پیغمبروں کے بھیجنے میں اللہ تعالیٰ کی کیا حکمت ہے؟
جواب: انبیاء و مرسلین کے مبعوث فرمانے (بھیجنے) میں اللہ تعالیٰ کی بڑی حکمت اور اپنے بندوں پر بڑی رحمت ہے۔ اس نے اپنے ان رسولوں کے ذریعہ سے اپنی رضا مندی اور ناراضی کے کاموں سے آگاہ کر دیا اس لیے کہ جب ہم لوگ باوجود ہم جنس ہونے کے کسی دوسرے شخص کی صحیح رائے بغیر اس کے ظاہر کئے ہوئے نہیں معلوم کر سکتے اور یہ نہیں جانتے کہ یہ کس چیز سے خوش اور راضی ہے اور کس چیز سے ناخوش و ناراض ہے۔ تو اللہ تعالیٰ کی مرضی و نامرضی کو بغیراللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے کیوں کر جان سکتے تھے؟ نہ کسی کو عذاب و ثواب کی اطلاع ہو سکتی تھی، نہ عالم آخرت کی باتیں معلوم ہو سکتی تھیں، نہ عبادت کا صحیح طریقہ معلوم ہو سکتا تھا، نہ عبادت کے ارکان و شرائط اور آداب کا پتہ لگ سکتا تھا۔ اور اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات تک رسائی تو خیال میں بھی نہیں آسکتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے مخلوق کی ہدایت و رہنمائی کے لیے انسانوں میں سے کچھ برگزیدہ انسان ایسے پیدا کئے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے درمیان واسطہ ہوتے ہیں۔ یہ برگزیدہ بندے اللہ کی طرف لوگوں کو بلاتے ہیں تاکہ پیغمبروں کے بعد پھر لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے سامنے کوئی حجت باقی نہ رہے، ان کی اطاعت کرنے والا مقبول اور مخالف مردود ہے۔
تنہا عقل انسان کی رہنمائی کر سکتی ہے یا نہیں؟
جواب: اگر اللہ تعالیٰ ہمیں تنہا ہماری عقلوں پر چھوڑ دیتا تو ہم کبھی پورے طور سے سعادت و نجات کا راستہ نہیں معلوم کر سکتے تھے۔ دنیا کے عقلا کا حال ہم دیکھ رہے ہیں کہ مادیات و مشاہدات (رات دن مشاہدے اور تجربہ میں آنے والی چیزوں) میں بھی ایک بات پر متفق نہیں ہیں۔ بلکہ ایک ہی شخص کبھی کچھ اور کبھی کچھ رائے قائم کر لیتا ہے۔ تو روحانیت اور عالم غیب و عالم آخرت کے بارے میں وہ کیونکر صحیح بات معلوم کر سکتے تھے۔ لہٰذا ماننا پڑے گا کہ بغیر واسطہ پیغمبر تنہا عقل انسانی سعادت و نجات کا کما حقہ راستہ معلوم نہیں کر سکتی۔
انبیاء سب بشر تھے ، اس میں کیا حکمت ہے؟
جواب: اللہ تعالیٰ کی یہ بھی بڑی حکمت اور رحمت ہے کہ وہ اپنا نبی و رسول نبی نوع بشر سے منتخب فرماتا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ فرشتوں میں سے کسی دوسری مخلوق میں سے ہمارے لیے رسول بھیجتا تو وہ ہماری عادات و خصائل سے واقف نہ ہوتا، نہ اس کو ہم پر وہ شفقت ہوتی جو ایک ہم جنس دو سرے ہم جنس سے ہوتی ہے، دوسرا اس کی طرف ہمارا میلان طبعی نہ ہوتا نہ اس کی باتوں میں ہماری پیروی کر سکتے اور نہ ہماری کمزوریوں کا اسے احساس ہوتا۔
وحی کسے کہتے ہیں؟
جواب: وحی کے لغوی معنی ہیں ’’کسی بات کا دل میں آہستہ ڈالنا‘‘ اور شریعت میں وحی کے معنی ہیں وہ کلام الٰہی جو پیغمبروں پر مخلوق کی ہدایت و رہنمائی کے لیے نازل ہوا۔ سنت الٰہی اس طرح جاری ہے کہ خداوند عالم اپنی مخلوق سے دو بدو گفتگو نہیں کرتا، لیکن مخلوق کی ہدایت اس وقت تک نہیں ہو سکتی جب تک احکامات الٰہی ان تک کسی ذریعہ سے نہ پہنچ جائیں ۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے پیغمبروں پر وحی نازل فرمائی اور ان کے ذریعہ سے اپنے بندوں کو نیک و بد سے آگاہ کر دیا۔ وحی کا لفظ قرآن شریف میں لغوی اور شرعی دونوں معنوں میں استعمال کیا گیا ہے۔
نزول وحی کے کتنے طریقے ہیں؟
جواب: انبیاء علیہم السلام پر وحی کے چار طریقے ہیں:
۱۔ کسی غیبی آواز کا سنائی دینا۔ ۲۔ کسی بات کا دل میں خود بخود پیدا ہو جانا۔ ۳۔ صحیح اور سچے خوابوں کا دیکھنا چنانچہ نبی کو خواب میں جو چیز بتائی جاتی ہے وہ بھی وحی ہے، اس کے چھوٹے ہونے کا احتمال نہیں۔ ۴۔ کسی فرشتہ کا انسانی شکل میں ہو کر آنا اور پیغام الٰہی پہنچانا۔
