Skip to content

سبق ۰۲ — ملائکہ

ملائکہ کے کیا معنی ہیں؟

جواب: ملائکہ جمع ہے ملک کی اور ملک فرشتے کو کہتے ہیں۔

فرشتے کون ہیں؟

جواب: فرشتے اجسام نوری ہیں جو خدائے تعالیٰ کے احکام کے پورے پورے میطع و فرمانبردار ہیں۔ اسی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کے مقرب ہیں۔

کیا فرشتوں کی کوئی خاص صورت ہوتی ہے؟

جواب: نہیں! فرشتوں کی کوئی خاص صورت نہیں ، صورت اور بدن ان کے حق میں ایسا ہے کہ جیسے ہمارے لیے ہمارا لباس ، اللہ تعالیٰ نے انھیں یہ طاقت دی ہے کہ جو شکل چاہیں اختیار کر لیں۔ ہاں قرآن شریف سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان کے بازو ہیں، اس پر ہمیں ایمان رکھنا چاہیے۔

ملائکہ میں کون سب سے افضل و مقرب ہے؟

جواب: حضرت جبرائیل ، حضرت میکائیل، حضرت اسرافیل، حضرت عزرائیل علیہم السلام تمام ملائکہ سے افضل و مقر ب ہیں۔

ان چاروں مقرب فرشتوں کے بعد کس کا مرتبہ ہے؟

جواب: ان چاروں کے بعد حاملان عرش کا مرتبہ ہے، پھر عرش معلے کے طواف کرنے والوں کا، پھر ملائکہ کرسی کا، ان کے بعد ساتوں آسمانوں کے ملائکہ کا درجہ بدرجہ مرتبہ ہے ان کے بعد وہ فرشتے ہیں جو ابرو ہوا پر مامور ہیں۔ بادل چلاتے اور پانی لاتے ہیں۔ ان کے بعد ان فرشتوں کا مرتبہ ہے جو پہاڑوں اور دریائوں پر مئوکل ہیں اور ان کے بعد اور دوسرے فرشتے ہیں۔

بشرا فضل ہے یا فرشتے؟

جواب: عامۂ بشرافضل ہے عامۂ ملائک سے اور فرشتوں میں جو رسول ہیں وہ عام بشر سے افضل ہیں اور بشر کے رسول افضل ہیں ۔ فرشتوں کے رسول سے۔

جن کس کو کہتے ہیں؟

جواب: جن ایک قسم کی مخلوق ہے جو آگ سے پیدا کی گئی ہے۔ یہ قوم انسانوں کی طرح ذی عقل اور ارواح و اجسام (روح و جسم) والی ہے۔ ان میں توالد تناسل بھی ہوتا ہے۔ (یعنی ان کی نسل چلتی ہے) اور کھاتے پیتے جیتے مرتے بھی ہیں ۔ ان کی عمریں بہت ہوتی ہیں۔

جنوں کی صورت کیسی ہوتی ہے؟

جواب: جنوں میں بھی بعض کو یہ طاقت دی گئی ہے کہ جو شکل چاہیں بن جائیں ، حد ثیوں سے ثابت ہوتا ہے کہ ان میں کسی کسی کے پر بھی ہوتے ہیں اور وہ ہوا میں اڑتے پھرتے ہیں اور بعضے سانپوں اور کتوں کی شکل میں گشت لگاتے پھرتے ہیں اور بعضے انسانوں کی طرح رہتے سہتے ہیں۔ لیکن اکثر ان کی رہائش گاہ ، بیابان یا ویران مکان اور جنگل اور پہاڑہیں۔

ابلیس کون ہے؟

جواب: شریر جنوں کو شیطان کہتے ہیں ۔ ان تمام شیطانوں کا سرکردہ ابلیس ہے یہ بہت بڑا عابد، ذاہد تھا یہاں تک کہ گروئہ ملائکہ میں اس کا شمار ہوتا تھا مگر جب اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کو حکم دیا کہ آدم علیہ السلام کو سجدہ کریں تو اس نے غرور میں آکر سجدہ کرنے سے انکار کر دیاجس کی وجہ سے وہ راندئہ بارگاہ الٰہی ہو ا او رہمیشہ کے لیے مردود کیا گیا۔ اس کی ذریت (اولاد) بھی ہے اور وہ بھی اس کی طرح مردود، یہ سب شیطان ہیں اور انسان کو بہکا نا ان کا کام۔