بھول کر کھانے پینے سے روزہ رہا یا گیا؟
جواب: بھول کر کھایا پیا یا روزہ کے منافی کوئی اور کام کیا تو روزہ فاسد نہ وہوا۔ خواہ وہ روزہ فرض ہو یا نفل اور روزہ کی نیت سے پہلے یہ چیزیں پائی گئیں یا بعد میں۔( مختار ، ردالمحتار)
روزہ دار کو کھاتے پیتے وقت یا د دلانا چاہیے یا نہیں؟
جواب: کسی روزہ دار کو ان افعال میں دیکھے تو یاد دلاناواجب ہے یا د نہ دلایا تو گناہگار ہوا۔ مگر جب روزہ دار بہت کمزور ہو تو اس سے نظر پھیر لے۔ اور اس میں جوانی اور بڑھاپے کو کوئی دخل نہیں بلکہ قوت و ضعف یعنی طاقت اور جسمانی کمزوری کا لحاظ ہے۔ لہٰذا اگر جوان اس قد ر کمزور ہو کر یادد لائے گا۔ تو وہ کھانا چھوڑ دے گا اور کمزوری اتنی بڑھ جائے گی کہ روزہ رکھنا دشور ہو گا۔ اور کھالے گا تو روزہ بھی اچھی طرح پور کر لے گا اور دیگر عبادتیں بھی بخوبی ادا کرے گا۔ تو اس صورت میں یا د نہ دلانے میں حرج نہیں۔ بلکہ یاد نہ دلانا بہتر ہے۔ اور بوڑھا ہے مگر بدن میں قوت رکھتا ہے۔ تو اب یاد دلانا واجب ہے (ردالمحتار وغیرہ)
مکھی یا دھواں وغیر حلق میں جانے سے روزہ ٹوٹتا ہے یا نہیں؟
جواب: مکھی یا دھواں یا غبار حلق میں چلا جائے تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ خواہ وہ غبار آٹے کا ہو کہ چکی پیسنے یا آٹا چھاننے میں اڑتا ہے یا غلہ کا ہو یا ہوا سے خاک اڑی۔ یا جانوروں کے کھریا ٹاپ سے غبار اڑ کر حلق میں پہنچا۔ اگرچہ روزہ دار ہونا یا د تھا (در مختار وغیرہ)
قصداًدھواں حلق کو پہنچا یا تو کیا حکم ہے؟
جواب: اگر خود قصداً کسی نے دھواں حلق میں پہنچایا تو روزہ فاسد ہو گیا۔ جب کہ روزہ دار ہونا یاد ہو۔ خواہ وہ کسی چیز کا دھواں ہو اور کسی طرح پہنچایا ہو۔ یہاں تک اگر بتی وغیرہ کی خوشبو سلگتی تھی ۔ اس نے منہ قریب کرکے دھوئیں کو ناک سے کھینچا روزہ جاتا رہا۔ یوں ہی حقہ پینے سے بھی روزہ ٹوٹ جاتا ہے اگر روزہ یاد ہو اور حقہ پینے والا اگر قصداً پئے گا تو کفارہ بھی لازم آئے گا۔ (در مختار وغیرہ) یہی حکم بیڑی ،سگریٹ ، سگار چرٹ وغیرہ کے دھوئیں کا سے اگرچہ اپنے خیال میں حلق تک دھواں نہ پہنچا تا ہو ۔ (بہار شریعت)
تیل یا سرما لگانے سے روزہ رہتا ہے یا نہیں؟
جواب: تیل یا سرمہ لگایا تو روزہ نہ گیا۔ اگرچ تیل یا سرمہ کا مزہ حلق میں محسوس ہوتا ہو۔ بلکہ تھوک میں سرمہ کا رنگ بھی دیکھائی دیتا ہو جب بھی نہیں ٹوٹتا۔ (جوہر ۔ ردالمحتار)
عام طور ر پیش آنے والی وہ کون سی صورتیں ہیں جن سے آدمی کا روزہ نہیں ٹوٹتا؟
