ترتیب: محمد حنیف حاجی طیّب (کراچی)
نحمدہ و نصلی علیٰ رسولہ الکریم
محترم حضرات !
اﷲ رب العزت نے نظام کائنات کو ایک نہج، ایک اصول اور ایک حکمت پر قائم فرمایا، فطرت کے اصول اور قوانین قدرت، اﷲ رب العزت کی مستحکم و مظبوط حکمتیں تمام نظام کائنات کی بنیاد ہیں، اﷲ رب العالمین نے کوئی ایسی چیز پیدا نہیں فرمائی کہ جس کے اندر خیروشر کے دونوں پہلو نہ ہوں، رب کائنات نے ایک قانون نظام کائنات کی بنیاد کے طور پر قرآن مجید میں اس نوعیت کے ساتھ بیان فرمایا کہ اگر قرآن کو غور سے پڑھا جائے تو آفتاب سے زیادہ روشن ہوکر یہ حقیقت ہماری نگاہوں کے سامنے آجائے گی کہ کائنات میں ایک چیز کا پہچاننا اس کی ضد کے پہچاننے کے ساتھ متعلق فرمایا گیا ہے، جس کے لئے عربی کا مشہور مقولہ ہے کہ الاشیاء تعرف باضدادھا (چیزیں اپنی ضدوں سے پہچانی جاتی ہیں)۔
آپ جانتے ہیں کہ نور کی ضد ظلمت ہے اگر ظلمت کا وجود نہ ہو تو نور کی معرفت نہ ہو، موت کی ضد حیات ہے اگر موت نہ ہو تو حیات کے معنی ومفہوم نہ ہوں، خیر کی ضد شر ہے اگر شر نہ پائی جائے تو خیر کے معنی اور اس کا مفہوم لوگوں پر واضح نہ ہو، اسلام کی ضد کفر ہے اور ہدایت کی ضد ضلالت ہے، خوب سمچھ لیجئے کہ ہدایت کا وجود ضلالت کی وجہ سے ظاہر ہوا، اسلام کی حقیقت کفر کی ظلمتوں کی وجہ سے بے نقاب ہوکر سامنے آئی، کفر کی ظلمتوں کے وجود کا کوئی انکار نہیں کرسکتا، لیکن اس حقیقت کو بھی کوئی جھٹلا نہیں سکتا کہ کفر کی تاریکیوں سے اسلام کے نور کی ایسی وضاحت ہوئی کہ ابدالآباد تک انسان کا ذہن ان حقیقتوں سے بھر پور ہو گیا جو حقیقتیں اﷲ تعالیٰ نے اسلام کے دامن میں رکھی ہیں۔ معلوم ہوا کہ ضلالت کے مفہوم نے ہدایت کے معنی کو، موت کے تخیل نے حیات کے تخیل کو اور شر کے تصور نے خیر کے تصور کو اُجاگر کردیا۔ ثابت ہوا کہ چیزیں اپنی ضدوں سے پہچانی جاتی ہیں، یاد رکھیئے کہ یہ ایک اصول ایسا ہے کہ جس کو قرآن مجید نے متعدد مقامات پر بیان فرمایا اور اگر آپ انسان کی پیدائش کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو یہ اصول آپ کو بالکل واضح طور پر سمجھ آجائے گا۔
