Skip to content

سبق ۰۳ — کتب سماوی

کتب سماوی کسے کہتے ہیں؟

جواب: کتب سماوی کا مطلب ہے آسمانی کتابیں۔ یعنی وہ صحیفے اور کتابیں جو اللہ تعالیٰ نے مخلوق کی رہنمائی کے لیے اپنے نبیوں پر اتاریں۔ یہ سب کلام اللہ ہیں اور حق ان میں جو کچھ ارشاد ہوا۔ سب پر ایمان ضروری ہے۔

ان کتابوںمیںسب سے افضل کون سی کتاب ہے؟

جواب: چاروں اور زبور عبرانی زبان میں انجیل سریانی زبان میں اور قرآن کریم عربی زبان میں نازل ہوا۔

جب یہ کتابیں سب کلام اللہ ہیں تو قرآن کریم کے افضل ہونے کے کیا معنی ہوتے؟

جواب: کلام الٰہی میں بعض کا بعض سے افضل ہونا، اس کے معنی یہ ہین کہ ہمارے لیے اس میں ثواب زیادہ ہے۔

تورات وانجیل وغیرہ دوسری کتابوں پر ہم عمل کر سکتے ہیں یا نہیں؟

جواب: نہیں، اس لیے کہ اول تو یہود و نصاریٰ نے ان میں تحریفیں کر دیں یعنی اپنی خواہش سے گھٹا بڑھا دیا اس لیے یہ کتابیں جیسی نازل ہوئی تھیں ویسی ملتی ہی نہیں اور دوسری بات یہ ہے کہ قرآن کریم نے اگلی کتابوں کے بہت سے احکام منسوخ کر دئیے لہٰذا ہم اگر یہ فرض بھی کر لیں کہ صحیح تورات وانجیل اس وقت بھی موجود ہیں تو بھی ان کتابوں کی ضرورت با قی نہیں رہتی۔ قرآن کریم میں وہ سب کچھ ہے جس کی حاجت نبی آدم کو ہوتی ہے۔

منسوخ ہونے کا کیا مطلب ہے؟

جواب: نسخ کا مطلب یہ ہے کہ بعض احکام کسی خاص وقت کے لیے ہوتے ہیں مگر یہ ظاہر نہیں کہا جاتا کہ یہ حکم فلاں وقت تک کے لیے ہے۔ جب یہ میعاد پوری ہو جاتی ہے۔ تو دوسرا حکم نازل ہو جاتا ہے۔ جس سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ پہلا حکم اٹھا دیا گیا اور درحقیقت دیکھا جائے تو اس کے وقت کا ختم ہونا بتایا گیا ، پہلے حکم کو منسوخ اور دوسرے کو ناسخ کہتے ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو حکم منسوخ کیا گیا وہ باطل نہیں ہوتا اور جو اسے باطل کہے وہ کون ہے؟

جواب: منسوخ کے معنی بعض لوگ باطل ہونا کہتے ہیں۔ یہ بہت سخت بات ہے ۔ احکام خداوندی سب حق ہیں وہاں باطل کی رسائی کہاں۔

جس ترتیب پر آج قرآن موجود ہے کیا ایسا ہی نازل ہوا تھا؟

جواب: نزول وحی کے وقت یہ ترتیب نہ تھی جو آج ہے۔ قرآن مجید ۲۳برس کی مدت میں تھوڑا تھوڑا حسب حاجت نازل ہوا۔ جس حکم کی حاجت ہوتی اسی کے مطابق سورت یا کوئی آیت نازل ہو جاتی۔

پھر قرآن کریم کی ترتیب کس طرح عمل میں آئی؟

جواب: قرآن عظیم متفرق آئتیں ہو کر اترا۔ کسی سورت کی کچھ آیتیںاترتیں پھر دوسری سورت کی آئتیں نازل ہوتیں جبر یل علیہ السلام اس کا مقام بھی بتا دیتے اور حضور پر نور ﷺ ہر بار ارشاد فرماتے کہ یہ آیات فلاں سورت کی ہیں فلاں آیت کے بعد فلاں آیت سے پہلے رکھی جائیں۔ اس طرح قرآن عظیم کی سورتیں اپنی اپنی آیتوں کے ساتھ جمع ہو جاتیں اور خود حضور ﷺ اسی ترتیب سے اسے نمازوں ، تلاوتوں میں پڑھتے۔ پھر حضور سے سن کر صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم یاد کر لیتے۔ غرض قرآن عظیم کی ترتیب اللہ تعالیٰ کے حکم سے جبریل علیہ السلام کے بیان کے مطابق اور لوح محفوظ کی ترتیب کے موافق خو د حضو ر ﷺ کے زمانہ اقدس میں واقع ہوئی تھی۔

مکی سورتوں اور مدنی سورتوں کا کیا مطلب ہے؟

جواب: وہ سورتیں جو مکہ معظمہ میں اور اس کے اطراف میں نازل ہوئیں ان کو مکی کہتے ہیں اور جو مدینہ منورہ اور اس کے قریب وجوار میں نازل ہوئیں ان کو مدنی کہتے ہیں۔

مکی اور مدنی سورتوں کے مضمون میں کیا فرق ہے؟

جواب: باعتبار مضامین کے مکی اور مدنی سورتوں میں یہ فرق پایا جاتا ہے کہ مکی سورتوں میں عموماً اصولی عقائد یعنی توحید و رسالت اور حشر و نشر کا بیان ہے اور مدنی سورتوں میں اعمال کا ذکر ہے مثلاً وہ احکام جن سے اخلاق درست ہوں اور مخلوق کے ساتھ زندگی بسر کرنے کا طریقہ معلوم ہو، مدنی سورتوں میںبیان کئے گئے ہیں۔