روزے کی نیت کا کیا مطلب ہے؟
جواب: جس طرح نماز میں بتایا گیا کہ نیت دل کے ارادے کا نام ہے۔ زبان سے کہنا شرط نہیں، یہاں بھی وہی مراد ہے، مگر زبان سے کہہ لینا مستحب ہے تاکہ زبان و دل میں موافقت رہے ۔ (عامہء کتب)
نیت کے الفاظ کیا ہیں؟
جواب: اگر رات میں نیت کرے تو یوں کہے: نویت ان اصوم غداللہ تعالیٰ مین فرض رمضان ہذا، یعنی میں نے نیت کی کہ اللہ عزوجل کے لیے اس رمضان کا فرض روزہ کل رکھوں گا۔ اور عام طور پر مشہور یہ الفاظ ہیں :وبصوم غد نویت ان شاء اللہ تعالیٰ، اور دن میں نیت کرے تو یہ کہے: نویت ان اصوم ہٰذا الیوم للہ تعالیٰ من فرض رمضان ہٰذا، یعنی میں نے نیت کی کہ اللہ تعالیٰ کے لیے آج رمضان کا فرض روزہ رکھوں گا۔ اور اگر تبرک و طلب توفیق کے لیے نیت کے الفاظ ہیں ’’ انشا ء اللہ تعالیٰ ‘‘ بھی ملالیا تو حرج نہیں۔ اور پکاارادہ نہ ہو، مذبذب ہو تو نیت ہی کہاں ہوئی ( جوہر ہ نیرہ) تو روزہ بھی نہ ہوگا۔
نیت کب سے کب تک ہو سکتی ہے؟
جواب: ادائے روزہ رمضان نذرمعین اور نفل کے روزوں کے لیے نیت کا وقت غروب آفتاب سے ضحوئہ کبریٰ تک ہے یعنی جس وقت آفتاب خط انصف النہا ر شرعی پر پہنچے۔ اس سے پیشتر نیت ہو جانا ضروری ہے۔ ( در مختار) اسے آسانی کے لیے یوں سمجھ لو کہ زوال سے کم از کم ۳۹منٹ اور زیادہ سے زیادہ ۴۸ منٹ پیشتر روزے کی نیت کر لینی چاہیے۔ کہ اگرچہ ان تین قسم کے روزوں کی نیت دن میں بھی ہو سکتی ہے۔ مگر رات میں نیت کر لینا مستحب ہے۔ (در مختار ، جوہرہ)
نیت کے بعد کچھ کھا پی لیا تو نیت باقی رہی یا نہیں؟
جواب: رات میں نیت کی پھر اس کے بعد رات ہی میں کھایا پیا تو نیت جاتی نہ رہی وہی پہلی کافی ہے ۔ پھر سے نیت کرنا ضروری نہیں (جوہرہ)
روزہ توڑنے کی نیت سے روزہ رہتا ہے یا نہیں؟
جواب: جس طرح نماز میں کلام کی نیت کی مگر بات نہ کی تو نماز قاسد نہ ہوگی۔ یوں ہی رزے میں توڑنے کی نیت سے روزہ نہیں ٹوٹے گا۔ جب تک توڑنے والی چیز نہ کرے ( جوہر ہ ) اور اگر رات میں روزہ کی نیت کی پھر پکا ارادہ کر لیا کہ نہیں رکھے گا تو وہ نیت جاتی رہی۔ اگر نئی نیت نہ کی اور دن بھر بھوکا پیاسا اور روزہ دار کی طرح رہا تو روزہ نہ ہوا۔ (در مختار وغیرہ)
سحری کھانا نیت میں شمار ہے یا نہیں؟
جواب: سحری کھانا بھی نیت ہے خواہ رمضان کے روزے کے لیے ہو یا کسی اور روزے کے لیے مگر جب سحری کھاتے وقت یہ ارادہ ہے کہ صبح کو روزہ نہ رکھوں گا۔ تو یہ سحری کھانا نیت نہیں (رد المحتار وغیرہ) ۔
روزہ کی نیت میں روزہ کو معین کرنا ضروری ہے یا نہیں؟
جواب: یہ تینوں یعنی رمضان کی ادا، اور نفل ، خواہ سنت ہو یا مستحب، اور نذر معین، ان میں خاص انہیں کی نیت ضروری نہیں۔ مطلقاً روزہ کی نیت سے بھی ہو جاتے ہیں۔ اور نفل کی نیت سے بھی ادا ہو جاتے ہیں۔ بلکہ مریض و مسافر کے علاوہ کسی اور نے رمضان میں کسی اور واجب کی نیت کی، جب بھی اسی رمضان کو روزہ ہوگا۔ (درمختار) ۔ البتہ مسافر اور مریض جس کی نیت کریں گے وہی ہوگا۔ رمضان کا نہیں اور مطلق روزے کی نیت کریں تو رمضان کا ہوگا۔ (درمختار ، عالمگیری)
قضائے رمضان وغیرہ کی نیت کس وقت ضروری ہے؟
جواب: ادائے رمضان، نذرمعین اور نفل کے علاوہ باقی روزے مثلاً قضائے رمضان اور نذر غیر معین اور نفل کی قضا (یعنی نفلی روزہ رکھ کر توڑ دیا تھا اس کی قضا) اور نذر معین کی قضا اور کفارہ کا روزہ اور ایسے ہی اور روزے ، ان سب میں عین صبح چمکتے وقت یا رات میں نیت کرنا ضروری ہے۔ اور یہ بھی ضروری ہے کہ جو روزہ رکھتا ہے خاص اس معین کی نیت کرے۔ ان روزوں کی نیت اگر دن میں کی تو نفل ہوئے۔ پھر بھی ان کا پورا کرنا ضروری ہے توڑے گا تو قضا واجب ہوگی۔ (درمختار وغیرہ)
شعبان کو چاند نظر نہ آئے تو ۳۰۔ کو نیت کس طرح کرے؟
جواب: اگر۲۹ شعبان کی شام کع مطلع پر ابرو غبار ہو اور چاند نظر نہ آئے تو شعبان کی تیسویں تاریخ کو (جسے یوم الشک کہتے ہیں) خالص نفل کی نیت سے روزہ رکھ سکتے ہیں اور نفل کے سوا کوئی اور روزہ رکھا تو مکروہ ہے۔ اب اگر یہ دن کا رمضان ہونا ثابت ہو جائے تو مقیم کے لیے رمضان کا روزہ ہے اور مسافرنے جس کی نیت کی وہی ہوا اور اگر نیت تو خالص ہی کہ، کی اور پورا ارادہ نفلی روزہ رکھنے ہی کا ہے۔ مگر کبھی کبھی دل میں یہ خیال گزر جاتا ہے۔ کہ شاید آج رمضان کا دن ہو تو اس میں حرج نہیں۔ (درمختار، عالمگیری وغیرہ)