بے وضو نماز پڑھنا کیسا ہے؟
جواب: حرام اور سخت گناہ کی بات ہے بلکہ جان بوجھ کر بے طہارت نماز ادا کرنے کو علماء کفر لکھتے ہیں اور کیوں نہ ہو کہ اس بے وضو بے غسل نماز ادا کرنے والے نے عبادت کی بے ادبی اور توہین کی، اور یہ کفر ہے ۔ حضور اقدسﷺ فرماتے ہیں کہ جنت کی کنجی نماز ہے اور نماز کی کنجی طہارت۔
اعضائے وضو کتنی مرتبہ دھوئے جاتے ہیں؟
جواب: حدیث شریف میں ہے جو ایک ایک بار وضو کرے (یعنی ہر عضو کو ایک ایک بار دھوئے) تو یہ ضروری بات (فرض)ہے اور جو دو دو بار کرے اس کو دونا ثواب ہے اور جو تین تین بار دھوئے تو یہ میرا اگلے نبیوں کا وضو ہے یعنی سنت ہے۔
مسواک کرنا کیسا ہے اور اس کا طریقہ کیا ہے؟
جواب: وضو میں مسواک کرنا سنت موکدہ ہے۔ ہمارے حضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو نماز مسواک کرکے پڑھی جائے وہ اس نماز سے ستر حصے افضل ہے جو بے مسواک کے پڑھی گئی ۔ بزرگان دین فرماتے ہیں کہ جو شخص مسواک کا عادی ہو مرتے وقت اسے کلمہ پڑھنا نصیب ہوگا۔ پیلو یا نیم وغیرہ کڑوی لکڑی سے مسواک کرنا چاہیے۔ اور داہنے ہاتھ سے کم از کم دائیں بائیں ۔ اوپر نیچے کے دانتوں میں مسواک کرے اور ہر مرتبہ مسواک کو دھولے۔ مسواک چھنگلی کے برابر موٹی اور زیادہ سے زیادہ ایک بالشت لمبی ہو۔ فارغ ہونے کے بعد مسواک دھو کر کھڑی کر دے۔ اور ریشہ کی جانب اور ہو۔ مسواک سے منہ کی صفائی اور خدا کی رضا حاصل ہوتی ہے۔
زخم سے بار بار خون پونچھا جائے تو وضو رہتا ہے یا نہیں؟
جواب: زخم سے خون وغیرہ نکلتا رہا اور یہ بار بار پونچھتا رہا کہ بہنے کی نوبت نہ آئی، تو غور کرے کہ اگر نہ پونچھتا تو بہہ جاتا یا نہیں۔ اگر بہہ جاتا تو وضو ٹوٹ گیا ورنہ نہیں۔ یونہی اگر مٹی یا راکھ ڈال کر سکھاتا رہا اور اس کا بھی وہی حکم ہے۔
اگر تھوڑی تھوڑی قے کئی مرتبہ ہوئی تو کیا حکم ہے؟
جواب: اگر تھوڑی تھوڑی قے چند بار آئی کہ اس کا مجموعی منہ بھر ہے تو اگر ایک ہی متلی سے ہے وضو توڑ دے گی اور اگر متلی جاتی رہی پھر نئے سرے سے متلی شروع ہوئی ہے آئی اور قے آئی کہ اگر دونوں مرتبہ کی جمع کی جائے تو منہ بھر جائے تو اس سے وضو نہیں جاتا پھر بھی اگر ایک ہی بیٹھک میں ہے تو وضو کر لینا بہتر ہے۔
منہ سے خون نکلے تو وضو ٹوٹے گا یا نہیں؟
جواب: منہ سے خون نکلا، اگر تھوک پر غالب ہے تو وضو توڑ دے گا ورنہ نہیں، اور تھوک کا رنگ اگر سرخ ہو جائے تو خون غالب سمجھا جائے۔ اور اگر زرد ہو تو خون غالب نہیں۔
بدن پر خون ظاہر ہو ا اور بہے نہیں تو کیا حکم ہے؟
جواب: خون یا پیپ وغیرہ اگر صرف چمکایا ابھرا اور بہانہیںتو وضو نہیں ٹوٹا ۔ جیسے سوئی کی نوک یا چاقو کا کنارہ لگ جاتا ہے۔ اور خون ابھر آتا ہے۔ یونہی اگر خلال کیا یا مسواک کی یا انگلی سے دانت مانجھے یا دانت سے کوئی چیز کاٹی ، اس پر خون کا اثر پایا یا ناک میں انگلی ڈالی اس پر خون کی سرخی آگئی مگر وہ خون بہنے کے قابل نہیں تھا،یا ناک صاف کی اس میں سے جما ہوا خون نکلا تو ان سب صورتوں میں وضو نہ ٹوٹا۔
وہ کونسی نیند ہے جس سے وضو نہیں ٹوٹتا؟
جواب: اس طرح ونا کہ دونوں سرین خوب نہ جمے ہوں یا اس طرح سونا کہ اس میں غفلت نہ آئے ناقص وضو نہیں۔ مثلاً کھڑے کھڑے یا رکوع کی صورت پر یا مردوں کے سجدۂ مسنونہ کی شکل پر سو گیا۔ تو ان صورتوں میں وضو نہ جائے گا۔
انبیاء کرام کا وضو سونے سے ٹوٹتا ہے یا نہیں؟
جواب: انبیاء علیہم السلام کا سونا ناقص وضو نہیں۔ ان کی آنکھیں سوتی ہیں اور دل جاگتے ہیں۔ نیند کے علاوہ اور دوسرے نواقض وضو توڑنے والی چیزوں) سے ان کو وضو جاتا رہتا ہے۔ اس لیے نہیں کہ وہ چیزیں نجس ہیں بلکہ اس لیے کہ ان کی شان بڑی عظمت والی ہے۔
نماز میں ہنسی آجائے تو کیا حکم ہے؟
جواب: اگر ہنسی اتنی آواز سے ہو کہ اس کے پاس والے سنیں (جسے قہقہہ کہتے ہیں) اور جاگتے میں رکوع سجدے والی نماز میں ہو تو وضو ٹوٹ جائے گا اور نماز بھی فاسد ہو جائے گی اور نماز کے اندر سوتے میں نماز جنازہ یا سجدۂ تلاوت میں قہقہہ لگایا تو وضو نہیں جائے گا وہ نماز یا سجدہ فاسد ہے۔ اور اگر اتنی آواز سے ہنسنا کہ خود اس نے سنا، پاس والوں نے نہ سنا تو وضو نہیں جائے گا نماز جاتی رہے گی اور اگر مسکرایہ کہ دانت نکلے اور آوازبالکل نہیں نکلی تو اس سے نہ نماز جائے نہ وضو ٹوٹے گا۔
پھنسی سے کپڑے پر دھبہ پڑ جائے تو پاک ہے یا نہیں؟
جواب: خارش یا پھڑیوں میں جب کہ بہنے والی رطوبت خون پیپ وغیرہ نہ ہو بلکہ صرف چپک ہو تو کپڑا اس سے بار بار چھو کر اگرچہ کتنا ہی سن (گیلا ہو) جائے ، پاک ہے۔ مگر دھو ڈالنا بہتر ہے۔
شک سے وضو ٹوٹتا ہے یا نہیں؟
جواب: جو باوضو تھا اب اسے شک ہے کہ وضو ہے یا ٹوٹ گیا تو وضو کرنے کی اسے ضرورت نہیں، ہاں کر لینا بہتر ہے اور اگر و سوسہ ہے تو اسے ہر گز نہ مانے یہ شیطان لعین کا دھوکہ ہے۔