اسلامی عقیدوں کا خلاصہ
اللہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں وہی اس کا مستحق ہے کہ اس کی عبادت اور بندگی کی جائے وہ بے پروا ہے کسی کا محتاج نہیں اور تمام جہان اس کا محتاج ہے۔
لوگوں کی ہدایت اور رہنمائی کے لیے اللہ تعالیٰ نے جتنے بنی اور رسول بھیجے ان میں سے ہر نبی پر ہمارا ایمان ہے۔ ہر مسلمان پر فرض ہے کہ اللہ کے نبیوں اور رسولوں کی تعظیم کرے اور یہ عقیدہ رکھے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے محبوب اور عزت والے بندے ہیں اور ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ تمام رسولوں کے سردار ہیں۔
بہت سے نبیوں پر اللہ تعالیٰ نے صحیفے اور آسمانی کتابیں اتاریں۔ یہ سب کتابیں اور صحیفے ہیں اور سب کلام اللہ ہیں ان میں جو کچھ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا سب پر ایمان ضروری ہے ان کتابوں میں سب سے افضل کتاب قرآن عظیم ہے جو سب سے افضل رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر اتارا گیا اور اس کی حفاظت اللہ تعالیٰ نے خود اپنے ذمہّ رکھی ّ۔
فرشتے اللہ تعالیٰ کی ایک نورانی مخلوق ہیں جو نہ مرد ہیں نہ عورت وہ اللہ تعالیٰ کے معصوم اور فرمانبردار بندے ہیں اور وہی کرتے ہیں جو خدا کا حکم ہوتا ہے۔ ان کی غذا اللہ تعالیٰ کی عبادت اور ذکر ہے۔
جن اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے۔ یہ آگ سے پیدا کئے گئے ہیں۔ انسانوں کی طرح کھاتے ، پیتے، جیتے اور مرتے ہیں۔ ان میں مسلمان بھی ہیں اور کافر و بے دین بھی ، برُے بھی ہیں اور بھلے بھی، ان میں جو شریر و کافر ہوتے ہیں، اُنھیں شیطان کہا جاتا ہے۔
جس طرح ہم لوگ پیدا ہوتے اور مر جاتے ہیں اور ہر چیز فنا ہوتی اور مٹتی رہتی ہے ایک دن ایسا آئے گا کہ یہ ساری دنیا فرشتے ، پہاڑ، جانور، آدمی ، زمین ، آسماں اور ان کے اندر کی سب چیزیں فنا ہو جائیں گی۔ خدا کی ذات کے سوا کوئی بھی چیز باقی نہیں رہے گی۔ اسکو قیامت کہتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ تمام چیزوں کو دوبارہ پیدا کرے گا۔ ُمردے قبروں سے اٹھیں گے۔ سب کو ایک میدان میں جمع کیا جائے گا، اس کا نام حشر ہے پھر میزان ترازو قائم ہوگی اور سب کا حساب کتاب ہوگا، مسلمان و کافر اور نیک و بد کے تمام اعمال تو لے جائیں گے۔ اور ان کے اچھے برے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔ اچھے آدمی جنت میں داخل کئے جائیں گے اور کافر دوزخ میں ڈال دئیے جائیں گے۔
جہنم کے اوپر ایک پل ہے جسے ''صراط'' کہتے ہیں۔ یہ بال سے زیادہ باریک اور تلوار سے زیادہ تیز ہے۔ سب لوگوں کو اسی پر سے گزرنا ہوگا۔ جنت میں جانے کا یہی راستہ ہے۔
دنیامیں جیسا ہونے والا تھا اور جو جیسا کرنے والا تھا اللہ تعالیٰ کو اس کا علم پہلے ہی تھا۔ ان تمام باتوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کے مطابق لکھ دیا، اور جو کچھ لکھ دیا وہی ہوگا اس میں بال برابر فرق نہ آئے گا، اسے ''تقدیر'' کہتے ہیں۔