Skip to content

سبق ۱۲ — نماز کی شرط اوّل (طہارت)

طہارت کا کیا مطلب ہے؟

جواب: طہارت کا مطلب یہ ہے کہ نمازی کا بدن، اس کے کپڑے اور وہ جگہ جس پر نماز پڑھنی ہے نجاست سے پاک صاف ہو۔

طہار ت کی کتنی قسمیں ہیں؟

جواب: طہارت کی دو قسمیں ہیں۔ طہارت صغریٰ اور طہارت کبریٰ۔ طہارت صغریٰ وضو ہے اور طہار کبریٰ غسل اور جن چیزوں سے صرف وضو لازم آتا ہے، انہیں حدثِ اصغر کہتے ہیں اور جن سے غسل فرض ہو۔ انھیں حدثِ اکبر کہا جاتا ہے۔

نجاست کی کتنی قسم ہیں؟

جواب: نجاست کی دو قسمیں ہیں حکمیہ اور حقیقیہ ۔

نجاست حکمیہ کس کو کہتے ہیں؟

جواب: نجاست حکمیہ وہ ہے جو نظر نہیں آتی صرف شریعت کے حکم سے اسے ناپاکی کہتے ہیں جیسے بے وضو ہونا، غسل کی حاجت ہونا۔

نجاست حکمیہ سے پاک ہونے کا کیا طریقہ ہے؟

جواب: جہاں وضو کرنا لازم ہو وہاں وضو کرنا اور جہاں غسل کی حاجت ہو وہاں غسل کرنا، نجاست حکمیہ سے آدمی کو پاک کر دیتا ہے۔

نجاست حقیقیہ کسے کہتے ہیں؟

جواب: نجاست حقیقیہ وہ ناپاک چیز جو کپڑے یا بدن وغیرہ پر لگ جاتی ہے تو ظاہر طور پر معلوم ہوتی ہے جیسے پیشاب پاخانہ وغیرہ۔

نجاست حقیقیہ کی کتنی قسمیں ہیں؟

جواب: نجاست حقیقیہ دو قسم پر ہے، غلیظہ اور خفیفہ ۔ نجاست غلیظہ وہ جس کا حکم سخت ہے۔ اور نجاست خفیفہ وہ جس کا حکم ہلکا ہے۔

نجاست غلیظہ کا حکم کیا ہے؟

جواب: نجاست غلیظہ کا حکم یہ ہے کہ اگر کپڑے یا بدن میں ایک درہم ہے زیادہ لگ جائے تو اس کا پاک کرنا فرض ہے۔ بے (بغیر) پاک کئے نماز ہوگی ہی نہیں۔ اور اگر درہم کے برابر ہے تو پاک کرنا واجب ہے کہ بے پاک کئے نماز پڑھی تو مکروئہ تحریمی ہوئی یعنی ایسی نماز کا اعادہ (دوبارہ پڑھنا) واجب ہے اور اگر درہم سے کم ہے تو پاک کرنا سنت ہے۔ کہ بے پاک کئے نماز پڑھی تو ہوگئی تو خلاف سنت ہوئی، اس کا لوٹا نا بہتر ہے۔

درم کی مقدار یہاں کتنی ہے؟

جواب: نجاست اگر گاڑھی ہے تو درم کا وزن اس جگہ ساڑھے چار ماشہ ہے اور اگر پتلی ہو جیسے آدمی کا پیشاب، شراب، تو درم کی مقدار ہتھیلی کی گہرائی کے برابر یعنی تقریباً یہاں کے روپے کے برابر۔

نجاست خفیفہ کا کیا حکم ہے؟

جواب: نجاست خفیفہ کا حکم ہے کہ کپڑے کے حصہ یا بدن کے جس عضو میں لگی ہے۔ اگر اس کی چوتھائی سے کم ہے تو معاف ہو جائے گی اور اگر پوری چوتھائی میں ہو تو اس کا دھونا واجب ہے اور زیادہ ہو تو اس کا پاک کرنا فرض ہے۔ بے دھوئے نماز ہو گی ہی نہیں۔

اگر کسی پتلی چیز میں نجاست گر جائے تو کیا حکم ہے؟

جواب: نجاست اگر کسی پتلی چیز مثلاً پانی یا سرکہ میں گر جائے تو چاہے غلیظ ہو یا خفیفہ کل ناپاک ہو جائے گی اگرچہ ایک قطرہ گرے۔

