Skip to content

سبق ۰۱ — قرآن مجید

قرآن مجید کی حقانیت پر کیا کیا دلائل ہیں؟

جواب: قرآن کریم اپنی حقانیت پر خود گواہ ہے۔ آفتاب آمد دلیلِ آفتاب قرآن کریم صاف اور واشگاف لفظوں میں اعلان کرتا ہے۔

وان کنتم فی ریب مما نزلنا علی عبدنا فاتو ا بسورۃ من مثلہٖ (البقرۃ:۲۳)

ترجمہ: اور اگر تمہیں اس (کتاب) کے بارے میں کچھ شک ہو جو ہم نے اپنے اس بندئہ خاص پر نازل کی تو اس جیسی کوئی ایک سورت تو لے آئو۔

آیتِ کریمہ میں ایک نہایت پر زور اور دائمی چیلنج منکرین کو دیا جا رہا ہے کہ اگر تمہارے خیا ل میں قرآنِ کریم محض انسانی دماغ کی بناوٹ ہے تو تم بھی انسان ہو اور جب ایک انسان ایسی تصنیف پر قادر ہے تو دوسرا بھی ہو سکتا چہ جائکہ لائق و فائق انسانوں کا پورا ایک مجمع اور وہ بھی علوم و فنون پر ناز رکھنے والے ، مشرق و مغرب کے دانشوروں کا مجمع قرآن کریم کا ایک سیدھا سچھا دعوہ ٰ یہ کہ وہ انسان کا نہیں خدا کا کلام ہے اور اپنے اس دعوہٰ پر دلیل اس نے کیسی قطعی اور عوام و خواص کی سمجھ میں آجانے والے یہ پیش کرد ی ہے کہ اگر کوئی اسے امکان بشری کے اندر سمجھتا ہے تو زرہ اس کا ادنیٰ اور ہلکا سا نمونہ بھی سب کی متحدہ کوشش سے پیش کر دیکھائے۔

یہ چیلنج صرف عرب کے شعراء اور بلغا کے لیے ہی نہیں بلکہ عرب و عجم کے سب منکرین کو دیا جا رہا ہے کہ معافی کی بلندی و مطالب کی جامعیت مضامین کی ندرت کے ساتھ ساتھ انفرادی اور اجماعی دونوں زندگیوں کا جامع نظام نامہ ، مکمل وہمہ گیرو ہر جہتی دستور العمل، جیسا کہ قرآنِ کریم ہے اور جو ہدایتیں اور بصیرتیں اس کی ایک ایک سورت کے اندر موجود ہیں، اگر تم اپنی متحدہ کوششوں اور جدوجہد سے بھی اس کے مقابلہ کی کوئی چیز پیش کر سکتے ہو تو لائو دکھائو۔

اسلام کے دشمنوں کے لیے یہ کتنا آسان طریقہ تھا کہ صرف تین آیت کی ایک مختصر سورت بنا کر قرآن کریم کے اس چیلنج کا جواب دیتے اور اس طرح قرآن ، نبوت اور اسلام کی صداقت و عظمت کو یک لخت ختم کرکے بیک کرشمہ سرکار کا منظر دیکھا دیتے لیکن چودہ صدیاں گزر چکی ہیں، کتنے نئے نئے مسلک روز پیدا ہو رہے ہیں، کیسی کیسی از میں روز جنم لے رہی ہیں، اپنے علوم و فنون پر ناز رکھنے والوں کو کیسا کیسا جوش اس وقت بھی آیا ہوگا او ر آج بھی آرہا ہے، شرق و غرب کے بدخواہ اپنی بے چین خواہشوں، لگاتار کوششوں اور جاں گسل کا وشوں کے باوجود اس چیلنج کو جو اب آج تک نہ دے سکے او ر دنیا کے کتب خانے سابق دور کی طرح کتاب سازی کے اس عہد میں بھی اس چیلنج کے جواب سے خالی ہیں اور ہمارے لیے یقین ہے کہ منکرین اسلام کی یہ خواہشیں قیامت تک پوری نہ ہو سکیں گی، نتیجہ صاف ظاہر ہے کہ جب قرآنِ مجید کی پیش کی ہوئی دلیل سے دنیا عاجز ہے تو یقیناً قرآن، خدا کا کلام ہے اور اب اس کا انکار کرنا ایسا ہی ہے جیسے مہر نیمروز (ٹھیک دوپہر کے آفتاب ) کا انکار، والحمد اللہ !