سب سے پہلے انسان سیدنا آدم علیہ السلام ہیں جن کو اﷲ تعالیٰ نے اس عالمِ مشاہدات میں، اس عالم اجسام میں، اس عالم ناسوت میں اپنا خلیفہ بنا کر ہدایت کا جھنڈا لہرانے کے لئے بھیجا، لیکن ہدایت کا منبع وجود آدم ابھی دنیا میں جلوہ گر بھی نہ ہوا تھا کہ ان کے مقابلے میں ضلالت کا تصور قائم ہوچکا تھا اور اس کو ہم شیطان کے نام سے تعبیر کرتے ہیں۔ قرآن مجید اﷲ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ و کان من الکافرین( القران : ۲ : ۱۳) (یہا ں ۲ سے سورۃ نمبر اور ۱۳ سے اس سورۃ کی آیت نمبر مراد ہے)یعنی علم الٰہی میں تو وہ پہلے ہی کافر تھا، مطلب یہ ہوا کہ ہدایت کے ساتھ ضلالت کا تصور بھی موجود تھا۔ شیطان جو کہ مرکز ضلالت اور مرکز کفر ہے اس کی ضلالتوں کے ظہور سے ہمیں یہ سبق ملا کہ شیطان کفر کرکے اور ضلالت کی راہوں پر چل کر راندئہ درگاہ ہوا، ذلیل ہوا، مردود ہوا، مطرود ہوا۔ اب اگر کوئی خدا کامقبول بننا چاہتا ہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ ان راہوں سے بچے جن راہوں پر چل کر شیطان راندئہ درگاہ ہوا۔ آپ نے دیکھا کہ شیطان کی ضلالت کے تصور نے ہدایت کو کس قدر نمایاں کردیا کہ جن راہوں پر شیطان چلا وہ ایسی راہیں تھیں کہ جن پر چلنے والا خدا کی رحمت سے دور ہوجاتا ہے۔ اب اگر ان راہوں سے کسی نے بچنا ہے تو ضروری ہے کہ یہ راہیں اس کے سامنے ہوں تاکہ اس کے ذہن میں خیر کی راہوں کا تصور اجاگر ہوسکے۔ اﷲ تبارک وتعالیٰ نے ہدایت کی راہوں کو واضح کرنے کے لئے ضلالت کی راہوں کو پہلے دکھایا اور قرآن مجید میں فرمایا و ھدیناہ النجدین یعنی ہم نے دونوں راہیں (انسان کے سامنے) رکھ دیں کہ یہ خیر ہے، وہ شرّ ہے، یہ ہدایت، وہ گمراہی ہے، یہ اسلام ہے ، وہ کفر ہے۔ خیروشر کا تقابل کرکے بتادیا کہ جب تک تیرے سامنے شر کا تصور نہیں آئے گا اس وقت تک تو خیر کی راہوں کو اختیار نہیں کرے گا اور شر سے نہیں بچ سکے گا۔ شر سے بچنے کے لئے اس کا ظاہر ہونا ضروری ہے، اﷲ تعالیٰ ضرورت سے پاک ہے، ہمیں ضرورت ہے کہ ہمیں معلوم ہو کہ شر کیا ہے؟ برائی کیا ہے؟ معصیت کیا ہے؟ کفر کیا ہے؟ کس بات سے خدا ناراض ہوتا ہے، جب تک یہ حقیقت کھل کر سامنے نہ آئے ، ہم خدا کے غضب سے نہیں بچ سکتے بلکہ اس بات کا یقین ہے کہ اُلٹا خدا کے غضب کو دعوت دے دیں۔
یہ پہلا مقدمہ تھا جس کو میں نے قرآن پاک کی روشنی میں نہایت اختصار اور جامعیت کے ساتھ پیش کیا اب دوسرے مقدمہ کو لیجئے اور وہ یہ ہے کہ!
