گنبدِ خضراء کی عظمت
گنبد خضراء شریف جس کی ضیاء پاشیوں سے کائنات روشن ہے، جس کی ہریالی سے عالمِ رنگ و بو کا سبزہ قائم ہے، جس کے تصور سے قلبِ مسلم کی دھڑکن وابستہ ہے۔
وہ گنبد خضراء جس میں محبوبِ خدا ،سرورِ انبیاء، رحمۃ اللعالمین شفیع المذنبین صلی اللہ علیہ وسلم تختِ نبوت پر تشریف فرما ہیں اور اپنے دستِ اقدس سے اللہ رب العزت کے دیئے ہوئے انعامات کائنات کی ہر مخلوق میں تقسیم فرمارہے ہیں۔ اہلِ قلب و نظر سے پوچھئے کہ سنہری جالیوں کے سامنے انبیاء کرام علیہم السلام جھولیاں پھیلائے کھڑے ہیں، سید الملائکہ حضرت جبرائیل امین علیہ السلام تو قدمین شریفین میں اب بھی زائرین کے درِ سماعت پر یہ صدا دیتے ہیں کہ
ذرا سی بے ادبی کی تو عمر بھر کا سرمایہ گیا
یہ گنبد خضراء جس کا دیکھنا اہلِ ایمان کی تسکین ہے جس کی زیارت کی آرزو میں آٹھوں پہر نہ جانے کئی لاکھ آنکھیں آنسو بہاتی ہیں اور کتنے دل تڑپتے ہیں۔
یہ گنبد خضراء اہلِ ایمان کی متاعِ عظیم ہے۔ اس کے تحفظ کے لیے جہاں اللہ رب العزت نے ملائکہ کو مقرر فرمایا ہے، وہاں اہلِ ایمان کے قلوب میں یہ جذبہ عطا فرمایا کہ جس بدبخت نے اس کی طرف میلی آنکھ اٹھائی تو اہلِ ایمان نے اس کے ناپاک وجود سے زمین کو پاک کردیا۔ صدیوں سے یہود، ہنود اور بے دین، لعین، اسلام دشمن قوتوں کی گندی آنکھوں میں گنبد خضراء کھٹک رہا ہے، وہ معاذ اللہ اس کے گرانے کے لیے ہر دور میں کئی رنگ و روپ بدل کر آئے مگر تاریخ کی ورق گردانی کرنے والے خوب جانتے ہیں کہ جب بھی کوئی بدقسمت اسلام کا لبادہ اوڑھ کر مدینہ الرسول میں گنبد خضراء اور اس کے مکین رحمۃ اللعالمین علیہ التحیۃ والتسلیم کو گزند پہنچانے آیا تو حضرت نور الدین زنگی جیسے فاتحِ اسلام شیر دل غیور عاشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا کام تمام کردیا۔
اب بھی امتِ مسلمہ میں الحمدللہ لاکھوں نور الدین، علم الدین موجود ہیں جو تحفظ گنبد خضراء پر اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے کے لیے ہمہ وقت کفن بردوش ہیں۔
گستاخانہ کتاب کا جائزہ
موجودہ سعودی حکومت کے ساتھ نجدی شریعت کے معاملات کے ذمہ دار جو آل شیخ یعنی ابن عبد الوہاب کے چیلے چانٹے ہیں جنہیں دنیا وہابی کے نام سے جانتی ہے، وہ گذشتہ ایک صدی سے مزاراتِ محبوبانِ خدا سے دشمنی کرکے انگریز سے انعام وصول کررہے ہیں۔ جنہوں نے جنت البقیع شریف، جنت الملیٰ شریف میں مدفون ہزاروں صحابہ کرام، اہلِ بیت عظام، امہات المؤمنین، اولیاء اُمت کے مقدس مزارات پر بلڈوزر چلائے جس پر دنیا بھر کے کروڑوں اہلِ اسلام سراپا احتجاج بنے۔ ان کے ناپاک منصوبوں میں گنبد خضراء شریف کو گرانا بھی شامل تھا کیونکہ یہ اسلام کے لباس میں اسلام دشمن نجدی گنبد خضراء کو گرانا اپنے خام خیال میں بہت بڑا کارنامہ گرادنتے ہیں مگر
پڑے خاک ہوجائیں جل جانے والے
