم نے جو حدیث پیش کی ہے یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا عمل ہے میرا مطالبہ کہ خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل ہو ۔
حافظ محمد اشرف آصف جلالی: حضرت علی رضی اللہ عنہ کا طریقہ حضور ﷺ کا ہی طریقہ ہے اس لئے کہ حضورﷺ نے خود ہی فرمایا ہے کہ علیکم بسنتی و سنۃ الخلفاء راشدین ۔ یعنی کہ تم پر میری اور میرے خلفاء راشدین کی سنت لازم ہے۔تم محض شور مچا رکھا ہے ۔ ہم نے اسی لئے کہا تھا کہ شرائط طے کر لیں۔ اب بھی ہمارے ساتھ شرائط طے کرو ہم مناظرہ کرتے ہیں اگر قانون کے مطابق کرو گے تو جو مطالبہ کرو گے ہم پورا کریں گے۔
مولوی عبد الرحمن دیوبندی: پھر وہی بات ، پھر آپ مناظرہ کے طرف جانے لگے ۔
حافظ محمد اشرف آصف جلالی: بھائی مناظرہ کوئی گالی تو نہیں ، کوئی حرام فعل نہیں، اسی مناظرے کا تو تم نے چیلنج دیا تھا۔
اب بوڑھا دیوبندی اپنی جامع مسجد میں قبلے کی طرف منہ کر کے نوجوان سنی مناظر کے سامنے ہاتھ باندھ کر کہہ رہا تھا۔مسئلہ ویسے حل کر دو میرے دل میں بغض و حسد نہیں مناظرے کی کیا ضرورت ہے۔
یہ رضا کے نیزے کی مار ہے
کہ اعدو کے سینے میں غار ہے
دیوبندی مولوی: میرا مقصد یہی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی جنازے پڑھائے ہونگے جب آپ نے دعا نہیں مانگی تو تم کیوں مانگتے ہو۔
مولانا محمد اشرف آصف جلالی: اگر فرض کر لیا جائے کہ آپ ﷺ نے دعا نہیں مانگی تو میں پوچھتا ہوں کہ حضور ﷺ جمعہ پڑھاتے تھے یا نہیں۔ وہ یقینا پڑھاتے تھے کیا آپ ﷺ کے زمانے میں جمعہ کی دوسری اذان دی گئی؟ نہیں دی گئی …تو پھر تم دوسری اذان کیوں دیتے ہو۔ اگر دعا حضور ﷺ نے نہ مانگی ہو تو تم نہیں مانگتے اگر اذان نہ پڑھوائی تو تم دوسری اذان کیوں پڑھواتے ہو۔ ایسے ہی سرکار ﷺ نے مساجد تعمیر کی اور آپ محراب تعمیر نہیں فرماتے تھے۔ تو تم مسجدکا محراب کیوں بناتے ہو۔
صوفی محمد امین صاحب: صحابہ کی طرح ہمیں ایمان لانے کا حکم ہے جب خلیفۂ رسول ﷺ سے دعا ثابت ہے تو تم کیوں انکار کرتے ہو۔ورنہ پورے رمضان میں نماز تراویح بھی چھوڑ دو۔ اس لئے کہ حضور ﷺ نے تو پورے رمضان المبارک میں باجماعت نماز تراویح ادا نہیں کی۔
مولوی عبدالرحمن دیوبندی: پھر تم ادھر ادھر چلے جاتے ہو۔ مجھے حدیث دکھائو۔
مولانا محمد اشرف آصف جلالی: تم حدیث کی تعریف کرو۔۔با ر بار اصرار کے باوجود دیوبندی مولوی نے اپنے حواریوں میں منہ کو چھپا لیا اور وہ حدیث کی تعریف نہ کر سکا۔ جس کو حدیث کی تعریف بھی نہیں آتی وہ ہم سے حدیث کا مطالبہ کیسے کر سکتا ہے۔ تمہارے نزدیک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل ہی حدیث ہے ، حدیث قولی اور تقریری کی تمہارے نزدیک کوئی حیثیت نہیں ۔ کیا تم خلفائے راشدین کی سنت کو سرکار ﷺ کی سنت نہیں سمجھتے ۔ یہ میرے ہاتھ میں اصول حدیث کی کتاب نخبۃ الفکر ہے، حدیث صرف وہی ہی نہیں جو تم سمجھتے ہوبلکہ حدیث میں صحابہ کا عمل بھی شامل ہے جس پر سرکار صلی اللہ علیہ وسلم نے سکوت فرمایا ہو۔دیکھیں دیوبندی فرقہ بھی عجیب ہے، کہیں خلفائے راشدین زندہ باد کے نعرے اور کہیں خلفائے راشدین کے عمل کو مردود کر دیا۔ اب منظر یہ تھا کہ عوام الناس خصوصاً اہلسنت پر علماء دیوبند کا جھوٹ عیاں ہوچکا تھا، سنی مناظر نے بار بار گرجتے ہوئے کہا کہ لوگو ! خاموش ہوجائو۔ میں اب سیدعالم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان اور حکم پیش کرتا ہوں۔یہ میرے ہاتھ میں سنن ابن ماجہ ہے۔ صحاح ستہ کی حدیث پیش کر رہا ہوںاگر کسی راوی پر اعتراض ہو تو بیان کرو۔
حد ثنا ابو عبید محمد بن میمون المدینی ثنا محمد بن سلمۃ الحرانی عن محمد بن اسحاق عن محمد بن ابراہیم بن الحرث التیمی عن ابی سلمۃ بن عبدالرحمن عن ابی ھریرۃ سمعت رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اذا صلیتم علی المیت فا خلصوالہ الدعاء۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے خود سید دو عالم ﷺ سے سنا کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم نماز جنازہ پڑھ لو تو پھر اس میت کیلئے خلوص سے دعا مانگو۔
