Skip to content

اہل بدعت کون ؟

مصنف: مفتی محمد اقبال سعیدی

بسم اﷲ الرحمن الرحیم صلی اﷲ علی حبیبیہ سیّدنا محمدِِ وَّ آلہٖ وسلم

پروپیگنڈے کا جواب

مسئلہ بدعت پر اہل بدعت نے اہل سنت کے خلاف اس قدر شور مچایا کہ کم علم لوگ اہل سنت کو اہل بدعت اور اہل بدعت کو اہل سنت سمجھنے لگے ۔

پروپیگنڈہ باز سیاست کا یہ مقولہ مشہور ہے کہ جھوٹ کو اتنی بار بولو کہ سچ نظر آنے لگے ، لہذا اسی طرزِ عمل کو اپنا کر وہ لوگ اپنے آپ کو اہل سنت کہنے لگے اور اہل سنت کو بدعتی ، اصل معاملہ اس کے برعکس ہے، اس لئے کہ یوں تو وہ بہت کچھ کہتے ہیں، لیکن جب ان کو بدعت کی تعریف کے لئے بلایا جائے تو اس کی کوئی جامع مانع ایسی تعریف نہیں کرپاتے جو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے ثابت ہو ، کیونکہ اگر وہ تعریف رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے ثابت نہیں تو پھر وہ تعریف خود انہیں ہی حضرات کے نکتۂ نظر کے پیش نظر بدعت قرار پاتی ہے، کیونکہ بدعت کی ایک تعریف وہ یہ کرتے ہیں کہ ’’ بدعت وہ کام ہے جو رسول اﷲ ﷺ نے نہ کیا ہو‘‘

لیکن مذکورہ بالا ان الفاظ سے تعریف کرنا بھی تو ایک کام ہے، کیا یہ کام رسول اﷲ ﷺ نے کیا تھا؟ اگر کیا تھا تو اس کے بارے میں مستند حوالہ صحیح حدیث سے درکار ہے جو وہ آج تک نہیں لاسکے، دراصل بدعت کی اصل تعریف وہ ہے جو رسول اﷲ ﷺ کے ان کلمات کریمہ سے ظاہر ہے کہ آپ نے فرمایا:

ان کل محدثۃ بدعۃ (مشکوٰۃ، ص۳۰) یعنی ہر محدث بدعت ہے،

پھر یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ محدث کیا ہے؟

تو اس کے بارے میں سرکار ﷺ کا ارشاد ہے۔

’’ من احدث فی امرنا ھذا مالیس منہ فھورد ‘‘(بخاری، مسلم شریف، ج۲، ص۷۷) ’’جس شخص نے ہمارے اس امر(احکام شریعت) میں کوئی ایسی چیز بڑھائی جو اس میں نہ تھی تو وہ (نیا حکم) ردّ ہے۔

(بعض دوست لفظ’’محدث‘‘ کو ’’ محدّث‘‘ پڑھتے ہیںجو درست نہیں ، صحیح لفظ ’’مُح دَثْ‘‘ پڑھاجائے گا۔ خلیل احمد رانا)

بدعت کی صحیح تعریف

اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ بدعت دراصل احکام ِ شریعت میں تحریف کا نام ہے یعنی جو حکم شرعی کسی دنیوی یا دینی چیز کے بارے میں شریعت میں قرار دیا گیا اس کی بجائے اپنی طرف سے کوئی حکم لگانا یا اس غلط حکم کو صحیح اعتقاد کرنا محدث ہے اور ہر محدث بدعت ہے، اس امر میں دینی یا دنیوی کام کا کوئی فرق نہیں (جیسے بعض لوگ دھوکہ دینے کے لئے کہہ دیتے ہیں کہ دنیاوی کام بدعت نہیں ہیں بلکہ صرف دینی کام میلاد شریف وغیرہ بدعت ہیں)حالانکہ اﷲ تعالیٰ نے دین یا دنیا کے ہر کام کے بارے میں کوئی نہ کوئی شرعی حکم بھیجا ہے اور شرعی احکام یہ ہیں : فرض، واجب، سنت مؤکدہ(اور سنت غیر مؤکدہ، مستحب) اور اولیٰ اور حرام، مکروہ تحریمی، اسأت(اور مکروہ تنزیہی اور خلاف اولیٰ) اور مباح۔

کائنات میں جتنی چیزیں ہیں ان کے استعمال یا عدم استعمال اور جتنے عقیدے ہیں ان کے ماننے یا نہ ماننے اور جتنے امور شرعیہ ہیں ان کے کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں کوئی نہ کوئی حکم شرعی ان احکام میں سے موجود ہے جو دلائل شرعیہ اربعہ کے عموم یا خصوص سے ثابت ہوگا، قرآن و حدیث کے علاوہ عقائد اور فقہ کی کتابوں کے طویل وعریض دفتر ہمارے اس دعویٰ کے سچے گواہ ہیں بلکہ حدیث شریف میں ہے :

عن سلمان قال قیل لہ قد علمکم نبیکم صلی اﷲ علیہ وسلم کل شیٔ حتیٰ الخرأۃ؟ قال فقال اجل (مسلم شریف،عربی، ج۱،ص۱۳۰)

’’حضرت سلمان فارسی سے روایت ہے آپ نے فرمایا کفار نے آپ سے کہا کہ تمہارے نبی ﷺ تمہیں ہر چیز بتاتے ہیں یہاں تک کہ رفع حاجت کا طریقہ بھی بتاتے ہیں؟ آپ نے جواب دیا ’’ہاں‘‘ یعنی ہمیں حضور ﷺہر چیز بتاتے ہیں، یہاں تک کہ پاخانہ کرنے کا طریقہ بھی بتاتے ہیں ‘‘

