بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم الصلوٰۃوالسلام علیک یارسول اﷲ وعلیٰ الک واصحابک یاحبیب اﷲ
دیوبندیوں کے جن خلافِ اسلامی عقائد پر عرب و عجم کے علماء نے دیوبندیوں کو کافر کہا ۔ہم مسلمانوں کی واقفیت کیلئے ان عقائد کی ایک مختصر فہرست پیش کرتے ہیں اور ہر ایک کے مقابل اسلامی عقیدہ بھی پیش کرتے ہیں اور ہم نے اس فہرست میں ان کا جو عقیدہ بیان کیا ہے وہ ان کی کتابوں میں موجودہے۔
| دیوبندی عقائد | اسلامی عقائد |
|---|---|
| ۱) خدا تعالیٰ جھوٹ بول سکتا ہے۔ (مسئلہ امکانِ کذب ،براہینِ قاطعہ، مصنف خلیل احمد انبیٹھوی،جہد المقل مصنف محمود الحسن دیوبندی) | جھوٹ بولنا عیب ہے جیسے کہ چوری یا زنا کرنا وغیرہ اور رب تعالیٰ ہر عیب سے پاک ہے۔ ومن اصدق من اللّٰہ حدیثا۔ نیز خدا کی صفات واجب ہیں ناکہ ممکن لہذاخدا کیلئے سکنا کہنا بے دینی ہے۔ |
| ۲) اللہ تعالیٰ کی شان یہ ہے کہ جب چاہے غیب دریافت کرے۔کسی ولی،نبی ،جن،فرشتے ،بھوت کو اللہ نے طاقت نہیں بخشی۔ (تقویۃ الایمان مصنف مولوی اسمعیل دہلوی) | خدائے پاک ہر وقت عالم الغیب ہے اس کا علم اس کی صفت ہے اور واجب ہے ۔جب چاہے تب معلوم کرنے کا مطلب یہ ہواکہ نہ چاہے تو جاہل رہے۔یہ کفرہے خدا کی صفات خدا کے اختیار میں نہیں۔وہ واجب ہیں۔نیز رب نے اپنے محبوبوں کو بھی علومِ غیبیہ عطا کئے۔(قراٰن کریم) |
| ۳) خدا تعالیٰ کو جگہ اور زمانہ اور مرکب ہونے اور ماہیت سے پاک ماننا بدعت ہے۔ (ایضاح الحق مصنف مولوی اسمعیل دہلوی) | خدائے قدوس جگہ اور زمانہ اور ترکیب و ماہیت سے پاک ہے۔نہ وہ کسی جگہ میں رہتا ہے،نہ اسکی عمر ہے،نہ وہ اجزاء سے بنا ہے۔اس کو دیوبندیوں نے بھی بے خبری میں کفرلکھ دیا۔(کتب علم کلام) |
| ۴) خدا تعالیٰ کو بندوں کے کاموں کی پہلے سے خبر نہیں ہوتی ۔جب بندے اچھے یا بُرے کام کرلیتے ہیںتب اُس کو معلوم ہوتا ہے۔ (بلغۃ الحیران صفحہ۵۷) زیرِ آیت الا علی اللّٰہ رزقھاکل فی کتب مبین۔ (مصنف مولوی حسین علی بھچرانوالہ شاگرد مولوی رشید احمد) | خدا تعالیٰ ہمیشہ سے ہر چیز کا جاننے والا ہے۔اس کا علم واجب اور قدیم ہے۔جو ایک آن کیلئے کسی چیز سے اُس کو بے علم مانے بے دین ہے۔(عام کتبِ عقائد) دیوبندی خدا کے علمِ غیب کے بھی منکر ہیں تو اگر حضور علیہ الصلوٰۃوالسلام کے علمِ غیب کا انکار کریںتو کیا تعجب ہے؟ |
| ۵) خاتم النبیین کا یہ معنی سمجھنا غلط ہے کہ حضور علیہ السلام آخری نبی ہیںبلکہ یہ معنی ہیں کہ آپ اصلی نبی ہیںباقی عارضی۔لہٰذا اگر حضور علیہ السلام کے بعد اور بھی نبی آ جائیںتو خاتمیت میں فرق نہ آئے گا۔ (تحذیز الناس مصنف مولوی قاسم بانی مدرسہ دیوبند) | خاتم النبیین کے یہ ہی معنی ہیں کہ حضور علیہ السلام آخری نبی ہیں ۔حضورعلیہ السلام کے زمانۂ ظہور یا بعد میں کسی اصلی،بروزی،مراتی،مذاتی کا نبی بننا محال بالذات ہے۔اسی معنی پر سب مسلمانوں کا اجماع ہے اور یہ ہی معنی حدیث نے بیان فرمائے۔جو اس معنی کا انکار کرے وہ مرتد ہے۔(جیسے قادیانی اور دیوبندی) |