قرآن کی حقانیت پر کچھ عام فہم دلائل بھی دیجئے تاکہ ایمان اور مستحکم ہو؟

جواب: ہمارا ایمان ہے کہ قرآن مجید تئیس سال کی مد ت میں بتدریج سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوا۔ اور چودہ صدیاں گزر جانے کے باوجود یہ انہیں الفاظ میں دنیا میں مشتہر و مشہور و محفوظ، زبانوں پر جاری، دلوں پر قابض، دماغوں پر حاوی ہے جو حضور سید عالم ﷺ نے پڑھ کر سنائے تھے۔ اس کی سورتیںاور آیتیں تو درکنار، قرآن کریم کے ایک حرف ایک نقطے کی طرف بھی یہ نسبت نہیںکی جاسکتی کہ ان میں تغییر و تبدیل واقع ہوئی ہے۔

(۱) یہ کلام پاک دنیا کے ہر طبقہ میں موجود ہے، دنیا کے ہرحصے پر کروڑوں اشخاص اس کی تلاوت کرتے اور ہرروز کم از کم پانچ دفعہ اس کے مختلف حصوں کو ضرور پڑھ لیتے ہیں جبکہ دلچسپ سے دلچسپ کتا ب بھی دو چار مرتبہ پڑھ لینے کے بعد ناظرین کے شوقِ مطالعہ کو چاٹ جاتی ہے اور اس میں وہ کشش فنا ہو جاتی ہے۔

(۲) جب سے قرآن کریم کا نزول ہوا، اس کا ظہور ترقی پذیر ہو رہا ہے۔ اس وقت سے لے کر، جب اسے اکیلی ام المومنین حضرت ِ خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا نے سنا اور پڑھا لحظہ بہ لحظہ ، روز بروز، اس کے ماننے والوں کی تعداد فزوں ہوتی جاتی ہے، کوئی ملک ، کوئی موسم، کوئی رسم و رواج ، کسی جگہ کے ماننے والوں یا انکار کرنے والوں کے موافق یا ناموافق حالات اس کی ترقی کے لیے سدِّ راہ (رکاوٹ) نہیں بن سکتے۔

(۳) مختلف ملکوں اور مختلف زبانوں میں اس کے ترجمے غلط کئے گئے ، اس کی پاکیزہ اور سیدھی سچی صاف تعلیم پر غلط حاشیے چڑھائے گئے ، اس کے معنی و مفہوم کی غلط تعبیریں اور تاویلیںکی گئیں لیکن کوئی تدبیر بھی اس کی اشاعت کو نہ روک سکی او راس کی وسعت پذیر ترقی کو محدود نہ کر سکی۔

(۴) قرآنِ مجید جس زبان میں پہلے جلوہ گر ہوا، اسی میں اب تک نورگستر ہے اور ایک عالم اس کی روشنی سے منور ہے جبکہ دیگر تمام مقدس کتابیں، کیا تو راۃ و زبور اور کیا انجیل وصحفِ ابراہیم و موسیٰ، اس وصف سے عاری ہیں، جس زبان میں وہ اتری تھیں، آج دنیا پر اس زبان کا اور اس زبان کے جاننے والوں کا نام و نشان بھی باقی نہیں رہا، اگر کہیں ہے تو صرف برائے نام اور نہایت محدود سے محدود۔