کون کون سی چیزیں نجاست غلیظہ ہیں؟

جواب: آدمی کا پیشاب، پاخانہ، بہتا خون، پیپ، منہ بھر قے، دکھتی آنکھ کا پانی ، حرام چو پایوں کا پاخانہ پیشاب، گھوڑے کی لید اور ہر حلال جانور کا گوبر، مینگنی، مرغی اور ربط (بطخ) کی بیٹ، ہر قسم کی شراب، سور کا گوشت اور ہڈی اور بال، چھپکلی یا گرگٹ کا خون، اور درندے چوپایوں کا لعاب۔یہ سب چیزیں نجاست غلیظہ ہے ۔دودھ پیتے لڑکے اور لڑکی کا پیشاب اور دودھ پیتے بچے کی قے بھی نجاست غلیظہ ہے اور لوگوں میں جو مشہور ہے کہ دودھ پیتے بچوں کا پیشاب پاک ہے محض غلط ہے۔

نجاست خفیفہ کون کون سی چیزیں ہیں؟

جواب: حلال جانوروں اور گھوڑے کا پیشاب اور حرام پرندوں کی بیٹ نجاست خفیفہ ہے اور نجاست غلیظہ، خفیفہ میںمل جائے تو کل غلیظہ ہے۔

بدن یا کپڑا نجس ہو جائے تو پاک کرنے کا طریقہ کیا ہے؟

جواب: نجاست اگر پتلی ہو تو تین مرتبہ دھو لینے سے پاک ہو جائے گا مگر کپڑے کو تینوں مرتبہ اپنی قوت بھر اس طرح نچوڑنا ضروری ہے کہ اس سے کوئی قطرہ نہ ٹپکے اور پہلی اور دوسری بار نچوڑ کر ہاتھ بھی دھوئے۔ اور نجاست اگر دل دار ہو جیسے گوبرا خون، پاخانہ وغیرہ تو اس کو دور کرنا ضروری ہے۔ گنتی کی کوئی شرط نہیں اگر چہ چار پانچ مرتبہ دھونا پڑے۔

وضو میں کتنے فرض ہیں؟

جواب: وضو میں چار فرض ہیں (۱) شروع پیشانی سے ٹھوڑی تک طول ہیں اور ایک کان کی لو سے دوسرے کان کی لو تک عرض میں ، جلد کے ہر حصے کو دھونا یعنی پانی بہانا تیل کی طرح چپڑ لینے کا نام دھونا نہیں (۲) کہنیوں سمیت دونوں ہاتھوں کا دھو تاکہ ذرہ برابر بھی کوئی جگہ پانی بہنے سے رہ نہ جائے۔ (۳) چوتھائی سر کا مسح کرنا یعنی تر ہاتھ پھیرنا ۔ (۴) ٹخنوں (گٹوں) سمیت دونوں پائوں کا دھونا۔

وضو میں سنتیں کتنی ہیں؟

جواب: وضو میں سولہ سنتیں ہیں: (۱) نیت کرنا (۲) بسم اللہ پڑھ کر شروع کرنا۔ (۳) پہلے دونوں ہاتھوں کو گٹوں تک تین تین بار دھونا (۴) مسواک کرنا (۵) تین چلو سے تین بار کلی کرنا (۶) تین بار ناک میں پانی چڑھانا (۷) داہنے ہاتھ سے کلی کرنا اور ناک میں پانی چڑھانا (۸) بائیں ہاتھ سے ناک صاف کرنا (۹) منہ دھوتے وقت داڑھی کا خلال کرنا (۱۰) ہاتھ پائوں کی انگلیوں کا خلال کرنا (۱۱) جو اعضاء دھونے کے ہیں ان کو تین تین بار دھونا (۱۲) پورے سر کا ایک بار مسح کرنا (۱۳) کانوں کا مسح کرنا(۱۴)ترتیب سے وضو کرنا پہلے منہ اور پھر ہاتھ دھوئے ، پھر سر کا مسح کرے، پھر پائوں دھوئے (۱۵) داڑھی کے جو بال منہ کے دائرے سے نیچے ہیں ان کا مسح کرنا (۱۶)اعضاء کو اس طرح دھونا کہ پہلے والا عضو سوکھنے نہ پائے دوسرا دھونے لگ جائیں۔