| ۶) اعمال میں بظاہر اُمتی نبی کے برابر ہوجاتے ہیںبلکہ بڑھ بھی جاتے ہیں۔ (تحذیز الناس مصنف مولوی قاسم بانی مدرسہ دیوبند) | کوئی غیرِ نبی خواہ وَلی ہویا غوث یا صحابی کسی کمال علمی و عملی میں نبی کے برابر نہیں ہوسکتا ۔بلکہ غیرِ صحابی ،صحابی کے برابر نہیں ہوسکتا۔صحابی کا کچھ جَو خیرات کرنا ہمارے صدہا مَن سونا خیرات کرنے سے بدرجہا بہتر ہے۔(حدیث) |
| ۷) حضور علیہ السلام کا مثل و نظیر ممکن ہے۔ (یکروزی مصنف اسماعیل دہلوی مطبوعہ فاروقی صفحہ ۱۴۴) | رَبّ تعالیٰ بے مثل خالق ہے اور اس کے محبوب بے مثل بندے،وہ رحمۃ اللعالمین شفیع المذنبین ہیں۔ ان اوصاف کی وجہ سے آپ کا مثل محال بالذات ہے۔(دیکھو رسالہ امتناع النظیرمصنف مولانا فضلِ حق خیر آبادی) |
| ۸) حضور علیہ السلام کو بھائی کہنا جائز ہے۔کیونکہ آپ بھی انسان ہیں۔ (براہینِ قاطعہ مصنف مولوی خلیل احمد،تقویۃ الایمان مصنف مولوی اسمعیل دہلوی) | حضور علیہ السلام کو الفاظِ عام سے پکارنا حرام ہے۔اور اگر بہ نیتِ حقارت ہو تو کفرہے۔(قراٰنِ کریم)یا رسول اللہ ،یا حبیب اللہ کہنا ضروری ہے۔ > نسبت خود بہ سگت کردم و بس منفعلم > > زانکہ نسبت بہ سگ کوئے تو شد بے ادبی است |
| ۹) شیطان اور ملک الموت کا علم حضور علیہ السلام سے زیادہ ہے۔ (براہینِ قاطعہ مصنف مولوی خلیل احمد) | جو شخص کسی مخلوق کو حضور علیہ السلام سے زیادہ علم والا مانے وہ کافرہے۔(دیکھو شفاء شریف)حضور علیہ السلام تمام مخلوقِ الٰہی میں بڑے عالم ہیں۔ |
| ۱۰) حضور علیہ السلام کا علم بچوں،پاگلوں، جانوروں کی طرح یا اِن کے برابر ہے۔ (حفظ الایمان مصنف اشرف علی تھانوی) | حضور علیہ السلام کے کسی وصفِ پاک کو اَدنیٰ چیزوں سے تشبیہ دینا صریح توہین ہے اوریہ کفر ہے۔ |
| ۱۱) حضور علیہ السلام کو اُردو بولنا مدرسہ دیوبند سے آگیا۔ (براہینِ قاطعہ مصنف مولوی خلیل احمد) | ربّ تعالیٰ نے ساری زبانیں حضرت آدم علیہ السلام کو تعلیم فرمائیںاور حضور علیہ السلام کا علم اِن سے کہیں زیادہ ہے۔تو جو یہ کہے کو حضور علیہ السلام کو یہ زبان فُلاں مدرسہ سے آئی وہ بے دین ہے۔ |
| ۱۲) ہر چھوٹا بڑا مخلوق(نبی و غیرِ نبی)اللہ کی شان کے آگے چمار سے بھی ذلیل ہے۔ (تقویۃ الایمان مصنف مولوی اسمعیل دہلوی) | رَبّ تعالیٰ فرماتا ہے۔ وکان عند اللّٰہ وجیھا۔ پھر فرماتا ہے۔ ولِلّٰہِ العزۃ ولِرسولہ ولِلمؤمنین۔ (المنافقون۸) جو نبی کو خدا کے سامنے ذلیل جانے وہ خود چمار ہے ذلیل ہے۔ |
| ۱۳) نماز میں حضور علیہ السلام کا خیال لانا اپنے گدھے اور بیل کے خیال میں ڈوب جانے سے بہتر ہے۔ (صراطِ مستقیم مصنف مولوی اسمعیل دہلوی) | جس نماز میں حضور علیہ السلام کی عظمت کا خیال نہ ہووہ نماز ہی نامقبول ہے۔اسی لئے التحیات میں حضور علیہ السلام کو سلام کرتے ہیں۔وہ بھی کوئی نماز ہے جس میں تصورِ رسول نہ ہو۔(دیکھو بحث حاضر ناضر جاء الحق میں ) |