الہام کے کیا معنی ہیں؟
جواب: ولی کے دل میں بعض وقت سوئے یا جاگتے میں کوئی بات القاء ہوتی ہے اس کو الہام کہتے ہیں۔
وحی ٔ شیطانی کسے کہتے ہیں؟
جواب: شیطان اپنے رفیقوں یعنی کاہن، ساحر اور دوسرے کافروں اور فاسقوں کے دل میں کوئی بات ڈال دیتا ہے اسے لغوی معنی کے اعتبار سے وحی شیطانی کہتے ہیں ۔ یہ لوگ ایک دوسرے کو فریب دہی اور ملمع سازی کی چکنی چپڑی باتیں سکھاتے ہیں تاکہ انھیں سن کر لوگ ان کی طرف مائل ہو جائیں اور ان کو پسند کرنے لگیں اور پھر کبھی برے کاموں اور کفر و فسق کی دلدل سے نہ نکلنے پائیں۔ لیکن جو خدا کے نیک بندے ہیں وہ ان کے اغوا میں نہیں آتے بلکہ لاحول بھیج کر دوسرے نیک کاموں میں مصروف رہتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے کل کتنے انبیاء مبعوث فرمائے؟
جواب: انبیاء علیہم السلام کی کوئی تعداد مقرر کرنا جائز نہیں کہ خبریں اس باب میں مختلف ہیں اور تعداد معین پر ایمان رکھنے میں نبی کی نبوت سے خارج ماننے یا غیر نبی کو نبی جاننے کا احتمال ہے اور یہ دونوں باتیں کفر ہیں لہٰذا اجمالاً یہ اعتقاد چاہیے کہ ہر نبی پر ہمارا ایمان ہے۔
کیا ہر ملک اور ہر قوم میں کوئی نہ کوئی نبی گزرا ہے؟
جواب: قرآن کریم سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ہر امت میں اور ہر ملک میں ایک رسول ہوا جو انھیں دین حق کی دعوت دیتا اور خدا کی بندگی وطاعت کا حکم دیتا اور ایمان کی طرف بلاتا تاکہ خدا کی حجت تمام ہو اور کافروں اور منکروں کو کوئی عذر نہ رہے۔ اب یہ احکام پہنچانے والا خواہ نبی ہو یا نبی کا قائم مقام عالم دین جو نبی کی طرف سے خلق خدا کو اللہ تعالیٰ کا خوف دلائے۔
رام اور کرشن کو جنھیں ہندو مانتے ہیں، نبی کہہ سکتے ہیں یا نہیں؟
جواب: اللہ و رسول کو جنھیں تفصیلاً نبی بتایا اور قرآن و حدیث میں ان کا تذکرہ آیا ان پر تفصیلاً نا م بنام ایمان لائے اور باقی تمام انبیاء پر ہم اجمالاً ایمان لائے ہیں۔ خدا و رسول نے ہم پر یہ لازم نہیں کیا کہ ہر رسول کو ہم جانیں، یا نہ جانیں تو خواہی نخواہی اندھے کی لاٹھی سے ٹٹولیں کہ شاید یہ ہو، شاید یہ ہو، کا ہے کے لیے ٹٹولنا ہزاروں امتوں کا ہمیں نام و مقام تک معلوم نہیں نہ قطعی طور پر انبیاء کی صحیح تعداد معلوم ہے کہ کتنے پیغمبر دنیا میں آئے اور قران عظیم یا حدیث کریم میں رام و کرشن کا ذکر تک نہیں بلکہ ان کے وجود پر بھی ہمارے پاس کوئی دلیل نہیں کہ یہ واقعی کچھ اشخاص تھے یا محض ہندوئوں کے تراشیدہ خیالات ہیں، اور ہندوئوں کی کتابوں میں جہاں ان کا ذکر آتا ہے ، وہیں ان کے فسق و فجور، بداعمالیوں اور بد اخلاقیوں کا پتہ چلتا ہے۔ اب اگر ہندوئوں کی کتابوں کو درست مانا جائے تو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ رام و کرشن فاسق و فاجر اور بد کردار بھی تھے اور جو ایسا ہو وہ ہر گز نبی نہیں ہو سکتا کہ انبیاء کرام معصوم ہوتے ہیں۔ ان کی تربیت و نگرانی اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے، ان سے گناہ سر زد ہو ہی نہیں سکتا۔ غرض یہ کہ سوائے ان نبیوں کے جن کے نام قرآن و حدیث میں مذکور ہیں، کسی شخص کے متعلق تعین سے نہیں کہا جا سکتا کہ وہ نبی یا رسول تھے۔
انبیاء کرام کو غیب کا علم ہوتا ہے یا نہیں؟
جواب: بے شک اللہ عزوجل نے انبیاء علیہم السلام کو غیب کا علم عطا فرمایا۔ زمین وآسمان کا ہر زرہ ہر نبی کے پیش نظر ہے مگر یہ علم غیب جو کہ ان کو ہے، اللہ کے دینے سے ہے۔ لہٰذا ان کا علم عطائی ہوا۔ نبی کے معنی ہیں غیب کی خبر دینے والا، انبیاء علیہم السلام غیب کی خبریں دینے کے لیے ہی آ تے ہیں کہ جنت و نارو حشر و نشرو عذاب و ثواب غیب نہیں تو اور کیا ہیں؟ ان کا منصب ہی یہ ہے کہ وہ باتیں ارشاد فرمائیں، جن تک عقل و حواس کی رسائی نہیں، اور اسی کا نام غیب ہے ۔ اولیاء کو بھی علم غیب عطائی ہوتا ہے مگر بوا سطہ انبیاء کے۔