Skip to content

سبق ۱۵ — نماز پڑھنے کا طریقہ

نماز پڑھنے کا صحیح طریقہ کیا ہے؟

جواب: وضو کرکے پاک صاف کپڑے پہن کر پاک جگہ قبلہ کی طرف منہ کرکے دونوں پائوں کے پنجوں میں چار انگل کا فاصلہ کرکے کھڑے ہو جائو اور نماز کی نیت کرکے دونوں ہاتھ کانوں کی لو تک اٹھائو ، انگلیاں اپنی حالت پررکھو اور ہتھیلیاں قبلہ رخ کر لو، اب اللہ اکبر کہتے ہوئے باتھ نیچے لائو اور ناف کے نیچے دونوں ہاتھ اس طرح باندھو کہ داہنی ہتھیلی کی گدی بائیں کلائی کے سرے پر ہو اور بیچ کی تین انگلیاں بائیں کلائی کی پشت (پیٹھ) پر اور انگوٹھا اور چھنگلی کلائی کے اغل بغل (دائرہ کی صورت) اب ثناء یعنی سبحٰنک اللھم الخ پڑھو پھر تعوذ یعنی اعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم اور تسمیہ یعنی بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر سورئہ فاتحہ یعنی الحمد شریف پڑھو اور الحمد کے ختم پر آہستہ سے آمین کہو، پھر کوئی سورت یا تین چھوٹی آئتیں پڑھو پھر اللہ اکبر کہتے ہوئے رکوع میںجائو اور ہتھیلیاں گھٹنوں پر رکھ کر انگلیاں پھیلا کر گھٹنوں کو ہاتھوں سے پکڑ لو، پیٹھ بچھی ہوئی اور سر کو پیٹھ کے برابر رکھو، اونچا نیچا نہ ہو، اپنی نظر اپنے قدموں پر جمالو اور کم سے کم تین بار سبحان ربی العظیم کہو پھر تسمیع سمع اللہ لمن حمدہ کہتے ہوئے سیدھے کھڑے ہو جائو اور تمحید یعنی اللھم ربنا ولک الحمد یا ربنا لک الحمد بھی کہہ لو، پھر اللہ اکبر کہتے ہوئے سجدے میں اس طرح جائو کہ پہلے گھٹنے زمین پر رکھو پھر ہاتھ پھر دونوں ہاتھوں کے بیچ میں پہلے ناک پھر پیشانی زمین پر جمائو پیشانی کی ہڈی اور ناک کی نوک کا زمین سے چھونا ہر گز کافی نہیں۔

بازوں کو کروٹوں اور پیٹ کو روانوں اور ررانوں کو پنڈلیوں سے جدا رکھو اور دونوں پائوں کی سب انگلیوں کے پیٹ زمین پر قبلہ رخ جمائے رکھو، ہتھیلیاں بچھی ہوئی اور انگلیاں قبلہ کی ہوں اور تین یا پانچ بار سبحٰن ربی الاعلٰی کہو پھر تکبیر کہتے ہوئے پہلے سر اٹھائو پھر ہاتھ اور داہنا قدم کھڑا کرکے اس کی انگلیاں قبلہ رخ کرو اور بایاں قدم بچھا کر اس پر خوب سیدھے بیٹھ جائو اور ہتھیلیاں بچھا کر رانوں پر گھٹنوں کے پاس رکھو کہ دونوں ہاتھ کی انگلیاں قبلہ کی ہوں پھر اللہ اکبر کہتے ہوئے دوسرا سجدہ اسی طرح کرو پھر سر اٹھا ئو اور تکبیر کہتے ہوئے ہاتھ کو گھٹنے پر رکھ کر پنجوں کے بل کھڑے ہو جائو۔ اٹھتے وقت زمین پر ہاتھ نہ ٹیکو۔

یہ دوسری رکعت شروع ہوئی اب صرف بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر الحمد شریف پڑھو اور کوئی اور سورت ملائو اسی طرح رکوع کرو اور رکوع سے سیدھے کھڑے ہو کر اسی طرح سجدے میں جائو اور دونوں سجدے اسی طرح کرکے داہنا قدم کھڑا کرو اور بایاں قدم بچھا کر بیٹھ جائو اور اب تشہد یعنی التحیات پڑھو اور جب کلمہ ''لا'' کے قریب پہنچو تو داہنے ہاتھ کی درمیانی انگلی اور انگوٹھے کا حلقہ بنائو اور چھنگلی اور اس کے پاس والی کو ہتھیلی سے ملا دو اور کلمہ ''لا'' پر کلمہ کی انگلی اٹھائو مگر اس کو حرکت نہ دو اور کلمہ ''الا'' پر گرا کر سب انگلیاں فوراً سیدھی کر لو پھر دورد شریف پھر دعا پڑھو پھر داہنی طرف منہ پھیر کر ایک بار السلام علیکم ورحمۃ اللہ پھر بائیں طرف منہ پھیر کر السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہو ۔ یہ دو رکعت نماز پوری ہوگئی۔

تین یا چار رکعت پڑھنا ہوں تو کیسے پڑھیں؟

جواب: اگر دو سے زیادہ رکعتیں پڑھنی ہوں تو دوسری رکعت کے آخر میں صرف التحیات پڑھ کر کھڑے ہو جائو اور جتنی رکعت پڑھنا چاہو پڑھو، مگر فرضوں کی ان رکعتوں میں الحمد شریف کے ساتھ سورت ملانے کی ضرورت نہیں ہاں نماز سنت یا نفل یا واجب ہے تو یہ دو رکعتیں بھی پہلی دو رکعتوں کی طرح پڑھو یعنی الحمد کے بعد سورت ملائو۔

امام اور مقتدی کی نمازمیں کیا فرق ہے؟

جواب: نماز پڑھنے کا جو طریقہ ہم نے لکھا یہ امام یا تنہا مرد (منفرد) کے پڑھنے کا ہے، مقتدی کے لیے اس کی بعض باتیں جائز نہیں مثلاً امام کے سورئہ فاتحہ یا کوئی سورت پڑھنا مقتدی کو صرف پہلی رکعت میں ثناء پڑھ کر خاموش ہو جانا چاہیے، اس اعوز باللہ اور بسم اللہ پڑھنے کی بھی اجازت نہیں اور ایک فرق یہ بھی ہے کہ رکوع سے اٹھتے وقت مقتدی کو صرف > اللھم ربنا ولک الحمد (یا ربنا لک الحمد) کہنا چاہیے۔

سجدے میں پائوں زمین سے اٹھے رہیں تو نماز ہوگی یا نہیں؟

جواب: پائوں کی ایک انگلی کا پیٹ زمین پر لگنا شرط ہے اور ہر پائوں کی تین تین انگلیوں کے پیٹ زمین پر لگنا واجب ، تو اگر کسی نے اس طرح سجدہ کیا کہ دونوں پائوں زمین سے اٹھے رہے نماز نہ ہوئی بلکہ صرف انگلی کی نوک زمین سے لگی جب بھی نہ ہوئی اس مسئلہ سے بہت لوگ غافل ہیں۔

فرض نماز کے بعد کون سی دعا پڑھتے ہیں؟

جواب: فرض نماز کے بعد یہ دعا پڑھی جاتی ہے:

اللھم انت السلام و منک السلام والیک یرجع السلام تبارکت ربنا و تعالیت یا ذاالجلال والا کرام

اے اللہ ! تو سلام ہے اور سلامتی تجھ ہی سے ہے اور سلامتی تیری طرف لوٹتی ہے۔ اے رب ہمارے ! تو برکت والا ہے اور بزرگ ہے، اے عزت و جلال والے!