کئی سال قبل نجدیوں نے اہلِ اسلام کے ایمان کو جانچنے کے لیے گنبد خضراء شریف کو گرانے کا شوشہ چھوڑا تھا تو دنیا بھر میں آگ لگ گئی۔ شاہ فہد نے وضاحتی بیان جاری کرکے مسلم دنیا کو ٹھنڈا کیا لیکن انہوں نے اپنے خبث باطنی کا اظہار یوں کیا کہ سیدہ طیبہ طاہرہ بی بی آمنہ رضی اللہ عنہا کے مزارِ مقدس پر بلڈوزر چلاکر اہلِ ایمان کے زخمی قلوب پر نمک پاشی کی۔ اگرچہ دنیا بھر میں ایک شور بپا ہے مگر۔۔۔؟
اس سال فقیر اپنے قبلہ و کعبہ حضور والد گرامی مفسر اعظم پاکستان (حضرت علامہ محمد فیض احمد اویسی) مدظلہ، کی معیت میں ۲۸رمضان المبارک۱۴۲۸ھ کو مسجدِ نبوی شریف میں افطاری کے لیے مختلف انواع و اقسام کی نعمتوں سے سجے جنتی سفرہ پر بیٹھا تھا کہ کویت، جدہ اور بمبئی کے احباب آئے اور دل ہلادینے والی خبر سنائی کہ ایک بدبخت نجدی ملّا نے کتاب لکھی ہے کہ معاذ اللہ گنبد خضراء شریف کو گرانا ایک مستحسن عمل ہے۔ سفرہ پر بیٹھے تمام احباب یکدم چونک گئے۔ شوکت حسین شاہ صاحب اور محمد عارف بھائی (کویت) کی ذاتی کاوش سے صلوٰۃ تراویح کے بعد کتاب کے دو نسخے ملے۔ کتاب کا نام ’’زیارت مسجد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ’’ (فضائل و احکام) ہے۔ لکھنے والا کمبخت شاہد محمد شفیق، داعیہ مکتب دعوۃ و توعیۃ الجالیات بالرس ہے۔ اس پر نظرِ ثانی نور الدین، داعیہ، مرکز توعیۃ الجالیات بالقصیم نے کی ہے جبکہ مکتب دعوۃ وتوعیۃ الجالیات فی محافظ بالرس ص ب (۶۵۶) سے طبع شدہ ہے۔ سنِ طباعت۱۴۲۸ھ ہے، صفحات۱۵۷ ہیں۔ یوں تو یہ پوری کتاب اپنے قاری کا دل جلاتی اور خون کے آنسو رُلاتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ
لباسِ خضر میں پھرتے ہیں راہزن کتنے
پوری کتاب میں مصنف نے ایڑی چوٹی کا زور لگاکر یہ کوشش کی ہے
یہ فاقہ کش جو موت سے ڈرتا نہیں ذرا روحِ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اس کے بدن سے نکال دو
کتاب میں کفار و مشرکین کی مذمت اور اصنامِ باطلہ پر لعنت و ملامت والی قرآنی آیات کو انبیاء کرام علیہم السلام و اولیاء کرام محبوبانِ خدا پر چسپاں کرکے اس نامراد مصنف نے اپنی دنیا و آخرت تباہ و برباد کرنے کا سامان کیا۔ ستم بالا ستم یہ کہ قرآنی آیات کو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ظاہری حیات طیبہ تک محدود کرکے قرآن مقدس کے معجزہ تا قیامت ہونے کو چیلنج کیا مثلاً بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہونے والے حکمِ باری تعالیٰ ولو انھم اِذ ظلموا انفسھم جاء وک(الیٰ آخر آیہ) اگر اپنی جانوں پر ظلم کرلیں تو اے محبوب وہ تمہارے حضور حاضر ہوجائیں پھر اللہ تعالیٰ سے معافی چاہیں اور رسول ان کی شفاعت فرمائے تو ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں گے۔ (پ۵، سورۃ النساء، آیت: ۶۴)۔ اس آیت کو مصنف نے کتاب کے ص:۶۷،۶۸ پر لاف گزاف مارتے ہوئے لکھا
