Skip to content

سبق ۰۴ — آسمانی کتابیں

وکتبہ اور (میں ایمان لایا ) اس کی کتابوں پر

آسمانی کتاب سے کیا مطلب ہے؟

جواب: خدا کی کتاب جو اس نے اپنے بندوں کی رہنمائی اور ہدایت کے لیے اتاری تاکہ بندے اللہ اور اس کے رسولوں کو جانیں اور ان کی مرضی اور ان کی مرضی و حکم کے مطابق کام کریں۔

اللہ تعالیٰ نے کل کتنی کتابیں اتاریں؟

جواب: بہت سے نبیوں پر اللہ تعالیٰ نے صحیفے اور آسمانی کتابیں اتاریں جن کی صحیح تعداد اللہ جانے اور اللہ کا رسول، البتہ ان میں سے چار کتابیں بہت مشہور ہیں۔ توریت حضرت موسیٰ علیہ السلام پر اتاردی۔ زبور حضرت دائود علیہ السلام پر نازل کی۔ انجیل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو عطا ہوئی اور قرآن کریم کہ سب سے افضل کتاب ہے ، سب سے افضل رسول محبوب کبریا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو عنایت فرمائی گئی۔

کیا قرآن کریم کے سوا باقی کتابیں آج کل صحیح موجود ہیں؟

جواب: جی نہیں، آج روئے زمین پر قرآن کریم کے سوا صحیح توریت ، صحیح انجیل اور صحیح زبور کہیں نہیں پائی جاتی ۔ عیسائی ، یہودی اور اگلی امت کے شریروں نے اپنی خواہش کے مطابق انھیں گھٹا بڑھا دیاتو وہ جیسی اتری تھیں ویسی ان کے ہاتھوں میں باقی نہ رہیں۔

موجودہ توریت و انجیل کو کس طرح مانا جائے؟

جواب: جب کوئی بات ان کتابوں کی ہمارے سامنے پیش ہو تو اگر وہ قرآن کریم کے مطابق ہے ہم اس کی تصدیق کریں گے اور مان لیں گے اور اگر ہماری کتاب کے خلاف ہے تو ہم یقین جانے گے کہ یہ ان شریروں کی تحریف ہے کہ انھوں نے کچھ کاکچھ کر دیا ۔

اور اگر موافق مخالف ہونا کچھ معلوم نہ ہو تو کیا حکم ہے؟

جواب: ایسی صورت میں ہمیں حکم ہے کہ ہم نہ اس کی تصدیق کریں نہ انکا ر بلکہ یوں کہیں: اٰٰ منت باللہ وملٰٓئکتہٖ و کتبہٖ ورسلہٖ ’’اللہ اور اس کے فرشتے اور اس کی کتابوں اور رسولوں پر ہمارا ایمان ہے ‘‘۔

کیا قرآن شریف میں کمی بیشی ہو سکتی ہے؟

جواب: نہیں، چونکہ یہ دین ہمیشہ باقی رہنے والا ہے لہٰذا قرآن شریف کی حفاظت اللہ عزوجل نے اپنے ذمہ رکھی ہے۔ اس لیے اس میں کسی حرف یا نقطہ کی بھی کمی بیشی نہیں ہو سکتی نہ کوئی اپنی خواہش سے اس میں گھٹا بڑھا سکتا ہے اگر چہ تمام دنیا اس کے بدلنے پر جمع ہو جائے۔

جس کا یہ عقیدہ ہو کہ قرآن کریم میں کمی بیشی جائز ہے وہ کون ہے؟

جواب: جو یہ کہے کہ قرآن شریف کا ایک حرف بھی کسی نے کم کر دیا یا بڑھا دیا، یا بدل دیا وہ قطعاً کافراور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔

صحیفہ کسے کہتے ہیں؟

جواب: مخلوق کی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ کی اتاری ہوئی چھوٹی چھوٹی کتابیں یا ورق جو قرآن شریف سے پہلے اتارے گئے انھیں صحیفے کہتے ہیں۔ ان صحیفوں میں اچھی اچھی مفید نصیحتیں اور کار آمد باتیں ہوتی تھیں۔

کل کتنے صحیفے ہیں اور کس کس پر اتارے گئے؟

جواب: صحیح تعداد تو اللہ تعالیٰ و رسول ﷺ ہی کو معلوم ہے ۔ ہمیں تو یہ پتہ چلتا ہے کہ کچھ صحیفے حضرت آدم علیہ السلام پر اتارے گئے۔ کچھ آپ کے بیٹے حضرت شیث علیہ السلام پر ، کچھ حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام پر، کچھ حضرت ادریس علیہ السلام پر اور کچھ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر بھی اتارے گئے۔

کیا قرآن شریف جیسی کوئی اور کتاب پائی جاسکتی ہے؟

جواب: ہر گز نہیں ! قرآن شریف بے مثل کتاب ہے جو بے مثال نبی ﷺ پر نازل فرمائی گئی۔ اس امی ّ لقب امین نے اس کتاب کو عرب جیسی قوم کے سامنے پیش کیا اسے اپنی نبوت کی دلیل ٹھہرایا اور صاف اعلان کر دیا کہ اگر سارا نہیں تو قرآن جیسی دس سورتیں ہی بنالائو بلکہ یہ بھی فرمادیا کہ دس نہیں تو ایسی ایک ہی سورت پیش کرو۔ لیکن دنیا جانتی ہے کہ ان کی عقلیں چکراگئیں اور اگر وہ ایسا کر سکتے تو اس ذلت کو کیوں گوارا کر تے کہ انھیں اور ان کے معبودوں کو دوزخ کا ایندھن بتایا جا رہا تھا۔ تو جب اہل عرب اس جیسی اور کوئی سورت بلکہ آیت بھی نہ لا سکے۔ تو دوسرا کون اس کا مقابلہ کر سکتا ہے؟

کیا ہندوئوں کے پاس کوئی خدا کی کتاب ہے؟

جواب: نہیں، اور ویدؔ جسے وہ آسمانی کتاب کہتے ہیں پرانے زمانے کے شاعروں کی نظموں کا مجموعہ ہے، کلام الٰہی ہر گز نہیں۔