تو ثابت ہواکہ کائنات کے جتنے امور ہیں وہ صحابی کے اس اقراری بیان’’کل شیٔ‘‘ میں داخل ہیں، چاہے ان امور کا ظہور اس زمانے میں ہوا تھا یا نہیں اور وہ امور اب ظاہر ہوئے یا اب سے تھوڑا یا زیادہ عرصہ پہلے ، احکام بہر صورت ہر چیز کے پہلے سے دئیے گئے، اگر وہ فعل فرض ہے تو اسے حرام یا نکروہ کہنے والا محدث کا قائل ہوکر بدعتی ہے اور اگر وہ مثلاً حرام ہے تو اسے فرض واجب وغیرہ کہنے والا بھی خود بدعت ہوگا، اسی طرح اگر کوئی فعل مباح ہے تو اس کا کرنے والا بدعتی نہیں ہوگا، لیکن اسے فرض سمجھنے والا بدعتی ہوگا، چاہے وہ یہ فعل کرے یا نہ کرے اگر وہ اپنے فعل کو فرض وغیرہ نہیں سمجھتا لیکن کوئی دوسرا اس کے فعل کو حرام کہتا ہے تو وہ بھی بدعتی ہوگا۔

اصل بدعتی کون؟

اہل سنت وجماعت کے وہ معمولات جن پر بدعت کا طعنہ کسا جاتا ہے ان میں سے بعض سنت سے ثابت ہوتے ہیں اور منکر کو پتہ نہیں ہوتا، اور بعض مستحب ہوتے ہیں اور بعض مباح ، اہل سنت کے علماء ان احکام میں تبدیلی نہیں کرتے بلکہ بتادیتے ہیں کہ یہ امر مباح ہے یا مستحب، فرض واجب ہر گز نہیں، اس لئے ہمارے ان افعال پر بدعت کا فتویٰ غلط ہوگا ۔

رہے ہمارے عوام، تو عوام کسی طبقے کے بھی حجت نہیں ہوتے، علماء جب کسی بات کی تصریح کرہے ہوں تو پھر عوام کا اس کے خلاف بالفرض کوئی عقیدہ بھی ہو تو وہ ان افراد کی غلطی ہوگی، پورے مسلک کی غلطی نہ ہوگی، لیکن اس کے برعکس اس مباح فعل کو یا اس مستحب فعل کوکوئی شخص حرام یا مکروہ تحریمی کہتا ہے تو وہ یقیناً محدث فعل کا مرتکب ہے اور اس کو بدعتی کہا جائے گا۔

ہماری اس تشریح کی روشنی میں ثابت ہوگیا کہ اہل بدعت دراصل وہ علماء ہیں جو ان افعال کو جو کہ اپنی اصلیت میں جائز یا مستحب تھے یا ترک اولیٰ بلکہ مکروہ تنزیہی تک کیوں نہ تھے، انہیں حرام یا مکروہ تحریمی کہا ، مخالفین اہل سنت کے عوام کی بات نہیں، بات تو علماء کی ہے جو جہاں کہیں بیٹھتے ہیں ان امور کو حرام یا مکروہ تحریمی کہتے ہیں، ثابت ہوا کہ پکے بدعتی وہی ہیں ، لیکن اس دور کا المیہ ہے کہ سینہ تان ہم سے کہتے ہیں کہ تم ہی بدعتی ہو، ہاں صحابہ کرام کے اقوال میں کبھی کبھی کسی ایک دو صحابی کے قول سے احتمال پیدا کیا جاتا ہے کہ شاید وہ ہر اس کام کو بدعت کہتے ہوں جو رسول اﷲ ﷺ نے نہ کیا ہو۔

جمعِ قرآن کی مثال

لیکن سیّدنا ابوبکر ، سیّدنا عمراور سیّدنا زید بن ثابت اور ان کے زمانے کے تمام دیگر صحابہ کے اتفاق سے اس بات کو مسترد کیا گیا کہ جو کام رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے نہ کیا ہو وہ اگر اچھا بھی ہو تو نہ کیا جائے، جب حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے سیّدنا ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ سے فرمایا کہ حفاظ صحابہ شہید ہورہے ہیں آپ قرآن پاک لکھوا کر رکھیں، تو سیّدنا ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے جواب میں یہ فرمایا کہ جو کام رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے نہیں کیا وہ میں کیسے کروں، جب کہ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ بار بار اصرار کرتے رہے تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ بھی اس کے قائل ہوگئے، تو پھر زید بن ثابت رضی اﷲ عنہ کو بلایا کہ آپ قرآن مجید کو ایک کتاب کی شکل میں جمع کریں، زید بن ثابت نے بھی وہی بات کہی کہ جو کام رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے نہیں کیا تو میں کیسے کروں، پھر ان کا دل بھی کھل گیا اور وہ بھی اس پر آمادہ ہوگئے،(بخاری شریف،عربی، ج۲، ص۷۴۵)

بہر حال ان تینوں حضرات نے اس بات کو مسترد کردیا کہ جو کام رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے نہ کیا ہو وہ نہ کیا جائے، اب اگر کسی اور صحابی کا قول اس کے خلاف آتا ہے تو مذکور ہ بالا اتفاق شیخین کے خلاف ٹھہرتا ہے، لہذا اس کو پیش کرنا صحیح نہ ہوگا۔