Skip to content

سبق ۲۲ — پیارے نمبی کی پیاری باتیں

رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں:

۱۔ تم میں سے اس وقت تک کوئی مسلمان نہیں ہوتا جب تک میں اسے اس کے ماں باپ، اولاد اور سب آدمیوں سے پیارا نہ ہوں۔
۲۔ جس کسی سے اللہ تعالیٰ کے لیے محبت رکھے اللہ تعالیٰ کے لیے دشمنی رکھے اور اللہ کے لیے دے اور اللہ تعالیٰ کے لیے منع کرے، اس نے اپنا ایمان کا مل کر لیا۔
۳۔ آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے اسے یہ دیکھنا چاہیے کہ کس سے دوستی کرتا ہے آدمی اس کے ساتھ ہوتا ہے جس سے اسے محبت ہے۔
۴۔ اچھا ساتھی وہ ہے کہ جب تو خدا کی یاد کرے وہ تیری مدد کرے اور جب تو بھولے تو وہ یاد دلائے۔
۵۔ خدا کی قسم وہ شخص مومن نہیں جس کے پڑوسی اس کی آفتوں سے محفوظ نہ ہوں۔
۶۔ مسلمانوں میں سب سے بہتر وہ گھر ہے جس میں کوئی یتیم ہو اور اس کے ساتھ احسان کیا جاتا ہو اور مسلمان میں سب سے برا گھر وہ ہے جس میں یتیم ہو اور اس کے ساتھ برائی کی جاتی ہو۔
۷۔ ظالم بادشاہ کے پاس حق بات بولنا بہتر جہاد ہے۔
۸۔ جس قوم میں گناہ ہوتے ہوں اور وہ لوگ بدلنے پر قادر ہوں پھر نہ بدلیں تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ سب پر عذاب بھیجے۔
۹۔ بڑے بھائی کا چھوٹے بھائی پر ویسا ہی حق ہے جیسا کہ باپ کا حق اولاد پر ہے۔
۱۰۔ تین چیزیں نجات دینے والی ہیں اور تین ہلاک کرنے والی ہیں۔ نجات دینے والی چیزیں یہ ہیں۔
(۱) پوشیدہ اور ظاہر ہیں اللہ تعالیٰ سے ڈرنا۔
(۲) خوشی اور ناخوشی میں حق بات بولنا۔
(۳) مالداری اور احتیاج کی حالت میں درمیانی چال چلنا۔
ہلاک کرنے والی چیزیں یہ ہیں:
۱۔ خواہش نفسانی کی پیروی کرنا
۲۔ بخل کی اطاعت
۳۔ اپنے نفس کے ساتھ گھمنڈ کرنا یہ سب میں سخت ہے۔

فضائل اور درود شریف

رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں:

۱۔ جو مجھ پر ایک بار درود شریف بھیجے اللہ عزوجل اس پر دس درودیں نازل فرمائے گا اور اس کی دس خطائیں بخش دے گا اور دس درجے بلند فرمائے گا۔
۲۔ پورا بخیل وہ ہے جس کے سامنے میرا ذکر ہو اور مجھ پر درود شریف نہ بھیجے۔
۳۔ جو شخص اپنی زندگی میں مجھ پر کثرت سے درود شریف بھیجتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی موت کے بعد تمام مخلوق کو حکم دیتا ہے کہ اس کے لیے استغفار کریں۔
۴۔ قیامت کے دن مجھ سے سب سے زیادہ قریب وہ ہوگا جس نے سب سے زیادہ مجھ پر درود بھیجا ہے۔
۵۔ مجھ پر بکثرت درود بھیجا کرو کہ وہ تمھارے لیے فلاح و نجات کا ذریعہ ہے۔

صلی اللہ علی النبی الامی واٰلہٖ واصحابہٖ صلی اللہ علیہ وسلم صلاۃ وسلاما علیک یا رسول اللہ