جب خدا نے ہر چیز میں خیروشر دونوں پہلوئوں کو رکھا ہے تو آپ کہیں گے کہ کفروضلالت میں کون سا خیر کا پہلو ہے؟۔میں ابھی آپ کو بتا چکا ہوںکہ اس میں خیر کا پہلو یہ ہے کہ اگر کفروضلالت کی راہیں ہمارے سامنے نہ ہوں تو ہم ان سے بچ نہیں سکتے، اور ان سے بچنا یہ خیر ہے، لہذا اس میں بھی خیر کا پہلو موجود ہے، اور اگر اس سے زیادہ نمایاں طور پر آپ اس حقیقت کو سمجھنا چاہتے ہیں تو قرآن کی صریح نص موجود ہے، اﷲ تعالیٰ نے شراب اور جوئے کے متعلق فرمایا کہ! اثمھمااکبر من نفعھما[۲] یعنی یہ جو ٔا اور یہ شراب ان دونوں کا گناہ ان کے نفع سے بڑا ہے۔
معلوم ہوا کہ ان میں خیر اور نفع کا پہلو پایا جاتا ہے لیکن خیر و نفع کا پہلو بہت ہی مغلوب ہے، اور شر اور ضرر کا پہلو بہت قوی ہے، مقصد یہ ہے کہ جس چیز کو اﷲ تعالیٰ نے نجاست، گندگی اور شیطانی عمل قرار دیا، اس میں بھی اﷲ تعالیٰ نے نفع کا ذکر فرمایا، تو پتہ چلا کہ ہر چیز کے اندر خیروشر کے پہلو پائے جاتے ہیں لیکن فرق اتنا ہے کہ کسی میں خیر کو غالب کردیا گیا ہے اور کسی میں شر کو غالب کردیا گیا ہے ، جہاں شر غالب ہواس سے ہمیں بچنا ہے اور جہاں خیر غالب ہو اس کو اختیار کرناچاہئیے۔
اب اگر آپ دوسرے انداز میں سوچیں تو ایک اور اعتراض آپ کے ذہن میں پیدا ہوگا، مثلاً آپ کہیں گے کہ ہمیں یہ تو معلوم ہوگیا کہ کفر کے اندر بھی خیر کا پہلو ہے گو بے حد قلیل ہے لیکن اس کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ اسلام میں بھی کوئی شر کا پہلو ہوگا، اور ہدایت میں بھی کوئی نہ کوئی شر کا پہلو ہونا لازنی ہے۔
تو اس کا جواب یہ ہے کہ شر عام ہے ، اس سے کہ وہ شر اخروی ہو یا دنیوی ہو، جسمانی ہو یا روحانی ہو، ظاہری ہو یا باطنی ہو، قلیل ہو یا کثیر ہو، محسوس ہو یا معقول ہو، یعنی احساس کے ادراک سے تعلق ہو یا عقل کے ادراک سے تعلق ہو ۔ اب مجھے بتائیے کہ جو لوگ ایمان کو، دیانت کو، تقویٰ کو، پرہیزگاری کواختیار کرتے ہیں ان کے لئے اﷲ تعالیٰ نے قرآن پاک میں بار بار ارشاد فرمایا کہ تمہیں نیکی کے کاموں میں تکلیف تو ضرور ہوگی مگر یہ سمجھ لو کہ یہ تکلیف محض عارضی ہے، قلیل ہے اور اس تکلیف کو محسوس مت کرنا بلکہ اس راحت پر نظر رکھنا جو ابدی اور دائمی ہے۔[۳] آپ بتائیے کہ ہم روزہ رکھتے ہیں، حج کرتے ہیں، یہ شر قلیل ہے ، زکو ٰۃ دینے میں آدمی اپنی جیب سے پیسے دیتا ہے ، پیسہ دینا بھی بظاہر قلیل شر ہے، ہم جو نماز پڑھتے ہیں اس میں کچھ وقت لگاتے ہیں، رکوع اور سجود کرتے ہیں، گرمی کے موسم میں گھر سے چل کر مسجد جاتے ہیں، گرمی کی تکلیف برداشت کرتے ہیں، سردی میں ٹھنڈے پانی سے وضو کرتے ہیں، جماعتوں میں شرکت کی زحمت گوارا کرتے ہیں، یہ سب زحمتیں اور یہ سب تکالیف قلیل اور عارضی ہیں۔ علیٰ ہذاالقیاس جن لوگوں نے کلمہ ٔ حق بلند کیا ، آپ جانتے ہیں کہ وہ کتنے مصائب وآلام میں مبتلا ہوئے خود اﷲ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے
