عشر کسے کہتے ہیں؟
جواب: عشری زمین سے ایسی چیز پیدا ہوئی جس کی زراعت سے مقصود زمین سے منافع حاصل کرنا ہے تو اس پیداوار کی زکوٰۃ فرض ہے اور اس زکوٰۃ کا نام عشر ہے یعنی دسواں حصہ کہ اکثر صورتوں میں دسواں حصہ فرض ہے اگرچہ بعض صورتوں میں نصفِ عشر یعنی بیسواں حصہ لیا جائے گا۔ (عالمگیری وغیرہ)
عشری زمین کون سی ہوتی ہے؟
جواب: زمین کے عشری ہونے کی بہت سی صورتیں ہیں مثلاً مسلمانوں نے فتح کیا اور زمین مجاہدوں پر تقسیم ہو گئی یا وہاں کے لوگ خود بخود مسلمان ہو گئے جنگ کی نوبت نہ آئی یا اس کھیت کو عشری پانی سے سیراب کیا، ہندوپاکستان میں مسلمانوں کی زمینیں عموماً ایسی ہی ہیں کہ ان پر عشر واجب ہے یا نصف عشر ۔ (فتاویٰ رضویہ)
عشرو نصف عشر کہا ں واجب ہوتا ہے؟
جواب: جو کھیت بارش یا نہر نالے کے پانی سے سیراب کیا جائے اس میںعشر یعنی دسواں حصہ واجب ہے اور جس کی آبپاشی چرسے یا ڈول سے ہو اس میں نصف عشر یعنی بیسواں حصہ واجب ہے اور پانی خرید کر آبپاشی ہو یعنی وہ پانی کسی کی ملک ہے اس سے خرید کر آبپاشی کی جب بھی نصف عشرواجب ہے۔ (درمختار وغیرہ)
غلّے ، میوے اور ترکاریوں میں عشر ہے یا نہیں؟
جواب: ہر قسم کے غلّے مثلاً گیہوں، جو، جوار، باجرہ، دھان اور ہر قسم کے میوے مثلاً اخروٹ بادام اور ہر قسم کی ترکاریاں مثلاً خربوزہ، تربوز، ککڑی، بینگن سب میں عشر واجب ہے تھوڑا پیدا ہو یا زیادہ۔ (عالمگیری)
پیداوار سے زراعت کے مصارف مجرا ہوں گے یا نہیں؟
جواب: جس چیز میں عشر یا نصفِ عشرواجب ہوں اس میں کل پیداوار کا عشر لیا جائے گا یہ نہیں ہو سکتا کہ مصارف زراعت یعنی ہل بیل، حفاظت کرنے والے اور کام کرنے والے کی اجرت یا بیج وغیرہ نکال کر عشر یا نصفِ عشر دیا جائے ۔ (ردالمحتار)
عشری پانی کون سا پانی ہے؟
جواب: آسمان یعنی بارش کا پانی عشری زمین میں، کنویں یا چشمے اور دریا کا پانی عشری پانی ہے اس سے حاصل ہونے والی پیداوار میں عشر ہے۔
عشر مسلمانوں پر ہے یا غیر مسلم پر بھی؟
جواب: عشر صرف مسلمانوں سے لیا جائے گا، ہاں اگر مسلمان نے ذمی (اسلامی ملک کے وفادار غیر مسلم) سے خراجی زمین خریدی تو یہ خراجی ہی رہے گی اس مسلمان سے اس زمین کا عشرنہ لیں گے بلکہ خراج لیا جائے گا۔ (درمختار وغیرہ)
خراجی زمین کون سی زمین کو کہتے ہیں؟
جواب: خراجی زمین ہونے کی بھی بہت سی صورتیں ہیں مثلاً مسلمانوں نے فتح کرکے وہیں والوں کو احسان کے طور پر واپس کر دی یا دوسرے غیر مسلمانوں کو دے دی یا خراجی زمین مسلمان نے خرید لی یا اسے خراجی پانی سے سیراب کیا تو ان تمام صورتوں میںوہ زمین خراجی کہلاتی ہے۔ (عامۂ کتب)
خراجی پانی کون سا کہلاتا ہے؟