(۵) قرآنِ مجید ان سب اعتراضات کوجو قرآن کے زمانۂ نزول میںلگائے گئے یا نبی کریم ﷺ پرکئے گئے ، خود بیان کرتا ہے ، اس لیے قرآنِ مجید اپنے لیے خود ایک سچی تاریخ بن گیا ہے جس میں تصریر کے دونوں رخ دکھا دئیے گئے ہیں، قرآن عظیم نے اس بارے میں اپنی صداقت اور استحکام کے اعتماد پر جس جرأت سے کام لیا ہے دنیا کی کسی اور کتاب سے اس کا ظہور نہیںہوا۔

(۶) قرآنِ حکیم کی تعلیم ایسی زبردست صداقت لیے ہوئے ہے کہ جن قوموں اور مذہبوں نے اسے علی الاعلان نہیںمانا، انہوں نے بھی قرآنِ مجید کی تعلیم کو لے لیا ہے، لے رہے ہیں اور ہر ترقی یا فتہ قوم مجبور ہے کہ اسے لیتی رہے۔

(۷) قرآن ِ کریم مستقبل سے متعلق پیش گوئیوں کا اعلان فرماتا ہے اور چودہ سو سال کا یہ طویل عرصہ شہادت دے گا کہ نزولِ قرآن پاک کے بعد سے آج تک ان میں سے کس طرح وہ پیش گوئیاں ، تمام دنیا کے سامنے حرف بہ حرف اور ہو بہو پوری ہوتی رہی ہیں؟

عوام الناس کے لیے قرآنی تعلیم کی تحصیل کی صحیح راستہ کونسا ہے؟

جواب: ہمارا ایمان ہے کہ اللہ عزوجل نے قرآن عظیم اتارا تبیانا لکل شیء جس میں ہر شے کا روشن بیان ہے تو کوئی ایسی بات نہیں جو قرآن میں نہ ہو مگر ساتھ ہی فرمادیا وما یعقلھآ الا العٰلمونo اس کی سمجھ نہیں مگر عالموں کو، اس لیے فرماتا ہے، فاسٔلوٓا اھل الذکر ان کنتم لا تعلمون oعلم والوں سے پوچھو اگر تم نہیں جانتے ہو۔

اور پھر یہی نہیں کہ علم والے آپ سے آپ کتاب اللہ کے سمجھنے پر قادر ہوں، نہیں بلکہ اس کے متصل ہی فرمادیا وانزلنآ الیک الذکر لتبین للناس مانزل الیھم oاے نبی ! ہم نے یہ قرآن تیری طرف اس لیے اتارا کہ تو لوگوں سے شرح بیان فرمادے اس چیز کی جو ان کی طرف اتاری گئی۔

اللہ اللہ ! قرآن عظیم کے لطائف و نکات (لطیف و دقیق باتیں) منہتی (تمام) نہ ہوں گے ان دو آیتوں کے اتصال اور باہمی ربط نے ترتیب وار سلسلہ کلامِ الٰہی کے سمجھنے کا منظم و منتظم فرمادیا کہ اے جاہلو! تم کلامِ علماء کی طرف رجوع کرو اور اے عالمو! تم ہمارے رسول کا کلام دیکھو تو ہمارا کلام سمجھ میں آئے، غرض عوام الناس پر ائمٔہ دین کی تقلید واجب فرمائی او ر ائمہ دین پر تقلیدِ رسول لازم کی اور رسول پر تقلیدِ قرآن ، تو عوام الناس کو فقہائے اسلام و علمائے کرام سے علمِ قرآن حاصل کرنا چاہیے کہ ان کی نگاہِ بصیرت میں قرآن کریم کی آیاتِ کریمہ بھی ہیں اور قرآنی احکام کی تشریح فرمانے والی احادیث مبارکہ بھی، تو جوان فقہاء کا دامن چھوڑ کر ازخود قرآنِ کریم سمجھنا چاہے گا، گمراہی میں پڑے گا۔