زلزلواحتیٰ یقول الرسول والذین اٰمنوامعہٗ متی نصراﷲ [۴]
یعنی ان پر اتنے مصائب وآلام آئے کہ یہ ہلا دئیے گئے یہاں تک کہ رسول اور ایمان والوں کی زبان سے بے ساختہ نکل گیا کہ کب اﷲ کی مدد آئے گی۔اﷲ تعالیٰ نے فرمایا !الا ان نصراﷲ قریب [۵]یعنی خبر دار ہو جائو کہ اﷲ کی مدد بہت قریب ہے، یہ جو تم ہلا دئیے گئے ہو، یہ جو تم پر اذیت کا ایک پہلو طاری ہوا ہے، یہ شر قلیل ہے اس سے مت گھبرانا بلکہ خیر کثیر پر نظر رکھنا اور یہ دیکھنا کہ اس کے عواقب ونتائج کتنے زریں و بہترین ہیں۔ دیکھئے شہداء کا کتنا بڑا مرتبہ ہے، حدیث شریف میں آیا ہے کہ قیامت کے دن اﷲ تبارک وتعالیٰ شہداء کے لئے نور کے منبر بچھوائے گا، انہیں نور کے منبروں پر بٹھایا جائے گا اور شہیدوں سے کہا جائے گا کہ تم جس کی چاہتے ہو شفاعت کرائو[۶]، ان کی شفاعت حضور صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کی شفاعت کبریٰ کا ایک پہلو اور صدقہ ہوگا، اس لئے کہ اصل شفاعت کبریٰ کے مالک تو حضور صلی اﷲ علیہ وسلم ہیں ۔ اب بتائیے کہ یہ کتنا بڑا اعزاز واکرام ہے اور کتنا عظیم مرتبہ ہے جو اﷲ تعالیٰ شہداء کو عطا فرمائے گا اور آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ شہیدوں کے لئے قرآن کریم میں اﷲ تعالیٰ نے صاف صاف ارشاد فرمایا !ولاتقولوالمن یقتل فی سبیل اﷲ اموات بل احیاء ٌ ولٰکن لاتشعرون[۷]۔ یعنی شہیدوں کو مردہ مت کہو وہ زندہ ہیں لیکن تمہیں شعور نہیں ۔ دیکھئے اﷲ تعالیٰ نے ان کو ابدی حیات کے ساتھ مشرف فرمایا اور ان کو بڑی عزت اور بڑی کرامت عطا فرمائی، لیکن آپ جانتے ہیں کہ شہادت کا درجہ پانا کوئی آسان کام نہیں، جو لوگ میدان کار زار میں شہادت کا درجہ پاتے ہیں ان کو میدان جنگ میں کس قدر تکلیفیں ہوتی ہیں، کس قدر وہ زخم خوردہ ہوتے ہیں اور کس قدر ان پر مصائب وآلام کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں، اب یہ تکلیف کیا ہے ؟ یہ شر قلیل ہے، یہ اور بات ہے کہ جس کے دل میں خدا تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کی محبت غالب ہو وہ ان تکلیفوں کے مقابلے میں کروڑوں راحتوں کو ٹھوکر مار دے گا اور کہے گا کہ مجھے کوئی راحت درکار نہیں ہے بلکہ ہر راحت سے بڑھ کر مجھے وہ زحمت عزیز ہے جو خدا اور اس کے رسول کی رضا کی راہ میں حاصل ہورہی ہے۔ شہید کے اسی جذبۂ صادق کا نتیجہ ہے کہ حضور تاجدار مدنی صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شہید قتل کا درد اور قتل کی تکلیف محسوس نہیں کرتا لیکن ایسی جیسے کہ تم میں سے کسی شخص کو چیونٹی کے بچے کے کاٹنے یا کسی کے چٹکی بھر لینے سے تکلیف ہوتی ہو، ظاہر ہے کہ یہ کوئی خاص تکلیف نہیں ہوتی ، لیکن بظاہر یہ بات مشاہدات کے خلاف معلوم ہوتی ہے، اس لئے کہ جب کوئی قتل ہوگا اس کی ہڈیاں ٹوٹیں گی ، اس کے سینے میں نیزے داخل کئے جائیں گے، خون