حضور معطی العطاء والسرور ، دافع البلاء والشرور فرماتے ہیں:
۱۔ دو خصلتیں ایسی ہیں کہ ان سے بہتر کوئی چیز نہیں، اللہ پر ایمان اور عام مسلمانوں کو نفع رسانی، اور دو خصلتیں ایسی ہیں کہ ان سے بدتر کوئی شے نہیں، اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرنا اور مسلمانوں کو ایذاء پہنچانا۔
۲۔ تین چیزیں نجات دینے والی ہیں اور تین چیزیں ہلاک کرنے والی اور تین چیزیں درجے بڑھاتی ہیں اور تین چیزیں گناہوں کا کفارہ ہیں۔
نجات دینے والی تین چیزیں یہ ہیں: (۱) علانیہ اور پوشیدہ خدا سے ڈرنا۔ (۲)تنگدستی اور فارغ البالی میں انصاف پر رہنا۔ (۳) خوشی و غضب کے وقت انصاف پر رہنا۔
ہلاک کرنے والی تین چیزیں یہ ہیں: (۱) سخت بخیل یا حریص ہونا۔ (۲) اپنی خواہش نفس کی پیروی کرنا اور (۳) خود پسندی (کہ تکبر کا زینہ ہے)
درجے بڑھانے والی تین چیزیں یہ ہیں: (۱) آپس میں سلام پھیلانا۔ (۲) محتاجوں کو کھانا کھلانا۔ (۳) راتوں کو نماز (نفل) پڑھنا جب کہ دنیا سوتی ہے۔
گناہوں کا کفارہ یہ تین چیزیں ہیں: (۱) سخت سردی میں کامل وضو کرنا۔ (۲) نماز با جماعت کے لیے پیادہ جانا۔ (۳) ایک نماز کے بعد دوسری نماز کے انتظار میں رہنا۔
(ان امور کی برکت سے صغیرہ گناہ خود بخود معاف ہو جاتے ہیں مگر کبیرہ کیلئے توبہ ضرور)
۳۔ چار چیزیں بدبختی کی علامت ہیں۔ (۱) اپنے گذشتہ گناہوں کو بھول جانا حالانکہ وہ اللہ کے نزدیک لکھے ہوئے محفوظ ہیں۔ (۲) اپنی نیکیوں کو چرچا کرنا جبکہ وہ یہ بھی نہیں جانتا کہ وہ مقبول ہوئیں یا مردور۔ (۳) اپنی نظر میں ایسوں کو رکھنا جو دنیاوی اعتبار سے اس سے بڑھ کر ہیں۔ (۴) صرف ان لوگوں کو دیکھنا جو دین میں اس سے کمتر ہیں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے اس کے ساتھ خیر کا ارادہ کیا لیکن اس نے مجھے اپنی مراد نہ بنا یا تو میںنے اسے چھوڑ دیا۔
نیک بختی کی نشانی ہیں: (۱) اپنے گناہوں کو یاد رکھنا۔ (کہ توبہ کی توفیق ہوگی) (۲) کوئی نیکی کرکے بھول جانا۔ (۳) ایسے بندہ کو دیکھنا جو دین میں اس سے برتر ہے۔ (کہ دین کی طرف سبقت کا باعث ہے) (۴) ایسوں کو دیکھنا جو دنیا میں اس سے بدترحال میں ہیں۔ (کہ موجب شکر ہے)
۴۔ میرے امتیوں پر ایک ایسا وقت بھی آئے گا کہ انہیں پانچ چیزوں سے محبت ہوگی اور پانچ چیزوں کو بھول جائیں گے:
دنیا سے انہیں محبت ہوگی اور آخرت کو بھول جائیں گے
اپنے گھروں سے انہیں محبت ہوگی اور قبروں کو بھول جائیں گے
مال سے انہیں محبت ہوگی اور حساب آخرت کو بھول جائیں گے
اہل و عیال سے انہیں محبت ہوگی اور حور (وقصور) کو بھول جائیں گے
اپنے خواہش نفس سے انہیں محبت ہوگی اور اللہ کو بھول جائیں گے
وہ مجھ سے بری ہیں اور میں ان سے بیزار۔