قرآنِ حکیم اور احادیث نبی کریم میں باہمی کیا ربط ہے؟

جواب: قرآنِ حکیم صحیفۂ ربانی ہے، خالقِ کائنات کا مبارک کلام ہے جو تمام انسانوں اور ہر زمانہ کے لیے نازل فرمایا گیا ہے۔ یہ ایک عام قانون ہے جو دوامی طور پر ہمیشہ ہمیش کے لیے تاقیامِ روزِ قیامت نافذ ہے اور نافذ رہے گا لیکن ہر قانون کے خاص قواعد ہوتے ہیں، مجمل احکام کے لیے خصوصی شکلوں او ر صورتوں کا تعین کرنا لازمی ہوتا ہے تو آخری کتابِ قانون او ر مکمل صحیفۂ ربانی کی تشریح اور اس کے قواعد کی تدوین و ترتیب بھی لازم تھی ورنہ ہر شخص اپنے عقل و شعور میں حدِ بلوغ تک پہنچ گیا یا اس کے سامان پوری طرح مہیا ہو گئے ، تب نبوت ور سالت کو بھی حدِ کمال و تمام تک پہنچا کر ختم کر دیا گیا اور رشد و ہدایت کو رہتی دنیا تک اس طرح باقی رکھا کہ آخری پیغمبر کے ذریعے جو آخری پیغام کامل و مکمل بن کر آیا اسے تمام احکام و قوانین اور ہر دستورِ حیات کے لیے اساس و بنیاد بنا دیا۔

کتنی عجیب بات ہے کہ قرآن پہنچانے والے کے ہر قرآنی لفظ کو تومن و عن تسلیم کر لیا جاتا ہے اور یہی ایمان کا تقاضا ہے لیکن وہ جو اپنے آپ کو اہل قرآن بتلاتے ہیں، اسی پہنچانے والے کی تشریح و توضیح کو تسلیم کرنے سے گریز کرتے ہیں، غرض قرآنِ مجید کے مطالب کو رسول اللہ ﷺ کبھی صرف قول سے کبھی صرف فعل سے اورکبھی ایک ساتھ قول و فعل دونوں سے بیان فرمایا کرتے تھے۔

مثلاً آپ نے نماز ادا فرمائی اور فرمایا:

صلو کما ر آیتمونی اصلی o

ترجمہ:نماز اس طرح پڑھو جیسا تم نے مجھے پڑھتے دیکھا۔

خذوا عنی مناسککم o

ترجمہ: مجھ سے اپنے حج کے مناسک سیکھو۔

اس لحاظ سے رسو ل ِ کریم ﷺ کی حیثیت قرآن کے شارح کی ہے، آپ قرآنِ کریم کی مجمل آیتوں کی تشریح اور مشکل آیتوں کی تفسیر کرتے تھے اور اس حیثیت سے حدیث ، شرح ووضاحت ہے قرآنِ حکیم کی اور حدیث میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کے مفہوم پر قرآنِ مجید نے اجمال یا تفصیل سے دلالت نہ کی ہو۔

حدیث اور فقہ میں کیا تعلق ہے؟

جواب: امام عارف باللہ عبدالوہاب شعرانی قدس سراہ الربانی نے میزان الشریعۃ الکبریٰ میں اس تعلق کو جابجا تفصیلِ تمام سے بیان فرمایا ہے، ازانجملہ فرماتے ہیں کہ اگر رسو ل اللہ ﷺ اپنی شریعت سے قرآنِ عظیم کے مجمل امور کی تفصیل نہ فرماتے تو قرآن یونہی مجمل رہتا اور اگر ائمئہ مجتہدین، حدیث شریف کے مجمل اور قابل تشریح احکام وغیرہ کی تفصیل نہ فرماتے تو ھدیث یونہی مجمل رہتی اور اسی طرح ہمارے اس زمانے تک اگر ائمۂ دین کے کلام کی علمائے متاخرین شرح نہ فرماتے تو ہم اسے سمجھنے کی لیاقت نہ رکھتے علمائے مابعد کا کلام ائمۂ دین کے کلام کی تشریح ہے اور ائمۂ دین کا کلام حدیثِ نبوی کی توضیح ہے اور احادیث نبویہ، قرآنِ حکیم کی تفسیر و شرح فرماتی ہیں اس لحاظ سے فقہائے کرام اور ائمۂ دین کے کلام کی حیثیت بواسطہ حدیث نبوی قرآنِ حکیم ہی کی تشریح ، تفسیر اور توضیح ہے۔