کے فوارے جاری ہوں گے تو تکلیف تو لازمی ہوگی، لیکن حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلمنے فرمایا کہ شہید کو انتہائی معمولی تکلیف ہوتی ہے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ’’ الشہید‘‘ میں الف لام عہد کا ہے اور شہید سے شہید خاص مراد ہے، یعنی وہ شہید جس کے دل میں اﷲ اور اس کے رسول کی محبت اُس درجہ غالب ہوچکی ہو کہ اس کا دل یہ چاہتا ہو کہ ایک جان نہیں کروڑوں جانیں ہوں تو میں اپنے محبوب کی عظمت پر قربان کردوں، اگر کسی شخص کے دل میں اﷲ اور اس کے رسول کی محبت اس درجہ پیدا ہوگئی ہے تو یہ محبت تکلیف اور احساس کے درمیان حائل ہو جاتی ہے اور تکلیف محسوس نہیں ہونے دیتی، یہ محبت ایک حجاب ہے تکلیف محسوس کرنے والے کے درمیان…اگر کسی شخص کا آپریشن کرنا ہوتا ہے تو سرجن اسے نشہ سونگھا ئے گا، اس کے بعد مریض کی ہڈیاں کاٹتے رہو، گوشت چیرتے رہو، رگیں کاٹتے رہو، ٹانکے لگاتے رہو، اس کو بالکل پتہ نہیں چل سکتا، لیکن میں آپ سے پوچھتا ہوںکہ کیا ہڈیاں کٹنے کی تکلیف نہیں ہوتی؟ آپ کہیں گے کہ تکلیف تو ہوتی ہے لیکن نشہ تکلیف اور احساس کے درمیان حجاب بن جاتا ہے، اگر وہ نشہ اُتر جائے تو پھر اس مریض سے پوچھو کہ تیرا کیا حال ہے ؟۔ اسی طرح شہید کو بھی تکلیف کا درد اس لئے محسوس نہیں ہوتا کہ اﷲ اور اس کے رسول کی محبت اس کے دل میں اس درجہ غالب ہوجاتی ہے کہ وہ تکلیف اور احساس کے درمیان حجاب بن جاتی ہے، اور بھئی جس کے دل میں رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم کی محبت غالب ہو جائے اس کی تو بہت بڑی شان ہے، وہ تو بڑی عظمت والا انسان ہے، میں کہتا ہوں کہ سیدنا یوسف علیہ السلام کی محبت مصر کی جن عورتوں کے دلوں میں پیدا ہوچکی تھی ان کا یہ حال تھا کہ جب زلیخا نے کہا کہ ذرا اس چھُری سے پھل تراشو، تو میں نہیں کہتا قرآن نے کہا ’’ وقطعن ایدیھن‘‘ [۸]مطلب یہ کہ انہوں نے پھل نہیں کاٹا، ہاتھوں کو کاٹ لیا، مگر ہاتھوں کو کاٹنے کے باوجود یہ نہیں کہا کہ ہائے ہم نے ہاتھ کاٹ لئے بلکہ یہ کہا کہ’’ حاشا ﷲ ما ھذا بشراً ان ھذا الا ملک کریم‘‘[۹] یعنی خدا کی قسم یہ تو بشر ہے ہی نہیں یہ تو ملک کریم(فرشتہ)ہے۔
دیکھا آپ نے ! انہوں نے کوئی بات ہاتھ کاٹنے کی نہیں کی، کیوں ؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کی محبت کا غلبہ ان کے دل و دماغ پر ایسا تھا کہ تکلیف اور ان کے احساس کے درمیان حائل ہوگیا، اگر حضرت یوسف علیہ السلام کی محبت کا غلبہ ہاتھ کٹنے کی تکلیف محسوس نہیں ہونے دیتا تو جہاں حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کی محبت کا غلبہ ہو وہاں سر کٹنے کی تکلیف کیسے ہوگی؟۔