۵۔ چھ آدمیوں پر میری لعنت، اللہ کی لعنت اور ہر نبی مستجاب الدّعاء کی لعنت۔ (۱) وہ جو قرآن میں کمی بیشی یا تحریف کرے۔ (۲) وہ کہ تقدیر الٰہی کو جھٹلائے۔ (۳) وہ جو زبردستی دوسروں پر مسلط ہو جائے تاکہ جسے اللہ نے عزت دی ہے اسے ذلیل کرے۔ (مثلاً علمائے حق کی) اور جسے اللہ نے ذلیل رکھا ہے اسے عزت بخشے۔(مثلاً کم اصل کمینہ کو) (۴) وہ جو حرم الٰہی کی حرمت کو اپنے لیے حلال کر لے (اور اس کی بے حرمتی پر اترآئے)۔ (۵) وہ جو میری اولاد پر ان باتوں کو حلال جانے جنہیں اللہ نے حرام کیا ہے۔ (مثلاً ناحق ایذائے و ظلم) (۶) وہ جو میری سنتِ کریمہ کو چھوڑے (اور اسے ترک کرنا اور اپنا معمول بنالے) اللہ تعالیٰ کل بروزِ قیامت ان پر نظرِ رحمت نہ فرمائے گا۔
۶۔ سات شخص وہ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ قیامت میں اپنے عرش کے سایہ میں رکھے گا جب کہ اس سایہ کے سواکوئی اور سایہ میسر نہ ہوگا۔ (۱) امام عادل و حاکم منصف۔ (۲) وہ جوان جو اللہ تعالیٰ کی بندگی میں پلا بڑھا۔ (۳) وہ بندئہ خدا جس نے تنہائی میں اللہ تعالیٰ کو یاد کیا اور خوفِ خدا سے اس کی آنکھوں سے آنسو ٹپکے۔ (۴) وہ شخص جس کا دل مسجد میں لگا ہوا ہے کہ پھر مسجد پہنچے۔ (۵) وہ شخص جس نے راہِ خدا میں صدقہ کیا اور اس طرح کہ بائیں ہاتھ کو پتہ نہ چلا کہ دائیں نے کیا خرچ کیا۔ (۶) وہ دو شخص جنہوں نے اللہ کے لیے آپس میں محبت کی۔ (۷) وہ شخص جسے کسی حسین عورت نے اپنی طرف گناہ کی دعوت دی اور اس نے انکار کر دیا اور کہہ دیا کہ میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں۔
۷۔ آٹھ چیزیں ایسی ہیں کہ ان کا پیٹ آٹھ چیزوں سے کبھی نہیں بھرتا۔ (۱) آنکھ کا دیکھنے یعنی نظر بد سے۔ (۲) زمین کا بارش سے۔ (۳) مادہ کا نر سے۔ (۴) عالم دین کا علم دین سے۔ (۵) گدا کا گداگری سے۔ (۶) حریص کا مال جمع کرنے سے۔ (۷) سمندر کا پانی سے۔ (۸) آگ کا لکڑی سے۔
۸۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف توریت میں وحی کی کہ تین چیزیں تمام گناہوں کی اصل ہے۔ (۱) غرور۔ (۲) حسد۔ (۳) حرص۔
ان تین خصلتوں سے چھ برائیاں اور پیدا ہوتی ہیں اور اس طرح یہ تین نو بن جاتی ہیں: (۱) شکم سیری۔ (۲) نیند کی زیادتی۔ (۳) آرام طلبی۔ (۴) مال کی ناجائز محبت۔ (۵) اپنی تعریف و توصیف سے لگائو۔ (۶) حکومت (اور اہل حکومت) کی طرف رغبت۔
۹۔ نماز دین کا ستون ہے اور اس میں دس باتین پوشیدہ ہیں: (۱) چہرہ کا حسن۔ (۲) دل کا نور۔ (۳) بدن کی راحت۔ (۴) قبر میں انس۔ (۵) رحمت کا نزول۔ (۶) آسمان کی کنجی۔ (۷) میزان کا وزن۔ (۸) رب کی رضا۔ (۹) جنت کی قیمت۔ (۱۰) جہنم سے حجاب تو جس نے نماز کو قائم رکھا اس نے دین کو قائم رکھا اور جس نے اسے چھوڑ دیا اس نے دین کو ڈھا دیا۔
