Skip to content

سبق ۱۸ — نیت کا بیان

نیت کسے کہتے ہیں؟

جواب: نیت کے دل کے پکے ارادے کو کہتے ہیں۔ محض جاننا نیت نہیں جب تک کہ ارادہ نہ ہو۔

نیت کا زبان سے کہنا کیسا ہے؟

جواب: زبان سے کہہ لینا مستحب ہے اگرچہ کسی زبان میںہو۔ لیکن اگر دل میں مثلاً ظہر کا ارادہ کیا اور لفظ عصر نکلا تو ظہر کی نماز ہوگئی۔

نیت میں کیا کیا باتیں ضرور ہیں ؟

جواب: فرض نماز میں اس خاص نماز کا ارادہ کرنا جو پڑھنا چاہتا ہے مثلاً ظہر یا عصر کی نیت کرے۔ یونہی اگر فرض قضا ہو جائیں تو ان میں بھی دن اور نماز کا معین کرنا ضرور ی ہے۔ مثلاً فلاں دن کی فلاں نماز ادا کرتا ہوں اور اگر امام کے پیچھے نماز ادا کرتا ہو تو اقتداء کی نیت بھی ضروری ہے کہ پیچھے اس امام کے۔

نفل اور سنت کی نیت کس طرح کرے؟

جواب: ان نمازوں میں اتنی ہی نیت کافی ہے کہ میں نماز پڑھتا ہوں۔ مگر بہتر یہ ہے کہ سنتوں میں سنت کی نیت کرکے۔

کسی نماز کی پوری نیت زبان سے کس طرح کی جائے؟

جواب: مثلاً آج فجر کے دو فرض پڑھتا ہے تو نیت یوں کرے: ’’نیت کی میں نے دو رکعت آج کے فرض نماز فجر کی ‘ واسطے اللہ تعالیٰ کے ، منہ میرا قبلہ شریف کی طرف‘‘ اس کے بعد تکبیر کہے اور ہاتھ باندھ لے اور اگر متقدی ہے تو اتنا لفظ اور کہہ لے کہ ’’پیچھے اس امام کے‘‘۔

سنت کی نیت کس طرح کرے؟

جواب: نیت کی میں نے چار رکعت نماز سنت واسطے اللہ تعالیٰ کے، سنت رسول اللہ وقت ظہر کا، منہ میرا کعبہ شریف کی طرف‘‘ ۔

نماز واجب کی نیت کس طرح ہوتی ہے؟

جواب: نماز واجب میں واجب کی نیت کرے اور اسے معین بھی کر دے مثلاً نماز عید الفطر یا نماز عید الضحیٰ یا وتر۔

نماز میں تعداد رکعات کی نیت ضرور ہے یا نہیں؟

جواب: نیت میں تعداد رکعات کا ذکر ضروری نہیں، البتہ افضل ہے۔