کہ درحقیقت یہ آیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے لیے خاص ہے (ص:۶۸)۔ اس عقل کے اندھے اور علم سے کورے ملّا سے کوئی پوچھے کہ پھر تمام قرآنی احکامات کو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ظاہری حیاتِ مبارکہ پر محمول کرتے ہوئے منسوخ تصور کیا جائے (العیاذ باللہ)۔
مثلاً ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ یآ ایھا النبِی جاہِدِ الکفار والمنافِقِین (الیٰ آخر) یعنی اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! کفار و منافقین سے جہاد کیجئے۔ اگر کوئی سوال کرے کہ جہاد کا حکم تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا جارہا ہے، لہٰذا آپ کے وصال باکمال کے بعد جہاد اہلِ اسلام پر کیونکر فرض ہو؟ نجدی شریعت میں اس کا کیا جواب ہوگا؟
بدبخت مصنف نے نالائقی کی انتہا ء کرتے ہوئے یہ بھی لکھ مارا کہ مدینہ منورہ کا سفر، قبر (شریف) کی زیارت کے قصد سے کرنا ناپسندیدہ اعمال میں سے ہے (نعوذ باللہ)۔ یہ جملہ تو اس نے کتاب میں بار بار لکھ کر اپنے اعمال سیاہ کئے ہیں۔
اس نے یہ بھی لکھا ہے کہ زائر کو یہ کہنا کہ وہاں جاکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو میرا سلام کہہ دینا، یہ سراسر بدعت ہے۔
اس نے محبوبانِ خدا کے وسیلہ سے دعا مانگنے پر بڑی بحث کرتے ہوئے لکھا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے وسیلہ سے دعا مانگنی جائز نہیں، نہ مدینہ اور نہ ہی عام اماکن سے نہ ہی دیگر انبیاء و اولیاء کی ذات وغیرہ کے وسیلہ سے۔ یہ شرک کی جڑ اور بسا اوقات شرکِ اکبر ہے (ص:۷۳)۔ استغفر اللہ! کتنی بے حیائی سے مصنف نے کام لیا ہے۔ بات بات پر شرک کی رٹ سے لگتا ہے کہ نجدی شریعت میں شرک کے سوا اور کوئی سرمایہ ہے ہی نہیں۔ شریعتِ مطہرہ میں محبوبانِ خدا کے وسیلہ سے دعا مانگنا قبولیت کی علامت قرار دیا گیا ہے۔ قرآن پاک میں اہلِ ایمان کو وابتغوا الیہ وسیلہ میں وسیلہ تلاش کرنے کا حکم دیا گیا ہے مگر جو ختم اللہ علی قلوبِھِم وعلٰی سمعِھِم وعلٰی ابصارِھِم (جن کے دلوں اور کانوں اور آنکھوں پر اللہ تعالیٰ نے مہر لگادی ہو) کے مصداق ہوں۔ سچ ہے کہ
دیدہء کور کو کیا آئے نظر کیا دیکھے
یہاں تو مصنف کا یہ حال ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں اپنی حاجات و مشکلات پیش کرنے والی صحیح احادیث کو ضعیف قرار دے کر اپنے بغض باطنی کا پورا پورا اظہار کررہا ہے۔ اسے کہتے ہیں چوری اور سینہ زوری۔ پوری کتاب میں مصنف نے کیا کیا جاہلانہ باتیں لکھیں۔ شرک، بدعت اور حرام تو اس کا ورد و وظیفہ نظر آتا ہے۔ فقیر کا ارادہ ہے کہ کتاب کے لفظ بہ لفظ کا ردّ قرآن و حدیث سے پیش کرکے نجدی شریعت کی حقیقت کو آشکار کروں تاکہ دردِ دل رکھنے والے اہلِ ایمان کو معلوم ہو کہ اسلام دشمن قوتیں کیا کیا رنگ و روپ دھار کر اہلِ ایمان کے قلوب سے مغزِ قرآن، روحِ ایمان، جانِ دین، یعنی عشقِ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کو نکالنے کے لیے مختلف قسم کے حربے استعمال کررہے ہیں۔ اس ناپاک منصوبہ پر ناجانے کتنے ڈالر اور ریالِ بے حال خرچ ہورہے ہیں مگر یہ حقیقت روزِ ازل سے روشن ہے کہ