جواب: مثلاً غسل کیاا ور پانی کی خنکی اندر محسوس ہوئی یا کلی کی اور پانی بالکل پھینک دیا صرف کچھ تری منہ میں باقی رہ گئی تھی۔ کہ تھوک کے ساتھ اسے نگل گیا۔ یا کان میں پانی چلا گیا ۔ یا دو ا کوٹی اور حلق میں اس کا مزہ محسوس ہوا۔ یا تنکے سے کان کھجایا اور اس پر کان کا میل لگ گیا۔ پھر وہی میل لگا ہوا تنکا کان میں ڈالا اگرچہ چند بار ایسا کیا۔ یا دانتوں سے خون نکل کر حلق تک پہنچا مگر حلق سے نیچے نہ اترا۔ تو ان سب صورتوں میں رزہ نہ گیا۔ (در مختار، فتح القدیر وغیرہ)
اپنا تھوک نگل جانے سے روزہ جاتا رہتا ہے یا نہیں؟
جواب: بات کرنے میں تھوک سے ہونٹ تر ہوگئے اور روزہ دار اسے پی گیا یا منہ سے راںٹپکی مگرتار نہ ٹوٹا تھا کہ اس چڑھا گیا۔ یا ناک میں ریزش (رینٹھ) آگئی بلکہ ناک سے باہر ہوگئی مگر منقطع (جدا) نہ ہوئی تھی کہ اسے چڑھا کر نگل گیا یا کھنکار منہ میں آیا اور کھا گیا اگرچہ کتنا ہی ہو روزہ نہ جائے گا۔ مگر ان باتوں سے احتیاط چاہیے (عالمگیری وغیرہ ) کہ یوں بھی قابل اعتراض حرکت ہے اور دوسروں کے سامنے ہو تو باعث نفرت بھی اور پھر نفاست کے خلاف بھی۔
بھولے سے کھانا کھاتے یاد آتے ہی لقمہ چھوڑ دیا تو کیا حکم ہے؟
جواب: روزہ دار اگر بھولے سے کھانا کھا رہا تھا اور یاد آتے ہی فوراً لقمہ پھینک دیا یعنی منہ سے اگل دیا۔ یا صبح صادق سے پہلے کھار ہا تھا کہ صبح ہوگئی اور اس نے صبح ہوتے ہی لقمہ اگل دیا تو روزہ نہ گیا۔ ہاں اگر نگل لیا تو دونوں صورتوں میں روزہ جاتا رہا۔ (در مختار)
کسی کی غیبت سے روزہ رہا یا گیا؟
جواب: کسی کی غیبت کی تو روزہ نہ گیا اگر چہ غیبت بہت سخت کبیرہ گناہ ہے۔ قرآن مجید میں غیبت کی نسبت فرمایا جیسے اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا۔ اور حدیث میں فرمایا غیبت زنا سے بھی بدتر ہے۔ اگرچہ غیبت کی وجہ سے روزہ کی نورانیت جاتی ر ہتی ہے (در مختاروغیرہ)
غسل فرض ہوتے ہوئے نہ نہائے تو کیا حکم ہے؟
جواب: جنابت یعنی ناپاکی کی حالت میں روزہ دار نے صبح کی بلکہ اگرچہ سارے دن جنب (بے غسلا) رہا روزہ نہ گیا ۔ مگر اتنی دیر تک قصداً غسل نہ کرنا تاکہ نماز قضا ہو جائے گناہ وحرام ہے۔ حدیث میں فرمایا کہ جنب جس گھر میں ہوتا ہے اس میں رحمت کے فرشتے نہیں آتے۔ (در مختار وغیرہ)
تل کو چبا کر نگل گیا تو روزہ باقی رہا یا نہیں؟
جواب: تل یا تل برابر کوئی چیز چبائی اور تھوک کے ساتھ حلق سے اتر گئی تو روزہ نہ گیا۔ ہاں اگر اس کا مزہ حلق میں محسوس ہوتا ہو تو روزہ جاتا رہا۔ (فتح القدیر)
آنسو یا پسینہ منہ میں چلا جائے تو کیا حکم ہے؟
جواب: آنسو میں چلا گیا اور نگل لیا اگر قطرہ در قطرہ ہے تو روزہ نہ گیا اور زیادہ تھا کہ اس کی نمکینی پورے منہ میں محسوس ہوئی تو جاتا رہا۔ پسینہ کا بھی یہی حکم ہے۔ (عالمگیری)