جواب: مسلمانوں کی آمد سے پہلے غیر مسلمانوں نے جونہر کھودی اس کا پانی خراجی یا کافروں نے کنواں کھود ا تھا اور اب مسلمانوں کے قبضہ میں آگیا یا خراجی زمین میں دکھودا گیا وہ بھی خراجی ہے ایسے پانی سے سیراب ہونے والی زمین میں جو پیداوار ہوگی اس میں عشر نہیں بلکہ خراج واجب ہوگا خواہ پیداوار کا کوئی حصہ آدھا ، تہائی ، چوتھائی وغیرہ مقرر کر دیا جائے یا ایک مقدار لازم کر دی جائے۔ (درمختار)
نابالغ اور مجنون پر عشر ہے یا نہیں؟
جواب: عشر واجب ہونے کے لیے عاقل بالغ ہونا شرط نہیں ، مجنون اور نابالغ کی زمیں میں جو کچھ پیدا ہوا اس میں بھی عشر واجب ہے۔ (عالمگیری)
زکوٰۃ کی طرح عشر میں بھی سالِ تمام پر واجب ہوتا ہے یا نہیں؟
جواب: عشر میں سال گزرنا شرط نہیں ، سال میں چند بار ایک کھیت میں زراعت ہوئی تو ہر بار عشر واجب ہے۔ (درمختار وغیرہ)
عشر میں کونصاب ہے یا نہیں؟
جواب: عشر میں نصاب بھی شرط نہیں ایک صاع سیر بھی پیداوار ہو تو عشر واجب ہے اور یہ بھی شرط نہیں کہ وہ چیز باقی رہنے والی ہو اور یہ بھی شرط نہیں کہ کاشتکار زمین کا مالک ہو، وقفی زمین جو کسی کی ملک نہیں ہوتی اس میں جو زراعت ہوئی تو اس میں بھی عشر واجب ہے۔ (درمختار وغیرہ)
عشر ادا کرنے سے پیشتر آدمی مر جائے تو عشر کس پر ہے؟
جواب: عشر کھیت کی پیدا وار پر ہوتا ہے تو جس پر عشر واجب ہو اس کا انتقال ہو گیا اور پیدا وار موجود ہے تو اس پر عشر لیا جائے گا۔ (عالمگیری )
پیدوار اگر کسی وجہ سے ماری جائے تو عشر و خراج ہے یا نہیں؟
جواب: کھیت بویا مگر پیداوار ماری گئی مثلاً کھیتی ڈوب گئی یا جل گئی یا ٹیٹر کی کھاگئی یا پالے اور لو سے جاتی رہی تو عشر و خراج دونوں ساقط ہیں، جب کہ کل جاتی رہی اور اگر کچھ باقی ہے تو اس سے باقی کا عشر لیں گے ہاں اگر چوپائے کھا گئے تو ساقط نہیں یونہی اگر توڑنے یا کاٹنے سے پہلے ہلاک ہوئی تو عشر نہیں ورنہ عشر دینا آئے گا۔ (ردالمحتار)
زراعت بیچ ڈالی تو عشر کس پر ہے؟
جواب: تیار ہونے سے پیشتر زراعت بیچ ڈالی تو عشر مشتری (خریدار) پر ہے اور بیچنے کے وقت زراعت تیار تھی تو عشر بالعٔ (فروخت کنندہ) پر ہے اور اگر زمین و زراعت دونوں یا صرف زمین بیچی اور اس صورت میں سال پورا ہونے میں اتنا مانہ باقی ہے کہ زراعت ہوسکے تو خراج مشتری پر ہے ورنہ بالعٔ پر۔ (درمختار)
عشر و خراج کی آمدنی کے مصارف کیا ہیں؟
جواب: عشر اور نصف ِ عشر کے مصارف وہی ہیں جو مصارفِ زکوٰۃ ہیں اور جن کا بیان آگے آتا ہے البتہ خراج کا مصرف صرف لشکر اسلام نہیں بلکہ تمام مسلمانوں کی مصلحتوں اور ان کی ضرورتوں میں صرف کیا جاتا ہے جن میں مسجدوں کی تعمیر ان کے دوسرے اخراجات امام و مؤزن کا وظیفہ ، علم دین کی تحصیل میں مشغول رہنے والے طلباء کی خبر گیری ، علمائے اہل سنت اور عالیانِ دین متین کی خدمات میںجو وعظ کہتے اور علم دین کی تعلیم کرتے اور فتویٰ کے کام میں مشغول رہتے ہیں اور پل سرائے وغیر کے کام میں بھی صرف کیا جاسکتا ہے۔ (بہارِ شریعت، فتاویٰ رضویہ)