وضو میں مستحب کتنے ہیں؟

جواب: وضو میں پندرہ مستحب ہیں۔ (۱) قبلہ رخ اونچی جگہ بیٹھ کر وضو کرنا (۲) وضو کا پانی پاک جگہ گرانا (۳) پانی بہاتے وقت ہر عضو پر تر ہاتھ پھیر لینا ۔ (۴) اپنے ہاتھ سے پانی بھرنا (۵) وضو کرنے میں بغیر ضرورت دوسرے سے مدد لینا (۶) وقت سے پہلے وضو کر لینا (۷) انگوٹھی وغیرہ کو حرکت دینا اور اگر تنگ ہو تو حرکت دینا ضروری ہے۔ (۸) اطمینان سے وضو کرنا، یعنی ہر عضو دھوتے وقت یہ خیال رکھے کہ کوئی جگہ باقی نہ رہے۔ (۹) مٹی کے برتن سے وضو کرنا (۱۰) دونوں ہاتھ سے منہ دھونا (۱۱) ہر عضو کو دھوتے وقت نیت وضو حاضر رہنا اور بسم اللہ اور درود شریف وغیرہ دعائیں پڑھنا (۱۲) گردن کا مسح کرنا (۱۳) وضو سے فارغ ہوتے ہی آسمان کی طرف منہ کرکے کھڑے ہو کر کلمہ شہادت اور سورۃ اناانزلنا پڑھنا۔ (۱۴) وضو کا بچاہو ا پانی تھوڑا پی لینا۔(۱۵) بغیر ضرورت بدن کو بالکل خشک نہ کرنا۔ ان کے علاوہ وضو کے مستحبات اور بھی ہیں جن کا بیان بڑی کتابوں میں ہے۔

وضو میں کتنی چیزیں مکروہ ہیں؟

جواب: مکروہات وضو سترہ ہیں (۱) وضو کے لیے نجس (ناپاک) جگہ بیٹھنا (۲) مسجد کے اندر وضو کرنا (۳) اعضائے وضو سے لوٹے وغیرہ میں قطرے ٹپکانا (۴) پانی میں تھوکنا، ناک سنکنا اگرچہ دریا یا حوض ہو۔ (۵) قبلہ کی طرف تھوکنا یا کلی کرنا (۶) بے ضرورت دنیا کی بات کرنا (۷) زیادہ پانی خرچ کرنا (۸) اتنا کم پانی خرچ کرنا کہ سنت ادا نہ ہو۔ (۹) چہرہ پرزور سے پانی مارنا (۱۰) ایک ہاتھ سے منہ دھونا کہ یہ ہندوئوں کا طریقہ ہے (۱۱) گلے کا مسح کرنا ۔(۱۲) اپنے لیے کوئی لوٹا وغیرہ خاص کر لینا (۱۳) بائیں ہاتھ سے کلی کرنا یاناک میں پانی ڈالنا (۱۴) داہنے ہاتھ سے ناک صاف کرنا (۱۵) تین نئے پانیوں سے تین بارسر کا مسح کرنا۔ (۱۶) دھوپ کے گرم پانی سے وضوکرنا (۱۷) ہونٹ یا آنکھیں زور سے بند کر لینا اور کچھ سو کھا رہ گیا تو وضو ہی نہ ہوگا۔

وضو کو توڑنے والی چیزیں کیا ہیں؟

جواب: جن چیزوں سے وضو ٹوٹ جاتا ہے انھیں نواقض وضو کہتے ہیں اور وہ یہ ہیں: (۱) پاخانہ پیشاب کرنا یا ان دونوں راستوںسے کسی اور چیز کا نکلنا۔ (۲) ریح یعنی ہوا کا، مرد یا عورت کے پیچھے سے نکلنا (۳) بدن کے کسی مقام سے خون یا پیپ کا نکل کر بہہ جانا (۴) منہ بھر کے قے کرنا اور بلغم کی قے وضو نہیں توڑتی جتنی بھی ہو (۵) چت یا پٹ یا کروٹ پر لیٹ کر یا بیٹھ رک ایک کروٹ کر جھکا ہوا اور ایک کہنی پر تیکہ لگا کر یا سہارے سو جانابشرطیکہ سر ین زمین پر نہ جمے ہوں اور انگھنے یا بیٹھے بیٹھے جھونکے لینے سے وضو نہیں جاتا (۶) بیماری یا کسی اور وجہ سے بہوش ہو جانا (۷) مجنون یعنی دیوانہ ہو جانا (۸) رکوع سجدے والی نماز میں قہقہہ مار کا ہنسنا۔

اپنی یا پرائی شرمگاہ دیکھنے سے وضو ٹوٹتا ہے یا نہیں؟

جواب: نہیں ! اور عوام میں جو مشہور ہے کہ گھٹنا اور ستر کھلنے یا اپنا یا پرایا ستر دیکھنے سے وضو جاتا رہتا ہے محض بے اصل بات ہے۔ ہاں بلاضرورت ستر کھلا رکھنا منع ہے اور دوسروں کے سامنے ہو تو حرام ۔

آنکھ دکھتے وقت آنکھ سے جو پانی بہتا ہے اس کا کیا حکم ہے؟

جواب: آنکھ دکھتے میں جو آنسو بہتا ہے نجس اور ناقص وضو ہے۔ اس سے بہت لوگ غافل ہیں۔ اکثر دیکھا جاتا ہے اکہ ایسی حالت میں کرتے وغیرہ سے آنسو پونچھ لیا کرتے ہیں۔ حالانکہ ایسا کرنے سے کپڑا ناپاک ہو جاتا ہے۔