۱۰۔ جو مردیا عورت شبِ عرفہ (وہ رات جو نویں ذی الحجۂ کے بعد آئے گی) یہ دس کلمے ایک ہزار بار پڑھ کر جو دعا کرے گا وہ مقبول ہوگی جب تک کہ قطعِ رحم اور گناہ کی دعا نہ کرے۔
سبحٰن الذی فی السمآ ء عرشہ سبحٰن الذی فی الارض ملکہ و قدرنہ سبحٰن الذی فی البحر سبیلہ سبحٰن الذی فی الھوآء روحہ! سبحٰن الذی فی النار سلطانہ سبحٰن الذی فی الارحام علمہ سبحٰن الذی فی القبور قضآ ئہ سبحٰن الذی رفع السمآء بلا عمد سبحٰن الذی وضع الارض سبحٰن الذی لا ملجا ولا منجا منہ الا الیہ
(اوّل و آخر کم از کم تین بار درود شریف پڑھنا سند قبولیت ہے)
۱یک قابلِ حفظ اور نفیس دُعا
یا الٰہی ہر جگہ تیری عطا کا ساتھ ہوٌ
جب پڑے مشکل شہ مشکل کشا کا ساتھ ہو
یا الٰہی بھول جائوں نزع کی تکلیف کو
شادیٔ دیدارِ حسنِ مصطفیٰ کا ساتھ ہو
یا الٰہی گو رِ ا؎ تیرہ کی جب آئے سخت رات
ان کے پیارے منہ کی صبح جانفزا کا ساتھ ہو
یا الٰہی جب پڑے محشر میں شورِ دار وگیر
امن دینے والے پیارے پیشوا کا ساتھ ہو
یا الٰہی جب زبانیںباہر آئیں پیاس سے
صاحب کوثر شہِ جو دوسخا کو ساتھ ہو
یاالٰہی گرمی محشر سے جب بھڑکیں بدن
دامنِ محبوب کی ٹھنڈی ہوا کا ساتھ ہو
یا الٰہی رنگ لائیں جب مری بیباکیاں
ان کی نیچی نیچی نظروں کی حیا کا ساتھ ہو
یا الٰہی جب سرِ شمشیر پر چلنا پڑے
ربِ سلم کہنے والے غم ۲؎ ذدا کا ساتھ ہو
یا الٰہی جو دُعائے نیک میں تجھ سے کروں
قدسیوں کے لب سے آمین ربنا کا ساتھ ہو
یا الٰہی جب رضاؔ ، خواب ِ گراں سے سر اٹھائے
دولتِ عشقِ مصطفیٰ کا ساتھ ہو
ا؎ یعنی تاریک قبر ۲؎ یہاں غمزدہ بمعنی’’ غم کا مارا ہوا‘‘ نہیں بلکہ غم زُوا (ز پر پیش کے ساتھ) ’’غم کو مٹانے والا‘‘ مستعمل ہے، رسم الخط بھی آخر میں ہ سے نہیں الف سے ہے۔ محمد خلیل عفی عنہ
تمّت بالخیر
مولیٰ تعالیٰ صدقہ اپنے حبیبِ کریم علیہ افضل الصلوٰۃ والتسلیم کا ظاہر و باطن میں ان کی سچی محبت اور سچا ادب بخشے اور انہی کی محبت و تعظیم و ادب و تکریم پر دنیا سے اٹھائے اور اپنے کرمِ عمیم و فضلِ عظیم سے دنیا و آخرت میں ان کی زیارت سے مشرف و بہرہ مند فرمائے ، ان تمام حضرات سے جو اس سلسلہ سے فیض پائیں اس بندئہ ہیچمیر زوہجمیداں کی التجا ہے کہ وہ صمیمِ قلب سے اس فقیر ِ بے مایہ و پر تقصیر کے لیے حسنِ خاتمہ اور مغفرتِ ذنوب کی دعا کریں کہ سفرِ آخرت درپیش ہے اور نامۂ اعمال سیاہ ، پھر زادِ راہ کا فقدان۔
مولیٰ تبارک و تعالیٰ ان سب کو اور اس فقیر کو صراطِ مستقیم پر قائم و دائم رکھے اور تاحیات اتباعِ نبی کریم علیہ افضل الصلوٰۃ والتسلیم کی توفیق خیر رفیق بخشے۔ آمین آمین آمین یا ارحم الرحمین ۔
العبد : محمد خلیل خاں القادری البرکاتی عفی عنہ، دارالعلوم احسن البرکات حیدر آباد پاکستان۔ ۱۱ رجب المرجب ۹۹ھ ۔ ۸ جون ۷۹ھ یومِ پنجشنبہ