رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
01- جو شخص عصر کے بعد سوئے اور اس کی عقل جاتی رہے تو وہ اپنے آپ ہی کو ملامت کرے。
02- ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چھ حق ہیں ۔ جب وہ بیمار ہو تو عیادت کرے، جب وہ مر جائے تو جنازہ میں حاضر ہو اور جب وہ بلائے تو حاضر ہو، اور جب اسے ملے تو سلام کرے اور جب چھینکے تو جواب دے، اور اس کی موجودگی اور غیر موجودگی میں اس کی خیر خواہی کرے。
03- جس نے قرآن کریم پڑھا اور جو کچھ اس میں ہے اس پر عمل کیا اس کے والدین کو قیامت کے دن تاج پہنایا جائے گا ۔ جس کی روشنی سورج سے اچھی ہے اگر وہ تمہارے گھروں میں ہوتا تو اب خود اس عمل کرنے والے کے متعلق تمہارا کیا گمان ہے؟
04- بد فالی کوئی چیز نہیں اور فال اچھی چیز ہے لوگوں نے عرض کیا فال کیا چیز ہے؟ فرمایا اچھا کلمہ جو کسی سے سنے یعنی کہیں جاتے وقت یا کسی کام کا ارادہ کرتے وقت کسی کی زبان سے اچھا کلمہ نگل گیا یہ فالِ حَسَن ہے。
05- ابنِ آدم جب صبح کرتا ہے تو تمام اعضاء زبان کے سامنے عاجزانہ یہ کہتے ہیں کہ تو خدا سے ڈر کہ ہم سب تیرے ساتھ وابستہ ہیں اگر توسیدھی رہی توہم سب سیدھے رہیں گے اور ٹیڑھی ہوگئی تو ہم سب ٹیڑھے ہو جائیں گے۔
06- جتنے گناہ ہیں ان میں سے اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے معاف کر دیتا ہے سِوا والدین کی نافرمانی کے کہ اس کی سزا زندگی میں موت سے پہلے دی جاتی ہے。
07- جس نے علم کو اس لیے طلب کیا کہ علماء کے ساتھ مقابلہ کرے گا، جاہلوں سے جھگڑا کرے گا، اس لیے کہ لوگ اس کی طرف متوجہ ہوں، اللہ تعالیٰ اسے جہنم میں داخل کرے گا۔
08- دو حریص آسودہ نہیں ہوتے ایک علم کا حریص کہ علم سے کبھی اس کا پیٹ نہیں بھر ے گا، اور ایک دنیا کا لالچ کہ یہ کبھی آسودہ نہیں ہوگا۔
09- جب زمین پر گناہ کیا جائے تو جو وہاں ہے اور اسے بُرا جانتا ہے وہ اس کی مثل ہے جو وہاں نہیں اور جو وہاں نہیں ہے مگر اس پر راضی ہے وہ اس کی مثل ہے جو وہاں حاضر ہے۔
10- یہ بات اللہ تعالیٰ کی تعظیم میں سے ہے کہ بوڑھے مسلمان کا اکرام کیا جائے اور حاملِ قرآن کا اکرام کیا جائے جو نہ غالی ہو نہ جانی (یعنی جو غلو کرتے ہیںکہ حد سے تجاوز کر جاتے ہیں کہ پڑھنے میں الفاظ کی صحت کا لحاظ نہیں رکھتے یا معنی غلط بیان کرتے ہیں یا ریا کے طور پر تلاوت کرتے ہیں اور جانی یعنی جفا کرنے والا وہ ہے کہ نہ قرآن کی تلاوت کرے نہ اس کے احکام پر عمل کرے) اور بادشاہِ عادل کا اکرام کرنا۔
11- والد کا اپنی اولاد کو اس سے بڑھ کر کوئی عطیہ نہیں کہ اسے اچھے آداب سکھائے۔
نعت شریف
یہ اکرام ہے مصطفیٰ پر خدا کا
کہ سب کچھ خدا کا ہوا مصطفیٰ کا
مِرے گیسوئوں والے میں تیرے صدقے
کہ سر پر ہجوم بلا ہے بلا کا
اذاں کیا جہاں دیکھو ایمان والو
پس ذکرِ حق ذکرہے مصطفیٰ کا
کہ پہلے زباں حمد سے پاک ہولے
تو پھر نام لے وہ حبیب خدا کا
ترا نام ے کر جو مانگے وہ پائے
ترا نام لیوا ہے پیا را خدا کا
نہ کیونکر ہو اس ہاتھ میں سب خدائی
کہ یہ ہاتھ تو ہاتھ ہے کبریا کا
تیرے رتبہ میں جس نے چون و چراکی
نہ سمجھا وہ بد بخت رتبہ خدا کا
خدا مدح خواں ہے خدا مدح خواں ہے
مرے مصطفیٰ کا مرے مصطفیٰ کا
خد ا کا وہ طالب ، خدا اس کا طالب
خدا اس کا پیارا، وہ پیارا خدا کا
سہارا دیا جب میرے ناخدانے
ہوئی نائو سیدھی پھر رخ ہوا کا
بھلا ہے حسنؔ کا جناب رضا سے
بھلا ہو الٰہی جناب رضاؔ کا
(حضرت حسنؔ بریلوی)