ہمارے حضور ﷺ کی خصوصیات کیا ہیں؟
جواب: ۱. اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے ﷺ کا نور پیدا کیا پھر اسی نور سے تمام کائنات پیدا کی۔ اگر حضور نہ ہوتے تو کچھ نہ ہوتا اور حضور نہ ہو تو کچھ نہ ہو۔ حضور تمام جہان کی جان ہیں ۔ ۲. اللہ تعالیٰ نے تمام بنیوں کی روحوں سے عہد لیا کہ اگر وہ حضور کے زمانے کو پائیں تو آپ پر ایمان لائیں اور آپ کی مدد کریں۔ ۳. حضور تمام مخلوق الٰہی میں خود بھی سب سے بہتر ہیں اور ان کا خاندان بھی سب خاندانوں سے افضل ہے، ان جیسا دوسرا نہ کوئی ہوا نہ ہوگا۔ ۴. حضور انور کی ولادت شریف کے وقت بت اندھے منہ گر پڑے اور ایسا نور پھیلا کہ آپ کی والدہ ماجدہ نے ملک شام کے محل دیکھ لیے۔ ۵. آپ کا سایہ نہ تھا کیونکہ آپ نور ہی نورتھے اور نور کا سایہ نہیں ہوتا۔ ۶. گرمی کے وقت اکثر بادل آپ پر سایہ کرتا تھا اور درخت کا سایہ آپ کی طرف آجاتا تھا۔ حالانکہ ابھی لوگوں کو آپ کا نبی ﷺہونا معلوم نہ ہوا تھا۔ ۷. آپ کے جسم اور پسینے میں مشک و زعفران سے بڑھ کر خوشبو آتی تھی۔ جس راستے سے آپ گزرتے وہ راستہ مہک جاتا۔ ۸. اللہ تعالیٰ نے آپ کو زمین و آسمان کے خزانوں کی کنجیاں عطا فرمادیں۔ اور اختیار دیا کہ جسے جو چاہیں دیں اور جس سے جو چاہیں واپس لیں۔ ان کے حکم کو کوئی ٹالنے والا نہیں۔ ۹. دنیا و آخرت کی ہر چھوٹی بڑی نعمت آپ ہی کے طفیل میں ملتی ہے اور ملتی رہے گی۔ ۱۰. اللہ کے نام کے ساتھ حضور کا ذکر بھی بلند کیا جاتا ہے۔ حضور ﷺ اللہ کے محبوب ہیں۔ غرض حضور ﷺ کے فضائل بے شمار ہیں۔ وہ اللہ کے حبیب ہیں اور مخلوق میں ساری خوبیاں حضور ہی کی ذات پر ختم ہیں۔
بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر
میلاد شریف کرنا جائز ہے یا ناجائز؟
جواب: میلاد شریف یعنی حضور اقدس ﷺ کی ولادت (پیدائش) مبارک کا بیان جائز ہے۔ اس محفل پاک میں حضور ﷺ کی فضیلتیں ، حضور ﷺ کے معجزے، آپ کی عادتیں، آپ کی زندگی کے مبارک حالات اور دوسرے واقعات بیان کئے جاتے ہیں۔ ان چیزوں کا ذکر حدیثوں میں بھی ہے اور قرآن کریم میں بھی ۔ اگر مسلمان یہی چیزیں اپنی محفلوں میں بیان کریں بلکہ خاص ان باتوں کے بیان کرنے کے لیے محفل کریں تو اس کے ناجائز بدعت ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔ اس محفل میں بوقت ذکر ولادت قیام کیا جاتا ہے یعنی کھڑے ہو کر درود سلام پڑھتے ہیں، یہ بھی جائز ہے۔
نعت اکرم سیّدِ عالم ﷺ
سچّی بات سکھاتے یہ ہیں
سیدھی راہ دکھاتے یہ ہیں
ڈوبی ناویں تیراتے یہ ہیں
ہلتی نیویں جماتے یہ ہیں
ان کے ہاتھ میں ہر کنجی ہے
مالکِ کُل کہلاتے یہ ہیں
ان کا حکم جہاں میں نافذ (۱)
قبضہ کُل پہ رکھاتے یہ ہیں
رب ہے معطی (۲)یہ ہیں قاسم (۳)
رزق اس کا ہے کھلاتے یہ ہیں
اس کی بخشش ان کا صدقہ
دیتا وہ ہے دلاتے یہ ہیں
لاکھوں بلائیں کروڑوں ُدشمن
کون بچائے، بچاتے یہ ہیں
باپ جہاں بیٹے سے بھاگے
لطف وہاں فرماتے یہ ہیں
ماں جب اکلوتے کو چھوڑے
آ آکہہ کے بلاتے یہ ہیں
اپنی بنی ہم آپ بگاڑیں
کون بنائے بناتے یہ ہیں
کہہ دو رضاؔ سے خوش ہو خوش رہ
مژدہ رضا کا سناتے یہ ہیں
اؤ ؎ نافذ، جاری ۲ ؎ معطی ، دینے والا ۳؎ قاسم، بانٹنے والے