تم کس امت میں ہو؟
جواب: ہم اللہ کے محبوب حضرت محمد ﷺ کی امت میںہیں۔
آنحضرت ﷺ کی زندگی کے مختصر حالات بتلائو؟
جواب: ہمارے اور سارے جہان کے سردار حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ملک عرب کے مشہور شہر مکہ معظمہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد (باپ) کا نام حضرت عبدا للہ، دادا کا نام حضرت عبدالمطلب اور والدہ (ماں) کا نام حضرت آمنہ خاتون ہے۔ حضرت حلیمہ آپ کی دودھ پلانے والی دایہ کا نام ہے۔ آپ کے والد حضرت عبداللہ کا سایہ آپ کے پیدا ہونے سے پہلے ہی سر سے اٹھ گیا تھا۔ اور جب آپ کی عمر شریف چھ بر س کی ہوئی تو آپ والدہ ماجدہ کی بھی وفات ہوگئی۔ والدین کے بعد آپ اپنے دادا حضرت عبدالمطلب کے پاس رہے اور جب آپ کی عمر شریف آٹھ برس دو مہینے اور دس دن کی ہوئی تو عبدالمطلب بھی دنیا سے رحلت فرما گئے۔ (یعنی گزر گئے)
آپ کس عمر میں نبی بنائے گئے؟
جواب: ویسے تو آپ کو سب نبیوں سے پہلے نبی بنایا جا چکا تھا اس لیے کہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے آپ ہی کے نور کو پیدا کیا اور آپ کو نبوت بخشی۔ مگر ظاہری طور پر چالیس برس کی عمر میں آپ پر وحی نازل ہوئی۔ اور آپ نے اپنے نبی ہونے کا اعلان کیا۔
ہمارے حضور ﷺ نے اسلام کس طرح پھیلایا؟
جواب: چونکہ ساری دنیا میں خاص کر عرب میں جہالت کی حکومت تھی اور اس وقت کی حالت لوگوں کو حق کی آواز پر کان لگانے کی اجازت نہ دیتی تھی۔ اس لیے آنحضرت ﷺ نے پہلے پہل اپنی جان پہچان کے لوگوں میں اسلام کی تبلیغ شروع کی۔ مسلمان اب تک چھپ چھپا کر خدا کی عبادت کرتے تھے۔ یہاں تک کہ بیٹا باپ سے اور باپ بیٹے سے چھپ کر نماز پڑھتا تھا اس طرح ایک خاصی جماعت اسلام میں داخل ہوگئی۔ تین سال کے بعد جب کثرت سے مرد عورت اسلام میں داخل ہونے لگے۔ تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم بھیجا کہ علی الاعلان (کھلم کھلا) لوگوں کو کلمہ حق پہنچائیں۔ چنانچہ آپ نے اس حکم کی تعمیل کی اور جب اسلام کی تعلیم کا عام چرچا ہو گیا۔ تو مکہ ّ کے باہر بھی لوگ کثرت سے اسلام میں داخل ہونے لگے۔
سب سے پہلے کون شخص اسلام لایا؟
جواب: مردوں میں سب سے پہلے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ، نے آپ کی تصدیق کی اور کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوگئے۔ اور عورتوں میں سب سے پہلے حضرت خدیجہ کبرُیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اسلام لائیں۔ لڑکوں میں سب سے پہلے حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور غلاموں میں سب سے پہلے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسلام قبول کیا۔
حضورﷺ تمام عمر کہاں رہے؟
جواب: دس برس تک برابر آنحضرت ﷺ عرب کے قبیلوں میں اعلان کے ساتھ اسلام کی تبلیغ مکہ میں رہتے ہوئے فرماتے رہے اور خداوند عالم کو یہ منظور تھا کہ اسلام کی اشاعت اور ترقی مدینہ میں ہو تو اس نے چند آدمی مدینہ طیبہ سے آپ کی خدمت میں بھیج دئیے۔ یہ لوگ مسلمان ہو کر مدینہ واپس آئے اور مدینہ کے گھر گھر میں اسلام کا چرچا ہونے لگا اور اسلام کے سب سے پہلے مدرسہ کی بنیاد مدینہ طیبہ میں پڑگئی۔ آہستہ آہستہ مکہ کے مسلمانوں نے بھی مکہ معظمہ چھوڑ کر مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت کی اور پھر تمام عمر شریف وہیں گزاری مدینہ ہی میں آپ کا وصال شریف ہوا اور یہیں آپ کا روضئہ مبارکہ ہے جس پر کروڑوں مسلمانوں کی جانیں نثار ہیں۔ آپ درحقیقت زندہ ہیں اور روضئہ مبارک میں آرام فرما رہے ہیں۔ ظاہراً آپ نے(63) تریسٹھ سال کی عمر شریف پائی۔