| ۱۴) میں نے حضور علیہ السلام کو خواب میں دیکھا کہ مجھے آپ پُل صراط پر لے گئے اور کچھ آگے جا کر دیکھا کہ حضور علیہ السلام گرے جارہے ہیں تو میں نے حضور کو گرنے سے روکا۔ (بلغۃ الحیران مصنف مولوی حسین علی شاگرد مولوی رشید احمد) | حضور علیہ السلام کے بعض غُلام پُل صراط سے بجلی کی طرح گزر جائیں گے۔اور پُل صراط سے پھسلنے والے لوگ حضور علیہ السلام کی مدد سے سنبھل سکیںگے۔ آپ دُعا فرمائیں گے ۔ رَبِّ سلم(حدیث)جو کہے کہ میں نے حضور کو گرنے سے بچایا وہ بے ایمان ہے۔ |
| ۱۵) مولوی اشرف علی تھانوی نے بڑھاپے میں ایک کمسن شاگردنی سے نکاح کیا ۔اس نکاح سے پہلے اس کے کسی مرید نے خواب میں دیکھا کہ مولوی اشرف علی کے گھر حضرت عائشہ صدیقہ آنے والی ہیں۔جس کی تعبیر مولوی اشرف علی نے یہ کی کہ کوئی کمسن عورت میرے ہاتھ آوے گی۔کیونکہ حضرت عائشہ صدیقہ کا نکاح جب حضور علیہ السلام سے ہوا تو آپ کی عمر سات سال تھی وہ ہی نسبت یہاں ہے کہ میں بُڈھا ہوںاور بیوی لڑکی ہے۔ (رسالہ امداد مصنف مولوی اشرف علی تھانوی) | حضور علیہ السلام کی ساری بیویاں مسلمانوں کی مائیںہیں۔(قراٰنِ کریم)خصوصاً صدیقۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنھا کی وہ شان ہے کہ دُنیا بھر کی مائیں ان کے قدمِ پاک پر قربان ہوں۔ کوئی کمینہ آدمی بھی ماں کو خواب میں دیکھ کر جورو سے تعبیر نہ دے گا۔یہ حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہا کی سخت توہین بلکہ اس جناب کے حق میں صریح گالی ہے ۔اس سے زیادہ اور کیا بے ایمانی اور بے غیرتی ہو سکتی ہے کہ ماں کو جورو سے تعبیر دی جائے۔ |
٭معروف کالا کوّا کھانا دیوبندیوں کے نزدیک جائزہے۔بحوالہ فتاویٰ رشیدیہ (کاں کھانی قوم)
جو دین کوئوں کو دے بیٹھے اُن کو یکساں ہے
کلاغ لے کے چلے یا الاغ لے کے چلے
عقائدِدیوبندکایہ ایک نمونہ ہے۔اگرتمام عقائد بیان کئےجائیںتواسکےلئےایک دفترچاہئے ۔حق یہ ہے کہ رافضیوں اور خارجیوں نے تو صحابۂ کرام اور اہلِ بیت عظام ہی پر تبرّا کیا۔مگر دیوبندیوں کے قلم سے نہ خدا کی ذات بچی ،نہ رسول علیہ الصلوٰۃ والسلام،نہ صحابہ کرام اور نہ ازواجِ مطہرات۔سب کی اہانت کی گئی۔اگر کوئی شخص کسی شریف آدمی سے کہے کہ میں نے تمہاری والدہ کو خواب میں دیکھا اور اس کو بیوی سے تعبیر کیا تو وہ اس کوبرداشت نہیں کرسکتا ۔ہم ان کے غلامانِ غلام اپنی صدیقہ ماں کیلئے یہ باتیں کس طرح برداشت کریں۔صرف قلم ہاتھ میں ہے ۔اس لئے مسلمانوں کو مطلع کردیتے ہیں تاکہ مسلمان اِن سے علیحدہ رہیں ۔یا ـوہ لوگ اِن عقائد سے توبہ کریں۔
دشمنِ احمد پہ شدت کیجئے
ملحدوں کی کیا مروت کیجئے
شرک ٹھہرے جس میں تعظیمِ حبیب
اُس بُرے مذہب پہ لعنت کیجئے