اخلصُوا امر کا صیغہ ہے ، آپ ﷺنے فرمایا فاخلصُوا نماز جنازے کے بعد دعا مانگنے کا حکم فرمایااسلئے کہ فاتعقیب مع الوصل کیلئے ہوتی ہے یہ میرے ہاتھ میں اصول فقہ کی جامع اور آخری کتاب توضیح و تلویح ہے۔ صاحب توضیح و تلویح نے کہا ہے ، الفاے اللمتعقب مع الوصل یعنی فا کے بعد جس کا ذکر ہو وہ متصل بعد میں ہوتا ہے اور توضیح و تلویح میں ہے کہ فا کتا ب اللہ کا خاص ہے ، اس کا مدلول تعقیب مع الوصل قطعی ہے۔
اب علماء دیوبند کو زمین دھنسنے کیلئے جگہ نہیں دے رہی تھی ،لوگ حیران تھے کہ ایک طرف سے ایک لڑکا دلائل کے انبار لگار ہا ہے اور اس کی حقانیت پر علماء خاموش بیٹھے ہیں اور دوسری طرف علماء دیوبند کا وہ نمائندہ ہے جس کی داڑھی شرک کے فتوے لگاتے لگاتے سفید ہو چکی ہے پھر بھی سنی مناظر کی کسی ایک بات کو رد نہیں کر سکا۔ سُنی مناظر محمد اشرف آصف جلالی نے مزید گرجتے ہوئے صحابیٔ رسول ﷺ کہ فعل سے اس بات کو ثابت کیا کہ یہاں فا تعقیب مع الوصل کیلئے ہے ۔ یہ میرے ہاتھ میں المبسوط کی جلد ۲ ہے ۔ یہ ظاہر الراویہ پر مشتمل ہے یہ نقل کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے جنازے میں شریک نہ ہوسکے جب آپ قریب پہنچے تو آپ نے کہا،
ان سبقتمونی بالصلٰوۃ علیہ فلاتسبقو نی باالدعالہ۔ اگر تم نے جنازہ مجھ سے پہلے پڑھ لی ہے تو مجھ سے پہلے دعا نہ مانگنا، دعا میں مجھے بھی شریک کر لینا،
صحابیٔ رسول ﷺ کے اس فرمان سے اور اس ہیئت سے پتہ چلتا ہے کہ صحابہ کرام علیھم رضوان نماز جنازہ کے بعد دعا مانگتے تھے کیونکہ صحابہ علیھم رضوان کا جم غفیر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جنازے میں موجود تھا ، اگر دعا ناجائز ہوتی تو انکار کر دیتے۔
دیوبندی مولوی: فوراً ایک بار اُٹھا اور کہنے لگا ۔ معنی غلط کر رہے ہو ، مجھے بھی دعا میںشامل کر لینا یہ کس لفظ کا معنی ہے۔
دیوبندی علماء کا فرار
اب اپنے مولوی کو بوکھلاہٹ میں دیکھ کر دیوبندی اُٹھ کھڑے ہوئے اور اس کے ساتھ ہی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فلک شگاف نعروں سے اس مسجد کے در و دیوار گونج اُٹھے جس کی اینٹیں بھی یا رسول اللہ ﷺ کی آواز سننے کو ترستی تھیں۔
سنی مناظر مسلسل بلند آواز سے دیوبندی مولوی کو کہہ رہا تھا ، مولوی صاحب، اگر معنیٰ غلط ہیں تو میں ہزار روپے انعام دیتا ہوں، اور مجھے صحیح معنی کر کے دکھائیں ، لیکن علماء اہلسنت کے پکڑتے پکڑتے علماء دیوبند وسطی مسجد سے فرار ہو گئے۔ سُنی مناظر نے پھر عوام کو بٹھایا اور علماء دیوبند کے فرار ہو نے کے بعد وہیں خطاب کیا اور چیلنج کیا کہ اگر معنی غلط ہوں تو میں ہزار روپے دیتا ہوں اور مجھے صحیح معنی کرکے دکھائو۔ دیوبندی علماء کے فرار کے تقریباً دس منٹ بعد علماء اہلسنت مسجد سے فاتحانہ جلوس کی شکل میں نکلے اور لوگ جامع محمدیہ نوریہ رضویہ بھکھی شریف کے علماء کو خراج تحسین پیش کر رہے تھے اور نعرۂ تکبیر و نعرۂ رسالت۔ فیض رضا جاری رہے گا۔ اہلسنت کی ضیاء…پیر جلال الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ کے نعرے لگ رہے تھے، دن کی روشنی میں حق بھی روشن ہوچکاتھا۔وسطی مسجد میں ہی اعلان کر دیا گیا کہ ابھی جامع مسجد جنوبی میں جلسہ ہوگا۔ جلسہ میں مولانا محمد اشرف آصف جلالی صاحب نے اور دیگر علماء نے اسی موضوع پر مفصل خطاب کیا اور عوام اہلسنت کو اس عظیم فتح پر مبارکباد دی۔
علماء دیوبند کو دوبارہ دعوت دی کہ اگر تم شبہ لے کر بھاگ گئے ہو تو دوبارہ آئواور عوام سے بھی ہر ایک کو اجازت ہے وہ سوال کر سکتا ہے۔ لیکن عوام مطمئن ہو چکے تھے۔ صلوٰ ۃ و سلام پر جلسہ اختتام پزیر ہوا۔