اُن پہ مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
مصنف نے اس کتاب میں مزارات پر قبہ و گنبد بنانے پر ایک مستقل باب لکھا جس میں محبوبانِ خدا بالخصوص سرورِ انبیاء، شافعِ روزِ جزاء، نبی کریم، رؤف و رحیم صلی اللہ علیہ وسلم کے گنبدِ خضراء شریف کے متعلق جو زبان استعمال کی (الامان والحفیظ) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام دشمن قوتوں نے اپنا سارا غلیظ مواد اس انسان نما بھیڑیے میں جمع کرکے اسلام کے لبادہ میں نجد روانہ کیا۔ کتاب کے ص:۱۳۳ تا۱۴۶ پر مزارات اولیاء بالخصوص گنبدِ خضرا شریف کو غیر شرعی فعل اور غلط عمل قرار دیا۔ لکھتا ہے کہ قبروں پر عمارتیں، قبے اور گنبد بنانا حرام ہے۔ العیاذ باللہ۔ ص:۱۴۶ پر تو کمینے نے بغض و حسد کی آگ میں جل کر زبان درازی کی حد کردی کہ نعوذ باللہ من ذالک۔ دل تھام کر عبارت پڑھیں کہ اللہ تعالیٰ مملکت سعودی عرب کو توفیق دے کہ اسے (گنبدِ خضراء کو) سنت کے مطابق کردیں یعنی گنبدِ خضراء کو گرادیں۔ خطِ کشیدہ عبارت پڑھ کر آپ اندازہ کریں کہ نجدی شریعت کے پیروکاروں کے سینے بغض اور کینے سے کتنے لبریز ہیں۔ یاد رہے کہ گذشتہ دنوں امریکی صدارت کے امیدوار نے اپنے انتخابی جلسہ میں یہ بکواس کی تھی کہ برسرِ اقتدار آکر مسلمانوں کے مقدس مقامات مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ پر حملہ کرے گا۔ اْس کے اس بیان سے عالمِ اسلام میں زبردست احتجاج ہوا، میڈیا میں بھی شدید ردِّ عمل ظاہر ہوا اور اخبارات میں اس کی مذمت میں اداریے لکھے گئے۔ مگر ادھر نجد میں امریکی ناپاک منصوبے کی تکمیل کے لیے نجدی ملّاؤں نے پیپرورک شروع کردیا۔ اہلِ اسلام ہوشیار ہوں اور اپنے دشمن کو پہچانیں۔
جبکہ قبل ازیں ڈنمارک اور یورپین ممالک میں گستاخانہ خاکے شائع ہوئے تو اہلِ ایمان کے جذبات آسمان کو چھونے لگے جو یقیناً ایمان کی علامات میں سے تھا۔
برطانیہ نے شیطان رشدی کو ‘سر’ کا خطاب دیا تو چار دانگ عالم سے اہلِ اسلام کی صدائے احتجاج بلند ہوئی چونکہ وہ ظاہری دشمن ہیں۔ ادھر لباسِ خضر میں رہزن بن کر نجدی وہابی حملہ آور ہورہے ہیں۔ مگر وہ گندی ذہنیت رکھنے والے کان کھول کر سن لیں کہ
اپنا سب کچھ گنبدِ خضرا کل بھی تھا اور آج بھی ہے
عالمِ اسلام سے اپیل
دریں حالات دنیا بھر کی اسلامی حکومتوں پر فرض عائد ہوتا ہے کہ سعودی حکومت سے پْرزور مطالبہ کریں کہ گنبدِ خضراء شریف کو گرانے کا نظریہ رکھنے والے ملعون شخص کو سرِ عام سولی پر لٹکائے تاکہ آئندہ کسی بدطینت کمینے کو گنبدِ خضرا کے متعلق ایسی بکواس کرنے کی جرأت نہ ہو۔ عوام الناس اہلِ اسلام غیرتِ ایمان کا مظاہرہ کرکے اپنی حکومتوں سے مطالبہ کریں کہ وہ سعودی حکمرانوں کو عالمِ اسلام کے جذبات سے آگاہ کریں۔