استنجاء کسے کہتے ہیں؟
جواب: پاخانہ پیشاب کرنے کے بعد بدن پر جونا پاکی لگی رہتی ہے اسے پانی ڈھیلے وغیرہ سے پاک کرنے کو استنجاء کہتے ہیں۔
پیشاب کے بعد استنجاء کرنے کا کیا طریقہ ہے؟
جواب: پیشاب کرنے کے بعد مٹی کے پاک ڈھیلے سے پیشاب کر خشک کرے اور پھر پانی سے دھو الے۔
پاخانہ کے بعد استنجے کا طریقہ کیا ہے؟
جواب: پاخانہ کے بعد مٹی کے تین یا پانچ ڈھیلوں سے پاخانے کے مقام کو صاف کرے اور پھر آہستہ آہستہ پانی ڈال کر انگلیوں کے پیٹ سے دھو ڈالے۔یہاں تک کہ چکنائی جاتی رہے۔
کیا ڈھیلوں کے بعد پانی سے طہارت ضروری ہے؟
جواب: اگر پاخانہ یا پیشاب کے مقام کے آس پاس کی جگہ نجاست نہ لگی ہو تو پانی سے طہارت کرنا مستحب یعنی اچھی بات ہے اور اگر نجاست اِدھر ُادھر لگ گئی اور ایک درم سے کم یا برابر لگی ہے تو پانی سے طہارت کر لینا سنت ہے۔ اور اگر وہ جگہ درم سے زیادہ زیادہ سن جائے تو دھونا فرض ہے مگر ڈھیلا لینا اب بھی سنت ہے۔
استنجاء کن چیزوں سے جائز ہے؟
جواب: ڈھیلے، کنکر ، پتھر اور پھٹے ہوئے کپڑے سے استنجاء کرنا بلا کراہت جائز ہے۔ بشرطیکہ یہ سب سے پاک ہوں۔
کس صورت میں استنجاء مکروہ ہے؟
جواب: قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ کرکے استنجاء کرنا یا ایسی جگہ استنجاء کرنا کہ لوگوں کی نظریں آتے جاتے اس کی شرمگاہ پر پڑنے کا احتمال ہو، یہ مکروہ ہے۔
استنجاء کس ہاتھ سے کرنا چاہیے؟
جواب: بائیں ہاتھ سے استنجاء کرنا چاہیے، دائیں ہاتھ سے مکروہ ہے۔
کن جگہوں میں پیشاب پاخانہ مکروہ ہے؟
جواب: کنوئیں یا حوض یا چشمے کے کنارے ، مسجد اور عید گاہ کے پہلو میں قبرستان یا راستہ میں، پانی میں اگرچہ بہتا ہو، پھلدار درخت کے نیچے یا سایہ میں، جہاں لوگ اٹھتے بیٹھتے ہوں یا جس جگہ مویشی بندھتے ہوں یا اس کھیت میں جس میںزراعت موجود ہے۔ یا چوہے کے بل اور کسی سوراخ میں پیشاب پاخانہ مکروہ ہے۔ یونہی جس جگہ غسل یا وضو کیا جاتا ہو یا سخت زمین پر جس سے چھنیٹیں اڑ کر آئیں۔ مکروہ اور منع ہے۔
پاخانہ پیشاب کرتے وقت کیا کیا باتیں مکروہ ہیں ؟
جواب: کھڑے ہو کر یا لیٹ کر پیشاب کرنا مکروہ ہے۔ یونہی ننگے سر پیشاب پاخانہ کو جانا یا کلام کرنا قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ کرنا یونہی چاند سورج کی طرف منہ یا پیٹھ کرنا یا ہوا کے رخ پیشاب کرنا مکروہ و ممنوع ہے۔
پیشاب پاخانہ کے آداب کیا ہیں؟
جواب: (۱)جب تک بیٹھنے کے قریب نہ ہو کپڑا بدن سے نہ ہٹائے اور نہ حاجت سے زیادہ بدن کھولے۔ (۲) دونوں پائوں کشادہ کرکے بائیں پائوں پر زور دے کر بیٹھے۔ (۳) اپنی شرمگاہ کی طرف نظر نہ کرے اور نہ اس نجاست کو دیکھے جو بدن سے نکلی ہے۔ (۴) دیر تک نہ بیٹھے (۵) نہ تھوکے نہ ناک صاف کرے نہ بار بار اِدھر اُدھر دیکھے نہ بیکار بدن چھوئے، نہ آسمان کی طرف نگاہ کرے بلکہ شرم کے ساتھ سر جھکائے رہے۔ (۶) جب فارغ ہو جائے تو ڈھیلوں سے صاف کرکے کھڑا ہو جائے اور سیدھے کھڑے ہونے سے پہلے بند چھپالے (۷) پھرکسی دوسری جگہ بیٹھ کر طہارت کرلے۔