یہی وجہ ہے کہ حدیث شریف میں آیا کہ قیامت کے دن وہ مخصوص شہداء جن کا ذکر میں کررہا ہوں ، جب ان کو تمام جنتیوں کے ہمراہ بلایا جائے گا کہ تم دنیا میں جانا چاہتے ہو؟ تو تمام جنتی انکار کردیں گے اور کہیں گے کہ کون سی راحت ہے جو جنت میں ہمیں میسر نہیں ہوتی کہ ہم دنیامیں جاکر مصیبت میں مبتلا ہوں، سب جنتی انکار کردیں گے حالانکہ اﷲ تعالیٰ کی طرف سے ان کو یہ پیش کش ہوگی کہ تم جتنی دنیا چاہتے ہو اس سے بہت زائد عطا کرکے ہم تم کو بھیجیں گے ، لیکن حدیث میں آیا کہ ’’الا الشہید‘‘ یعنی سوائے شہید کے کہ جو کھڑا ہوجائے گا اور کہے گا کہ مجھے دنیا میں پھر بھیج دو، اﷲ تعالیٰ فرمائے گاکہ اے میرے شہید سب جنتیوں نے دنیا میں واپس جانے سے انکار کردیا ، تجھے یہاں کون سی تکلیف ہے اور یہاں کون سی راحت نصیب نہیں کہ تو دنیا میں پھر جانا چاہتا ہے، تو شہید دست بستہ عرض کرے گا کہ مولیٰ ہر نعمت تیری جنت میں موجود ہے اور تیری جنت میں کوئی کمی نہیں ہے ، لیکن تیرے نام پر تیری محبت میں سر کٹانے کا جو مزہ وہاں آیا تھا وہ یہاں نہیں ، [۱۰]جب وہ مزہ یاد آتا ہے تو یہ سب نعمتیں ہیچ معلوم ہوتی ہیں جنتیوں کو یہ نعمتیں مبارک رہیں ، ہمیں تو دنیا میں پھر بھیج دے تاکہ تیرے نام پر پھر سر کٹائیں اور پھر وہ حلاوت پائیں اور پھر دنیا میں تیرے نام پر سر کٹائیں ، ہمیں تو ہمیشہ کے لئے اپنے نام پر سر کٹانے کے کام پر مقرر کردے۔
اﷲ اکبر ! میرے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ یہ مقام ان مخصوص شہداء کا ہیجن کے دل میں اﷲ اور اس کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کی محبت اس قدر غالب ہوجائے کہ وہ تکلیف اور احساس کے درمیان حجاب بن جائے، لیکن اگر یہ عارضی نہ ہو تو ظاہر ہے کہ گردن کٹنے کی ، ہڈیوں کے کٹنے کی تکلیف نہ ہوتی ، یہ تکلیف شر قلیل ہے ، شہادت ایک بہت بڑی نعمت ہے مگر اس کے اندر بھی شر قلیل کا پہلو پایا جاتا ہے ۔
معلوم یہ ہوا کہ ہر چیز میں خیر اور شر دونوں پہلو رکھ دئیے گئے ہیں مگر فرق اتنا ہے کہ کسی میں شر غالب ہے اور کسی میں خیر غالب ہے، جہاں خیر غالب ہے خدا نے اسے اختیار کرنے کا حکم دیا ہے اور جہاں شر غالب ہے خدا نے اس سے بچنے کا حکم دیا ہے۔
عزیزانِ گرامی ! آپ کو معلوم ہے کہ دنیا کی لذتیں ، دنیا کی خواہشات جب انسان پوری کرتا ہے تو اس کو کتنا مزہ آتا ہے لیکن آپ خوب جانتے ہیں کہ جو لوگ دنیا زینتوں اور دنیا کی خواہشات میں مستغرق ہو گئے ان کا کیا حال ہوا، وہ ہلاک ہو گئے ، دنیا کی خواہشات میں استغراق یہ خیر قلیل ہے لیکن اس کے نتیجہ میں ہلاک ہونا یہ شر کثیر ہے۔
ان تمام جزئیات کو پیش نظر رکھ کر یہ اصول قرآن و حدیث کی روشنی میں ہم کو بالکل حق نظر آتا ہے کہ ہر چیز میں خیر اور شر دونوں پہلو پائے جاتے ہیں ، اﷲ تعالیٰ اپنے حبیب صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کے طفیل ہمیں ان چیزوں کو اختیار کرنے کی توفیق دے جن میں خیر کثیر ہو ۔ آمین
وما علینا الاالبلاغ المبین
٭علامہ کاظمی علیہ الرحمۃ نے یہ تقریر ۱۹۷۲ء میں گلبن(؟؟؟) کراچی میں (؟؟تقریب کے موقع پر فرمائی)