Skip to content

سبق ۱۹ — پیارے نبی ﷺ کی پیاری باتیں

  1. اللہ تعالیٰ تمھاری صورتوں اور تمھارے اموال کی طرف نظر نہیں فرماتا وہ تمہارے دل اور تمھارے اعمال کی طرف نظر کرتا ہے۔
  2. انسان جب مر جاتا ہے، اس کا عمل منقطع ہو جاتا ہے مگر تین چیزیں (کہ مرنے کے بعد بھی یہ عمل ختم نہیں ہوتے اس کے نامۂ اعمال میں لکھے جاتے ہیں) صدقہ جاریہ اور علم جس سے نفع حاصل کیا جاتا ہے اور اولاد صالح جو اس کے لیے دعا کر تی رہتی ہے۔
  3. جس کے دل میں ذرہ برابر تکبر ہو گا وہ جنت میں نہیں جائے گا اور تکبر نام ہے حق سے سر کشی کرنے اور لوگوں کو حقیر جاننے کا۔
  4. اچھا ہمنشین وہ ہے کہ اس کے دیکھنے سے تم کو خدا یاد آئے اور اس کی گفتگو سے تمہارے علم میں زیادتی ہو اور اس کا عمل تمھیں آخرت کی یاد دلائے۔
  5. اللہ تعالیٰ مہربان ہے، مہربانی کو دوست رکھتا ہے اور مہربانی کرنے پر وہ دیتا ہے کہ سختی پر نہیں دیتا۔
  6. ایمان وحیا دونوں ساتھی ہیں ایک اٹھ جائے تو دوسرا بھی اٹھالیا جاتا ہے۔
  7. تمام مخلوق اللہ تعالیٰ کی عیال ہے اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پیارا وہ ہے جو اس کی عیال کے ساتھ احسان کرے۔
  8. وہ ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور ہمارے بڑوں کی توقیر نہ کرے اور اچھی بات کا حکم نہ کرے اور بری بات سے منع نہ کرے۔
  9. اللہ تعالیٰ کے نزدیک ساتھیوں میں وہ بہتر ہے جو اپنے ساتھی کا خیر خواہ ہو اور پڑوسیوں میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ بہتر ہے جو اپنے پڑوس کا خیر خواہ ہو۔
  10. جس کو یہ پسند ہو کہ عمر میں درازی ہو اور رزق میں وسعت ہو اور بری موت دفع ہو وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے اور رشتہ داروں سے اچھا سلوک کرے۔
  11. جب فاسق کی مدح کی جاتی ہے تو رب تعالیٰ غضب فرماتا ہے اور عرش الٰہی جنبش کرنے لگتا ہے۔
  12. جس کسی نے بدمذہب کی تعظیم کی اس نے اسلام کے ڈھانے میں مدد دی۔
  13. جو قرآن پڑھ کر لوگوں سے کھانا مانگے گا قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ اس کے چہرہ پر گوشت نہ ہوگا، نری ہڈیاں ہوں گی۔
  14. جو لوگ دیر تک کسی جگہ بیٹھیں اور بغیر ذکر الٰہی کئے اور بغیر نبی کریم ﷺ پر درود پڑھے وہاں سے متفرق ہوگئے انہوں نے نقصان کیا۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو عذاب دے اور چاہے تو بخش دے۔
  15. چند کلمے ہیں کہ جو شخص مجلس سے فارغ ہو کر ان کو تین مرتبہ کہہ لے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کے گناہ مٹا دے گا اور جو شخص مجلس خیر و مجلس ذکر میں ان کو کہے گا تو اللہ تعالیٰ اس پر خیر پر مہر کر دے گا...

سبحٰنک اللھم وبحمدک لآ الٰہ الا انت استغفرک و اتوب الیک ط

نعت شریف

نبی کریم علیہ الصّلوٰۃ والتسلیم کی آمد آمد
وہ اٹھی دیکھ لو گر د سواری!
عیاں ہونے لگے انوارِ باری
نقیبوں کی صدائیں آرہی ہیں
کسی کی جان کو تڑپا رہی ہیں
مؤدّب ہاتھ باندھے آگے آگے
چلے آتے ہیں کہتے آگے آگے
فدا جن کے شرف پر سب نبی ہیں
یہی ہیں وہ یہی ہیں وہ یہی ہیں
یہی والی ہیں سارے بکیسوں کے
یہی فریاد درس ہیں بے بسوں کے
اسیروں کے یہی عقدہ کشا ہیں
غریبوں کے یہی حاجت رواہیں
یہی مظلوم کی سنتے ہیں فریاد
یہی کرتے ہیں ہر ناشا د کو شاد
انہی کی ذات ہے سب کا سہارا
انہی کے درسے ہے سب کا گزارا
انہی کو یاد سب کرتے ہیں غم میں
یہی دکھ درد کھو دیتے ہیں دم میں
کسے قدرت نہیں معلوم ان کی
مچی ہے دوجہاں میں دھوم ان کی
انھیں پر دونوں عالم مر رہے ہیں
انھیں پر جان صدقے کر رہے ہیں
یہی ہیں جو عطا فرمائیں دولت
کریں خود جو کی روٹی پر قناعت
فزوں رتبہ ہے صبح و شام ان کا
محمد مصطفیٰ ہے نام ان کا
(حضرت حسن بریلوی)