مکہ معظمہ میں حضور ﷺ کو کیا خاص بات حاصل ہوئی؟
جواب: نبوت کے پانچویں سال آنحضرت ﷺ کو جاگتے ہوئے جسم کے ساتھ معراج ہوئی۔ آپ مسجد حرام (مکہ معظمہ) سے مسجد اقصیٰ (بیت المقدس)اور وہاں سے ساتوں آسمانوں اور عرش و کرسی کی سیر کے لیے تشریف لے گئے۔حوضِ کوثر دیکھا پھر جنت میں داخل ہوئے پھر دوزخ آپ کے سامنے پیش کی گئی ۔ اس کے بعد آپ نے اپنی آنکھوں سے اللہ تعالیٰ کا جمال دیکھا۔ اور خدا کا کلام بلاواسطہ سنا، غرض آپ نے آسمانوں اور زمین کے ذرہ ذرہ کو ملا حظہ فرمایا۔ یہیں نمازیں فرض کی گئیں۔ اس کے بعد مکہ معظمہ راتوں رات واپس آگئے۔
کیا حضور ﷺ کے بعد کوئی اور نبی بھی گزرا ہے؟
جواب: نہیں ، بلکہ اللہ تعالیٰ نے نبوت کا سلسلہ حضورﷺ پر ختم کر دیا۔ حضور ﷺ کے زمانہ میں یا بعد میں کوئی نیا نبی کسی لحاظ سے نہیں ہو سکتا۔ جو شخص حضور کے زمانہ میں یا حضور ﷺ کے بعد کوئی نیا نبی مانے یا جائز جانے وہ کافر ہے۔
ہمارے رسول ﷺ دوسرے نبیوں سے مر تبے میں بڑے ہیں یا چھوٹے؟
جواب: نبیوں میں سب سے بڑا مرتبہ ہمارے آقا و مولا سید الانبیاء ،نبیوں کے سردار ﷺ کا ہے اور نبیوں کو جو کمالات جدا جدا ملے حضور ﷺمیںوہ سب کمالات جمع کر دئیے گئے۔ اور ان کے علاوہ حضور کو وہ کمالات ملے جن میں کسی کا کوئی حصہ نہیں۔ غرض خدا نے انھیں جو مرتبہ دیا ہے وہ کسی کو ملے نہ کسی کو ملا۔
جو حضور کو اپنے جیسا بشر یا بھائی برابر کہے وہ کون ہے؟
جواب: حضور سرور عالم ﷺ کو اپنے جیسا بشر یا بھائی برابر کہنے والے یا کسی اور طرح حضور کا مرتبہ گھٹانے والے مسلمان نہیں، گمراہ ، بددین ہیں۔
حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو ماننے کا کیا مطلب ہے؟
جواب: آنحضرت ﷺ کو ماننے کا مطلب ہے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ کا آخری رسول یقین کرے، ہر بات میں آپ کو سچا جانے۔ خداتعالیٰ کی ساری مخلوق میں آپ کو سب سے افضل سمجھے۔ ہر بات میں آپ کی تابعداری کو نجات کا ذریعہ جانے، ماں باپ، اولاد اور تمام جہان سے زیادہ آپ کی محبت دل میں رکھے بلکہ ایمان اسی محبت کا نام ہے۔
حضور ﷺسے محبت کی علامت (پہچان) کیا ہے؟
جواب: حضور ﷺ سے محبت کی علامت یہ ہے کہ اکثر آپ کا ذکر کرے، درود شریف کثرت سے پڑھے۔ جب حضور ﷺ کا ذکر آئے تو بڑے ادب اور پیار سے سنے۔ نام پاک سنتے ہی درود شریف پڑھے۔ نام پاک لکھے تو اسکے بعد ﷺ لکھے ۔ حضور ﷺ کے تمام آل و اصحاب اور دوستوں سے محبت رکھے۔ حضور ﷺ کے دشمنوں کو اپنا دشمن سمجھے، حضور ﷺ کی شان میں جو الفاظ استعمال کرے وہ ادب میں ڈوبے ہوئے ہوں، حضور کا نام پاک کے ساتھ نہ پکارنے بلکہ یوں کہہ ’ ’یانبی اللہ ! یا رسول اللہ !‘‘ اور محبت کی یہ نشانی بھی ہے کہ حضور ﷺ کے قول و فعل اور عمل لوگوں سے دریافت کرے اور ان کی پیروی کرے، میلاد شریف پڑھے اور محفل میلاد میں ذو ق و شوق سے شریک ہو اور نہایت ادب سے صلوٰۃ و سلام پڑھے۔