Skip to content

سبق ۰۹ — طہارت کے بقیہ مسائل

موزوں پر مسح جائز ہے یا نہیں؟

جواب: جو شخص موزے پہنے ہوئے ہو وہ اگر وضو میں بجائے پائوں دھونے کے مسح کرے تو جائز ہے اور بہتر دھونا ہے بشرطیکہ مسح جائز سمجھے ، اس کے جواز میں بکثرت حدیثیں آئی ہیں جو قریب قریب تواتر کے ہیں۔ اسی لیے علمائے کرام فرماتے ہیںجو اس کو جائز نہ جانے گمراہ ہے بلکہ اس کے کافر ہو جانے کا اندیشہ ہے۔ ہمارے اما م اعظم ابو حنیفہ کی فی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اہل سنت وجماعت کی علامت دریافت کی گئی۔ تو آپ نے کوفہ کی اس وقت کی حالت کے مدنظر ارشاد فرمایا: تفضیل الشیخین وحب الختنین ومسح الخفین یعنی تین باتیں اہل سنت کی علامات سے ہیں۔ حضرت امیر المومنین ابو بکر اور امیر المومنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو تمام صحابہ سے بزرگ جاننا اور امیر المومنین عثمان غنی و امیر المومنین علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے محبت رکھنا اور موزوں پر مسح کرنا۔

مسح کی شرطیں کیا ہیں؟

جواب: مسح کرنے کے لیے چند شرطیں ہیں: (۱)موزے ایسے ہوں کہ ٹخنے چھپ جائیں (۲)پائوں سے چپٹا ہو کہ اس کو پہن کر آسانی کے ساتھ خوب چل پھر سکیں (۳)چمڑے کا ہو یا صرف تلا چمڑے کا اور باقی کسی اور دبیز(موٹی) چیز کا جیسے کرمچ وغیرہ (۴)وضو کرکے پہنا ہو ، خواہ پورا وضو کرکے پہنے یا صرف پائوں دھو کر پہنے بعد میں وضو پورا کر لیا(۵)نہ حالت جنابت (ناپاکی کی حالت میں جبکہ غسل فرض ہوتا ہے) میں پہنانہ بعد پہننے کے جنب ہوا ہو (۶)مدت کے اندر ہو(۷)کوئی موزہ پائوں کی تین چھوٹی انگلیوں کے برابر نہ پھٹا ہو یعنی چلنے میں تین انگل بد ن ظاہر نہ ہو تا ہو اور ٹخنے سے اوپر کتنا ہی پھٹا ہو اس کا اعتبار نہیں۔

مسح میں فرض کتنے ہیں؟

جواب: مسح میں فرض دو ہیں: (۱)ہر موزہ کا مسح ہاتھ کی تین چھوٹی انگلیوں کے برابر ہونا (۲)موزے کی پیٹھ پر ہونا۔

مسح میں کتنی باتیں سنت ہیں؟

جواب: پوری تین انگلیوں کے پیٹ سے مسح کرنا اور پنڈلی تک کھینچنا اور مسح کرتے وقت انگلیاں کھلی رکھنا سنت ہے۔

مسح کی مدت کیا ہے؟

جواب: مسح کی مدت مقیم کے لیے ایک دن رات ہے اور مسافر کے واسطے تین دن تین راتیں ، موزے پہننے کے بعد پہلے مرتبہ جو حدث ہوا یعنی وضو ٹوٹا اس وقت سے اس کا شمار ہے مثلاً صبح کے وقت موزہ پہننا اور ظہر کے وقت پہلی بار حدث ہوا تو میقم دوسرے دن کی ظہر تک مسح کرے اور مسافر چوتھے دن کی ظہر تک۔

مسح کا مسنون طریقہ کیا ہے؟

جواب: مسح کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ داہنے ہاتھ کی تین انگلیاں داہنے پائوں کی پشت کے سرے پر اور بائیں ہاتھ کی انگلیاں بائیں پائوں کی پشت کے سرے پر رکھ کر پنڈلی کی طرف سے کم سے کم بقدر تین انگلیوں کے کھینچ لے جائے اور سنت یہ ہے کہ پنڈلی تک پہنچائے۔ انگلیوں کا تر ہونا ضروری ہے۔

مسح کن چیزوں سے ٹوٹتا ہے؟

جواب: جن چیزوں سے وضو ٹوٹتا ہے ان سے مسح بھی جاتا رہتا ہے ۔ اس کے علاوہ مدت پوری ہو جانے، موزہ اتاردینے کی نیت سے موزہ سے ایڑی نکال لینے اورایک پائوں آدھے سے زیادہ موزہ سے باہر ہو جانے سے مسح ٹوٹ جاتا ہے۔ یونہی اگر کسی طرح سے موزے میں پانی چلا گیا اور آدھے سے زیادہ پائوں دھل گیا تو مسح جاتا رہا۔

کسی زخم پر پٹی بندھی ہو تو اس پر مسح کر سکتے ہیں یا نہیں؟

جواب: کسی زخم یا پھوڑے کی جگہ پٹی بندھی ہو کہ اس کو کھول کر پانی بہانے سے یا اس جگہ مسح کرنے سے یا کھولنے سے ضرر ہو یا کھولنے اور باندھنے والا نہ ہو تو اس پٹی پرمسح کرنا جائز ہے اور اگر پٹی کھول کر پانی بہانے میں ضرر نہ ہو تو دھونا ضروری ہے یا خود عضو پر مسح کر سکتے ہوں تو پٹی پر مسح کرنا جائز نہیں اور زخم کے اگردا گر اگر پانی بہانا ضرر نہ کرتا ہو تو دھونا ضروری ہے ورنہ اس پر مسح کر لیں اور اگر اس پر بھی مسح نہ کر سکتے ہوں تو پٹی پر مسح کر لیں اور پوری پٹی پر مسح کر لیں تو بہتر اکثر پر ضروری ہے۔

ہڈی ٹوٹ جائے اور اس پر تختی وغیرہ بندھی ہو تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب: ہڈی کے ٹوٹ جانے سے جو تختی وغیرہ باندھی گئی ہو اس کا بھی یہی حکم ہے جوا وپر بیا ن ہوا ۔

تختی یا پٹی کھل جائے تو مسح رہے گا یاٹوٹ جائے گا؟

جواب: تختی یا پٹی کھل جائے اور ہنوز ابھی تک باندھنے کی حاجت ہو تو پھر دوبارہ مسح نہیں کیا جائے گا، وہی پہلا مسح کافی ہے اور اگرپھر باندھنے کی ضرورت نہ ہو تو مسح ٹوٹ گیا۔ اب اس جگہ کو دھو سکیں۔ تو دھو لیں ورنہ مسح کرلیں۔