اسی لیے علمائے دین فرماتے ہیں کہ فہم قرآن کا یہ سلسلہ ہدایت رب العزت کا قائم فرمایا ہوا ہے، جو اسے توڑنا چاہے وہ ہدایت نہیں چاہتا بلکہ صریح ضلالت و گمراہی کی راہ چل رہا ہے، اسی لیے قرآنِ کریم کی نسبت ارشادِ ربانی ہے کہ ’’ اللہ تعالیٰ اسی قرآن سے بہتیروں کو گمراہ کرتا اور بہتیروں کو سیدھی راہ عطا فرماتا ہے ‘‘ جو سلسلے سے چلتے ہیں بفضلہ تعالیٰ ہدایت پاتے ہیں اور جو سلسلہ توڑ کر اپنی ناقص اندھی سمجھ کے بھروسے قرآنِ عظیم سے بذاتِ خود مطلب نکالنا چاہتے ہیں ، چاہِ ضلالت میںگرتے ہیں۔

بعض لوگ ہر بات کا ثبوت قرآنِ حکیم سے مانگتے ہے، ان کے بارے میں کیا حکم ہے؟

جواب: رسو ل اللہ ﷺ کی پیش گوئی کے مطابق اس زمانہ ٔ فساد میں ایک تو پیٹ بھرے بے فکر نیچری حضرات تھے جنہوں نے حدیثوں کو یکسر ردی کر دیا اور بزورِ زبان صرف قرآنِ عظیم پر دار و مدار رکھا حالانکہ واللہ ! وہ قرآن کے دشمن اور قرآن ان کا دشمن، وہ قرآن کو بدلنا چاہتے ہیں اور مرادِ الٰہی کے خلاف اپنی خواہش نفس کے مطابق اس کے معنیٰ گڑھنا چاہتے ہیں۔

اب اس نئے دور میں کچھ نئے حضرات، نئے فیشن کے دلداہ اس انوکھی آن والے پیدا ہوئے کہ ہم کو صرف قرآن شریف سے ثبوت چاہیے جس کے تواتر کے برابر کوئی تواتر نہیں ہے۔

تو بات کیا ہے کہ یہ اور ان جیسے اور گمراہ فرقے دل میں خوب جانتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے دربار میں ان کا کوئی ٹھکانا نہیں، حضور کی روشن حدیثیں ان کے مردودخیالات کے صاف پرزے پارچے بکھیر رہی ہیں ، اسی لیے اپنی بگڑتی بنانے کو پہلے ہی دروازہ بند کر لیتے ہیں کہ ہمیں صرف قرآن سے ثبوت چاہیے، اس لیے خوب یادرکھنا چاہیے کہ جسے یہ کہتا سنو کہ ہم اماموں کا قول نہیں جانتے، ہمیں تو قرآن و حدیث چاہیے، جان لو یہ گمراہ ہے اور جسے یہ کہتا سنو کہ ہم حدیث نہیں چاہتے ہمیں صرف قرآن درکار ہے ، سمجھ لو کہ یہ بددین ہے، دین خدا کا بدخواہ ہے۔

وجہ وہی ہے کہ قرآن مجمل ہے جس کی توضیح حدیث نے فرمائی اور حدیث مجمل ہے جسے کی تشریح ائمۂ دین نے دکھائی تو جوائمۂ کا دامن چھوڑ کر خود قرآن و حدیث سے اخذ کرنا چاہے، بہکے گا، گرگے گا اور جو حدیث چھوڑ کر قرآنِ مجید سے لینا چاہے گا وادیٔ ضلالت میں پیاسا مرے گا۔